مسنداحمد

Musnad Ahmad

عذاب قبر کے ابواب

گنہگار مومنوں کو قبر میں عذاب ہونے اور اس کو ہلکا کرنے والے امور کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ یہ عذاب زیادہ پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے


۔ (۳۳۲۷) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی قَبْرٍ فَقَالَ: ((اِئْتُونِیْ بِجَرِیْدَتَیْنِ۔)) فَجَعَلَ إِحْدَاہُمَا عِنْدَ رَأْسِہٖ وَالْأُخْرٰی عِنْدَ رِجْلَیْہِ۔ فَقِیْلَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَیَنْفَعُہُ ذَالِکَ؟ قَالَ: ((لَنْ یَزَالَ أَنْ یُخَفَّفَ عَنْہُ بَعْضُ عَذَابِ الْقَبْرِ مَا کَانَ فِیْہِمَا نُدُوٌّ۔)) (مسند احمد: ۹۶۸۴)

سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے اور فرمایا: میرے پاس دو چھڑیاں لائو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک کو اس کے سرہانے اور دوسری کو پائنتی کی طرف رکھ دیا، کسی نے کہا:اے اللہ کے نبی! کیا اس سے میت کو فائدہ پہنچے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس وقت تک عذابِ قبر میں کچھ تخفیف رہے گی، جب تک ان میں تری رہے گی۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۳۲۷) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط مسلم أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۳۷۶، واسحاق بن راہویہ فی ’’مسندہ‘‘: ۲۰۷(انظر: ۹۶۸۶)