TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2421 - یہ باب اس شخص کے بارے میں ہے جو بیماری وغیرہ کی وجہ سے کھڑے ہونے پر قدرت نہیں رکھتا، وہ جیسے ممکن ہو نماز پڑھ لے، اس کو کھڑا ہو کر نماز پڑھنے والے کی طرح اجر ملے گا - مریض کی نماز اور بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 6 of 9 in this chapter
یہ باب اس شخص کے بارے میں ہے جو بیماری وغیرہ کی وجہ سے کھڑے ہونے پر قدرت نہیں رکھتا، وہ جیسے ممکن ہو نماز پڑھ لے، اس کو کھڑا ہو کر نماز پڑھنے والے کی طرح اجر ملے گا
۔ (۲۴۲۱) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: آخِرُ صَلَاۃٍ صَلَّاھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَیْہِ بُرْدٌ مُتَوَشِّحًا بِہِ وَھُوَ قَاعِدٌ۔ (مسند احمد: ۱۳۲۹۳)
سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آخری نماز اس حال میں پڑھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایک دھاری دار چادر تھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے توشیح کر رکھی تھی اور آپ بیٹھے ہوئے تھے۔
2421
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۲۴۲۱) تخریـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ الضیاء فی ’’المختارۃ‘‘: ۱۹۶۶ (انظر: ۱۳۲۶۰)

Related Chapters

670
1
(109) CHAPTER. A woman can remove troublesome or offensive things from a person in Salat (prayer).
اس بارے میں کہ اگر عورت نماز پڑھنے والے سے گندگی ہٹا دے ( تو مضائقہ نہیں ہے )
Sahih Bukhari
2
(8) CHAPTER. Whoever took the Suhur (the meal taken before dawn in the month of Ramadan) and did not sleep before offering Fajr prayers.
اس بارے میں جو سحری کھانے کے بعد صبح کی نماز پڑھنے تک نہیں سویا
Sahih Bukhari
3
Chapter: What Has Been Related About The Salat While Sitting Is Half Of The Salat While Standing
باب: بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے سے آدھا ہے
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About One Who Misses The Two Rak'ah Before Fajr Praying Them After The Subh Prayer
باب: فجر سے پہلے کی دونوں سنتیں چھوٹ جائیں تو انہیں نماز فجر کے بعد پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
جو شخص فرض یا نفل نماز میں مشقت کے ساتھ کھڑے ہونے پر قادر ہواور بیٹھ کر نماز پڑھے تو اس کو کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کی بہ نسبت آدھا اجر ملے گا
Musnad Ahmad
6
مقتدیوں کو لمبی نماز پڑھانے کے بارے میں سیّدنا معاذ بن جبل Bکا قصہ اور عذر کی وجہ سے مقتدی کا اکیلے نماز پڑھنے کا جواز
Musnad Ahmad
7
کعبہ میں داخل ہونا اور اس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نماز پڑھنے کے بارے میں صحابہ کا اختلاف
Musnad Ahmad
8
ہاتھ کاٹنے وغیرہ کی حد کا بیان، نیز کیا دار الحرب میں پوری سزا دی جائے گییا نہیں
Musnad Ahmad
9
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیماری کے آغاز سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات تک کی تفصیل کے بارے میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی جامع حدیث
Musnad Ahmad
10
(11) CHAPTER. While urinating or defecating, never face the Qiblah except when you are screened by a building or a wall or something like that.
اس مسئلہ میں کہ پیشاب اور پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہیں کرنا چاہیے ۔ لیکن جب کسی عمارت یا دیوار وغیرہ کی آڑ ہو تو کچھ حرج نہیں
Sahih Bukhari
11
(70) CHAPTER. Spitting or blowing out the nose or doing similar action in one's own garment.
کپڑے میں تھوک اور رینٹ وغیرہ لگ جانے کے بارے میں
Sahih Bukhari
12
(18) CHAPTER. (It is permissible) to offer Salat (prayer) on roofs, a pulpit or wood.
چھت ، منبر اور لکڑی پر نماز پڑھنے کے بارے میں
Sahih Bukhari
13
(45) CHAPTER. If someone enters a house, should he offer prayers where he likes, or as he is told? And he should not look out to seek information about the place or do spying.
اس بارے میں کہ جب کوئی کسی کے گھر میں داخل ہو تو کیا جس جگہ وہ چاہے وہاں نماز پڑھ لے یا جہاں اسے نماز پڑھنے کے لیے کہا جائے ( وہاں پڑھے ) اور فالتو سوال و جواب نہ کرے ۔
Sahih Bukhari
14
(5) CHAPTER. Superiority of offering As-Salat (the prayer) at the stated times.
نماز وقت پر پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں
Sahih Bukhari
15
(8) CHAPTER. A person in Salat (prayer) is speaking in private to his Lord (Allah).
اس بارے میں کہ نماز پڑھنے والا نماز میں اپنے رب سے پوشیدہ طور پر بات چیت کرتا ہے
Sahih Bukhari
16
(31) CHAPTER. Superiority of the Fajr (early morning) prayer in congregation.
فجر کی نماز باجماعت پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں
Sahih Bukhari
17
(122) CHAPTER. The order of the Prophet to a person who did not perform his bowing perfectly that he should repeat his Salat (prayer).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کو نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم دینا جس نے رکوع پوری طرح نہیں کیا تھا
Sahih Bukhari
18
(12) CHAPTER. Is the taking of a bath (on Friday) necessary for women, boys, and others who do not present themselves for the Jumuah (prayer).
جو لوگ جمعہ کی نماز کے لیے نہ آئیں جیسے عورتیں بچے ، مسافر اور معذور وغیرہ ان پر غسل واجب نہیں ہے ۔
Sahih Bukhari
19
(4) CHAPTER. Salat at the time of besieging a fort and at the time of meeting the enemy.
اس بارے میں کہ اس وقت ( جب دشمن کے ) قلعوں کی فتح کے امکانات روشن ہوں اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہو رہی ہو تو اس وقت نماز پڑھنے کا حکم
Sahih Bukhari
20
(55) CHAPTER. Ushr is to be imposed on the yield of the land which is either irrigated by rain or the running water channel.
اس زمین کی پیداوار سے دسواں حصہ لینا ہو گا جس کی سیرابی بارش یا جاری ( نہر ‘ دریا وغیرہ ) پانی سے ہوئی ہو اور حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے شہد میں زکوٰۃ کو ضروری نہیں جانا
Sahih Bukhari
21
(9) CHAPTER. If partners divide the houses, etc., none of them has the right of backing out or the right of pre-emption.
جب شریک لوگ گھروں وغیرہ کو تقسیم کر لیں تواب اس سے پھر نہیں سکتے اور نہ ان کو شفعہ کا حق رہے گا ۔
Sahih Bukhari
22
(86) CHAPTER. Whoever dose not consider it logical to break the weapons and to slaughter the animals of the deceased.
کسی کی موت پر اس کے ہتھیار وغیرہ توڑنے درست نہیں
Sahih Bukhari
23
(49) CHAPTER. What is disliked as regarding the eating of garlic or other (bad smelling vegetables).
لہسن اور دوسری ( بدبودار ) ترکاریوں کا بیان ۔ ( جیسے پیازمولی وغیرہ ) اس بارے میں حضرت ابنعمر رضیاللہعنہما نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کراہت نقل کی ہے 2
Sahih Bukhari
24
(25) CHAPTER. What is dislike of Al-Muthla, Al-Masbura, and Mujaththama.
زندہ جانور کے پاؤں وغیرہ کاٹنا یا اسے بند کر کے تیر مارنا یا باندھ کر اسے تیروں کا نشانہ بنا نا جائز نہیں ہے ۔
Sahih Bukhari
25
(2) CHAPTER. The severity of disease.
بیماری کی سختی (کوئی چیز نہیں ہے )
Sahih Bukhari
26
(1) CHAPTER. There is no disease that Allah has sent down except that He also has sent down its treatment.
اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں اتاری جس کی دوا بھی نازل نہ کی ہو
Sahih Bukhari
27
Chapter: Giving the meat, skin and blankets of the Hadi in charity; the butcher should not be given any of it; It is permissible to delegate someone else to offer the sacrifice
قربانی کے لیے لائے گئے جانوروں کا گوشت ‘ان کی کھالیں اور جھولیں (اوپر ڈالے گئے کپڑے )وغیرہ صدقہ کرنے چاہییں ‘ان میں سے کچھ بھی قصاب کو (بطور اجرت )نہیں دیا جا سکتا ‘اور ان کی نگرانی کےلیے کسی کو نائب بنانا جائز ہے
Sahih Muslim
28
Chapter: The Prohibition Of Wearing A Garment Of Falsehood Etc., And Pretending To Have That Which Has Not Been Given To One
لباس وغیرہ میں مکر اور جو عطا نہیں کیا گیا خود کو اس سے سیر ہوجانے والا ظاہر کرنا ممنوع ہے
Sahih Muslim
29
Chapter: The Reward Of The Believer For Whatever Befalls Him Of Sickness, Grief And The Like, Even A Thorn That Pricks Him
مومن کو جو بیماری یا غم وغیرہ لاحق ہوتا ہے حتی کہ جو کانٹا چبھتا ہے اس پر (بھی) ثواب ملتا ہے
Sahih Muslim
30
Chapter: Lifespans, Provisions, Etc. Do Not Increase Or Decrease From What Has Already Been Decreed
عمریں اور رزق وغیرہ جو پہلے سے تقدیر میں ہیں، کم یا زیادہ نہیں ہو سکتے
Sahih Muslim
31
CHAPTER: On A Man Who Takes Vows For A Thing Over Which He has no control.
باب: جس نے ایسی نذر مانی جس کو پوری کرنے کی وہ طاقت نہیں رکھتا تو کیا کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
32
اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کا علاج نہ اتارا ہو
Sunnan Ibn e Maja
33
کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کی نماز کی بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کی نماز پر فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
34
باب: نماز جنازہ کھڑے ہو کر پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
35
(45)Chapter: What Had Been Related About Performing The (Five Obligatory) Prayers With One Wudu
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
36
(98)Chapter: What Has Been Related About The Junub And The Menstruating Persons That They Do Not Recite The Qur'an
باب: جنبی اور حائضہ کے قرآن نہ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About Praying Fajr In The Dark
باب: فجر غلس (اندھیرے) میں پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About Al-Isfar In Fajr
باب: فجر اجالا ہو جانے پر پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About Hastening Zuhr
باب: ظہر جلدی پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About Delaying Zuhr In Severe Heat
باب: سخت گرمی میں ظہر دیر سے پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: : What Has Been Related About Hastening Asr Prayer
باب: عصر جلدی پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About Delaying The Asr Prayer
باب: نماز عصر دیر سے پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About Delaying The Last Isha Prayer
باب: نماز عشاء دیر سے پڑھنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
44
Chapter: Virtue Of Performing Salat at the Beginning Of Its Prescribed Time
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: : What Has Been Related About Prayer After Asr And After Fajr Is Disliked
باب: عصر اور فجر کے بعد نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: : What Has Been Related About Salat After Asr
باب: عصر کے بعد نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About Salat Before Maghrib
باب: مغرب سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: : What Has Been Related About The Virtue Of Isha And Fajr In Congregation
باب: عشاء اور فجر جماعت سے پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About Salat Behind The Line Alone
باب: صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About Not Saying Bismillahir-Rahmanir-Rahim (In The Name Of Allah, The Merciful, The Beneficient) Aloud
باب: بسم اللہ الرحمن الرحیم زور سے نہ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

23
Musnad Ahmad
1384
۔ (۱۳۸۴) عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیْرِیْنَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ضَخْمًا لَا یَسْتَطِیْعُ أَنْ یُصَلِّیَ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہ! إِنِّیْ لَا أَسْتَطِیْعُ أَنْ أُصَلِّیَ مَعَکَ، فَصَنَعَ لَہُ طَعَامًا وَدَعَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَیْہِ وَبَسَطُوْا لَہُ حَصِیْراً وَنَضَحُوْہٗفَصَلّٰی عَلَیْہِ رَکْعَتَیْنِ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُوْدِ، أَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ الضُّحٰی؟ قَالَ مَارَأَیْتُہُ صَلَّاھَا إِلاَّ یَوْمَئِذٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۴۷)
سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی موٹا تھا، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، اس لیے اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! مجھ میں آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کی سکت نہیں ہے۔ پھر اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے کھانا تیار کیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دعوت دی اور آپ کے لیے ایک چٹائی بچھائی اور اس پر پانی چھڑکا۔ آپ نے اس پر دو رکعت نماز پڑھی۔ آل جارود کے ایک آدمی نے اس سے پوچھا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ اس نے جواب دیاکہ میں نے تو اس دن کے علاوہ آپ کو نمازِ چاشت پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔
Musnad Ahmad
1961
۔ (۱۹۶۱) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: آخِرُ صَلاَۃٍ صَلَّاھَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ الْقَوْمِ صَلّٰی فِی ثَوْبٍ وَّاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِہِ خَلْفَ أَبِی بَکْرٍ۔ (مسند احمد: ۱۳۵۹۱)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ آخری نماز جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کے ساتھ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اقتدا میں پڑھی تھی وہ ایک کپڑے میں تھی، اس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے توشیح کر رکھی تھی۔
Musnad Ahmad
2270
۔ (۲۲۷۰) عَنْ أَنْسِ بْنِ سِیْرِیْنَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ ضَخْمٌ لَا یَسْتَطِیْعُ أَنْ یُصَلِّیَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَا أَسْتَطِیْعُ أَنْ أُصَلِّیَ مَعَکَ فَلَوْ أَتَیْتَ مَنْزِلِی فَصَلَّیْتَ فَأَقْتَدِیَ بِکَ، فَصَنَعَ الرَّجُلُ طَعَامًا، ثُمَّ دَعَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَضَحَ طَرَفَ حَصِیْرٍ لَھُمْ، فَصَلَّی النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَیْنِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُوْدِ لِأَنَسٍ: وَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الضُّحٰی؟ قَالَ مَا رَأَیْتُہُ صَلَّاھَا اِلَّا یَوْمَئِذٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۵۴)
انس بن سیرین، سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک موٹا آدمی تھا، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا:مجھ میں اتنی استطاعت نہیں ہے کہ میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ سکوں، اس لیے اگر آپ میرے گھر تشریف لائیں اور (کسی جگہ) نماز پڑھیں، تاکہ میں آپ کی اقتداء کروں۔ پھر اس نے کھانا تیار کیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بلایا، پس اس نے چٹائی کا ایک کنارہ ان کے لیے صاف کیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعتیں ادا کیں۔آل جارود میں سے ایک آدمی نے سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس نے اس دن کے علاوہ کبھی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا۔
Musnad Ahmad
1405
۔ (۱۴۰۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ سَأَلْتُ أَبِیْ کَیْسَانَ مَا اَدْرَکْتَ مِنَ النَّبِیِّ ؟ قَالَ رَأَیْتُہُیُصَلِّیْ عِنْدَ الْبِئْرِ الْعُلْیَا بِئْرِ بَنِی مُطَیْعٍ مُتَلَبِّبًا فِی ثَوْبٍ الظُّہْرَ أَوِ الْعَصْرَ فَصَلَّاھَا رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۲۵)
(دوسری سند) عبد الرحمن بن کیسان کہتے ہیں:میں نے اپنے باپ سیّدنا کیسان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیاکہ کیا آپ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیا چیز پائی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے آپ کو بنو مطیع کے کنویں بئر علیا کے پاس ایک کپڑے میں لپٹ کر ظہر یا عصر کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ نماز دو رکعت پڑھی۔
Musnad Ahmad
1415
۔ (۱۴۱۵) عَنْ زُھَیْرٍ قَالَ: ثَنَا أَبُوْ الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِہِ۔ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِأَبِیْ الزُّبَیْرِ: الْمَکْتُوْبَۃَ؟ قَالَ: الْمَکْتُوْبَۃَ وَغَیْرَ الْمَکْتُوبَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۹۶)
سیّدناجابربن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک کپڑے میںتوشیح کر کے نماز پڑھتے تھے۔ بعض لوگوں نے ابو زبیر سے پوچھا کہ کیا فرض نماز پڑھی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: فرض اور غیر فرض دونوں نمازیں پڑھتے تھے۔
Musnad Ahmad
1449
۔ (۱۴۴۹) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ أَوَّلَ مَاقَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ نَزَلَ عَلَی أَجْدَادِہِ أَوْ أَخْوَالِہِ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَ نَّہُ صَلَّی قِبَلَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّـۃَ عَشَرَ أَوْسَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا، وَکَانَ یُعْجِبُہُ أَنْ تَکُوْنَ قِبْلَتُہُ قِبَلَ الْبَیْتِ وَأَ نَّہُ صَلّٰی أَوَّلَ صَلَاۃٍ صَلَّاھَا صَلَاۃَ الْعَصْرِ وَصَلّٰی مَعَہُ قَوْمٌ فَخَرَجَ رَجُلٌ مِمَّنْ صَلّٰی مَعَہُ فَمَرَّ عَلٰی أَھْلِ مَسْجِدٍ وَھُمْ رَاکِعُوْنَ فَقَالَ: أَشْہَدُ بِاللّٰہِ لَقَدْ صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قِبَلَ مَکَّۃَ۔ قَالَ: فَدَارُوْا کَمَا ھُمْ قِبَلَ الْبَیْتِ وَکَانَ یُعْجِبُہُ أَنْ یُحَوَّلَ قِبَلَ الْبِیْتِ، وَکَانَ الْیَہُوْدُ قَدْ أَعْجَبَھُمْ اِذْ کَانَ یُصَلِّیْ قِبَلَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ وَأَھْلُ الْکِتَابِ فَلَمَّا وَلّٰی وَجْہَہُ قِبَلَ الْبَیْتِ أَنْکَرُوْا ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۹۰)
سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مدینہ منورہ پہنچے تو سب سے پہلے اپنے اجداد یا ماموؤں کے پاس ٹھہرے، جن کا تعلق انصار سے تھا،آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سولہ یا سترہ مہینوں تک بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے رہے، جبکہ آپ کو پسند یہ تھا کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ کی طرف ہو۔ (بالآخر ایسے ہی ہوا اور) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب سے پہلی نماز جو اس کی طرف پڑھی ، وہ عصر تھی،کچھ لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی تھی۔ان میں سے ایک آدمی ایک مسجد والوں کے پاس سے گزرا، جبکہ وہ رکوع کی حالت میں تھے، اس نے ان سے کہا: میں اللہ کو گواہ بناکر کہتاہوں کہ (قبلہ تبدیل ہو چکا ہے اور) میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نماز پڑھی ہے ۔ وہ (یہ اعلان سن کر رکوع کی)حالت میں بیت اللہ کی طرف پھر گئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات پسند تھی کہ آپ کو بیت اللہ کی طرف پھیر دیا جائے، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تو یہودیوں اور اہل کتاب کویہ اچھا لگتا تھا (کیونکہ اس کو وہ اپنی اقتدا سمجھتے تھے)، اس لیے جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا رخ بیت اللہ کی طرف پھیر لیا تو انہوں نے اسے برا جانا۔
Musnad Ahmad
1630
۔ (۱۶۳۰) عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ: صَلّٰی بَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَیْتِہٖ مُتَوَشِّحًا فِیْ ثَوْبٍ الْمَغْرِبَ فَقَرَأَ الْمُرْسَلَاتِ، مَا صَلّٰی بَعْدَھَا حَتّٰی قُبِضَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۰۸)
سیدہ ام فضل بنت حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے گھر میں ایک کپڑے میں لپٹ کر ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور سورۂ مرسلات کی تلاوت کی، اس کے بعد کوئی نماز نہ پڑھی، حتی کہ فوت ہو گئے۔
Musnad Ahmad
1740
۔ (۱۷۴۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی فِیْ ثَوْبٍ وَّاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِہِ یَتَّقِیْ بِفُضُولِہِ حَرَّ الْأَرْضِ وَبَرْدَھَا۔ (مسند احمد: ۲۳۲۰)
سیدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک کپڑا لپیٹ کر اس میں نماز پڑھتے اور اس کے زائد حصے کے ذریعے زمین کی گرمی اور سردی سے بچتے تھے۔
Musnad Ahmad
2075
۔ (۲۰۷۵) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ: صَلّٰی مُعَاوِیَۃُ بِالنَّاسِ الْعَصْرَ فَالْتَفَتَ فَإِذَا أُنَاسٌ یُصَلُّوْنَ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَدَخَلَ وَدَخَلَ عَلَیْہِ ابْنُ عَبَّاسٍ وأَنَا مَعَہُ فَأَوْسَعَ لَہُ مُعَاوِیَۃُ عَلَی السَّرِیْرِ، فَجَلَسَ مَعَہُ، قَالَ: مَا ھٰذِہِ الصَّلَاۃُ الَّتِی رَأَیْتُ النَّاسَ یُصَلُّونَہَا وَلَمْ أَرَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْہَا وَلَا أَمَرَ بِہَا؟ قَالَ: ذَاکَ مَا یُفْتِیْہِمُ ابْنُ الزُّبَیْرِ، فَدَخَلَ ابْنُ الزُّبَیْرِ فَسَلَّمَ فَجَلَسَ، فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ: یَا ابْنَ الزُّبَیْرِ! مَا ھٰذَہِ الصَّلَاۃُ الَّتِی تَأْمُرُ النَّاسَ یُصَلُّونَہَا؟ لَمْ نَرَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلاَّھَا وَلَا أَمَرَ بِہَا، قَالَ: حَدَّثَتْنِی عَائِشَۃُ أُمُّ الْمُؤْمِنِیْنَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّاھَا عِنْدَھَا فِی بَیْتِہَا، قَالَ: فَأَمَرَنِی مُعَاوِیَۃُ وَرَجُلًا آخَرَ أَنْ نَأْتِیَ عَائِشَۃَ فَنَسْأَلَھَا عَنْ ذٰلِکَ، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَیْہَا فَسَأَلْتُہَا عَنْ ذَالِکَ فَأَخْبَرْتُہَا بِمَا أَخْبَرَ ابْنُ الزُّبِیْرِ عَنْھَا، فَقَالَتْ: لَمْ یَحَفَظِ ابْنُ الزُّبَیْرِ، إِنَّمَا حَدَّثْتُہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی ھَاتَیْنِ الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِیْ، فَسَأَلْتُہُ، قُلْتُ: إِنَّکَ صَلَّیْتَ رَکْعَتَیْنِ لَمْ تَکُنْ تُصَلِّیْہِمَا؟ قَالَ: ((إِنَّہُ کَانَ أَتَانِیْ شَیْئٌ فَشُغِلْتُ فِی قِسْمَتِہِ عَنِ الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الظُّہْرِ، وَأَتَانِیْ بِلَالٌ فَنَادَانِیْ بِالصَّلَاۃِ فَکَرِھْتُ أَنْ أَحْبِسَ النَّاسَ فَصَلَیْتُہُمَا۔)) قَالَ فَرَجَعْتُ فَأَخْبَرْتُ مُعَاوِیَۃَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ الزُّبَیْرِ: أَلَیْسَ قَدْصَلَّاھُمَا؟ فَلَا أَدَعُہُمَا، فَقَالَ لَہُ مُعَاوِیْۃُ: لَاتَزَالُ مُخَالِفًا أَبَدًا (وَفِی رِوَایَۃٍ: إِنَّکَ لَمُخَالِفٌ، لَا تَزَالُ تُحِبُّ الْخِلَافَ مَا بَقِیْتَ)۔ (مسند احمد: ۲۶۰۲۱)
عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے لوگوں کو عصر کی نماز پڑھائی، جب مڑ کر دیکھا تو کچھ لوگ عصر کے بعد نماز پڑھ رہے تھے، وہ گھر چلے گئے اور سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی ان کے پاس چلے گئے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کے لئے چار پائی پر جگہ بنائی اور وہ ان کے ساتھ بیٹھ گئے، انھوں نے پوچھا: یہ کون سی نماز ہے، جومیں نے لوگوں کو ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے، حالانکہ نہ تو میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور نہ آپ نے اس کے بارے میں کوئی حکم دیا؟ انہوں نے کہا: لوگوں کو اس کا فتویدینے والے سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، پھر ان کو بلایا گیا اور وہ آ گئے اور سلام کہہ کر بیٹھ گئے، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے ابن زبیر! اس نماز کی کیا حقیقت ہے، جس کے پڑھنے کا آپ لوگوں کو حکم دیتے ہیں؟ ہم نے تو نہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور نہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا کوئی حکم دیا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے تو ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے گھر میں ان کے پاس یہ نماز پڑھی ہے۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے اور ایک اور آدمی کو حکم دیا کہ ہم سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس جاکر ان سے اس کے بارے میں دریافت کریں، پس میں سیدہ کے پاس پہنچا اور ان سے اس کے بارے میں پوچھا اور ان کے حوالے جو بات سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کر رہے تھے، وہ ان کو بتادی، ، وہ کہنے لگیں: ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یاد نہیں رکھا، میں نے تو انہیںیہ بیان کیا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عصر کے بعد میرے پاس دو رکعت نماز پڑھی، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ آج آپ نے یہ دو رکعتیں پڑھی ہیں، پہلے تو نہیں پڑھتے تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے پاس کوئی مال لایا گیا تھا اور میں اسے تقسیم کرنے کی وجہ سے ظہر کے بعد والی دو رکعتوں سے مشغول ہو گیا،اتنے میں سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس آ گئے اور انہوں نے نماز عصر کے لئے مجھے بلالیا، اس وقت میں نے ناپسند سمجھا کہ ان دو رکعتوں کیوجہ سے لوگوں کو روک لوں، اس لیے اب میں نے وہ دو رکعتیں ادا کی ہیں۔ میں نے واپس آکر سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ساری بات بتائی، لیکن سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دو رکعتیں پڑھی ہیں، لہٰذا میں تو ان کو نہیں چھوڑوں گا، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان سے کہنے لگے: آپ ہمیشہمخالف ہی رہتے ہیں، جب تک آپ زندہ ہیں، آپ مخالفت کو ہی پسند کرتے رہیں گے۔