مسنداحمد

Musnad Ahmad

طہارت کے ابواب

اس پانی کا حکم جس پر چوپائے اور درندے بھی آتے ہوں اور دو قُلّوں والی حدیث کی تفصیل


۔ (۳۹۱)۔عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُسْئَلُ عَنِ الْمَائِ یَکُوْنُ بِأَرْضِ الْفَـلَاۃِ وَمَا یَنُوْبُہُ مِنَ الدَّوَابِ وَالسِّبَاعِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا کَانَ الْمَائُ قَدْرَ الْقُلَّتَیْنِ لَمْ یَحْمِلِ الْخَبَثَ۔)) (مسند أحمد: ۴۶۰۵)

سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سن رہا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس پانی کے بارے میں سوال کیا گیا جو جنگل میں ہو اور جس پر چوپائے اور درندے بھی آتے ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب پانی دو قُلّوں کے بقدر ہو تو وہ نجاست کو نہیں اٹھاتا (یعنی نجاست کو قبول نہیں کرتا)۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۹۱) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۶۴، والترمذی: ۶۷، وابن ماجہ: ۵۱۷، والنسائی: ۱/ ۱۷۵(انظر: ۴۶۰۵)