TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سمندر اور کنویں کے پانی کے طاہر ہونے کا بیان - سمندر اور کنویں کے پانی کے طاہر ہونے کا بیان - طہارت کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of طہارت کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 12 · 6 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۳۵۴)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: سَأَلَ ؔ رَجُلٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّا نَرْکَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِیْلَ مِنَ الْمَائِ، فَاِنْ تَوَضَّاْنَا بِہِ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَائِ الْبَحْرِ؟ قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((ہُوَ الطَّہُوْرُ مَائُ ہُ، الْحِلُّ مَیْتَتُہُ۔)) (مسند أحمد: ۸۷۲۰)
سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کرتے ہوئے کہا: بیشک ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑی مقدار میں پانی لے جاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو بھی کریں تو (ساتھ والے پانی کے تھوڑے ہونے کی وجہ سے) پیاس لگتی ہے، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔
Takhreej
(۳۵۴) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۸۳، وابن ماجہ: ۳۸۶، ۳۲۴۶، والترمذی: ۶۹، والنسائی: ۱/ ۵۰(انظر: ۸۷۳۵)
354
Sahih
۔ (۳۵۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ أَنَّ نَاسًا أَتَوْا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: اِنَّا نَبْعُدُ فِی الْبَحْرِ وَلَا نَحْمِلُ مِنَ الْمَائِ اِلَّا الْاِدَاوَۃَ وَالْاِدَاوَتَیْنِ لِأَنَّالَا نَجِدُ الصَّیْدَ حَتَّی نَبْعُدَ، أَفَنَتَوَضَّأُ بِمَائِ الْبَحْرِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، فَاِنَّہُ الْحِلُّ مَیْتَتُہُ، الْطَّہُوْرُ مَاؤُہُ)) (مسند أحمد:۸۸۹۹)
۔ (دوسری سند) بیشک کچھ لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے اور کہا: ہم سمندر میں دور تک نکل جاتے ہیں، کیونکہ دور جائے بغیر شکار نہیں ملتا اور اپنے ساتھ ایک دو چھوٹے چھوٹے برتنوں میں (پینے والا پانی) اٹھایا ہوا ہوتا ہے، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، بیشک اس کا مردار حلال ہے اور اس کا پانی پاک کرنے والا ہے۔
Takhreej
(۳۵۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… چمڑے کے چھوٹے سے برتن کو اِدَاوَۃ کہتے ہیں۔
355
Sahih
۔ (۳۵۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ أَبِیْ بُرْدَۃَ الْکِنَانِیِّ أَنَّ بَعْضَ بَنِیْ مُدْلِجٍ أَخْبَرَہُ أَنَّہُمْ کَانُوْا یَرْکَبُوْنَ الْأَرْمَاثَ فِی الْبَحْرِ لِلصَّیْدِ فَیَحْمِلُوْنَ مَعَہُمْ مَائً لِلسَّقَاۃِ فَتُدْرِکُہُمُ الصَّلَاۃُ وَہُمْ فِی الْبَحْرِ وَأَنَّہُمْ ذَکَرُوْا ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: اِنْ نَتَوَضَّأْ بِمَائِنَا عَطِشْنَا وَاِنْ نَتَوَضَّأْ بِمَائِ الْبَحْرِ وَجَدْنَا فِیْ أَنْفُسِنَا، فَقَالَ لَہُمْ: ((ہُوَ الطَّہُوْرُ مَاؤُہُ الْحَلَالُ مَیْتَتُہُ۔)) (مسند أحمد:۲۳۴۸۴)
عبد اللہ بن مغیرہ کنانی کہتے ہیں کہ بنو مدلج کے بعض افراد نے اس کو بتلایا ہے کہ وہ لوگ شکار کرنے کے لیے تختوں پر سمندر میں جاتے تھے اور پینے کے لیے اپنے ساتھ پانی لے جاتے تھے، لیکن ان کی نماز کا وقت بھی سمندر میں ہی ہو جاتا تھا، انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سامنے یہ صورتحال بیان کی اور کہا: اگر ہم اپنے ساتھ اٹھائے ہوئے پانی سے وضو کریں تو پیاس لگتی ہے اور اگر سمندر کے پانی سے وضو کریں تو دل میں شک سا رہتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے فرمایا: سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔
Takhreej
(۳۵۶) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱/ ۱۳۰، والحاکم: ۱/ ۱۴۱، عبد الرزاق: ۳۲۱ (انظر: ۲۳۰۹۶)
356
Sahih
۔ (۳۵۷)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی الْبَحْرِ: ((ہُوَ الطَّہُوْرُ مَاؤُہُ الْحِلُّ مَیْتَتُہُ)) (مسند أحمد:۱۵۰۷۶)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سمندر کے بارے میں فرمایا: اس کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔
Takhreej
(۳۵۷) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۸۸(انظر: ۱۵۰۱۲)
Explanation
فوائد:… عام طور پر سمندر کا پانی کھارا اور نمکین ہونے کی وجہ سے ، دوسرے پانیوں سے مختلف ہوتا ہے، اس لیے سائل کو شبہ ہو رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کے شبہ کا ازالہ کر دیا اور اس کی ضرورت کے مطابق سمندر کے مردار کے حلال ہونے کی بھی وضاحت کر دی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مفتی اور عالم کو اتنا فہیم ہونا چاہیے کہ وہ سائل کے سوال کے مقصد اور اس کے متعلقات کو سمجھ سکے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دیکھا کہ جس شخص کو سمندر کے پانی کے بارے میں شک پڑ رہا ہے، وہ لامحالہ طور پر اس کے مردار کے بارے متردّد ہو گا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مردار کے حکم کی بھی وضاحت کر دی، یہ چیز فتوی کے محاسن میں سے ہے۔ یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ تمام سمندری حیوانات، جو صرف پانی میں زندہ رہ سکتے ہیں، حلال ہیں، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد کی یہی رائے ہے اور یہی مسلک راجح ہے، کیونکہ اس حدیث میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا فرمان عالیشان عام ہے، جو ہر سمندری کو شامل ہے، نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہٗ مَتَاعًا لَّکُمْ وَلِلسَّیَّارَۃِ} … تمہارے لیے دریا کا شکار پکڑنا اور اس کا کھانا حلال کیا گیا ہے۔ (سورۂ مائدہ: ۹۶)البتہ امام ابو حنیفہ صرف مچھلی کے مردار کو ہی حلال سمجھتے ہیں۔
357
Sahih
۔ (۳۵۸)۔عَنْ مُوْسَی بْنِ سَلَمَۃَ أَنَّ سِنَانَ بْنَ سَلَمَۃَ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍؓ عَنْ مَائِ الْبَحْرِ فَقَالَ: مَائُ الْبَحْرِ طَہُوْرٌ۔ (مسند أحمد:۲۵۱۸)
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ سنان بن سلمہ نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے سمندر کے پانی کے حکم کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا: سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے۔
Takhreej
(۳۵۸) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم ۔ أخرجہ الدارقطنی:۱/۳۵، والحاکم: ۱/۱۴۰(انظر:۲۵۱۸)
358
Sahih
۔ (۳۵۹)۔عَنْ عَلِیٍّ ؓ فِیْ صِفَۃِ حَجِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ثُمَّ أَفَاضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَائِ زَمْزَمَ فَشَرِبَ مِنْہُ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ: ((اِنْزِعُوْا یَا بَنِیْ عَبْدِالْمُطَّلِبِ! فَلَوْ لَا أَنْ تُغْلَبُوْا عَلَیْہَا لَنَزَعْتُ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۴۸)
سیدنا علی ؓ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حج کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے طوافِ افاضہ کیا اور زمزم کے پانی کا ڈول منگوا کر اس سے پیا اور وضو بھی کیا اور فرمایا: اے بنو عبد المطلب! پانی کھینچو، اگر تمہارے مغلوب ہو جانے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں بھی تمہارے ساتھ کھینچتا۔
Takhreej
(۳۵۹) تخریج: اسنادہ حسن (انظر: ۱۳۴۸)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ زمزم کے پانی سے وضو کرنا درست ہے۔ آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بھی پانی کھینچتے تو لوگ اس کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی فعلی اور حج سے متعلقہ سنت سمجھ کر ایسا کرنے پر ٹوٹ پڑتے اور بنو عبد المطلب اس سعادت سے محروم ہو جاتے۔ اور افراتفری پیدا ہوتی ہے اور نظام بھی خراب ہوتا۔
359
Sahih