TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2417 - یہ باب اس شخص کے بارے میں ہے جو بیماری وغیرہ کی وجہ سے کھڑے ہونے پر قدرت نہیں رکھتا، وہ جیسے ممکن ہو نماز پڑھ لے، اس کو کھڑا ہو کر نماز پڑھنے والے کی طرح اجر ملے گا - مریض کی نماز اور بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 9 in this chapter
یہ باب اس شخص کے بارے میں ہے جو بیماری وغیرہ کی وجہ سے کھڑے ہونے پر قدرت نہیں رکھتا، وہ جیسے ممکن ہو نماز پڑھ لے، اس کو کھڑا ہو کر نماز پڑھنے والے کی طرح اجر ملے گا
۔ (۲۴۱۷) عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ بِیَ النَّاصُوْرُ فَسَأَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الصَّلَاۃِ، فَقَالَ: ((صَلِّ قَائِمًا فَاِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِداً، فَاِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلٰی جَنْبٍ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۵۷)
سیّدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: مجھے ناسور کی بیماری تھی، اس لیے میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نماز کے بارے میں سوال کیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کھڑے ہو کر نماز پڑھ، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھ لے اور اگر بیٹھ کر بھی استطاعت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لیا کر۔
2417
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۲۴۱۷) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۱۱۷، وابوداود: ۹۵۲، وابن ماجہ: ۱۲۲۳، والترمذی: ۳۷۲ (انظر: ۱۹۸۱۹)

Related Chapters

670
1
(109) CHAPTER. A woman can remove troublesome or offensive things from a person in Salat (prayer).
اس بارے میں کہ اگر عورت نماز پڑھنے والے سے گندگی ہٹا دے ( تو مضائقہ نہیں ہے )
Sahih Bukhari
2
(8) CHAPTER. Whoever took the Suhur (the meal taken before dawn in the month of Ramadan) and did not sleep before offering Fajr prayers.
اس بارے میں جو سحری کھانے کے بعد صبح کی نماز پڑھنے تک نہیں سویا
Sahih Bukhari
3
Chapter: What Has Been Related About The Salat While Sitting Is Half Of The Salat While Standing
باب: بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے سے آدھا ہے
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About One Who Misses The Two Rak'ah Before Fajr Praying Them After The Subh Prayer
باب: فجر سے پہلے کی دونوں سنتیں چھوٹ جائیں تو انہیں نماز فجر کے بعد پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
جو شخص فرض یا نفل نماز میں مشقت کے ساتھ کھڑے ہونے پر قادر ہواور بیٹھ کر نماز پڑھے تو اس کو کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کی بہ نسبت آدھا اجر ملے گا
Musnad Ahmad
6
مقتدیوں کو لمبی نماز پڑھانے کے بارے میں سیّدنا معاذ بن جبل Bکا قصہ اور عذر کی وجہ سے مقتدی کا اکیلے نماز پڑھنے کا جواز
Musnad Ahmad
7
کعبہ میں داخل ہونا اور اس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نماز پڑھنے کے بارے میں صحابہ کا اختلاف
Musnad Ahmad
8
ہاتھ کاٹنے وغیرہ کی حد کا بیان، نیز کیا دار الحرب میں پوری سزا دی جائے گییا نہیں
Musnad Ahmad
9
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیماری کے آغاز سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات تک کی تفصیل کے بارے میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی جامع حدیث
Musnad Ahmad
10
(11) CHAPTER. While urinating or defecating, never face the Qiblah except when you are screened by a building or a wall or something like that.
اس مسئلہ میں کہ پیشاب اور پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہیں کرنا چاہیے ۔ لیکن جب کسی عمارت یا دیوار وغیرہ کی آڑ ہو تو کچھ حرج نہیں
Sahih Bukhari
11
(70) CHAPTER. Spitting or blowing out the nose or doing similar action in one's own garment.
کپڑے میں تھوک اور رینٹ وغیرہ لگ جانے کے بارے میں
Sahih Bukhari
12
(18) CHAPTER. (It is permissible) to offer Salat (prayer) on roofs, a pulpit or wood.
چھت ، منبر اور لکڑی پر نماز پڑھنے کے بارے میں
Sahih Bukhari
13
(45) CHAPTER. If someone enters a house, should he offer prayers where he likes, or as he is told? And he should not look out to seek information about the place or do spying.
اس بارے میں کہ جب کوئی کسی کے گھر میں داخل ہو تو کیا جس جگہ وہ چاہے وہاں نماز پڑھ لے یا جہاں اسے نماز پڑھنے کے لیے کہا جائے ( وہاں پڑھے ) اور فالتو سوال و جواب نہ کرے ۔
Sahih Bukhari
14
(5) CHAPTER. Superiority of offering As-Salat (the prayer) at the stated times.
نماز وقت پر پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں
Sahih Bukhari
15
(8) CHAPTER. A person in Salat (prayer) is speaking in private to his Lord (Allah).
اس بارے میں کہ نماز پڑھنے والا نماز میں اپنے رب سے پوشیدہ طور پر بات چیت کرتا ہے
Sahih Bukhari
16
(31) CHAPTER. Superiority of the Fajr (early morning) prayer in congregation.
فجر کی نماز باجماعت پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں
Sahih Bukhari
17
(122) CHAPTER. The order of the Prophet to a person who did not perform his bowing perfectly that he should repeat his Salat (prayer).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کو نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم دینا جس نے رکوع پوری طرح نہیں کیا تھا
Sahih Bukhari
18
(12) CHAPTER. Is the taking of a bath (on Friday) necessary for women, boys, and others who do not present themselves for the Jumuah (prayer).
جو لوگ جمعہ کی نماز کے لیے نہ آئیں جیسے عورتیں بچے ، مسافر اور معذور وغیرہ ان پر غسل واجب نہیں ہے ۔
Sahih Bukhari
19
(4) CHAPTER. Salat at the time of besieging a fort and at the time of meeting the enemy.
اس بارے میں کہ اس وقت ( جب دشمن کے ) قلعوں کی فتح کے امکانات روشن ہوں اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہو رہی ہو تو اس وقت نماز پڑھنے کا حکم
Sahih Bukhari
20
(55) CHAPTER. Ushr is to be imposed on the yield of the land which is either irrigated by rain or the running water channel.
اس زمین کی پیداوار سے دسواں حصہ لینا ہو گا جس کی سیرابی بارش یا جاری ( نہر ‘ دریا وغیرہ ) پانی سے ہوئی ہو اور حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے شہد میں زکوٰۃ کو ضروری نہیں جانا
Sahih Bukhari
21
(9) CHAPTER. If partners divide the houses, etc., none of them has the right of backing out or the right of pre-emption.
جب شریک لوگ گھروں وغیرہ کو تقسیم کر لیں تواب اس سے پھر نہیں سکتے اور نہ ان کو شفعہ کا حق رہے گا ۔
Sahih Bukhari
22
(86) CHAPTER. Whoever dose not consider it logical to break the weapons and to slaughter the animals of the deceased.
کسی کی موت پر اس کے ہتھیار وغیرہ توڑنے درست نہیں
Sahih Bukhari
23
(49) CHAPTER. What is disliked as regarding the eating of garlic or other (bad smelling vegetables).
لہسن اور دوسری ( بدبودار ) ترکاریوں کا بیان ۔ ( جیسے پیازمولی وغیرہ ) اس بارے میں حضرت ابنعمر رضیاللہعنہما نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کراہت نقل کی ہے 2
Sahih Bukhari
24
(25) CHAPTER. What is dislike of Al-Muthla, Al-Masbura, and Mujaththama.
زندہ جانور کے پاؤں وغیرہ کاٹنا یا اسے بند کر کے تیر مارنا یا باندھ کر اسے تیروں کا نشانہ بنا نا جائز نہیں ہے ۔
Sahih Bukhari
25
(2) CHAPTER. The severity of disease.
بیماری کی سختی (کوئی چیز نہیں ہے )
Sahih Bukhari
26
(1) CHAPTER. There is no disease that Allah has sent down except that He also has sent down its treatment.
اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں اتاری جس کی دوا بھی نازل نہ کی ہو
Sahih Bukhari
27
Chapter: Giving the meat, skin and blankets of the Hadi in charity; the butcher should not be given any of it; It is permissible to delegate someone else to offer the sacrifice
قربانی کے لیے لائے گئے جانوروں کا گوشت ‘ان کی کھالیں اور جھولیں (اوپر ڈالے گئے کپڑے )وغیرہ صدقہ کرنے چاہییں ‘ان میں سے کچھ بھی قصاب کو (بطور اجرت )نہیں دیا جا سکتا ‘اور ان کی نگرانی کےلیے کسی کو نائب بنانا جائز ہے
Sahih Muslim
28
Chapter: The Prohibition Of Wearing A Garment Of Falsehood Etc., And Pretending To Have That Which Has Not Been Given To One
لباس وغیرہ میں مکر اور جو عطا نہیں کیا گیا خود کو اس سے سیر ہوجانے والا ظاہر کرنا ممنوع ہے
Sahih Muslim
29
Chapter: The Reward Of The Believer For Whatever Befalls Him Of Sickness, Grief And The Like, Even A Thorn That Pricks Him
مومن کو جو بیماری یا غم وغیرہ لاحق ہوتا ہے حتی کہ جو کانٹا چبھتا ہے اس پر (بھی) ثواب ملتا ہے
Sahih Muslim
30
Chapter: Lifespans, Provisions, Etc. Do Not Increase Or Decrease From What Has Already Been Decreed
عمریں اور رزق وغیرہ جو پہلے سے تقدیر میں ہیں، کم یا زیادہ نہیں ہو سکتے
Sahih Muslim
31
CHAPTER: On A Man Who Takes Vows For A Thing Over Which He has no control.
باب: جس نے ایسی نذر مانی جس کو پوری کرنے کی وہ طاقت نہیں رکھتا تو کیا کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
32
اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کا علاج نہ اتارا ہو
Sunnan Ibn e Maja
33
کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کی نماز کی بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کی نماز پر فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
34
باب: نماز جنازہ کھڑے ہو کر پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
35
(45)Chapter: What Had Been Related About Performing The (Five Obligatory) Prayers With One Wudu
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
36
(98)Chapter: What Has Been Related About The Junub And The Menstruating Persons That They Do Not Recite The Qur'an
باب: جنبی اور حائضہ کے قرآن نہ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About Praying Fajr In The Dark
باب: فجر غلس (اندھیرے) میں پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About Al-Isfar In Fajr
باب: فجر اجالا ہو جانے پر پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About Hastening Zuhr
باب: ظہر جلدی پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About Delaying Zuhr In Severe Heat
باب: سخت گرمی میں ظہر دیر سے پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: : What Has Been Related About Hastening Asr Prayer
باب: عصر جلدی پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About Delaying The Asr Prayer
باب: نماز عصر دیر سے پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About Delaying The Last Isha Prayer
باب: نماز عشاء دیر سے پڑھنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
44
Chapter: Virtue Of Performing Salat at the Beginning Of Its Prescribed Time
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: : What Has Been Related About Prayer After Asr And After Fajr Is Disliked
باب: عصر اور فجر کے بعد نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: : What Has Been Related About Salat After Asr
باب: عصر کے بعد نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About Salat Before Maghrib
باب: مغرب سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: : What Has Been Related About The Virtue Of Isha And Fajr In Congregation
باب: عشاء اور فجر جماعت سے پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About Salat Behind The Line Alone
باب: صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About Not Saying Bismillahir-Rahmanir-Rahim (In The Name Of Allah, The Merciful, The Beneficient) Aloud
باب: بسم اللہ الرحمن الرحیم زور سے نہ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

55
Musnad Ahmad
1072
۔ (۱۰۷۲)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ حَکِیْمِ نِ الضَّبِّیِّ أَنَّہُ خَافَ زَمَنَ زَیَادٍ أَوِ ابْنِ زَیَادٍ فَأَتَی الْمَدِیْنَۃَ فَلَقِیَ أَبَاھُرَیْرَۃَؓ، قَالَ: فَانْتَسَبَنِیْ فَانْتَسَبْتُ لَہُ فَقَالَ: یاَ فَتٰی أَلَا أُحَدِّثُکَ حَدِیْثًا لَعَلَّ اللّٰہَ أَنْ یَنْفَعَکَ بِہِ؟ قُلْتُ: بَلٰی! رَحِمَکَ اللّٰہُ، قَالَ: ((اِنَّ أَوَّلَ مَا یُحَاسَبُ بِہِ النَّاسُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنَ الصَّلَاۃِ، قَالَ: یَقُوْلُ رَبُّنَا عَزَّوَجَلَّ لِمَلَائِکَتِہِ وَھُوَ أَعْلَمُ: أُنْظُرُوْا فِیْ صَلَاۃِ عَبْدِیْ أَتَّمَہَا أَمْ نَقَصَہَا؟ فَاِنْ کَانَتْ تَامَّۃً کُتِبَتْ لَہُ تَامَّۃً وَاِنْ کَانَ انْتَقَصَ مِنْہَا شَیْئًاقَالَ: انْظُرُوْا ھَلْ لِعَبْدِیْ مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَاِنْ کَانَ لَہُ تَطَوُّعٌ قَالَ: أَتِمُّوْا لِعَبْدِیْ فَرِیْضَتَہُ مِنْ تَطَوُّعِہِ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَی ذٰلِکُمْ۔)) قَالَ یُوْنُسُ (أَحَدُ الرُّوَاۃِ): وَأَحْسِبُہُ قَدْ ذَکَرَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۹۴۹۰)
انس بن حکیم ضبّی کہتے ہیں: میں زیاد یا ابن زیاد کے زمانے میں ڈرنے لگا، اس لیے مدینہ منورہ میں سیدنا ابو ہریرہؓ کے پاس آگیا، انھوں نے مجھ سے نسب دریافت کیا، میں نے وہ بیان کر دیا، پھر انھوں نے کہا: اے نوجوان! کیا میں تم کو ایک حدیث بیان نہ کر دوں، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے تجھے کوئی فائدہ دے دے؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے، انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک پہلی چیز کہ جس کے بارے میں روزِ قیامت بندوں کا محاسبہ کیا جائے گا، وہ نماز ہے۔ ہمارا ربّ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہے گا، جبکہ وہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے: تم میرے بندے کی نماز کو دیکھو، کیا اس نے اس کو پوری طرح ادا کیا ہے یا ناقص؟ پس اگر وہ پوری ہوئی تو اس کے لیے پوری لکھی جائے گی اور اگر اس میں کوئی نقص ہوا تو اللہ تعالیٰ کہے گا: تم دیکھو کہ کیا میرے بندے کی کوئی نفلی نماز ہے؟ پس اگر اس کی نفلی نماز ہوئی تو وہ کہے گا: میرے بندے کی فرض نماز کو اس کی نفل نماز کے ذریعے پورا کر دو، پھر باقی اعمال کا محاسبہ بھی اسی طرح کیا جائے گا۔
Musnad Ahmad
1078
۔ (۱۰۷۸)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ أَنَّ الرَّجُلَ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ فُلَانًا نَامَ الْبَارِحَۃَ عَنِ الصَّلَاۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((ذَاکَ الشَّیْطَانُ بَالَ فِیْ أُذُنِہِ، أَوْ فِیْ أُذُنَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۳۵۵۷)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: بیشک فلاں آدمی آج رات نماز سے بھی سویا رہا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: شیطان اس آدمی کے کانوں میں پیشاب کر گیا۔
Musnad Ahmad
1543
۔ (۱۵۴۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ رَأَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاضِعًا یَمِیْنَہُ عَلٰی شِمَالِہِ فِی الصَّلَاۃِ، وَ رَأَیْتُہُیَنْصَرِفُ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ۔ (مسند احمد: ۲۲۳۱۴)
(دوسری سند) وہ کہتے ہیں: میںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز میں اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھے ہوئے دیکھا اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) دائیں طرف سے بھی پھرتے تھے اور بائیں طرف سے بھی۔
Musnad Ahmad
1950
۔ (۱۹۵۰) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَیْنِ فِی الصَّلَاۃِ، اَلْعَقْرَبِ وَالْحَیَّۃِ۔ (مسند احمد: ۷۳۷۳)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو سیاہ چیزوںیعنی بچھو اور اور سانپ کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔
Musnad Ahmad
2367
۔ (۲۳۶۷) عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی اِسْحَاقَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاۃِ، فَقَالَ: سَافَرْنَا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْمَدِیْنَۃِ اِلٰی مَکَّۃَ فَصَلّٰی بِنَا رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعْنَا، فَسَأَلْتُہُ: ھَلْ أَقَامَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، أَقَامَ بِمَکَّۃَ عَشْرًا۔ (مسند احمد: ۱۳۰۰۶)
یحی بن ابی اسحاق کہتے ہیں: میں نے سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے قصر نماز کے بارے میں سوال کیا، انھوںنے کہا: ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف سفر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس لوٹنے تک ہمیں دو دو رکعت نماز پڑھاتے رہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں قیام بھی کیا تھا؟انھوںنے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مکہ میں دس دن قیام کیا تھا۔
Musnad Ahmad
3895
۔ (۳۸۹۵) وَعَنْہُ اَیْضًایَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ لَا اَنْ اَشُقَّ عَلٰی اُمَّتِی لَاَمْرَتُہُمْ بِتَاْخِیْرِ الْعِشَائِ وَالسِّوَاکِ مَعَ الصَّلَاۃِ، وَلَا تَصُوْمُ اِمرَاَۃٌ وَزَوْجُہَا شَاہِدٌ یَوْمًا وَاحِدًا َغْیَر رَمَضَانَ إِلَّا بِإِذْنِہِ۔)) (مسند احمد: ۷۳۳۸)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں حکم دے دیتا کہ عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کی جائے اور ہر نماز کے ساتھ مسواک کی جائے اور جس عورت کا شوہر موجود ہو تو وہ اس کی اجازت کے بغیرایک دن کا روزہ بھی نہ رکھے، الّا یہ کہ ماہِ رمضان ہو۔
Musnad Ahmad
5234
۔ (۵۲۳۴)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْبَلَ مِنْ خَیْبَرَ وَمَعَہُ غُلَامَانِ، وَہَبَ أَحَدَہُمَا لِعَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ، وَقَالَ: ((لَا تَضْرِبْہُ فَإِنِّی قَدْ نُہِیْتُ عَنْ ضَرْبِ أَہْلِ الصَّلَاۃِ، وَقَدْ رَأَیْتُہُ یُصَلِّی۔)) قَالَ عَفَّانُ فِی حَدِیثِہِ: أَخْبَرَنَا أَبُو طَالِبٍ، عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ، أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْبَلَ مِنْ خَیْبَرَ وَمَعَہُ غُلَامَانِ، فَقَالَ عَلِیٌّ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَخْدِمْنَا، قَالَ: ((خُذْ أَیَّہُمَا شِئْتَ)) قَالَ: خِرْ لِی، قَالَ: ((خُذْ ہٰذَا، وَلَا تَضْرِبْہُ فَإِنِّی قَدْ رَأَیْتُہُ یُصَلِّی مَقْبَلَنَا مِنْ خَیْبَرَ، وَإِنِّی قَدْ نُہِیْتُ۔)) وَأَعْطٰی أَبَا ذَرٍّ غُلَامًا، وَقَالَ: ((اسْتَوْصِ بِہِ مَعْرُوفًا۔)) فَأَعْتَقَہُ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا فَعَلَ الْغُلَامُ؟)) قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَمَرْتَنِی أَنْ أَسْتَوْصِیَ بِہِ مَعْرُوفًا فَأَعْتَقْتُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۲۵۰۶)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خیبر سے واپس آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ دو غلام تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک غلام سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیا اور فرمایا: اس کو مارنا نہیں، کیونکہ مجھے نمازی لوگوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے اور میں نے اس کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ عفان راوی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خیبر سے واپس آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ دو غلام تھے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں بھی خادم دے دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان میں جو چاہتے ہو، لے لو۔ لیکن سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ میرے لیے پسند کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ لے لو، کیونکہ میں نے اس کو خیبر سے واپسی پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھاہے اور مجھے نمازی لوگوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسر اغلام سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیا اور فرمایا: اس کے حق میں اچھی وصیت قبول کرنا۔ انھوں نے اس کو آزاد کر دیا، پھر جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے پوچھا کہ غلام کا کیا بنا؟ تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں اس کے حق میں نیک وصیت قبول کروں، پس اس وجہ سے میں نے اس کو آزاد کر دیا۔
Musnad Ahmad
8457
۔ (۸۴۵۷)۔ عَنْ أَ بِی وَاقِدٍ اللَّیْثِیِّ قَالَ: کُنَّا نَأْتِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أُنْزِلَ عَلَیْہِ فَیُحَدِّثُنَا، فَقَالَ لَنَا ذَاتَ یَوْمٍ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: إِنَّا أَ نْزَلْنَا الْمَالَ لِإِقَامِ الصَّلَاۃِ، وَإِیتَائِ الزَّکَاۃِ، وَلَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ لَأَ حَبَّ أَ نْ یَکُونَ إِلَیْہِ ثَانٍ، وَلَوْ کَانَ لَہُ وَادِیَانِ لَأَ حَبَّ أَ نْ یَکُونَ إِلَیْہِمَا ثَالِثٌ، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، ثُمَّ یَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۵۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم پر قرآن مجید کی تلاوت کروں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ بینہ کی تلاوت کی اور اس میں یہ آیات بھی پڑھیں: {وَلَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ سَأَ لَ وَادِیًا مِنْ مَالٍ فَأُعْطِیَہُ لَسَأَ لَ ثَانِیًا فَأُعْطِیَہُ لَسَأَ لَ ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلَی مَنْ تَابَ، وَإِنَّ ذَلِکَ الدِّینَ الْقَیِّمَ، عِنْدَ اللّٰہِ الْحَنِیفِیَّۃُ غَیْرُ الْمُشْرِکَۃِ وَلَا الْیَہُودِیَّۃِ وَلَا النَّصْرَانِیَّۃِ، وَمَنْ یَفْعَلْ خَیْرًا فَلَنْیُکْفَرَہُ} شعبہ راوی کہتے ہیں: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید آیات کی تلاوت کی اور پھر یہ آیت پڑھی: {لَوْ أَ نَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَیْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَ لَ وَادِیًا ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ۔} پھر آگے سورت مکمل کر دی۔
Musnad Ahmad
8421
۔ (۸۴۲۱)۔ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ أَ نَّہُمَا سَمِعَا عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَقُولُ: مَرَرْتُ بِہِشَامِ بْنِ حَکِیمِ بْنِ حِزَامٍ یَقْرَأُ سُورَۃَ الْفُرْقَانِ فِی حَیَاۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَاسْتَمَعْتُ قِرَاء َتَہُ فَإِذَا ہُوَ یَقْرَأُ عَلَی حُرُوفٍ کَثِیرَۃٍ لَمْ یُقْرِئْنِیہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَکِدْتُ أَ نْ أُسَاوِرَہُ فِی الصَّلَاۃِ، فَنَظَرْتُ حَتّٰی سَلَّمَ فَلَمَّا سَلَّمَ لَبَّبْتُہُ بِرِدَائِہِ فَقُلْتُ: مَنْ أَ قْرَأَ کَ ہٰذِہِ السُّورَۃَ الَّتِی تَقْرَؤُہَا؟ قَالَ: أَ قْرَأَ نِیہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قُلْتُ لَہُ: کَذَبْتَ فَوَاللّٰہِ! إِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَہُوَ أَ قْرَأَ نِی ہٰذِہِ السُّورَۃَ الَّتِی تَقْرَؤُہَا، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ أَقُودُہُ إِلَی النَّبِیِا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی سَمِعْتُ ہٰذَا یَقْرَأُ سُورَۃَ الْفُرْقَانِ عَلٰی حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِیہَا وَأَ نْتَ أَ قْرَأْتَنِی سُورَۃَ الْفُرْقَانِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ رْسِلْہُ یَا عُمَرُ! اِقْرَأْ یَا ہِشَامُ۔)) فَقَرَأَ عَلَیْہِ الْقِرَاء َۃَ الَّتِی سَمِعْتُہُ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہٰکَذَا أُنْزِلَتْ۔)) ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِقْرَأْ یَا عُمَرُ!)) فَقَرَأْتُ الْقِرَائَۃَ الَّتِی أَ قْرَأَ نِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((ہٰکَذَا أُنْزِلَتْ۔)) ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَی سَبْعَۃِ أَ حْرُفٍ فَاقْرَئُ وْا مِنْہُ مَا تَیَسَّرَ۔)) (مسند احمد: ۲۹۶)
۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ہشام بن حکیم بن حزام کے پاس سے گزرا جو سورۂ فرقان پڑھ رہے تھے، یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حیات مبارکہ کی بات ہے، جب میں نے ان کی قراء توں کو غو رسے سنی تو سمجھا کہ وہ ایسی قراء توں پر قرآن مجید پڑھ رہے ہیں جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے نہیں پڑھائی،قریب تھا کہ میں نماز میں ہی ان کی طرف لپک پڑتا، لیکن میں نے انتظار کیا،یہاں تک کہ انھوں نے سلام پھیرا، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کے گلے میں چادر ڈال کر ان کو پکڑ لیا اور کہا: تم کو کس نے یہ سورت پڑھائی ہے؟ انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے پڑھائی ہے، میں نے کہا: تم جھوٹ بول رہے ہو، پھر میں ان کو کھینچ کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے گیا اورکہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ان سے سورۂ فرقان سنی ہے، یہ ان قراء توں کے مطابق پڑھتے ہیں، جو آپ نے مجھے نہیں پڑھائیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انہیں چھوڑ دو، اے عمر! اے ہشام پڑھو۔ انہوں نے آپ پر وہی قراء ت کی، جو میں نے سنی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عمر! تم پڑھو۔ پس میں نے وہی قراء ت پڑھی، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے پڑھائی تھی، وہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : یقینا قرآن مجید سات قراء توں پر نازل ہوا ہے، جو بھی میسر آئے اس کے مطابق پڑھ لو۔