TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نوحہ کے بغیر رونے کی رخصت کا بیان - نوحہ کے بغیر رونے کی رخصت کا بیان - میت پر رونے، سوگ کرنے اور موت کی اطلاع دینے کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of میت پر رونے، سوگ کرنے اور موت کی اطلاع دینے کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 5 · 11 Hadith
۔ (۳۰۷۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُوْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَتْ امْرَأَۃٌ: ہَنِیْئًا لَکَ الْجَنَّۃُ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُوْنٍ! وَفِی رِوَایَۃٍ قَالَتِ امْرَأَتُہُ: ہَنِیْئًا لَکَ یَا بْنَ مَظْعُوْنٍ! بِالْجَنَّۃِ، فَنَظَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَیْہَا نَظَرَۃَ غَضَبٍ، فَقَالَ: ((وَمَا یُدْرِیْکِ؟)) قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَارِسُکَ وَصَاحِبُکَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَمَا أَدْرِی مَا یُفْعَلُ بِی (وَفِی رِوَایَۃٍ وَلَا بِہِ)۔)) فَأَشْفَقَ النَّاسُ عَلٰی عُثْمَانَ، فَلَمَّا مَا تَتْ زَیْنَبُ (وَفِی رِوَایَۃٍ: رُقَیَّۃُ) ابْنَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : قَالَ رَسُوْلُ اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اِلْحَقِیْ بِسَلَفِنَا الصَّالِحِ الْخَیِّرِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنٍ۔)) فَبَکَتِ النِّسَائُ، فَجَعَلَ عُمَرُ یَضْرِبُہُنَّ بِسَوْطِہِ فَأَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ وَقَالَ: ((مَہْلًا یَاعُمَرُ!)) ثُمَّ قَالَ: ((اِبْکِیْنَ وَإِیَّاکُنَّ وَنَعِیْقَ الشَّیْطَانِ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّہُ مَہُمَا کَانَ مِنَ الْعَیْنِ وَالْقَلْبِ فَمِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَمِنَ الرَّحْمَۃِ، وَمَا کَانَ مِنَ الْیَدِ وَاللِّسَانِ فَمِنَ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۲۷)
سیّدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب سیّدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا انتقال ہوا تو ایک عورت نے کہا: اے عثمان بن مظعون! آپ کو جنت مبارک ہو۔دوسری روایت میں ہے: ان کی بیوی نے کہا: اے ابن مظعون! آپ کو جنت کی مبارک ہو۔ یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی طرف غصے سے دیکھا اور فرمایا: ((آپ کو کیسے معلوم ہوا؟)) اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آپ کے شہ سوار اورصحابی ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا، جبکہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا ہو گا اور اس کے ساتھ کیا ہو گا۔ یہ سن کر لوگ سیّدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بارے میں فکر مند ہو گئے۔جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب یاسیدہ رقیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا انتقال ہوا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ہمارے پیش رو صالح اور نیک سیرت فرد عثمان بن مظعون کو جا ملو۔ پس عورتیں رونے لگیں اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے انہیں کوڑے سے مارنا شروع کر دیا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کا ہاتھ روک لیا اور فرمایا: عمر ٹھہر جاؤ۔ پھر فرمایا: روؤ روؤ، البتہ شیطانی چیخ و پکار سے بچنا۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو رونا آنکھ اور دل سے ہو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور جذبۂ رحمت کی بنا پر ہوتا ہے، اور جو ہاتھ اور زبان سے ہو وہ شیطان کی طرف سے ہوتاہے۔
Takhreej
(۳۰۷۵) تخریـج: …اسنادہ ضعیف، لضعف علی بن زید بن جدعان، ولین یوسف بن مہران أخرجہ الطیالسی: ۲۶۹۴، والطبرانی: ۸۳۱۷، والحاکم: ۳/ ۱۹۰ (انظر: ۲۱۲۷، ۳۱۰۳)
3075
Zaeef
۔ (۳۰۷۶) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فِی قِصَّۃِ مَوْتِ إِبْرَاہِیْمَ بْنِ النَّبِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَا الصَّبِیَّ فَضَمَّہُ إِلَیْہِ، قَالَ أَنَسٌ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: فَلَقَدْ رَأَیْتُہُ بَیْنَ یَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَکِیْدُ بِنَفْسِہِ، قَالَ: فَدَمَعَتْ عَیْنَا رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَدْمَعُ الْعَیْنُ وَیَحْزَنُ الْقَلْبُ، وَلَا نَقُوْلُ إِلَّا مَا یُرْضِی رَبَّنَا عَزَّوَجَلَّ وَاللّٰہِ! إِنَّا بِکَ یَا إِبْرَاہِیْمُ لَمَحْزُوْنُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۳۰۴۵)
(دوسری سند) اس میں پس وہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ کے بعد یہ اضافہ ہے: پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبر کے کنارے بیٹھ گئے اور سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو میں بیٹھ کر رونے لگیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے ساتھ شفقت کرتے ہوئے ان کی آنکھوں کو اپنے کپڑے سے پونچھنے لگے۔
Takhreej
(۳۰۷۶) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۲۳۱۵، وأخرج بنحوہ البخاری: ۱۳۰۳(انظر: ۱۳۰۱۴)
Explanation
فوائد: …آپaکا غصے سے دیکھنا، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ سیّدنا عثمان bکو جنت کی مبارک دے کر ایک غیبی امر پر اطلاع پانے کا دعوی کر رہی تھیں، آپaنے ان کو سمجھانا چاہا کہ بیشک کوئی بندہ نیک ہو سکتا ہے، لیکن جب تک اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اطلاع نہیں دے گا، اس وقت کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔صحابہ کا سیّدنا عثمانbکے بارے میں فکر مند ہونا، اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ صحابی دوسرے صحابہ کے نزدیک نیک اور صالح فرد تھے، لیکن بعد میں جب آپaنے اپنی بیٹی کی وفات پر سیّدنا عثمان bکی تعریف کی تو صحابہ مطمئن ہو گئے۔ حدیث میں مذکورہ خواتین کا روناجائز تھا، لیکن سیّدنا عمرb نے اس کو ناجائز سمجھ کر روکنا چاہا، اس لیے آپaنے ان کو روکنے سے منع کر دیا۔
3076
Sahih
۔ (۳۰۷۷) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ فَاطِمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بَکَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا أَبَتَاہُ مِنْ رَبِّہِ مَا أَدْنَاہُ، یَا أَبْتَاہُ إِلٰی جِبْرِیْلَ أَنْعَاہُ، یَا أَبْتَاہُ جَنَّۃُ الْفِرْدُوْسِ مَأْوَاہُ۔ (مسند احمد: ۱۳۰۶۲)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بیٹے سیّدنا ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کا قصہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں تشریف لائے اوربچے کو بلوایا، پھراسے اپنے سینہ سے لگا لیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ اس وقت حالت ِ نزع میں تھے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں اور دل غمگین ہو رہا ہے، لیکن ہم بات صرف وہی کہیں گے جو ہمارے رب کو راضی کرے گی، اے ابراہیم! اللہ کی قسم! ہم تیری وجہ سے یقینا غمگین ہیں۔
Takhreej
(۳۰۷۷) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۴۴۶۲ (انظر: ۱۳۰۳۱)
Explanation
فوائد: …صحیح بخاری میں اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: (جب رسول اللہaسیّدنا ابراہیمbکو عالم نزع میں دیکھ کر رونے لگے)تو سیّدنا عبد الرحمن بن عوفbنے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ بھی رو رہے ہیں؟ آپaنے فرمایا: ’’اے ابن عوف! یہ تو رحمت ہے۔‘‘ پھر آپaکے مزید آنسو بہنے لگے۔ حافظ ابن حجرkنے کہا: سیّدنا عبد الرحمن بن عوف bکی اسی حدیث میں یہ الفاظ بھی واقع ہوئے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ رو رہے ہیں، کیا آپ نے رونے سے منع نہیں کیا؟ آپaنے فرمایا: ’’میں نے تو اِن دو قسم کی بری اور بیوقوف آوازوں سے منع کیا ہے: (۱)گاہنے والی آواز، جو کہ لہو، کھیل اور شیطان کی بانسری ہے اور (۲) مصیبت کے وقت کی آواز، یعنی چہرے کو نوچنا، گریبان کو چاک کرنا اور شیطان کی آواز (یعنی چیخ و پکار)، یہ میرا رونا تو رحمت ہے اور جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔‘‘ (فتح الباری: ۳/۲۲۴)
3077
Sahih
۔ (۳۰۷۸) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عِیْسٰی عَنْ جَبْرِ بْنِ عَتِیْکٍ عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی مَیِّتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَہْلُہٗ یَبْکُوْنَ، فَقُلْتُ: أَتَبْکُوْنَ وَہٰذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((دَعْہُنَّ یَبْکِیْنَ مَا دَامَ عِنْدَہُنَّ، فَإِذَا وَجَبَتْ فَـلَا یَبْکِیْنَ)) فَقَالَ جَابِرٌ: فَحَدَّثْتُ بِہِ عُمَرَ بْنَ حُمَیْدٍ الْقُرَشِیَّ فَقَالَ: مَاذَا وَجَبَتْ؟ قَالَ: إِذَا أُدْخِلَ قَبْرَہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۵۲)
سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات پر روئیں اور کہا: اے ابا جان! آپ اپنے ربّ کے کتنے قریب ہو گئے ہیں، اے ابا جان! میں جبریل کو آپ کی وفات کی خبر دیتی ہوں۔ اے با جان! جنت الفردوس آپ کا ٹھکانہ ہے۔
Takhreej
(۳۰۷۸) تخریـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۶/ ۵۲ (انظر: ۲۳۷۵۱)
3078
Sahih
۔ (۳۰۷۹) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائِ بْنِ عَلْقَمَۃَ أَنَّہُ کَانَ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِی السُّوْقِ وَمَعَہُ سَلَمَۃُ بْنُ اْلأَزْرَقِ إِلٰی جَنْبِہِ فَمُرَّ بِجَنَازَۃِ یَتْبَعُہَا بُکَائٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : لَوْ تَرَکَ أَہْلُ ہٰذَا الْمَیِّتِ الْبُکَائَ لَکَانَ خَیْرًا لِمَیِّتِہِمْ، فَقَالَ سَلَمَۃُ بْنُ الْأَزْرَقِ: تَقُوْلُ ذَالِکَ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ!؟ قَالَ: نَعَمْ، أَقُوْلُہُ، قَالَ: إِنِّی سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَمَاتَ مَیِّتٌ مِنْ أَہْلِ مَرْوَانَ فَاجْتَمَعَ النِّسَائُ یَبْکِیْنَ َعَلَیْہِ، فَقَالَ مَرْوَانُ: قُمْ یَا عَبْدَ الْمَلِکِ! فَانْہَہُنَّ أَنْ یَبْکِیْنَ، فَقَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: دَعْہُنَّ فَإِنَّہُ مَاتَ مَیِّتٌ مِنْ آلِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاجْتَمَعَ النِّسَائُ یَبْکِیْنَ عَلَیْہِ، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یَنْہَاہُنَّ وَیَطْرُدُہُنَّ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَعْہُنَّ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ! فَإِنَّ الْعَیْنَ دَامِعَۃٌ’ وَالْفُؤَادَ مُصَابٌ،وَإِنَّ الْعَہْدَ حَدِیْثٌ)) فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَنْتَ سَمِعْتَ ہٰذَا مِنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: یَأْثُرُہُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ أَعْلَمُ۔ (مسند احمد: ۵۸۸۹)
محمد بن عمرو کہتے ہیں: میں بازار میں سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ بیٹھا ہواتھا، ان کے پہلو میں سلمہ بن ازرق بھی موجود تھے، ایک جنازہ گزرا، اس کے ساتھ لوگ روتے جا رہے تھے، سیّدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر اس میت والے یہ لواحقین رونا ترک کر دیں تو اس میت کے حق میں بہتر ہو گا۔ سلمہ بن ازرق نے کہا: ابو عبد الرحمن! آپ یہ بات کہہ رہے ہیں؟انہوں نے فرمایا: جی ہاں، میں کہہ رہا ہوں۔ سلمہ بن ازرق نے کہا: میں نے سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا، جبکہ مروان کے اہل میں سے کوئی فوت ہو گیا تھا، عورتیں جمع ہو کر رونے لگیں، مروان نے کہا: عبد الملک! اٹھو اور جا کر ان عورتوں کو رونے سے منع کرو۔ سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: انہیں رونے دو، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ایک رشتہ دار فوت ہو گیا تھا، عورتیں جمع ہو کر اس پر رونے لگیں، سیّدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ انہیں روکنے اور ڈانٹ ڈپٹ کرنے کے لیے اٹھے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن خطاب، انہیں چھوڑو، آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں، دل غمگین ہیں اور مصیبت کا وقت بھی قریب ہے۔ سیّدناابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا آپ نے یہ حدیث سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے خود سنی ہے؟اس نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: کیا وہ اسے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کرتے تھے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔یہ سن کر انھوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔
Takhreej
(۳۰۷۹) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال سلمۃ بن الأزرق أخرجہ ابن ماجہ: ۱۵۸۷، والنسائی: ۴/ ۱۹ (انظر: ۵۸۸۹، ۷۶۹۱)
Explanation
فوائد: …’’جب واجب ہو جائے گی‘‘ اس سے مراد موت ہے،جیسا کہ سنن اور مؤطا کی مرفوع روایت سے معلوم ہو رہا ہے۔ اس کے معانی دفن بیان کرنا، یہ راوی کا ذاتی فہم ہے، جو کہ صحیح نہیں ہے۔ موت واقع ہو جانے کے کوئی نہ روئے، ظاہر ہے کہ دوسری روایات کی روشنی میں اس سے مراد رونے کی ممنوعہ قسم ہے، جس میں چیخ و پکار ہو یا بلند آواز سے رونا ہو، کیونکہ رونا تو آپaسے فعلاً بھی ثابت ہے، بلکہ اس کو رحمت قرار دے کر اس کی تعریف کی گئی ہے۔
3079
Zaeef
۔ (۳۰۸۰) عَنْ إِبْرَہِیْمَ الْہَجَرِیِّ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِی أَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَۃِ، فَمَاتَتْ ابْنَۃٌ لَہُ وَکَانَ یَتْبَعُ جَنَازَتَہَا عَلٰی بَغْلَۃٍ خَلْفَہَا، فَجَعَلَ النِّسَائُ یَبْکِیْنَ، فَقَالَ: لَا تَرْثِیَنَّ، فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنِ الْمَرَاثِی، فَتُفِیْضُ إِحْدَاکُنَّ مِنْ عَبَرَاتِہَا مَا شَائَ تْ، کَبَّرَ عَلَیْہَا أَرْبَعًا ثُمَّ قَامَ بَعْدَ الرَّابِعَۃِ قَدْرَ مَا بَیْنَ التَّکْبِیْرَتَیْنِ یَدْعُوْ، ثُمَّ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ فِی الْجَنَازَۃِ ہٰکَذَا۔ (مسند احمد: ۱۹۳۵۳)
سیّدنا عبد اللہ بن ابی اوفیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،جو بیعت ِ رضوان کرنے والے صحابہ میں سے تھے، کی بیٹی کاانتقال ہو گیا۔ وہ ایک خچر پر سوار جنازہ کے پیچھے جا رہے تھے، اتنے میں عورتیں رونے لگیں، انہوں نے کہا: مرثیے مت کہو، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مرثیوں سے منع فرمایا ہے۔ البتہ جس قدر چاہو آنسو بہا سکتی ہو۔ پھر انہوں نے نماز جنازہ میں چار تکبیرات کہیں، چوتھی تکبیر کے بعد بھی دو تکبیروں کے درمیان وقفہ کے برابر کھڑے ہو کر دعائیں کرتے رہے۔ پھر کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی جنازہ ایسے ہی کیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۰۸۰) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لضعف ابراہیم بن مسلم الھجری شیخ البانی نے ابن ماجہ کی روایت کو صحیح کہا، اس میں چار تکبیرات اور چوتھی تکبیر کے بعد دعا کرنے کا ذکر ہے، اس کا صحیح سند کے ساتھ ایک موقوف شاہد سنن بیہقی میں ہے۔ (ملاحظہ ہو: احکام الجنائز للألبانی: صـ۱۲۶)۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۵۰۳، ۱۵۹۲(انظر: ۱۹۱۴۰)
Explanation
فوائد: …اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جنازے میں چوتھی تکبیر اور سلام کے درمیان دعا کرنا بھی ثابت ہے۔
3080
Zaeef
۔ (۳۰۸۱) عَنْ ابْنِ عَبَّاسَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: جَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی بَعْضِ بَنَاتِہِ، وَہِیَ فِی السَّوْقِ، فَأَخَذَہَا وَوَضَعَہَا فِی حِجْرِہِ حَتّٰی قُبِضَتْ فَدَمَعَتْ عَیْنَاہُ فَبَکَتْ أُمُّ أَیْمَنَ، فَقِیْلَ لَہَا: أَتَبْکِیْنَ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: أَلَا أَبْکِی وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَبْکِی، قَالَ: ((إِنِّی لَمْ أَبْکِ، وَہٰذِہِ رَحْمَۃٌ إِنَّ الْمُؤْمِنَ تَخْرُجُ نَفْسُہُ مِنْ بَیْنِ جَنْبَیْہِ وَہُوَ یَحْمُد اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ (وَفِی لَفْظٍ) إِنَّ الْمُؤْمِنَ بِکُلِّ خَیْرٍ عَلٰی کُلِّ حَالٍ، إِنَّ نَفْسَہُ تَخْرُجُ مِنْ بَیْنِ جَنْبَیْہِ وَہُوَ یَحَمَدُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ)) (مسند احمد: ۲۴۱۲)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ایک صاحب زادی کے ہاں تشریف لائے، جبکہ وہ عالَمِ نزع میں تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو پکڑا اور اپنی گود میں رکھا، اس وقت اس کی روح پرواز کر گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آنکھوں سے آنسو آ گئے، سیدہ ام ایمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بھی رونے لگیں، ان سے کسی نے کہا: تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہوتے ہوئے رو رہی ہیں؟ انہوں نے کہا: میں کیوں نہ روؤں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی تو رو رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تونہیں رو رہا، یہ تو رحمت ہے۔ مومن کی روح اس کے پہلوئوں سے نکل رہی ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: مومن ہر حال میں ہر قسم کی بھلائی پرہوتاہے، جب اس کی روح اس کے پہلوئوں سے نکل رہی ہوتی ہے تو وہ اس حال میں بھی اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کر رہا ہوتا ہے۔
Takhreej
(۳۰۸۱) تخریـج: …حدیث حسن۔ أخرجہ الترمذی فی ’’الشمائل‘‘: ۳۱۸، وابن ابی شیبۃ: ۴/ ۳۹۴، وعبد بن حمید: ۵۹۳ (انظر: ۲۴۱۲)
Explanation
فوائد: …اس صاحب زادی سے مراد آپaکی نواسی تھیں، اگلی حدیث میں اس کی وضاحت آ رہی ہے۔ نبی کریمaاور سیدہ ام ایمنcدونوں ہی رو رہے تھے، لیکن اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ام ایمن کا رونا آواز کے ساتھ تھا، اگرچہ وہ نوحہ نہیں تھا اور آپaکا رونا بلا آواز تھا، جو دل کے نرم ہونے پر دلالت کرتا ہے، آپaکا اپنے رونے کی نفی کرنا، اس سے مراد یہ تھا کہ آپaاس کی طرح تو نہیں رو رہے تھے۔ اس حدیث سے ایک اہم سبق یہ بھی ملتا ہے کہ مسلمان کو بڑی سے بڑی آزمائش پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کر کے اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی ہونے کا اظہار کرنا چاہیے۔
3081
Sahih
۔ (۳۰۸۲) عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: أَرْسَلَتْ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْضُ بَنَاتِہِ أَنْ صَبِیًّا لَہَا ابْنًا أَوْ ابْنَۃً، قَدِ احْتُضِرَتْ فَاشْہَدْنَا، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَیْہَا یَقْرَأُ السَّلَامَ ، وَیَقُوْلُ: ((إِنَّ لِلّٰہَ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطٰی وَکُلُّ شَیْئٍ عِنْدَہُ إِلٰی أَجَلٍ مُسَمًّی، فَلْتَصْبِرْوَ لْتَحْتَسِبْ)) فَأَرْسَلَتْ تُقْسِمُ عَلَیْہِ، فَقَامَ وَقُمْنَا فَرُفِعَ الصَّبِیُّ إِلٰی حِجْرِ أَوْ فِی حِجْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَفْسُہُ تَقَعْقَعُ، وَفِی الْقَوْمِ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ وَ أُبَیٌّ أَحْسِبُ، فَفَاضَتْ عَیْنَا رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لَہُ سَعْدٌ: مَا ہٰذَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((إِنَّ ہٰذِہِ رَحْمَۃٌ یَضَعُہَا اللّٰہُ فِی قُلُوْبِ مَنْ یَشَائُ مِنْ عِبَادِہِ وَإِنَّمَا یَرْحَمُ اللّٰہُ مِنْ عِبَادِہِ الرَّحْمَائُ)) (مسند احمد: ۲۲۱۱۹)
سیّدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صاحب زادی (سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اطلاع بھجوائی کہ اس کا بیٹا یا بیٹی نزع کے عالَم میں ہے، لہٰذا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواباً اپنی بیٹی کو سلام بھجوایا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ جو لے لے اور جو دے دے، سب کچھ اسی کا ہے اور اس کے پاس ہر چیز کا وقت مقرر ہے، پس چاہیے کہ وہ صبر کرے اور اجر کی امید رکھے۔ لیکن اس دفعہ بیٹی نے قسم دے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دوبارہ بلوایا۔ سو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اٹھے اورہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چل پڑے۔ بچے کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گود میں رکھ دیا گیا،اس وقت اس کی روح پرواز کر رہی تھی۔ لوگوں میں سیّدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ موجود تھے اور میرا خیال ہے کہ سیّدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آنکھیں بہہ پڑیں، سیّدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ رحمت ہے، جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاہتا ہے، رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے مہربان بندوں پر رحم کرتا ہے۔
Takhreej
(۳۰۸۲) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۵۶۵۵، ۶۶۵۵، وأخرج بنحوہ مسلم: ۹۲۳ (انظر: ۲۱۷۷۶)
Explanation
فوائد: …بیٹا یا بیٹی کہنا، یہ کسی راوی کو شک ہے، یہ بیٹی ہی تھیں، ان کا نام سیدہ امامہ cتھا، جن کو اگلی حدیث میں اُمَیمہ کہا گیا ہے۔
3082
Sahih
۔ (۳۰۸۳)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: أُتِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِأُمَیْمَۃَ ابْنَۃِ زَیْنَبَ وَنَفْسُہَا تَقَعْقَعُ، کَأَنَّہَا فِی شَنٍّ، فَقَالَ: ((لِلّٰہِ مَا أَخَذَ وَلِلّٰہِ مَا أَعْطٰی وَکُلٌّ إِلٰی أَجَلٍ مُسَمًّی۔))قَالَ: فَدَمَعَتْ عَیْنَاہُ، فَقَالَ لَہُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَتَبْکِی؟ أَوْلَمْ تَنْہَ عَنِ الْبُکَائِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّمَا ہِیَ رَحْمَۃٌ جَعَلَہَا اللّٰہُ فِی قُلُوْبِ عِبَادِہِ وَإِنَّمَا یَرْحَمُ اللّٰہُ مِنْ عِبَادِہِ الرُّحَمَائَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۱۴۲)
(دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سیدہ امیمہ بنت زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو لایا گیا، وہ عالَم نزع میں تھیں اورپرانے مشکیزے کی طرح لگ رہی تھیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ جو لے لے اور جو دے دے، سب اسی کا ہے اور ہر چیز کا ایک وقت ِ مقرر ہے۔ یہ کہتے ہی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، سیّدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ رو رہے ہیں؟ کیا آپ نے رونے سے منع نہیں فرمایا تھا؟رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ رحمت ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں ڈال رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ رحم کرنے والے بندوں پر ہی رحم فرماتا ہے۔
Takhreej
(۳۰۸۳)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… یعنی اس کے سانس اکھڑنے کی آواز پرانے مشکیزے میں پانی کے چھلکنے کی آواز کی طرح تھی۔(عبداللہ رفیق)
3083
Sahih
۔ (۳۰۸۴)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: أَرْسَلَتِ ابْنَۃُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِنَّ ابْنِی یُقْبَضُ، فَأْتِنَا،…۔ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ بِنَحْوِ مَا تَقَدَّمَ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۳۲)
(تیسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صاحب زادی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پیغام بھیجا کہ اس کابیٹا فوت ہو رہا ہے، لہٰذا آپ تشریف لائیں، …۔ الحدیث۔
Takhreej
(۳۰۸۴)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد: …اس حدیث سے یہ سبق بھی ملا کہ تعزیت کے لیے اور کسی کو تسلی دلانے کے لیے یہ دعا پڑھنی چاہیے: ((إِنَّ لِلّٰہَ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطٰی وَکُلُّ شَیْئٍ عِنْدَہُ إِلٰی أَجَلٍ مُسَمًّی، فَلْتَصْبِرْوَ لْتَحْتَسِبْ۔)) یعنی: ’’اللہ تعالیٰ جو لے لے اور جو دے دے، سب کچھ اسی کا ہے اور اس کے پاس ہر چیز کا وقت مقرر ہے، پس چاہیے کہ وہ
3084
Sahih
۔ (۳۰۸۵) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ لَمَّا مَاتَ حَضَرَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُوْ بَکْرٍ وَ عُمَرُ قَالَتْ: فَوَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! إِنِّی لأَعْرِفُ بُکَائَ عُمَرَ مِنْ بُکَائِ أَبِی بَکْرٍ وَأَنَا فِی حُجْرَتِی، وَکَانُوْا کمَا قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {رُحْمَائُ بَیْنَہُمْ}۔ (مسند احمد: ۲۵۶۱۰)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ جب سیّدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا انتقال ہوا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیّدناابوبکر اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما وہاں تشریف لائے، سیدہ کہتی ہیں:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جان ہے! میں ابوبکر اور عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے رونے کی آواز علیحدہ علیحدہ پہچان رہی تھی، حالانکہ میں اپنے حجرے میں تھی،وہ صحابہ آپس میں ایسے ہی تھے، جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا ہے: {رُحْمَآئُ بَیْنَہُمْ} (سورۂ فتح: ۲۹) یعنی: وہ آپس میں رحم دل تھے۔
Takhreej
(۳۰۸۵) تخریـج: …ھذا حدیث طویل ولہ شواھد یصح بھا دون قولھا: ’’کانت عینہ لا تدمع علی احد‘‘۔ أخرجہ ابن حبان: ۷۰۲۸، وابن ابی شیبۃ: ۱۴/ ۴۰۸، وأخرج بعضَ جملہ البخاری ومسلم (انظر: ۲۵۰۹۷)
Explanation
فوائد: …مذکورہ بالا تین ابواب کی احادیث کا تعلق رونے،نوحہ کرنے اور اس قسم کے دوسرے امور سے ہے۔ ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ جس رونے کا تعلق آنکھ کے آنسوؤں اور دل کے غم کے ساتھ ہو، وہ جائز ہے، بلکہ اس کی تعریف کی گئی ہے کیونکہ یہ رونا دل کی نرمی کا نتیجہ ہے، اس ضمن میں ایسی آواز بھی نکل سکتی ہے، جس کے سامنے شدتِ غم کی وجہ سے آدمی مغلوب ہو جاتا ہے، اس باب کی آخری حدیث کا تعلق اسی صورت سے ہے کہ جب سیّدنا ابو بکر اور سیّدنا عمرd، سیّدنا سعدbپر رو رہے تھے تو ان کے رونے کی آواز آ رہی تھی۔ اس کے علاوہ رونے کی ہر صورت کو نوحہ اور خلافِ شرع قرار دیا جائے گا، مثلا بلند آواز سے رونا، واویلا کرنا، اول فول بکنا، چیخنا، جاہلیت والی پکاریں پکارنا، روتے ہوئے یا اونچی آواز سے میت کے فضائل و محاسن اور عادات و اطوار کا تذکرہ کرنا، مثلا: ہائے میرے بازو، ہائے میرے مددگار، او بہادرا، گریبان چاک کرنا، رخسار پیٹنا، سرمنڈانا، ممنوعہ الفاظ کہنا، اپنے لیے بددعا کرتے ہوئے رونا۔
3085
Sahih