مسنداحمد

Musnad Ahmad

طہارت کے ابواب

سمندر اور کنویں کے پانی کے طاہر ہونے کا بیان


۔ (۳۵۴)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: سَأَلَ ؔ رَجُلٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّا نَرْکَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِیْلَ مِنَ الْمَائِ، فَاِنْ تَوَضَّاْنَا بِہِ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَائِ الْبَحْرِ؟ قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((ہُوَ الطَّہُوْرُ مَائُ ہُ، الْحِلُّ مَیْتَتُہُ۔)) (مسند أحمد: ۸۷۲۰)

سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کرتے ہوئے کہا: بیشک ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑی مقدار میں پانی لے جاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو بھی کریں تو (ساتھ والے پانی کے تھوڑے ہونے کی وجہ سے) پیاس لگتی ہے، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۵۴) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۸۳، وابن ماجہ: ۳۸۶، ۳۲۴۶، والترمذی: ۶۹، والنسائی: ۱/ ۵۰(انظر: ۸۷۳۵)