TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب - نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب - Book 51 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 51 of Musnad Ahmad, with 16 chapters and 131 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

131 Hadith · 16 Chapters
یوم جمعہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۲۶۹۵) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُالْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ ثَنَا زُھَیْرٌ یَعْنِی ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیْلٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ الْأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِی لُبَابَۃَ الْبَدْرِیِّ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَیِّدُ الْأَیَّامِ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ وَأَعْظَمُہَا عِنْدَ اللّٰہِ تَعَالٰی، وَأَعْظَمُ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ یَوْمِ الْفِطْرِ وَیَوْمِ الْأَضْحٰی وَفِیْہِ خَمْسُ خِلَالٍ: خَلَقَ اللّٰہُ فِیْہِ آدَمَ، وَأَھْبَطَ اللّٰہُ فِیْہِ آدَمَ اِلَی الْأَرْضِ، وَفِیْہِ تَوَفَّی اللّٰہُ آدَمَ، وَفِیْہِ سَاعَۃٌ لَا یَسْأَلُ الْعَبْدُ فِیْہَا شَیْئًا اِلَّا آتَاہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اِیَّاہُ، مَالَمْ یَسْأَلْ حَرَامًا وَفِیْہِ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ، مَا مِنْ مَلَکٍ مُقَرَّبٍ وَلَا سَمَائٍ وَلَا أَرْضٍ وَلَا رِیَاحٍ وَلَا جِبَالٍ وَلَا بَحْرٍ اِلَّا ھُنَّ یُشْفِقْنَ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۳۳)
سیّدنا ابولبابہ بدری بن عبد المنذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کا دن اللہ تعالیٰ کے ہاں دنوں کا سردار اور عظیم ترین ہے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عید الفطر اور عید الاضحی کے دنوں سے بھی عظیم ہے، اس میں پانچ خصائل ہیں: (۱) اللہ تعالیٰ نے اس میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا،(۲) اسی میں ان کو زمین پر اتارا، (۳) اور اسی میں ان کو فوت کیا، (۴)اس میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جس میں بندہ اللہ تعالیٰ سے جس چیز کا بھی سوال کرتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتا ہے، جب تک حرام کاسوال نہ کرے، اور (۵)اسی دن میں قیامت قائم ہوگی، یہی وجہ ہے کہ مقرب فرشتے، آسمان، زمین، ہوائیں، پہاڑ، سمندر، یہ تمام جمعہ کے دن سے ڈرتے ہیں (کہ کہیں اسی جمعہ کو قیامت برپا نہ ہو جائے)۔
Takhreej
(۲۶۹۵) تخریـج: …اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن محمد بن عقیل مختلف فیہ، وانظر الأحادیث الآتیۃ، ستجد لبعضھا شواھد أخرجہ ابن ماجہ: ۱۰۸۴ (انظر: ۱۵۵۴۸)
2695
Zaeef
یوم جمعہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۲۶۹۶) عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: أَخْبِرْنَا عَنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ، مَاذَا فِیْہِ مِنَ الْخَیْرِ؟ قَالَ: ((فِیْہِ خَمْسُ خِلَالٍ، …۔)) فَذَکَرَ مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۸۲۴)
سیّدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: جمعہ کے دن کے بار ے میں بتلائیں کہ اس میں کون کون سی خوبیاں ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس میں پانچ خوبیاں ہیں، …۔ گزشتہ روایت کی طرح۔
Takhreej
(۲۶۹۶) تخریـج: …صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضیعف، عبد اللہ بن محمد بن عقیل مختلف فیہ أخرجہ البزار فی ’’مسندہ‘‘: ۳۷۳۸، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۵۳۷۶، والبیھقی فی ’’الشعب‘‘: ۲۹۷۴ (انظر: ۲۲۴۵۷)
2696
Sahih
یوم جمعہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۲۶۹۷) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: خَرَجْتُ اِلَی الطُّوْرِ فَلَقِیْتُ کَعْبَ الْأَخْبَارِ فَجَلَسْتُ مَعَہُ فَحَدَّثَنِی عَنِ التَّوْرَاۃِ وَحَدَّثْتُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَانَ فِیْمَا حَدَّثْتُہُ أَنْ قُلْتُ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((خَیْرُ یَوْمٍ طَلعَتْ فِیْہِ الشَّمْسُ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ، فِیْہِ خُلِقَ آدَمُ وَفِیْہِ أُھْبِطَ وَفِیْہِ تِیْبَ عَلَیْہِ وَفِیْہِ مَاتَ وَفِیْہِ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ، وَمَا مِنْ دَابَّۃٍ اِلَّا وَھِیَ مُسِیْخَۃٌ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ مِنْ حِیْنَ تُصْبِحُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَۃِ اِلَّا الْجِنَّ وَالْاِنْسَ وَفِیْہِ سَاعَۃٌ لَا یُصَادِفُہَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَھُوَ یُصَلِّیْ یَسْأَلُ اللّٰہَ شَیْئًا اِلَّا أَعْطَاہُ اِیَّاہُ۔)) قَالَ کَعْبٌ: ذٰلِکَ فِی کُلِّ سَنَۃٍ مَرَّۃً، فَقُلْتُ: بَلْ فِی کُلِّ جُمُعَۃٍ، فَقَرَأَ کَعْبٌ التَّوْرَاۃَ، فَقَالَ: صَدَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ أَبُو ھُرَیْرَۃَ: ثُمَّ لَقِیْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُہُ بِمَجْلِسِی مَعَ کَعْبٍ وَمَا حَدَّثْتُہُ فِی یَوْمِ الْجُمُعَۃِ، فَقُلْتُ لَہُ: قَالَ کَعْبٌ: ذٰلِکَ فِی کُلِّ سَنَۃٍ یَوْمٌ، قَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ: کَذَبَ کَعْبٌ، ثُمَّ قَرَأَ کَعْبٌ التَّوْرَاۃَ، فَقَالَ: بَلْ ھِیَ فِی کُلِّ جُمُعَۃٍ، قَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ: صَدَقَ کَعْبٌ۔ (مسند احمد: ۱۰۳۰۸)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں پہاڑ کی طرف نکلا اور کعب احبار سے ملاقات ہوئی، میں ان کے ساتھ بیٹھا، انھوں نے مجھے تورات کی باتیں بیان کیں اور میں نے ان کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی احادیث بیان کیں، میں نے ان کو یہ بھی کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین دن کہ جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، وہ جمعہ کا دن ہے، اس میں آدم علیہ السلام پیدا ہوئے، اسی میں (زمین پر) اتارے گئے، اسی دن ان کی توبہ قبول ہوئی اور وہ اسی دن فوت ہوئے اور اسی میں قیامت قائم ہوگئی، اِس دن کو صبح سے طلوع آفتاب تک ہر جانور قیامت کے ڈر سے کان لگائے ہوئے ہوتا ہے، جن وانس کے علاوہ۔ اس دن میںایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان اس میں اللہ تعالیٰ سے جو دعا کرتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتاہے۔ کعب نے کہا: یہ گھڑی سال میں ایک مرتبہ ہوتی ہے۔ میں نے کہا: یہ تو ہر جمعہ کو ہوتی ہے۔ پھر کعب نے تورات پڑھی اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سچ فرمایا ہے (یہ واقعی ہر جمعہ کو ہوتی ہے)۔ سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:پھر میری ملاقات سیّدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہوئی، میں نے ان کو کعب کے ساتھ اپنی مجلس اور اس میں ہونے والی جمعہ کے دن کے بارے میں گفتگو بیان کی اور کہا کہ کعب نے کہا یہ گھڑی سال میں ایک مرتبہ ہے۔ یہ سن کر سیّدنا عبد اللہ بن سلام نے کہا کہ کعب نے غلط بات کی ہے۔ میںنے کہا: جی پھر اس نے تورات پڑھی اور کہا کہ واقعی یہ ہر جمعہ کو ہوتی ہے۔ یہ سن کر انھوں نے کہا: کعب نے سچ کہا۔
Takhreej
(۲۶۹۷) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۰۴۶، والترمذی: ۴۹۱، والنسائی: ۳/ ۱۱۳، وحدیث ابی ھریرۃ مرفوعا: (ان فی الجمعۃ ساعۃ …۔)) أخرجہ البخاری: ۹۳۵، ومسلم: ۸۵۲ (انظر: ۱۰۳۰۳)
2697
Sahih
یوم جمعہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۲۶۹۸) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَمُوْتُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ أَوْ لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ اِلَّا وَقَاہُ اللّٰہُ فِتْنَۃَ الْقَبْرِ)) (مسند احمد: ۶۵۸۲)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بھی جمعہ کے دن یا رات کو فوت ہو گا، اللہ تعالیٰ اس کو فتنۂ قبر سے محفوظ رکھے گا۔
Takhreej
ٓ(۲۶۹۸) تخریـج: …اسنادہ ضعیف، ربیعۃ بن سیف لم یسمع من عبد اللہ بن عمرو، وربیعۃ ھذا و ہشام بن سعد ضیعفان، ولہ شواھد ثلاثۃ ضعیفۃ۔
Explanation
فوائد: … ’’امام البانی k نے کہا: اس حدیث کے سیّدنا انس اور سیّدنا جابر بن عبد اللہcوغیرہ سے مروی شواہد موجود ہیں، اس لیے یہ حدیث تمام طرق کی بنا پر حسن یا صحیح ہے۔‘‘ (احکام الجنائز: ص۳۵)أخرجہ الترمذی: ۱۰۷۴ (انظر: ۶۵۸۲)
2698
Zaeef
یوم جمعہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۲۶۹۹) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قِیْلَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لِأَیِّ شَیْئٍ سُمِّیَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ؟ قَالَ: ((لِأَنَّ فِیْہَا طُبِعَتْ طِیْنَۃُ أَبِیْکَ آدَمُ وَفِیْہَا الصَّعْقَۃُ وَالْبَعْثَۃُ وَفِیْہَا الْبَطْشَۃُ وَفِی آخِرِ ثَـلَاثِ سَاعَاتٍ مِنْہَا سَاعَۃٌ مَنْ دَعَا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فِیْہَا اُسْتُجِیْبَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۰۸۸)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: جمعہ کے دن کی وجۂ تسمیہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (اس کو جمعہ اس لیے کہا جاتا ہے، کیونکہ) اس میں تیرے باپ آدم علیہ السلام کی مٹی بنائی گئی اور اسی میں صَعْقَہ اور بَعْثَہ ہوگا اور اسی میں بَطْشَہ ہوگا اور اس کی آخری تین گھڑیوں میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو بھی اس میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرے گا، اس کی دعا قبول کی جائے گی۔
Takhreej
(۲۶۹۹) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لضعف الفرج بن فضالۃ، وعلی بن أبی طلحۃ لیس بذاک، ولم یدرک أبا ھریرۃ (انظر: ۸۱۰۲)
2699
Zaeef
یوم جمعہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۲۷۰۰) عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أَبَا الدَّرْدَائِ! لَا تَخْتَصَّ لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ بِقِیَامٍ دُوْنَ اللَّیَالِی وَلَا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ بِصِیَامٍ دُوْنَ الْأَیَّامِ)) (مسند احمد: ۲۸۰۵۷)
سیّدنا ابودرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابودرداء! دوسری راتوں میں سے جمعہ کی رات کو قیام کے لیے اور دوسرے دنوں میں سے جمعہ کے دن کو روزہ کے لیے خاص نہ کر۔
Takhreej
(۲۷۰۰) تخریـج: …صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لانقطاعہ، محمد بن سیرین لم یسمع من أبی الدرداء أخرجہ النسائی فی ’’الکبری‘‘: ۲۷۵۲، وابن ابی شیبۃ: ۳/ ۴۵، وعبد الرزاق: ۷۸۰۳، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۶۰۵۶ (انظر: ۲۷۵۰۷)
2700
Sahih
فصل: جمعہ کے دن نبی کریم aپر کثرت سے درود بھیجنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۲۷۰۱) عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِی أَوْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مِنْ أَفْضَلِ أَیَّامِکُمْ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ، فِیْہِ خُلِقَ آدَمُ وَفِیْہِ قُبِضَ، وَفِیْہِ النَّفْخَۃُ وَفِیْہِ الصَّعْقَۃُ، فَأَکْثِرُوا عَلَیَّ مِنَ الصَّلَاۃِ فِیْہِ فَاِنَّ صَلَاتَکُمْ مَعْرُوْضَۃٌ عَلَیَّ۔)) فَقَالُوا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَکَیْفَ تُعْرَضُ عَلَیْکَ صَلَاتُنَا وَقَدْ أَرِمْتَ یَعْنِی وَقَدْ بَلِیْتَ؟ قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أَنْ تَأْکُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِیَائِ صَلَوَاتُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ)) (مسند احمد: ۱۶۲۶۲)
سیّدنا اوس بن اوس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنوں میں افضل ترین جمعہ کا دن ہے،اس میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اور فوت کیا گیا،اور اسی میں نَفْخَہ اورہوگا ، لہٰذا تم مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا یہ درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا، جبکہ آپ تو (مٹی میں) فنا ہو چکے ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا کہ وہ انبیاء کے جسموں کو کھائے۔
Takhreej
(۲۷۰۱) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۰۴۷، ۱۵۳۱، والنسائی: ۳/ ۹۱، وابن ماجہ: ۱۰۸۵، ۱۶۳۶ (انظر: ۱۶۱۶۲)
2701
Sahih
فصل: جمعہ کے دن نبی کریم aپر کثرت سے درود بھیجنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۲۷۰۲) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ: ((لَیْلَۃُ الْجُمُعَۃِ غَرَّائُ وَ یَوْمُہَا أَزْھَرُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۶)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کی رات چمک دار اور اس کا دن روشن ہوتا ہے۔
Takhreej
(۲۷۰۲) تخریـج: …اسنادہ ضعیف، زائدۃ ابن أبی الرقاد منکر الحدیث، وزیاد بن عبد اللہ النمیری ضعفہ ابن معین وأبوداود أخرجہ ابن السنی فی ’’عمل الیوم واللیلۃ‘‘: ۶۵۹، والبیھقی فی ’’شعب الایمان‘‘: ۳۸۱۵، والبزار: ۶۱۶ (انظر: ۲۳۴۶)
2702
Zaeef
جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی اور اس کے وقت کا بیان
۔ (۲۷۰۳) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ فِی الْجُمُعَۃِ لَسَاعَۃً لَا یُوَافِقُہَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ قَائِمٌ یُصَلِّیْ یَسْأَلُ اللّٰہَ خَیْرًا اِلَّا أَعْطَاہُ اللّٰہُ اِیَّاہُ۔)) وَقَالَ بِیَدِہِ قُلْنَا یُقَلِّلُہَا یُزَھِّدُھَا۔ (مسند احمد: ۷۱۵۱)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ہے، جو مسلمان بھی اس میں نماز پڑھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے جس خیر و بھلائی کا سوال کرتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتا ہے۔ پھر اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس گھڑی کے قلیل ہونے کی نشاندہی کی۔
Takhreej
(۲۷۰۳) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۵۲۹۴، ۶۴۰۰، ومسلم: ۸۵۲ (انظر: ۷۱۵۱)
2703
Sahih
جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی اور اس کے وقت کا بیان
۔ (۲۷۰۴) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ وَأَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ فِی الْجُمُعَۃِ سَاعَۃً لَا یُوَافِقُہَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ، یَسْأَلُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فِیْھَا اِلَّا أَعْطَاہُ اِیَّاہُ وَھِیَ بَعْدَ الْعَصْرِ)) (مسند احمد: ۷۶۷۴)
سیّدنا ابوسعید خدری اور سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ہے کہ جو مسلمان بھی اس میں اللہ تعالیٰ سے جس چیز کا سوال کرتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتا ہے اور یہ گھڑی عصر کے بعد ہوتی ہے۔
Takhreej
(۲۷۰۴) تخریـج: …حدیث صحیح بشواھدہ أخرجہ مالک: ۱/ ۱۰۹، وعبد الرزاق: ۵۵۸۴، والطبرانی فی ’’الدعائ‘‘: ۱۷۹ (انظر: ۷۶۸۸)
2704
Sahih
جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی اور اس کے وقت کا بیان
۔ (۲۷۰۵) عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ (بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ) قَالَ: کَانَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یُحَدِّثُنَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: اِنَّ فِی الْجُمُعَۃِ سَاعَۃً لَا یُوَافِقُہَا مُسْلِمٌ وَھُوَ فِی صَلَاۃٍ سَأَلَ اللّٰہَ خَیْرًا اِلَّا آتَاہُ اِیَّاہُ، قَالَ وَقَلَّلہَا أَبُو ھُرَیْرَۃَ بِیَدِہِ۔ قَالَ: فَلَمَّا تُوُفِّیَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ، قُلْتُ: وَاللّٰہِ! لَوْ جِئْتُ أَبَا سَعَیْدٍ الْخُدْرِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَسَأَلْتُہُ عَنْ ھٰذِہِ السَّاعَۃِ أَنْ یَکُوْنَ عِنْدَہُ مِنْھَا عِلْمٌ، فَأَتَیْتُہُ (فَذَکَرَ حَدِیثًا طَوِیلًا ثُمَّ قَالَ) قُلْتُ: یَا أَبَا سَعِیْدٍ! اِنَّ أَبَا ھُرَیْرَۃَ حَدَّثَنَا عَنِ السَّاعَۃِ الَّتِی فِی الْجُمُعَۃِ فَہَلْ عِنْدَکَ مِنْہَا عِلْمٌ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْہَا فَقَالَ: ((اِنِّی کُنْتُ قَدْ أُعْلِمْتُہَا ثُمَّ أُنْسِیْتُہَا کَمَا أُنْسِیْتُ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ۔)) قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِہِ فَدَخَلْتُ عَلٰی عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ۔ (مسند احمد: ۱۱۶۴۷)
ابوسلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث بیان کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس میں مسلمان نماز کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے جس خیر و بھلائی کا سوال کرتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتا ہے۔ سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہاتھ سے اشارہ کرتے اس کے قلیل ہونے کی طرف اشارہ کیا۔ جب سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے تو میں نے (دل میں کہا کہ) اللہ کی قسم! اگر میں سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس جاؤں اور ان سے اس گھڑی کے بارے میں سوال کروں، ممکن ہے کہ ان کے پاس اس کے بارے میں کوئی علم ہو۔ پس میں ان کے پاس گیا، … طویل حدیث ذکر کی…، میں ان کے پاس گیا اور کہا: اے ابو سعید! سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں جمعہ کے دن کی گھڑی کے بارے میں ایک حدیث بیان کی ہے، کیا آپ کے پاس اس (کے وقت کے تعین) کا کوئی علم ہے؟ سیّدنا ابوسعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس گھڑی کے بارے بتلایا تو گیا تھا، لیکن پھر شب ِ قدرکی طرح مجھے یہ بھلا دی گئی۔ پھر میں ان کے پاس سے نکلا اور سیّدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا۔
Takhreej
(۲۷۰۵) تخریـج: …بعضہ حسن وبعضہ صحیح أخرجہ البزار: ۶۲۰، وحدیث ابی ھریرۃ مرفوعا: ((ان فی الجمعۃ ساعۃ …۔)) أخرجہ البخاری: ۹۳۵، ومسلم: ۶۵۲، وانظر الحدیث: ۱۵۰۷ (انظر: ۱۱۶۲۴)
2705
Sahih
جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی اور اس کے وقت کا بیان
۔ (۲۷۰۶) وَعَنْہُ أَیْضًا بِسَنَدِہِ وَلَفْظِہِ وَفِیْہِ: ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِہِ فَدَخَلْتُ عَلٰی عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ فَسَأَلْتُ عَنْہَا، فَقَالَ: خَلَقَ اللّٰہُ آدَمَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَأُھْبِطَ اِلٰی الْأَرْضِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَقَبَضَہُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَفِیْہِ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ، فَھِیَ آخِرُ سَاعَۃٍ، وَقَالَ سُرَیْجٌ فَھِیَ آخَرُ سَاعَتِہِ، فَقُلْتُ: اِنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ ((فِی صَلَاۃٍ)) وَلَیْسَتْ بِسَاعَۃِ صَلَاۃٍ؟ قَالَ: أَوَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مُنْتَظِرُ الصَّلَاۃِ فِی صَلَاۃٍ))؟ قُلْتُ: بَلٰی ھِیَ وَاللّٰہِ ھِیَ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۸۷)
ابوسلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: (سابقہ سند اور الفاظ کے ساتھ، اس میں ہے:) پھر میں نکلا اور سیّدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا اور ان سے اس کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام جمعہ کے دن پیدا کیا، اسی میں ان کو زمین پر اتارا گیا اور اسی دن کو ان کو وفات دی، اسی دن کو قیامت برپا ہو گی اور اس کی آخری گھڑی (قبولیت والی) ہے۔ میں نے کہا: لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو فرمایا کہ وہ بندہ نماز کی حالت میں ہو اور دن کی آخری گھڑی میں تو کوئی نماز ہی نہیں پڑھی جاتی؟ انھوں نے کہا: کیا تجھے اس چیز کا علم نہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ نماز کا انتظار کرنے والا بھی نماز میں ہی ہوتا ہے؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، (سمجھ آگئی) بس یہی ہے، اللہ کی قسم! یہی ہے۔
Takhreej
(۲۷۰۶) تخریـج: …حدیث صحیح، انظر الحدیث: ۱۵۰۷ (انظر: ۲۳۷۷۹)
2706
Sahih
جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی اور اس کے وقت کا بیان
۔ (۲۷۰۷) عَنْ أَبِی النَّضْرِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسٌ، اِنَّا نَجِدُ فِی کِتَابِ اللّٰہِ فِی یَوْمِ الْجُمُعَۃِ سَاعَۃً لَا یُوَافِقُہَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَھُوَ فِی الصَّلَاۃِ فَیَسْأَلُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ شَیْئًا اِلَّا أَعْطَاہُ مَا سَأَلَہُ، فَأَشَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ بَعْضَ سَاعَۃٍ، قَالَ: فَقُلْتُ: صَدَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ أَبُو النَّضْرِ: قَالَ أَبُو سَلَمَۃَ: سَأَلْتُہُ أَیَّۃُ سَاعَۃٍ ھِیَ؟ قَالَ: آخِرُ سَاعَاتِ النَّہَارِ، فَقُلْتُ: اِنَّہَا لَیْسَتْ بِسَاعَۃِ صَلَاۃٍ، فَقَالَ: بَلٰی، اِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ فِی صَلَاۃٍ اِذَا صَلّٰی ثُمَّ قَعَدَ فِی مُصَلَّاہُ لَا یَحْبِسُہُ اِلَّا انْتِظَارُ الصَّلَاۃِ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۸۹)
سیّدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی تشریف فرما تھے، کہ ہم اللہ کی کتاب (تورات) میں یہ بات پاتے ہیں کہ جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان بھی اس میں، جبکہ وہ نماز میں ہو، اللہ تعالیٰ سے جو چیز مانگتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتا ہے، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ اشارہ کیا کہ اس گھڑی کا وقت تھوڑا سا ہوتا ہے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول نے سچ فرمایا (واقعی اس کا وقت مختصر ہوتا ہے)۔ ابو سلمہ نے کہا: میں نے ان سے سوال کیا کہ یہ گھڑی کا وقت کون سا ہے؟ انھوں نے کہا: یہ دن کی آخری گھڑی ہوتی ہے۔ میں نے کہا: یہ تو نماز کا وقت ہی نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، بیشک جب مسلمان آدمی نماز پڑھ کر اپنے جائے نماز میں نماز ہی کی انتظار میں بیٹھ جاتا ہے تو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے۔
Takhreej
(۲۷۰۷) تخریـج: …اسنادہ قوی أخرجہ ابن ماجہ: ۱۱۳۹، وانظر الحدیث السابق: ۱۵۱۶ (انظر: ۲۳۷۸۱)ٔ
2707
Sahih
جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی اور اس کے وقت کا بیان
۔ (۲۷۰۸) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَدِمْتُ الشَّامَ فَلَقِیْتُ کَعْبًا فَکَانَ یُحَدِّثُنِی عَنِ التَّوْرَاۃِ وَأُحَدِّثُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی أَتَیْنَا عَلٰی ذِکْرِ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ، فَحَدَّثْتُہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ فِی الْجُمُعَۃِ سَاعَۃً لَا یُوَافِقُہَا مُسْلِمٌ یَسْأَلُ اللّٰہَ فِیْہَا خَیْرًا اِلَّا أَعْطَاہُ اِیَّاہُ۔)) فَقَالَ کَعْبٌ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ، ھِیَ فِی کُلِّ سَنَۃٍ مَرَّۃً، قُلْتُ لَا، فَنَظَرَ کَعْبٌ سَاعَۃً ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ ھِیَ فِی کُلِّ شَہْرٍ مَرَّۃً، قُلْتُ: لَا، فَنَظَرَ سَاعَۃً فَقَالَ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ فِی کُلِّ جُمُعَۃٍ مَرَّۃً، قُلْتُ: نَعَمْ فَقَالَ کَعْبٌ: أَتَدْرِی أَیَّ یَوْمٍ ھُوَ؟ قُلْتُ: وَأَیُّ یَوْمٍ ھُوَ؟ قَالَ: فِیْہِ خَلَقَ اللّٰہُ آدَمَ، وَفِیْہِ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ وَالْخَلَائِقُ فِیْہِ مُصِیْخَۃٌ اِلَّا الثَّقَلَیْنِ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ خَشْیَۃَ الْقِیَامَۃِ، فَقَدِمْتُ الْمَدِیْنَۃَ فَأَخْبَرْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ سَلَامٍ بِقَوْلِ کَعْبٍ، فَقَالَ: کَذَبَ کَعْبٌ، قُلْتُ: اِنَّہُ قَدْ رَجَعَ اِلٰی قَوْلِی، فَقَالَ: أَتَدْرِی أَیَّ سَاعَۃٍ ھِیَ؟ قُلْتُ: لَا وَتَہَالَکْتُ عَلَیْہِ أَخْبِرْنِی أَخْبِرْنِی، فَقَالَ: ھِیَ فِیْمَا بَیْنَ الْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ، قُلْتُ: کَیْفَ وَلَا صَلَاۃَ؟ قَالَ: أَمَا سَمِعْتَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَزَالُ الْعَبْدُ فِی صَلَاۃٍ مَا کَانَ فِی مُصَلَّاہُ یَنْتَظِرُ الصَّلَاۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۲۰۱)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں شام آیا اور کعب احبارکو ملا، وہ مجھے تورات سے بیان کرتے رہے اور میں انہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی احادیث سناتا رہا، یہاں تک کہ جمعہ کے دن کا تذکرہ ہونے لگا، میں نے اسے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان بھی اس میں اللہ تعالیٰ سے جو سوال کرتا ہے، وہ اسے دے دیتا ہے۔ کعب نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، یہ ہر سال میں ایک مرتبہ ہوتی ہے۔ میں نے کہا: نہیں۔ کعب نے کچھ دیر غور کرنے کے بعد کہا: جی، اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، یہ ہر مہینہ میں ایک مرتبہ ہوتی ہے۔ میں نے کہا: نہیں،یہ سن کر کعب نے پھر غور کیا اور کہا: جی، اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، یہ ہر جمعہ میں ایک مرتبہ ہوتی ہے۔ میں نے کہا:جی ہاں۔ کعب نے کہا: کیا آپ کو پتہ ہے یہ کون سا دن ہے؟ میں نے کہا: یہ کون سا دن ہے؟ انھوں نے کہا: یہ وہ دن ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور اسی دن قیامت برپا ہوگی، یہی وجہ ہے کہ جن و انس کے علاوہ تمام مخلوقات اس (دن کو) قیامت کے خوف سے کان لگائے ہوتی ہیں۔پھر میں مدینہ منورہ آیا اور سیّدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کعب کی بات بتائی، انھوں نے کہا: کعب نے غلط کہا۔میں نے کہا: جی وہ میری بات کے قائل ہو گئے تھے (کہ یہ گھڑی ہر جمعہ کو ہوتی ہے)۔ (پھر عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے)کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ گھڑی کون سی ہے؟میں نے کہا: جی نہیں، پھر تو میں (اصرار کرتے ہوئے) ان پر ٹوٹ پڑا اور کہا کہ مجھے بتلاؤ، بتلاؤ۔ پس انھوں نے کہا: یہ گھڑی عصر اور مغرب کے درمیان ہوتی ہے۔ میں نے کہا: یہ کیسے ہوتی ہے، جبکہ اس وقت میں تو کوئی نماز ہی نہیں ہوتی؟انھوں نے کہا: کیا تو نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ: بندہ اس وقت تک نماز میں ہی رہتا ہے، جب تک اپنی جائے نماز میں (بیٹھ کر) نما زکا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔
Takhreej
(۲۷۰۸) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، انظر الحدیث السابق (انظر: ۲۳۷۹۱)
2708
Sahih
جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی اور اس کے وقت کا بیان
۔ (۲۷۰۹)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: فَلَقِیْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُہُ حَدِیثِیْ وَحَدِیثَ کَعْبٍ فِی قَوْلِہِ فِی کُلِّ سَنَۃٍ، قَالَ: کَذَبَ کَعْبٌ، ھُوَ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی کُلِّ یَوْمِ جُمُعَۃٍ، قُلْتُ: اِنَّہُ قَدْ رَجَعَ، قَالَ: أَمَا وَالَّذِی نَفْسُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ بِیَدِہِ اِنِّی لَأَعْرِفُ تِلْکَ السَّاعَۃَ۔ قَالَ: قُلْتُ: یَا عَبْدَاللّٰہِ! فَأَخْبِرْنِی بِہَا، قَالَ: ھِیَ آخِرُ سَاعَۃٍ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ، قَالَ: قُلْتُ: قَالَ: ((لَا یُوَافِقُ مُؤْمِنٌ وَھُوَ یُصَلِّیْ)) قَالَ: أَمَا سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنِ انْتَظَرَ صَلَاۃً فَہُوَ فِی صَلَاۃٍ حَتّٰی یُصَلِّیَ۔))؟ قُلْتُ: بَلٰی۔ قَالَ: فَہُوَ کَذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۹۵)
(دوسری سند)سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں سیّدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا اور ان کو کعب سے ہونے والی اپنی ملاقات کے بارے میں بتایا کہ وہ تو یہ کہتے تھے کہ یہ گھڑی ایک سال میں ایک مرتبہ ہوتی ہے، انھوں نے کہا: کعب نے غلط بات کی ہے، یہ تو ہر جمعہ کو ہوتی ہے، جیسا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے۔ میں نے کہا: جی انھوں نے اپنی بات سے رجوع کر لیا تھا۔ پھر انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں عبد اللہ بن سلام کی جان ہے! میں اس گھڑی کو خوب جانتا ہوں۔ میںنے کہا: اے عبد اللہ! تو پھر مجھے بتائیے۔ انھوں نے کہا: یہ جمعہ کے دن آخری گھڑی ہوتی ہے۔ میں نے کہا: اس کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ جو مومن اس میں دعا کرتا ہے، جب کہ وہ نماز کی حالت میں ہوتا ہے (اور اس گھڑی میں تو کوئی نماز ادا نہیں کی جاتی)۔ انھوں نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا کہ نماز کا انتظار کرنے والے کو نماز میں ہی سمجھا جاتا ہے، جب تک وہ نماز پڑھ نہ لے ۔؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، انھوں نے کہا: تو پھر یہی بات ہے۔
Takhreej
(۲۷۰۹)تخریـج: …حدیث صحیح، وانظر الحدیث بالطریق الأول (انظر: ۲۳۷۸۶)
2709
Sahih
جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی اور اس کے وقت کا بیان
۔ (۲۷۱۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) قَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ: قَدْ عَلِمْتُ أَیَّۃَ سَاعَۃٍ ھِیَ، قَالَ أَبُو ھُرَیْرَۃَ: فَقُلْتُ لَہُ: فَأَخْبِرْنِی وَلَا تَضِنَّ عَلَیَّ، قَالَ عَبْدُاللّٰہِ: ھِیَ آخِرُ سَاعَۃٍ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ، قَالَ أَبُو ھُرَیْرَۃَ: کَیْفَ تَکُوْنُ آخِرَ سَاعَۃٍ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا یُصَادِفُہَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ یُصَلِّی)) وَتِلْکَ سَاعَۃٌ لَا یُصَلّٰی فِیْہَا؟ قَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ: أَلَمْ یَقُلْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا یَنْتَظِرُ فِیْہِ الصَّلَاۃً فَھُوَ فِی الصَّلَاۃِ حَتّٰی یُصَلِّیَ)) فَقُلْتُ: بَلٰی، قَالَ: فَھُوَ ذَاکَ ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۹۴)
(تیسری سند)سیّدنا عبد اللہ بن سلام نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ یہ گھڑی کس وقت ہے۔ سیّدنا ابوہریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے کہا کہ بخل نہ کرو اور مجھے بتلا دو۔ چنانچہ انھوں نے کہا: یہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے۔ سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا؛ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ جمعہ کی آخری گھڑی ہو، جب کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ جو مسلمان بھی نماز پڑھتے ہوئے اس گھڑی کی موافقت کرتا ہے اور یہ گھڑی تو ایسی ہے کہ اس میں کوئی نماز نہیں پڑھی جاتی؟ سیّدناعبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ: جو بندہ کسی مقام میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرتا ہے تو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے، یہاں تک وہ نماز پڑھ لے ۔میں نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: تو پھر وہ یہی ہے۔
Takhreej
(۲۷۱۰) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، وانظر الحدیث بالطریق الأول (انظر: ۲۳۷۸۵)
2710
Sahih
جمعہ کی فرضیت اور اس کو ترک کرنے پر تشدید کا بیان، نیز یہ کن لوگوں پر واجب ہے
۔ (۲۷۱۱) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَحْنُ الْآخِرُوْنَ وَنَحْنُ السَّابِقُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بَیْدَ أَنَّ کُلَّ أُمَّۃٍ أُوتِیَتِ الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِینَاہُ مِنْ بَعْدِھِمْ، ثُمَّ ھٰذَا الْیَوْمُ الَّذِی کَتَبَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہِمْ فَاخْتَلَفُوْا فِیْہِ، فَھَدَانَا اللّٰہُ لَہُ فَالنَّاسُ لَنَا فِیْہِ تَبَعٌ فَلِلْیَہُوْدِ غَدًا وَلِلنَّصَارَی بَعْدَ غَدٍ۔)) قَالَ أَحَدُھُمَا: بَیْدَ أَنَّ، وَقَالَ آخَرُوْنَ: بِأَیْدٍ۔ (مسند احمد: ۷۳۹۳)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم (دنیا میں تو) آخری ہیں، لیکن قیامت والے دن (حساب کتاب میں) پہلے ہوں گے، ہاں یہ بات تو ہے کہ ان کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہم کو ان کے بعد۔ پھر یہ جو دن ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کو ان پر بھی فرض کیا تھا، لیکن وہ اختلاف میں پڑ گئے اور اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی ہدایت دے دی تو لوگ اس بارے میں ہمارے تابع ہیں، اس طرح کہ یہودیوں کو کل ملا اور عیسائیوں کو (اِس سے بھی اگلا دن اتوار) ملا۔ ایک راوی نے بَیْدَ أَنَّ کہا اور دوسرے نے بِأَیْدٍ کہا۔
Takhreej
(۲۷۱۱) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۶۶۲۴، ۷۰۳۶، مسلم: ۸۵۵ (انظر: ۷۳۹۹، ۷۷۰۷)
2711
Sahih
جمعہ کی فرضیت اور اس کو ترک کرنے پر تشدید کا بیان، نیز یہ کن لوگوں پر واجب ہے
۔ (۲۷۱۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) ((فَاخْتَلَفُوا فِیْہِ فَجَعَلَہُ اللّٰہُ لَنَا عِیدًا، فَالْیَوْمَ لَنَا وَغَدًا لِلْیَہُوْدِ، وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارٰی۔)) (مسند احمد: ۷۳۹۵)
(دوسری سند) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انہوں نے اس میں اختلاف کیا تو اللہ نے اس (جمعہ کے دن) کو ہمارے لیے عید بنا دیا۔ پس آج (جمعہ کا دن) ہمارا ہے، کل (ہفتہ کا دن) یہود کے لیے ہے اور پرسوں (اتوار کا دن) عیسائیوں کے لیے ہے۔
Takhreej
(۲۷۱۲)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
2712
Sahih
جمعہ کی فرضیت اور اس کو ترک کرنے پر تشدید کا بیان، نیز یہ کن لوگوں پر واجب ہے
۔ (۲۷۱۳)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ الْجُمُعَۃَ عَلٰی مَنْ قَبْلَنَا فَاخْتَلَفُوا فِیْہَا وَھَدَانَا اللّٰہُ لَھَا فَالنَّاسُ لَنَا فِیْہَا تَبَعٌ، غَدًا لِلْیَہُوْدِ، وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارٰی)) (مسند احمد: ۷۲۱۳)
(تیسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے والے لوگوں پر بھی جمعہ فرض تو کیا تھا، لیکن وہ اختلاف میں پڑھ گئے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس معاملے میں ہدایت دی، پس لوگ ہمارے تابع ہیں۔ کل (ہفتے کا دن) یہودیوں کے لیے ہے اور پرسوں(اتوار کا دن)عیسائیوں کے لیے۔
Takhreej
(۲۷۱۳)تخریـج: …أخرجہ بنحوہ مسلم: ۸۵۶، وانظر الحدیث بالطریق الأول (انظر: ۷۲۱۴)
2713
Sahih
جمعہ کی فرضیت اور اس کو ترک کرنے پر تشدید کا بیان، نیز یہ کن لوگوں پر واجب ہے
۔ (۲۷۱۴)عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُمَا شَہِدَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ وَھُوَ عَلٰی أَعْوَادِ مِنْبَرِہِ: ((لَیَنْتَہِیَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِہِمُ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَیَخْتِمَنَّ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَلَیُکْتَبُنَّ مِنَ الْغَافِلِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۳۲)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر اور سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اس بات پر شہادت دی کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو منبر کی لکڑیوں پر یہ فرماتے ہوئے سنا: ضرور ضرور ایسے ہو گا کہ یا تو لوگ جمعہ ترک کرنے سے باز آ جائیں گے، یا پھر اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دیں گے اور غافلوں میں سے لکھ لیے جائیں گے۔
Takhreej
(۲۷۱۴)تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۸۶۵ (انظر: ۲۱۳۲، ۲۲۹۰)
2714
Sahih

Chapters

16
01
یوم جمعہ کی فضیلت کا بیان
6 Hadith
02
فصل: جمعہ کے دن نبی کریم aپر کثرت سے درود بھیجنے کی ترغیب کا بیان
2 Hadith
03
جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی اور اس کے وقت کا بیان
8 Hadith
04
جمعہ کی فرضیت اور اس کو ترک کرنے پر تشدید کا بیان، نیز یہ کن لوگوں پر واجب ہے
11 Hadith
05
عید یا بارش کے دن جمعہ ترک کرنے کے جواز کا بیان
3 Hadith
06
جمعہ کے وقت کا بیان
10 Hadith
07
جمعہ کے لیے غسل کرنے، اچھے کپڑے پہن کر خوبصورتی اختیار کرنے اور خوشبو لگانے کا بیان
22 Hadith
08
جمعہ کے لیے جلدی جانے، پیدل چل کر جانے، نہ کہ سواری پر، امام کے قریب ہو کر بیٹھنے اور خطبہ کے لیے خاموش ہونے وغیرہ کی فضیلت کا بیان
18 Hadith
09
خطیب کے منبر پر چڑھنے سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ جب وہ منبر پر چڑھ جائے تو آنے والا دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے گا
4 Hadith
10
جمعہ کی اذان کا بیان جب خطیب منبر پر بیٹھ جائے، نیز اس چیز کا بیان کہ عہد نبوی میں منبر کیسا تھا
4 Hadith
11
دو خطبوں، ان کی کیفیات اورآداب اور ان کے درمیان بیٹھنے کا بیان
18 Hadith
12
دوران خطبہ باتیں کرنے سے رکے رہنے، لیکن کسی مصلحت کے لیے امام سے بات کرنے یا امام کا بات کرنے کی رخصت اور کسی معاملے کے واقع ہو جانے کی وجہ سے خطبہ منقطع کر دینے کا بیان
10 Hadith
13
جو لوگ خطبۂ جمعہ کے دوران نبی کریمaسے بھاگ گئے تھے، ان کے قصے کا بیان
1 Hadith
14
دو رکعت نماز جمعہ ہونے کا بیان، اس آدمی کا حکم جس سے ایک رکعت رہ جائے یا ہجوم کر دیا جائے اور جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے مسجد کی شرط لگانے والے کا بیان
3 Hadith
15
نماز جمعہ میں قراء ت کا بیان
6 Hadith
16
جمعہ کی نماز کے بعد نفل پڑھنے اور ان کو فرض نماز کے ساتھ نہ ملانے کا بیان حتی کہ نمازی کسی سے کلام کرلے یا وہاں سے نکل جائے
5 Hadith
No chapter matched that.