TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

گنہگار مومنوں کو قبر میں عذاب ہونے اور اس کو ہلکا کرنے والے امور کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ یہ عذاب زیادہ پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے - گنہگار مومنوں کو قبر میں عذاب ہونے اور اس کو ہلکا کرنے والے امور کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ یہ عذاب زیادہ پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے - عذاب قبر کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of عذاب قبر کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 7 · 9 Hadith
۔ (۳۳۲۰) عَنْ طَاؤُوْسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: مَرَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَبَرَیْنِ فَقَالَ: ((اِنَّہُمَا لَیُعَذَّبَانِ، وَمَا یُعَذَّبَانِِ فِیْ کَبِیْرٍ، أَمَّا أَحَدُہُمَا فَکَانَ لَا یَسْتَنْزِہُ مِنَ الْبَوْلِ، (قَالَ وَکِیْعٌ مِنْ بَوْلِہٖ) وَأَمَّا الْأٰخَرُ فَکَانَ یَمْشِیْ بِالنَّمِیْمَۃِ)) ثُمَّ أَخَذَ جَرِیْدَۃً فَشَقَّہَا بِنِصْفَیْنِ، فَغَرَزَ فِیْ کُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَۃً، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لِمَ صَنَعْتَ ہٰذَا؟ قَالَ: ((لَعَلَّہُمَا أَنْ یُّخَفَّفَ عَنْہُمَا مَا لَمْ یَیْبَسَا [قَالَ وَکِیْعٌ تَیْبَسَا])) (مسند احمد: ۱۹۸۰)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ دو قبروں کے پاس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا گزر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا۔ ان دو قبر والوں کو عذاب ہو رہا ہے اور وہ کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا، ان میں سے ایک اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا تھا۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک چھڑی لی، اس کو چیر کر اس کے دو حصے بنا لیے اور ہر حصہ ایک ایک قبر پر گاڑھ دیا، صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے یہ کام کیوں کیا ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شاید ان سے عذاب میں اس وقت تک تخفیف کر دی جائے، جب تک یہ خشک نہ ہو جائیں۔
Takhreej
(۳۳۲۰) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۲۱۸، ۱۳۶۱، ومسلم:۲۹۲ (انظر: ۱۹۸۰)
3320
Sahih
۔ (۳۳۲۱)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِحَائِطٍ مِنْ حِیْطَانِ الْمَدِیْنَۃِ فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَیْنِ یُعَذَّبَانِ فِیْ قَبْرِہِمَا فَذَکَرَہٗ وَقَالَ حَتّٰی یَیْبَسَا أَوْ مَالَمْ یَیْبَسَا۔ (مسند احمد: ۱۹۸۱)
(دوسری سند) سیّدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ کے باغات میں سے ایک باغ کے پاس سے گزرے اور قبر میں عذاب دیئے جانے والے دو انسانوں کی آوازیں سنیں، ……۔
Takhreej
(۳۳۲۱)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
3321
Sahih
۔ (۳۳۲۲) وَعَنْ یَعْلَی بْنِ سَیَابَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِہِ۔ (مسند احمد: ۱۷۷۰۳)
سیّدنا یعلی بن سیابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی روایت بیان کی ہے۔
Takhreej
(۳۳۲۲) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لجھالۃ حبیب بن ابی جبیرۃ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۳۷۶، والبیھقی فی ’’عذاب القبر‘‘: ۱۲۶، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۲/ ۷۰۵ (انظر: ۱۷۵۶۰)
3322
Zaeef
۔ (۳۳۲۳) عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ (نُفَیْعِ بْنِ الْحَارِثِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: بَیْنَا أَنَا أُمَا شِیْ رَسُوْلَ للّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ آخِذٌ بِیَدِیْ وَرَجُلٌ عَنْ یَسَارِہِ فَإِذَا نَحْنُ بِقَبْرَیْنِ أَمَامَنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہُمَا لَیُعَذَّبَانِ وَمَا یُعَذَّبَانِ فِی کَبِیْرٍ وَبَلٰی ، فَأَیُّکُمْ یَأْتِیْنِیْ بِجَرْیِدَۃٍ۔)) فَاسْتَبَقْنَا، فَسَبَقْتُہُ فَأَتَیْتُہُ بِجَرِیْدَۃٍ فَکَسَرَہَا نِصْفَیْنِ فَأَلْقٰی عَلٰی ذَا الْقَبْرِ قِطْعَۃً وَعَلٰی ذَا الْقَبْرِ قِطْعَۃً وَقَالَ: ((إِنَّہُ یُہَوَّنُ عَلَیْہِمَا مَا کَانَتَا رَطْبَتَیْنِ، وَمَا یُعَذَّبَانِ إِلاَّ فِی الْبَوْلِ وَالْغِیْبَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۴۴)
سیّدناابوبکرہ نفیع بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چل رہا تھا،جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور ایک آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بائیں جانب چل رہا تھا، اچانک دو قبریں ہمارے سامنے آ گئیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور انہیں یہ عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا، البتہ (یہ گناہ ہیں کبیرہ)، تم میں سے کون آدمی چھڑی لائے گا۔)) یہ سن کر ہم دونوں لپکے، لیکن میں سبقت لے گیا اورچھڑی لے آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے دو حصوںمیں تقسیم کر کے ایک حصہ ایک قبر پر اور دوسرا دوسری قبر پر رکھ دیا اورفرمایا: جب تک یہ تر رہیں گی، تب تک ان کے عذاب میں کمی کی جائے گی اور ان کو عذاب پیشاب اور چغلی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔
Takhreej
(۳۳۲۳) تخریـج: …اسنادہ قوی أخرجہ ابن ماجہ: ۳۴۹(انظر: ۲۰۳۷۳، ۲۰۴۱۱)
3323
Zaeef
۔ (۳۳۲۴) عَنْ جَسْرَۃَ قَالَتْ: حَدَّثَنِی عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَیَّ امْرَأَۃٌ مِنَ الْیَہُوْدِ، فَقَالَتْ: إِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ، فَقُلْتُ: کَذَبْتِ، فَقَالَتْ: بَلٰی إِنَّا لَنَقْرِضُ مِنْہُ الثَّوْبَ وَالْجِلْدَ، فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الصَّلَاۃِ وَقَدِ ارْتَفَعَتْ اَصْوَاتُنَا، فَقَالَ: ((مَا ہٰذِہِ؟)) فَأَخْبَرْتُہُ بِمَا قَالَتْ، فَقَالَ: ((صَدَقَتْ۔)) قَالَتْ: فَمَا صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ یَوْمِئِذٍ إِلَّا قَالَ فِی دُبُرِ الصَّلَاۃِ: ((اَللّٰہُمَّ رَبَّ جِبْرِیْلَ وَمِیْکَائِیْلَ (أَعِذْنِیْ مِنْ حَرِّ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۲۸)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور کہا:پیشاب کی وجہ سے قبر کا عذاب ہوتا ہے۔ میں نے کہا: تم غلط کہتی ہو، اس نے کہا: بات ایسے ہی ہے، بلکہ ہم تو
Takhreej
(۳۳۲۴) تخریـج: …اسنادہ ضعیف بھذہ السیاقۃ،جسرۃ بنت دجاجۃ لم یوثقھا سوی العجلی وابن حبان، وقال البخاری: عندھا عجائب، وقدامۃ بن عبد اللہ العامری روی عنہ جمع وذکرہ ابن حبان فی ’’الثقات‘‘۔ أخرجہ النسائی: ۳/ ۷۲(انظر: ۲۴۳۲۴)
3324
Sahih
۔ (۳۳۲۵) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَکْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ فِی الْبَوْلِ۔)) (مسند احمد: ۸۳۱۳)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زیادہ تر پیشاب کی وجہ سے عذابِ قبر ہوتا ہے۔
Takhreej
(۳۳۲۵) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین أخرجہ ابن ماجہ: ۳۴۸(انظر: ۸۳۳۱، ۹۰۳۳)
3325
Sahih
۔ (۳۳۲۶) عَنْ أَبِی أُماَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: مَرَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی یَوْمٍ شَدِیْدِ الْحَرِّ نَحْوَ بَقِیْعِ الْغَرْقَدِ، قَالَ: فَکَانَ النَّاسُ یَمْشُوْنَ خَلْفَہُ، قَالَ: فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَ النِّعَالِ وَقَرَ ذَالِکَ فِی نَفْسِہِ، فَجَلَسَ حَتّٰی قَدَّمَہُمْ أَمَامَہُ لِئَلاَّ یَقَعَ فِیْ نَفْسِہِ مِنَ الْکِبْرِ فَلَمَّا مَرَّ بِبَقِیْعِ الْغَرْقَدِ، إِذَا بِقَبْرِیْنَ قَدْ دَفَنُوْا فِیْہِمَا رَجُلَیْنِ، قَالَ: فَوَقَفَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَنْ دَفَنْتُمْ ہَاہُنَا الْیَوْمَ؟)) قَالُوْا: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! فُلَانٌ وَ فُلَانٌ، قَالَ: ((إِنَّہُمَا لَیَعُذَبَّاَنِ الْآنَ وَیُفْتَنَانِ فِی قَبْرَیْہِمَا۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْمَ ذَالکَ؟ قَالَ: ((أَمَّا أَحَدُہُمَا فَکَانَ لَایَسْتَنْزِہُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَکَانَ یَمْشِیْ بِالنَّمِیْمَۃِ۔)) وَأَخَذَ جَرِیْدَۃً رَطْبَۃً، فَشَقَّہا ثُمَّ جَعَلَہَا عَلَی الْقَبْرَیْنِ، قَالُوْا: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! وَلِمَ فَعَلْتَ؟ قَالَ: ((لَیُخَفَّفَنَّ عَنْہُمَا۔)) قَالُوْا: یَا نَبِیَّ اللّٰہُ! وَحَتَّی مَتٰی یُعَذِّبُہُمَا اللّٰہُ؟ قَالَ: ((غَیْبٌ لَا یَعْلَمُہُ إِلَّا اللّٰہُ وَلَولَا تََمْرِیْغُ قُلُوْبِکُمْ أَوْ تَزَیُّدُکُمْ فِی الْحَدِیْثِ لَسَمِعْتُمْ مَا اَسْمَعُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۴۸)
سیّدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سخت گرمی والے ایک دن میں بقیع الغرقد کی جانب سے گزرے، لوگ آپ کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کے جوتوں کی آہٹ سنی تو یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر گراں گزرا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہیں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے آگے گزر گئے، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دل میں تکبر پیدا نہ ہو۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بقیع الغرقد کے پاس سے گزرے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو قبریں دیکھیں، لوگوں نے ان میں دو آدمیوں کو دفن کیا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں رک گئے اور پوچھا: آج تم نے یہاں کن لوگوں کو دفن کیا ہے؟ صحابہ نے بتایا : اے اللہ کے نبی ! یہ فلاں دو آدمی ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کو اس وقت قبروں میں عذاب ہو رہا ہے۔ صحابہ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! انہیں عذاب دیئے جانے کی کیا وجہ ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان میں سے ایک آدمی پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کرتا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک تر چھڑی لے کر اسے چیرا اور دونوں قبروں پر ان کو رکھ دیا۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! آپ نے یہ کام کس لیے کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کی وجہ سے ان کے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ ان کو کب تک عذاب دے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ غیب کی بات ہے، جسے اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے دلوں کی بدلتی کیفیات یا بہت زیادہ گفتگو نہ ہوتی تو تم بھی وہ کچھ سنتے جو میں سنتا ہوں۔
Takhreej
(۳۳۲۶) تخریـج: …اسنادہ ضعیف جدا من اجل علی بن یزید الالھانی أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۷۸۶۹، ورواہ ابن ماجہ: ۲۴۵ مختصرا باولہ الی قولہ: ’’لئلا یقع فی نفسہ شیء من الکبر‘‘(انظر: ۲۲۲۹۲)
3326
Zaeef
۔ (۳۳۲۷) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی قَبْرٍ فَقَالَ: ((اِئْتُونِیْ بِجَرِیْدَتَیْنِ۔)) فَجَعَلَ إِحْدَاہُمَا عِنْدَ رَأْسِہٖ وَالْأُخْرٰی عِنْدَ رِجْلَیْہِ۔ فَقِیْلَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَیَنْفَعُہُ ذَالِکَ؟ قَالَ: ((لَنْ یَزَالَ أَنْ یُخَفَّفَ عَنْہُ بَعْضُ عَذَابِ الْقَبْرِ مَا کَانَ فِیْہِمَا نُدُوٌّ۔)) (مسند احمد: ۹۶۸۴)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے اور فرمایا: میرے پاس دو چھڑیاں لائو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک کو اس کے سرہانے اور دوسری کو پائنتی کی طرف رکھ دیا، کسی نے کہا:اے اللہ کے نبی! کیا اس سے میت کو فائدہ پہنچے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس وقت تک عذابِ قبر میں کچھ تخفیف رہے گی، جب تک ان میں تری رہے گی۔
Takhreej
(۳۳۲۷) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط مسلم أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۳۷۶، واسحاق بن راہویہ فی ’’مسندہ‘‘: ۲۰۷(انظر: ۹۶۸۶)
3327
Sahih
۔ (۳۳۲۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا مَعَ سُلَیْمَانَ بْنِ صُرَدٍ وَ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: فَذَکَرُوْا رَجُلًا مَاتَ مِنْ بَطْنِہِ، قَالَ: فَکَأَنَّمَا اِشْتَہَیَا أَنْ یُصَلِّیَا عَلَیْہِ، قَالَ: فَقَالَ أَحَدُہُمَا لِلْآخَرِ: أَلَمْ یَقُلِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَتَلَہُ بَطْنُہُ فَإِنَّہُ لَنْ یُعَذَّبَ فِی قَبْرِہِ؟)) قَالَ الْآخَرُ: بَلٰی۔ (مسند احمد: ۲۲۸۶۷)
‘عبد اللہ بن یسار کہتے ہیں: میں سیّدناسلیمان بن صرد اور سیّدناخالد بن عرفطہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، لوگوں نے بتایا کہ فلاں آدمی پیٹ کی بیماری کی وجہ سے فوت ہو گیا ہے،انہوں نے اس کی نماز جنازہ ادا کرنی چاہی اور ایک نے دوسرے سے کہا: کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے فرمایا تھا کہ جو آدمی پیٹ کی بیماری کی وجہ فوت ہو جائے اس کو ہرگز قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا۔ ؟ دوسرے نے کہا: جی ہاں فرمایا ہے۔
Takhreej
(۳۳۲۸) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ الترمذی: ۱۰۶۴، والنسائی: ۴/۹۸(انظر: ۱۸۳۱۰، ۱۸۳۱۲، ۲۲۵۰۰)
3328
Sahih