TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جماعت کے احکامات کے متعلق بیان - جماعت کے احکامات کے متعلق بیان - Book 50 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 50 of Musnad Ahmad, with 4 chapters and 21 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

21 Hadith · 4 Chapters
اقامت کے بعد فرضی نماز کے علاوہ کسی اور نماز کے نہ ہونے کا بیان
۔ (۲۶۷۴) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا صَلَاۃَ بَعْدَ الْاِقَامَۃِ اِلَّا الْمَکْتُوْبَۃَ ’’وَفِی لَفْظٍ اِلَّا الَّتِی أُقِیْمَتْ۔‘‘ (مسند احمد: ۸۳۶۱)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اقامت کے بعد فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہوتی ۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: مگر وہ نماز جس کے لیے اقامت کہی گئی ہے۔
Takhreej
(۲۶۷۴) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۷۱۰ (انظر: ۸۳۷۹)
2674
Sahih
اقامت کے بعد فرضی نماز کے علاوہ کسی اور نماز کے نہ ہونے کا بیان
۔ (۲۶۷۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((اِذَا أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَـلَا صَلَاۃَ اِلَّا الْمَکْتُوْبَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۰۹)
(دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو فرض نماز کے علاوہ اور کوئی نماز نہیں ہوتی۔
Takhreej
(۲۶۷۵)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
2675
Sahih
اقامت کے بعد فرضی نماز کے علاوہ کسی اور نماز کے نہ ہونے کا بیان
۔ (۲۶۷۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَرْجِسَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ صَلَاۃُ الصُّبْحِ فَرَأَی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلًا یُصَلِّیْ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ، فَقَالَ لَہُ: ((بِأَیِّ صَلَاتِکَ اِحْتَسَبْتَ بِصَلَاتِکَ وَحْدَکَ أَوْ صَلَاتِکَ الَّتِی صَلَّیْتَ مَعَنَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۰۵۸)
سیّدنا عبد اللہ بن سرجس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: صبح کی نماز کھڑی کر دی گئی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا، وہ فجر کی دو سنتیں پڑھ رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) اس سے پوچھا: تو نے کون سی نماز کو فرضی نماز سمجھا ہے، اکیلی نماز کو یااس نماز کو جو ہمارے ساتھ پڑھی ہے۔
Takhreej
(۲۶۷۶) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۷۱۲ (انظر: ۲۰۷۷۷)
2676
Sahih
اقامت کے بعد فرضی نماز کے علاوہ کسی اور نماز کے نہ ہونے کا بیان
۔ (۲۶۷۷) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ مَالِکٍ ابْنِ بُحَیْنَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرَجُلِ وَقَدْ أُقِیْمَ فِی الصَّلَاۃِ ’’وَفِی رِوَایَۃٍ وَقَدْ أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ‘‘ وَھُوَ یُصَلِّیْ الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، فَقَالَ لَہُ شَیْئًا لَا نَدْرِی مَا ھُوَ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا، أَحَطْنَا بِہِ نَقُوْلُ: مَاذَا قَالَ لَکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: قَالَ لِیْ: ((یُوْشِکُ أَحَدُکُمْ أَنْ یُصَلِّیَ الصُّبْحَ أَرْبَعًا۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۱۴)
عبد اللہ بن مالک (ابن بحینہ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں :رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، جبکہ اقامت کہہ دی گئی تھی، اور وہ فجر کی دو سنتیں پڑھ رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو کچھ فرمایا، لیکن ہم نہ سمجھ سکے۔ جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے اس آدمی کو گھیر لیا اور اسے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تجھے کیا فرمایاتھا؟ اس نے کہا:آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایاتھا کہ قریب ہے کہ تم میں سے کوئی ایک فجر کی نماز کی چار رکعت پڑھنی شروع کردے ۔
Takhreej
(۲۶۷۷) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۶۶۳، ومسلم: ۷۱۱ (انظر: ۲۲۹۲۶)
2677
Sahih
اقامت کے بعد فرضی نماز کے علاوہ کسی اور نماز کے نہ ہونے کا بیان
۔ (۲۶۷۸)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانِ) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِہِ وَھُوَ یُصَلِّی یُطَوِّلُ صَلَاتَہُ أَوْ نَحْوَ ھٰذَا بَیْنَ یَدَیْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ، فَقَالَ لَہ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَجْعَلُوْا ھٰذِہٖ مِثْلَ صَلَاۃِ الظُّہْرِ قَبْلَہَا وَبَعْدَھَا، اِجْعَلُوا بَیْنَہُمَا فَصْلًا۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۱۵)
(دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس آدمی کے پاس سے گزرے اور وہ نماز فجر سے پہلے طویل نماز پڑھ رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: اس نماز کو ظہر کی طرح نہ بنا دو، بلکہ اِن دو کے درمیان فاصلہ رکھا کرو۔
Takhreej
(۲۶۷۸)تخریـج: …اسنادہ صحیح ان کان محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان سمعہ من ابن بحینۃ، ففی القلب من سماعہ شیء (انظر: ۲۲۹۲۷)
2678
Sahih
اقامت کے بعد فرضی نماز کے علاوہ کسی اور نماز کے نہ ہونے کا بیان
۔ (۲۶۷۹) عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ مَالِکِ ابْنِ بُحَیْنَۃَ أَنْ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ اُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ، فَصَلّٰی رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ، فَلَمَّا قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (یَعْنِی الصَّلَاۃَ) لَاثَ بِہِ النَّاسُ فَقَالَ: ((الصُّبْحَ أَرْبَعًا)) (مسند احمد: ۲۳۳۱۶)
مالک بن بحینہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا، جبکہ اقامت کہی جا چکی تھی، لیکن اس نے فجر کی دو سنتیں پڑنا شروع کر دیں، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہو ئے تو لوگوں نے اسے گھیر لیا اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: کیا تو نے نماز فجر کی چار رکعتیں پڑھی ہیں۔
Takhreej
(۲۶۷۹) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۶۶۳، ومسلم: ۷۱۱ (انظر: ۲۲۹۲۱، ۲۲۹۲۸)
2679
Sahih
اقامت کے بعد فرضی نماز کے علاوہ کسی اور نماز کے نہ ہونے کا بیان
۔ (۲۶۸۰) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَالِکٍ ابْنِ بُحَیْنَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ لِصَلَاۃِ الصُّبْحِ وَابْنُ الْقِشْبِ یُصَلِّیْ فَضَرَبَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَنْکِبَہُ وَقَالَ: ((یَا ابْنَ الْقِشْبِ! اَتُصَلِّی الصُّبْحَ أَرْبَعًا أَوْ مَرَّتَیْنِ؟)) ابْنُ جُرَیْجٍ یَشُکُّ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۲۲)
سیّدنا عبد اللہ بن مالک (ابن بحینہ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صبح کی نماز کے لیے تشریف لائے اور سیّدنا ابن قِشب نماز پڑھ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے کندھے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اے ابن قِشب! کیا تو صبح کی نماز چار رکعت یا دو دفعہ پڑھ رہا ہے؟ یہ شک ابن جریج کو ہوا۔
Takhreej
(۲۶۸۰) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابو یعلی: ۹۱۵، والبیھقی: ۲/ ۴۸۲، وأخرجہ مرسلا ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۲۵۲، وانظر الحدیث السابق (انظر: ۲۲۹۳۴)
2680
Sahih
اقامت کے بعد فرضی نماز کے علاوہ کسی اور نماز کے نہ ہونے کا بیان
۔ (۲۶۸۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أُقِیْمَتْ صَلَاۃُ الصُّبْحِ فَقَامَ رَجُلٌ یُصَلِّی الرَّکْعَتَیْنِ، فَجَذَبَ رَسُوْلُ اللّٰہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِثَوْبِہِ فَقَالَ: ((أَتُصَلِّی الصُّبْحَ أَرْبَعًا؟)) (مسند احمد: ۲۱۳۰)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:صبح کی نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، ایک آدمی کھڑا ہوا اوردو سنتیں پڑھنے لگا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اس کے کپڑے کے ذریعے کھینچا اورفرمایا: کیا تو صبح کی نماز کی چار رکعت پڑھ رہا ہے۔
Takhreej
(۲۶۸۱) تخریـج: …اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/۲۵۳، والطیالسی: ۲۷۳۶، وابن حبان: ۲۴۶۹، والطبرانی: ۱۱۲۲۷، والحاکم: ۱/ ۳۰۷، والبیھقی: ۲/ ۴۸۲ (انظر: ۲۱۳۰)
2681
Sahih
جس آدمی نے نماز ادا کر چکنے کے بعد جماعت کو پا لیا تو وہ ان کے ساتھ نفلی نماز ادا کر لے
۔ (۲۶۸۲) عَنْ جَابِرِ بْنِ یَزِیْدَ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَجَّۃَ الْوَدَاعِ، قَالَ: فَصَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الصُّبْحِ أَوِ الْفَجْرِ، قَالَ: ثُمَّ انْحَرَفَ جَالِسًا أَوِ اسْتَقْبَلَ النَّاسَ بِوَجْہِہِ فَاِذَا ھُوَ بِرَجُلَیْنِ مِنْ وَرَائِ النَّاسِ لَمْ یُصَلِّیَا مَعَ النَّاسِ، فَقَالَ: ((اِئْتُونِیْ بِہٰذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ۔)) فَأُتِیَ بِہِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُہُمَا، فَقَالَ: ((مَا مَنَعَکُمَا أَنْ تُصَلِّیَا مَعَ النَّاسِ؟)) قَالَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا کُنَّا قَدْ صَلَّیْنَا فِی الرِّحَالِ۔ قَالَ: ((فَـلَا تَفْعَلَا، اِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ فِی رَحْلِہ ثُمَّ أَدْرَکَ الصَّلَاۃَ مَعَ الْاِمَامِ فَلْیُصَلِّہَا مَعَہُ فَاِنَّہا لَہُ نَافِلَۃً۔)) قَالَ: فَقَالَ أَحَدُھُمَا: اِسْتَغْفِرْلِیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاسْتَغْفَرَ لَہُ، قَالَ: وَنَہَضَ النَّاسُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَہَضْتُ مَعَہُمْ وَأَنَا یَوْمَئِذٍ أَشَبُّ الرِّجَالِ وَأَجْلَدُہُ، قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَزْحَمُ النَّاسَ حَتّٰی وَصَلْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخَذْتُ بِیَدِہِ فَوَضَعْتُہَا اِمَّا عَلٰی وَجْھِی أَوْ صَدْرِی، قَالَ: فَمَا وَجَدْتُّ شَیْئًا أَطْیَبَ وَلَا أَبْرَدَ مِنْ یَدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ وَھُوَ یَوْمَئِذٍ فِی مَسْجِدِ الْخَیْفِ۔ (مسند احمد: ۱۷۶۱۵)
سیّدنا یزید بن اسود کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع ادا کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی اور جب لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھے تو دیکھا کہ لوگوں کے پیچھے دو آدمی بیٹھے ہے، انھوں نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان دونوں کو میرے پاس لاؤ۔ ان دونوں آدمیوں کو لایا گیا، جبکہ ان کے شانوں کا گوشت کانپ رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے پوچھا: کس لوگوں چیز نے تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا تھا؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول!ہم نے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آئندہ ایسے نہ کرنا اور جب تم میں سے کوئی اپنے گھر میں نماز پڑھ لے اور پھر وہ امام کے ساتھ نماز کوپالے تو اس کو چاہئے کہ وہ اس کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیا کرے، یہ اس کے لیے نفل بن جائے گی ۔ان دونوں میں سے ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول!میرے لیے اللہ سے بخشش طلب کیجئے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے لیے استغفار کیا۔ پھر لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف اٹھے اورمیں بھی ان کے ساتھ اٹھ پڑا، جبکہ میں اس وقت لوگوں میں بہترین جوان اور قوی تھا، اس لیے میں لوگوں کو ہٹاتا ہوا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچ گیا، پھر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے چہرے یا سینے پر رکھا، میں نے کوئی ایسی چیز نہیں پائی جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ سے عمدہ اور ٹھنڈی ہو، اس دن آپ (منی میں) مسجد خیف میں تھے۔
Takhreej
(۲۶۸۲) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابن ابی عاصم فی ’’الآحادی والمثانی‘‘: ۱۴۶۳، وأخرج الشطر الأول الطبرانی: ۲۲/ ۶۱۳، والشطر الثانی: ۲۲/ ۶۱۹ (انظر: ۱۷۴۷۶)
2682
Sahih
جس آدمی نے نماز ادا کر چکنے کے بعد جماعت کو پا لیا تو وہ ان کے ساتھ نفلی نماز ادا کر لے
۔ (۲۶۸۳) عَنْ بُسْرِ بْنِ مِحْجَنٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَجَلَسْتُ،فَلَمَّا صَلّٰی، قَالَ لِیْ: ((أَلَسْتَ بِمُسْلِمٍ؟)) قُلْتُ: بَلٰی، قَالَ: ((فَمَا مَنَعَکَ أَنْ تُصَلِّیَ مَعَ النَّاسِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: قَدْ صَلَّیْتُ فِی أَھْلِی، قَالَ: ((فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ، (وَفِی رِوَایَۃٍ: اِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَلَوْ کُنْتَ قَدْ صَلَّیْتَ فِی أَھْلِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۰۶)
سیّدنا محجن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، اتنے میں نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، لیکن میں بیٹھا رہا (اور نماز نہ پڑھی)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تو مسلمان نہیں ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کس چیز نے تجھے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکے رکھا؟ میں نے کہا: جی، میں نے اپنے گھر میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں کے ساتھ نماز پڑھا کر۔ اور ایک روایت میں ہے: جب تو آئے تو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لیا کر، اگرچہ تو اپنے گھر میں نماز ادا کر چکا ہو۔
Takhreej
(۲۶۸۳) تخریـج: …حدیث حسن، وھذا اسناد ضعیف، بسر بن محجن غیر معروف أخرجہ النسائی: ۲/ ۱۱۲(انظر: ۱۶۳۹۳، ۱۶۳۹۵)
2683
Sahih
جس آدمی نے نماز ادا کر چکنے کے بعد جماعت کو پا لیا تو وہ ان کے ساتھ نفلی نماز ادا کر لے
۔ (۲۶۸۴)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ مِحْجَنًا کَانَ فِی مَجْلِسِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأُذِّنَ بِالصَّلَاۃِ فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی بِہِمْ ثُمَّ رَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمِحْجَنٌ فِی مَجْلِسِہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مَنَعَکَ أَنْ تُصَلِّیَ مَعَ النَّاسِ؟ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟)) وَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ ۔ (مسند احمد: ۱۶۵۰۹)
(دوسری سند)سیّدنا محجن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مجلس میں تھا، جب نماز کے لیے اذان ہوئی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس لوٹے تو دیکھا کہ محجن اسی جگہ میں بیٹھا ہوا ہے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: کس چیز نے تجھے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا ہے،کیا تو مسلمان نہیں ہے۔ … …۔ (سابقہ حدیث کی طرح)
Takhreej
(۲۶۸۴)تخریج: …انظر الحدیث بالطریق الأولی۔
2684
Sahih
جس آدمی نے نماز ادا کر چکنے کے بعد جماعت کو پا لیا تو وہ ان کے ساتھ نفلی نماز ادا کر لے
۔ (۲۶۸۵) عَنْ حَنْظَلَۃَ بْنِ عَلِیٍّ الْأَسْلَمِیِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی الدِّیْلِ قَالَ: صَلَّیْتُ الظُّھْرَ فِی بَیْتِی، ثُمَّ خَرَجْتُ بِأَبَاعِرَ لِیْ لِأُصْدِرَھَا اِلَی الرَّاعِی، فَمَرَرْتُ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُصَلِّی بِالنَّاسِ الظُّہْرَ فَمَضَیْتُ فَلَمْ أُصَلِّ مَعَہُ، فَلَمَّا أَصْدَرْتُ أَبَاعِرِی وَرَجَعْتُ ذُکِرَ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ لِیْ: ((مَا مَنَعَکَ یَا فُلَانُ! أَنْ تُصَلِّیَ مَعَنَا حِیْنَ مَرَرْتَ بِنَا؟)) قَالَ: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! اِنِّی قَدْ کُنْتُ صَلَّیْتُ فِی بَیْتِیْ قَالَ: ((وَاِنْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۰۴۹)
حنظلہ بن علی اسلمی،بنو الدیل کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے گھر میں نماز ظہر ادا کی، پھر میں اونٹوں کو لے کر نکلا تاکہ ان کو چرواہے کی طرف لے جاؤں، پس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھا رہے تھے، میں تو وہاں سے گزرگیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز نہ پڑھی، جب میں اونٹوں کو آگے بڑھا کر واپس لوٹا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلا دی گئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے پوچھا: اے فلاں! جب تو ہمارے پاس سے گزرا تھا تو کس چیز نے تجھے ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا تھا؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے گھر میں نمازپڑھ لی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ (تو گھر میںنماز پڑھ چکا تھا، لیکن جب امام کے ساتھ نماز مل جائے تو دوبارہ پڑھ لیا کر)۔
Takhreej
(۲۶۸۵) تخریـج: …اسنادہ حسن، وانظر الحدیث السابق: ۱۴۹۷
2685
Sahih
جس آدمی نے نماز ادا کر چکنے کے بعد جماعت کو پا لیا تو وہ ان کے ساتھ نفلی نماز ادا کر لے
۔ (۲۶۸۶) عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ الْبَرَّائِ قَالَ أَخَّرَ ابْنُ زِیَادٍ الصَّلَاۃَ فَأَتَانِی عَبْدُاللّٰہِ بْنُ الصَّامِتِ فَأَلْقَیْتُ لَہُ کُرْسِیًّا فَجَلَسَ عَلَیْہِ فَذَکَرْتُ لَہُ صَنِیْعَ بْنِ زِیَادٍ فَعَضَّ عَلٰی شَفَتِہِ وَضَرَبَ فَخِذِیْ وَقَالَ: اِنِّی سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ کَمَا سَأَلْتَنِیْ فَضَرَبَ فَخِذِی کَمَا ضَرَبْتُ عَلٰی فَخِذِکَ وَقَالَ: اِنِّی سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَمَا سَأَلْتَنِیْ وَضَرَبَ فَخِذِیْ کَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَکَ فَقَالَ: ((صَلِّ الصَّلَاۃَ لِوَقْتِھَا، فَاِنْ أَدْرَکَتْکَ مَعَہُمْ فَصَلِّ وَلَا تَقُلْ اِنِّی قَدْ صَلَّیْتُ وَلَا أُصَلِّی۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۵۳)
ابوالعالیہ براء کہتے ہیں: ایک دن ابن زیاد نے نماز کو مؤخر کیا، میرے پاس عبد اللہ بن صامت آئے، میں نے ان کے لیے کرسی رکھی اور وہ اس پر بیٹھ گئے، پھرمیں نے ان سے ابن زیاد کی یہ تاخیر ذکر کی، انہوں نے جواباً اپنے ہونٹ پر کاٹا اور میری ران پر ہاتھ مارا اور کہا: جس طرح تو نے مجھ سے سوال کیا، اسی طرح میں سیّدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا تھا اور انہوں نے بھی میری ران پر اسی طرح ہاتھ مارا تھا، جیسے میں نے تیری ران پر ہاتھ مارا ہے اور کہا تھا: بے شک میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے تیرے سوال کی طرح سوال کیا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری ران پر مارا تھا جیسے میں نے تیری ران پر مارا ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاتھا: اپنے وقت پر نماز پڑھ لینا، لیکن اگر تو ان (حکمرانوں) کے ساتھ بھی نماز کو پا لے تو پھر نماز پڑھ لینا اور یہ نہ کہنا کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے، اس لیے میں نہیں پڑھتا۔
Takhreej
(۲۶۸۶) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۶۴۸ (انظر: ۲۱۴۲۳)
2686
Sahih
جس آدمی نے نماز ادا کر چکنے کے بعد جماعت کو پا لیا تو وہ ان کے ساتھ نفلی نماز ادا کر لے
۔ (۲۶۸۷) عَنْ أَبِی أُبَیِّ بْنِ امْرَأَۃِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ عُبَادَۃَ ابْنِ الصَّامتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّہَا سَتَکُوْنُ عَلَیْکُمْ أُمَرَائُ تَشْغَلُہُمْ أَشْیَائُ عَنِ الصَّلَاۃِ حَتّٰی یُؤَخِّرُوھَا عَنْ وَقْتِہَا، فَصَلُّوْھَا لِوَقْتِہَا (وَفِی رِوَایَۃٍ: ثُمَّ اجْعَلُوا صَلَاتَکُمْ مَعَہُمْ تَطَوُّعًا) قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاِنْ أَدْرَکْتُہَا مَعَہُمْ أُصَلِّی؟ قَالَ: ((اِنْ شِئْتَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۶۹)
سیّدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب تم پر ایسے حکمران ہوں گے، جن کو دوسرے امور نمازوں سے مشغول کردیں گے یہاں تک کہ وہ اِن کو ان کے اوقات سے مؤخر کر دیں گے، (ایسی صورت میں) تم لوگ نماز کو اس کے وقت پر ادا کر لینا اورپھر ان کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز کو نفل قرار دینا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ! پھر اگر میں ان کے ساتھ نماز پالوں تو (دوبارہ) پڑھ لوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہے (تو پڑھ لینا)۔
Takhreej
(۲۶۸۷) تخریـج: …صحیح دون قولہ: ((ان شئت))، وھذا اسناد ضعیف، ابو المثنی مجھول أخرجہ ابوداود: ۴۳۳ (انظر: ۲۲۷۸۷)
2687
Sahih
جس آدمی نے نماز ادا کر چکنے کے بعد جماعت کو پا لیا تو وہ ان کے ساتھ نفلی نماز ادا کر لے
۔ (۲۶۸۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ثُمَّ نُصَلِّی مَعَہُمْ؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ عَبْدُاللّٰہِ: قَالَ أَبِی رَحِمَہُ اللّٰہُ: وَھٰذَا ھُوَ الصَّوَابُ۔ (مسند احمد: ۲۳۰۶۶)
(دوسری سند) اسی طرح کی مروی حدیث میں ہے: ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا پھر ہم ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں ۔عبد اللہ کہتے ہیں: میرے باپ (امام احمد علیہ السلام ) نے کہا: اور یہ ہی بات درست ہے۔
Takhreej
(۲۶۸۸) تخریـج: …صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف، ابو المثنی مجھول أخرجہ عبد الرزاق: ۳۷۸۲، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۲۶۹۰)
2688
Sahih
مسجد میں دو مرتبہ جماعت کرانے کا اور حدیث ’’ایک دن میں ایک نماز دو مرتبہ نہ پڑھو‘‘کا بیان
۔ (۲۶۸۹) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی بِأَصْحَابِہِ، ثُمَّ جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ یَتَّجِرُ عَلٰی ھٰذَا أَوْ یَتَصَدَّقُ عَلٰی ھٰذَا فَیُصَلِّیَ مَعَہ؟)) قَالَ: فَصَلّٰی مَعَہُ رَجُلٌ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۳۲)
ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی،اس کے بعد جب ایک آدمی آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کون ہے جو اس سے تجارت کرے یا صدقہ کرے اور اس کے ساتھ نماز پڑھے؟ پھر ایک آدمی نے اس کے ساتھ نماز پڑھی۔
Takhreej
(۲۶۸۹) تخریـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ الترمذی: ۲۲۰، وابوداود: ۵۷۴ (انظر: ۱۱۰۱۹، ۱۱۶۱۳)
2689
Sahih
مسجد میں دو مرتبہ جماعت کرانے کا اور حدیث ’’ایک دن میں ایک نماز دو مرتبہ نہ پڑھو‘‘کا بیان
۔ (۲۶۹۰) عَنْ سُلَیْمَانَ مَوْلٰی مَیْمُونَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَ: أَتَیْتُ عَلٰی ابْنِ عُمَرَ وَھُوَ بِالْبَلَاطِ وَالْقَوْمُ یُصَلُّوْنَ فِیْ الْمَسْجِدِ، قُلْتُ: مَا یَمْنَعُکَ أَنْ تُصَلِّیَ مَعَ النَّاسِ أَوِ الْقَوْمِ؟ قَالَ: اِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُصَلُّوا صَلَاۃً فِی یَوْمٍ مَرَّتَیْنِ۔)) (مسند احمد: ۴۶۸۹)
سلیمان کہتے ہیں: میں سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، جبکہ وہ بلاط نامی جگہ پر تھے اور لوگ مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے کہا: آپ کو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ایک نماز کو دن میں دو مرتبہ نہ پڑھا کرو۔
Takhreej
(۲۶۹۰) تخریـج: …اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۵۷۹، والنسائی: ۲/ ۱۱۴(انظر: ۴۶۸۹)
2690
Sahih
جس سے کچھ نماز رہ گئی ہو، وہ کیا کرے؟ اس کا بیان
۔ (۲۶۹۱) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی لَیْلٰی عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّاسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا سُبِقَ الرَّجُلُ بِبَعْضِ صَلَاتِہِ سَأَلَھُمْ فَأَوْمَؤُوْا اِلَیْہِ بِالَّذِی سُبِقَ بِہِ مِنَ الصَّلَاۃِ فَیَبْدَأُ فَیَقْضِیْ مَا سُبِقَ ثُمَّ یَدْخُلُ مَعَ الْقَوْمِ فِی صَلَاتِہِمْ، فَجَائَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلِ وَالْقَوْمُ قُعُوْدٌ فِی صَلَاتِہِمْ فَقَعَدَ فَلَمَّا فَرَغَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَامَ فَقَضٰی مَا کَانَ سُبِقَ بِہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِصْنَعُوا کَمَا صَنَعَ مُعَاذٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۸۳)
سیّدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں جب کسی آدمی سے کچھ نماز رہ جاتی تو وہ آکر (پہلے والے نمازیوں)سے سوال کر لیتا (کہ کتنی رکعتیں پڑھی جا چکی ہیں)، وہ اس کو اشارے سے بتا دیتے، پھر وہ شروع ہوتا اور پہلے اُتنی رکعتیں پڑھ کر پھر لوگوں کے ساتھ جماعت میں شریک ہو جاتا۔ ایک دن یوں کہ میں (معاذ) آیا اور لوگ نماز (کے تشہد) میں بیٹھے ہوئے تھے، میں بھی بیٹھ گیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو میں کھڑا ہوا جو (رکعتیں) رہ گئی تھیں، وہ پڑھیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس طرح معاذ نے کیا ہے تم بھی (آئندہ) ایسے ہی کیا کرو۔
Takhreej
(۲۶۹۱) تخریج: …رجالہ ثقات رجال الشیخین، غیر أن ابن ابی لیلی لم یسمع من معاذ أخرجہ مطولا ابوداود: ۵۰۶، وأخرجہ الترمذی بلفظ: قال رسول اللہ V: اذا اتی احدکم الصلاۃ والامام علی حال فلیصنع کما یصنع الامام۔)) (انظر: ۲۲۰۳۳، ۲۲۱۲۴) ابوداود کی طویل حدیث کو امام البانی k نے صحیح کہا۔
2691
Sahih
جس سے کچھ نماز رہ گئی ہو، وہ کیا کرے؟ اس کا بیان
۔ (۲۶۹۲) عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ عَنْ أَبِیْہِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ: تَخَلَّفْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ فَتَبَرَّزَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ رَجَعَ اِلَیَّ وَمَعِی الْاِدَاوَۃُ قَالَ: فَصَبَبْتُ عَلٰی یَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ اسْتَنْثَرَ قَالَ یَعْقُوْبُ ثُمَّ تَمَضْمَضَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ یَغْسِلَ یَدَیْہِ قَبْلَ أَنْ یُخْرِجَہُمَا مِنْ کُمَّیْ جُبَّتِہِ، فَضَاقَ عَنْہُ کُمَّاھَا فَأَخْرَجَ یَدَہُ مِنَ الْجُبَّۃِ فَغَسَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، وَیَدَہُ الْیُسْرٰی ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، وَمَسَحَ بِخُفَّیْہِ وَلَمْ یَنْزَعْہُمَا، ثُمَّ عَمَدَ اِلَی النَّاسِ فَوَجَدَھُمْ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَالرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ یُصَلِّی بِہِمْ، فَأَدْرَکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِحْدَی الرَّکْعَتَیْنِ فَصَلّٰی مَعَ النَّاسِ الرَّکْعَۃَ الْآخِرَۃَ بِصَلَاۃِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُالرَّحْمٰنِ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُتِمُّ صَلَاتَہُ فَأَفْزَعَ الْمُسْلِمِیْنَ فَأَکْثَرُوا الْتَّسْبِیْحَ، فَلَمَّا قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْبَلَ عَلَیْہِمْ فَقَالَ: ((أَحْسَنْتُمْ وَأَصَبْتُمْ۔)) یَغْبِطُہُمْ أَنْ صَلَّوُا الصَّلَاۃَ لِوَقْتِھَا۔ (مسند احمد: ۱۸۳۵۹)
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ پیچھے رہ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قضائے حاجت کے لیے گئے، پھر میری طرف لوٹے، میرے پاس ایک چھوٹا سا برتن تھا، پس میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھوں پر پانی بہایا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پانی ڈال کر ناک صاف کیا، یعقوب راوی نے کہا: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کلی کی، اس کے بعد چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبّہ کی آستینوں سے ہاتھ نکالے بغیر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بازوؤں کو دھونا چاہا، لیکن آستینیں تنگ تھیں، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھوں کو جبہ (کے اندر) سے نکال کر پہلے تین دفعہ دایاں اور پھر تین دفعہ بایاں ہاتھ دھویا، پھر موزوں کا مسح کیا اور ان کو نہ اتارا، پھر وہ دونوں لوگوں کی طرف آئے، لیکن کیا دیکھتے ہیں کہ لوگوں نے سیّدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو آگے کر دیا تھا، وہ ان کو نماز پڑھا رہے تھے، چونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے ساتھ ایک رکعت پا لی تھی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا عبد الرحمن کے ساتھ دوسری رکعت ادا کی، جب انھوں نے سلام پھیرا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی نماز مکمل کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، یہ دیکھ کر مسلمان گھبرا گئے اور کثرت سے تسبیح بیان کی، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پوری کی تو ان پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم نے بہت اچھا کیا ہے اور درست کیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صحابہ کرام سے رشک کر رہے تھے کہ انہوں نے نماز کو اول وقت میں ادا کیا ہے۔
Takhreej
(۲۶۹۲) تخریـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ أحمد فی ’’مسندہ‘‘ مطولا ومختصرا فی عدّۃ أماکن، ولم نحط تخریـجہ ھنا (انظر: ۱۸۱۳۴) أخرجہ البخاری بذکر الوضوئ: ۳۸۸، ۲۹۱۸، ۵۷۹۸، وأخرجہ مختصرا من روایۃ احمد مسلم: ۲۷۴، وأخرجہ ابوداود: ۱۴۹، وأخرجہ بعضہ ابن ماجہ: ۱۲۳۶، والنسائی: ۱/۷۶ (انظر: ۱۸۱۷۲، ۱۸۱۷۵، ۱۸۱۹۰)
2692
Sahih
جس سے کچھ نماز رہ گئی ہو، وہ کیا کرے؟ اس کا بیان
۔ (۲۶۹۳)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ قَالَ الْمُغِیْرَۃُ:) ثُمَّ لِحَقْنَا النَّاسَ وَقَدْ أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ یَؤُمُّہُمْ وَقَدْ صَلّٰی رَکْعَۃً فَذَھَبْتُ لِأُوْذِنَہُ فَنَھَانِی (یَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) فَصَلَّیْنَا الَّتِیْ أَدْرَکْنَا وَقَضَیْنَا الَّتِی سُبِقْنَا بِہَا (وَفِی لَفْظٍ) فَصَلَّیْنَا الرَّکْعَۃَ الَّتِی أَدْرَکْنَا وَقَضَیْنَا الرَّکْعَۃَ الَّتِی سَبَقَتْنَا۔ (مسند احمد: ۱۸۳۴۷)
(دوسری سند، سیّدنا مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:)پھر ہم لوگوں کو جا ملے اور دیکھا کہ نماز کھڑی کردی گئی تھی اور سیّدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کی امامت کرا رہے تھے اور وہ ایک رکعت پڑھ چکے تھے، میں ان کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بتانے کے لیے جانے لگا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے منع کردیا، پس ہم نے جتنی نماز پالی اس کو پڑھا اور جو رہ گئی تھی، اس کو بعد میں ادا کر لیا۔ ایک روایت میں ہے: جس رکعت کو ہم نے پالیا اس کو پڑھ لیا اور جو رکعت رہ گئی تھی، اس کو (بعد میں) پورا کرلیا۔
Takhreej
(۲۶۹۳) تخریـج: …اسنادہ صحیح، وانظر الحدیث بالطریق الاول
2693
Sahih