مسنداحمد

Musnad Ahmad

قبروں کی زیارت کے بارے میں ابواب

اس امر کا بیان کہ قبروں کی زیارت کے موقع کیا کہا جائے او رکیا میت، زندہ کی بات سنتا ہے؟

۔ (۳۳۵۱) عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہ ِ(بُرْیَدَۃَ الأَسْلَمِیِّ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعَلِّمُہُمْ إِذَا خَرَجُوْا إِلَی الْمَقَابِرِ، فَکَانَ قَائِلُہُمْ یَقُوْلُ: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَہْلَ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ، قَالَ مُعَاوِیَۃُ فِی حَدِیْثِہِ: إِنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ، أَنْتُمْ فَرَطُنَا وَنَحْنُ لَکُمْ تَبَعٌ، وَنَسْأَلُ اللّٰہَ لَنَا وَلَکُمُ الْعَافِیَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۷۳)

سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ لوگ قبرستان کی طرف جاتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو یہ دعا پڑھنے کی تعلیم دیتے تھے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَہْلَ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ، إِنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ، أَنْتُمْ فَرَطُنَا وَنَحْنُ لَکُمْ تَبَعٌ، وَنَسْأَلُ اللّٰہَ لَنَا وَلَکُمُ الْعَافِیَۃَ۔ (اے ان گھروں والو مومنو اور مسلمانو!تم پر سلامتی ہو،ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں، تم ہم سے آگے ہو اور ہم تمہارے پیچھے پیچھے آرہے ہیں، ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت مانگتے ہیں۔)

۔ (۳۳۵۲) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ أَتَی الْمَقْبَرَۃَ فَسَلَّمَ عَلٰی أَہْلِ الْمَقْبَرَۃِ فَقَالَ: ((سَلَامٌ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِیْنَ! وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ…)) اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۷۹۸۰)

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک قبرستان میں تشریف لے گئے اور ان کو سلام کہتے ہوئے یہ دعا پڑھی: سَلَامٌ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِیْنَ! وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ۔(اس گھر کے صاحب ِ ایمان لوگو! تم پر سلامتی ہو، ان شاء اللہ ہم بھی تمہیں ملنے والے ہیں۔)

۔ (۳۳۵۳) ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ أَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللّٰہِ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ، أَنَّہُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَیْسِ بْنِ مَخَرَمَۃَ بْنِ الْمُطَلَّبَ أَنَّہُ قَالَ یَوْمًا: أَلَا أَحَدِّثُکُمْ عَنِّیْ وَعَنْ أَمُیِّ ؟ فَظَنَنَّا أَنَّہٗ یُرِیْدُ أُمَّہُ الَّتِیْ وَلَدَتْہُ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : أَلَا اُحَدِّثُکُمْ عَنِّی وَعَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قُلْتُ: بَلٰی۔ قَالَ: قَالَتْ: لَمَّا کَانَتْ لَیْلَتِیَ الَّتِیْ کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْہَا عِنْدِی، اِنْقَلَبَ، فَوَضَعَ رِدَائَہُ وَخَلَعَ نَعْلَیْہِ فَوَضَعَہُمَا عِنْدَ رِجْلَیْہِ وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِہِ عَلٰی فِرَاشِہِ فَاضْطَجَعَ، فَلَمْ یَلْبَثْ إِلَّا رَیْثَمَا ظَنَّ أَنِّیْ قَدْ رَقَدْتُّ فَأَخَذَ رِدَائَہُ رُوَیْدًا، وَانْتَعَل رُوَیْدًا وَفَتَحَ الْبَابَ فَخَرَجَ ثُمَّ أَجَافَہُ رُوَیْدًا، فَجَعَلْتُ دِرْعِیْ فِیْ رَأْسِی وَاخْتَمَرْتُ وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِی ثُمَّ انْطَلَقْتُ عَلٰی اَثَرِہِ حَتّٰی جَائَ الْبَقِیْعَ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِیَامَ ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ ثَلَاثََ مَرَّاتٍ، ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ فَأَسْرَعَ فَاَسْرَعْتُ فَہَرْوَلَ فَہَرْوَلْتُ، فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ، فَسَبَقْتُہُ، فَدَخَلْتُ فَلَیْسَ إِلَّا أَنِِ اضْطَجَعْتُ فَدَخَل فَقَالَ: ((مَالَکِ یَا عَائِشَۃُ! حَشْیَا رَابِیَۃً؟)) قَالَتْ: قُلْتُ: لَا شَیْئَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((لَتُخْبِرِیْنِیْ أَوْ لَیُخْبِرَنِّیَ اللَّطِیْفُ الْخَبْیِرُ۔)) قَالَتْ:یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! بِاَبِی أَنْتَ وَ أُمِّی، فَأَخْبَرْتُہُ، قَالَ: ((فَأَنْتِ السَوَادُ الَّذِیْ رَأَیْتُ أَمَامِی؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، فَلَہَزَنِی فِیْ ظَہْرِیْ لَہْزَۃً أَوْجَعَتْنِیْ وَقَالَ: ((أَظَنَنْتِ أَنْ یَحِیْفَ عَلَیْکِ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ؟)) قَالَتْ: مَہْمَا یَکْتُمِ النَّاسُ یَعْلَمْہُ اللّٰہُ، قَالَ: ((نَعَمْ فَإِنَِّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ أَتَانِیْ حِیْنَ رَأَیْتِ فَنَادَانِیْ فَأَخْفَاہُ مِنْکِ فَأَجَبْتُہُ فَأخْفَیْتُہُ مِنْکِ، وَلَمْ یَکُنْ لِیَدْخُلَ عَلَیْکِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِیَابَکِ وَظَنَنْتُ أَنَّکِ قَدْ رَقَدْتِّ فَکَرِہْتُ أَنْ أُوْقِظَکِ وَخَشِیْتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِیْ، فَقَالَ: إِنَّ رَبَّکَ جَلَّ وَعَزَّ یَأْ مُرُکَ أَنْ تَأْتِیَ أَہْلَ الْبَقِیْعِ فَتَسْتَغْفِرَ لَہُمْ۔)) قَالَتْ: فَکَیْفَ أَقُوْلُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ فَقَالَ: ((قُوْلِیْ: اَلسَّلَامُ عَلٰی أَہْلِ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَیَرْحَمُ اللّٰہُ الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِیْنَ، وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ لَلَاحِقُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۶۳۸۰)

ایک دن محمد بن قیس نے کہا: کیا میں تمہیں اپنی اور اپنی والدہ سے ایک حدیث بیان نہ کر دوں؟ ہم نے سمجھا کہ اس کی مراد اس کی حقیقی والدہ ہے، پھر انہوں نے کہا: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: کیا میں تمہیں اپنا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ایک واقعہ بیان کروں؟ میں نے عرض کیا: جی کیوں نہیں، پھر انھوں نے کہا: جب میری رات تھی جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (عشاء کے بعد) واپس تشریف لائے، چادر رکھی، جوتے اتار کر پائنتی کی طرف رکھ دیئے اور چادر کا ایک حصہ بستر پر بچھا کر لیٹ گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کچھ دیر لیٹے رہے، (میرے خیال کے مطابق) جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سمجھا کہ میں سو گئی ہوں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آہستہ سے اپنی چادر اٹھائی، آرام سے جوتے پہنے اور دروازہ کھول کر باہر تشریف لے گئے اور آہستگی سے اسے بند کر دیا۔ اُدھر میں نے بھی اپنا دوپٹہ سنبھالا، سر پر رکھا، چادر اوڑھی، شلوار پہنی اور آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔میں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بقیع قبرستان میں جا پہنچے، وہاں کافی دیر کھڑے رہے اور تین مرتبہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے، بعد ازاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس لوٹے اور میں بھی لوٹنے لگی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیز تیز چلے تو میں نے بھی رفتار تیز کر دی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کچھ دوڑے تو میں بھی دوڑنے لگی۔ پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزید تیز ہو گئے تو میں بھی مزید تیز ہو گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے آگے نکل گئی اور گھر پہنچ کر ابھی لیٹی ہی تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی تشریف لے آئے اور فرمایا: عائشہ! کیا بات ہے، سانس پھولا ہوا ہے، پیٹ اٹھا ہوا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کوئی بات نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم خود ہی مجھے بتا دو، ورنہ باریک بیں اور باخبر ربّ مجھے بتلا دے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے والدین آپ پر قربان ہوں، پھرمیں نے سارا واقعہ آپ کو بیان کر دیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مجھے اپنے سامنے کالا سا وجود نظر آ رہا تھا، یہ تم تھی؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری کمر میں مکا مارا، جس سے مجھے تکلیف ہوئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر زیادتی کریں گے؟ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا:لوگ جیسے مرضی چھپا لیں، لیکن اللہ تعالیٰ تو اسے جانتا ہی ہوتا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں،بات یہ تھی کہ جب تم نے مجھے دیکھا تھا اس وقت جبریل علیہ السلام نے آکر مجھے آواز دی اور آواز کو تم سے پوشیدہ رکھا، میں نے بھی اپنی آواز کو تم سے مخفی رکھتے ہوئے اس کی بات کا جواب دیا، وہ اس وقت تمہارے پاس تو آ نہیں سکتا تھا، کیونکہ تم نے کپڑے وغیرہ ایک طرف رکھے ہوئے تھے، جبکہ میں نے سمجھا تھا تم سو چکی ہو اورتمہیں جگانا بھی مناسب نہ سمجھا، تاکہ تم اکیلی پریشان نہ ہو جائو، جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا: آپ کا ربّ آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بقیع والوں کے پاس جا کر ان کے لیے بخشش کی دعا کریں، (اس لیے میں چلا گیا تھا)۔ پھر سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں نے عرض کیاکہ اے اللہ کے رسول! میں کیسے دعا پڑھا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم یوں کہا کرو: اَلسَّلَامُ عَلٰی أَہْلِ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَیَرْحَمُ اللّٰہُ الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِیْنَ، وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ لَلَاحِقُوْنَ۔ (سلامتی ہو ان گھروں والے مومنوں اور مسلمانوں پر اور اللہ تعالیٰ ہم سے پہلے والوں اور بعد والوں پر رحم کرے اور ہم بھی ان شاء اللہ ملنے والے ہیں۔)

۔ (۳۳۵۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ اللَّیْلِ فَظَنَنْتُ أَنَّہُ یَأْتِی بَعْضَ نِسَائِہِ فَاتَّبْعُتُہ فَأَتَی الْمَقَابِرَ، ثُمَّ قَالَ: ((اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ: وَأَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ) وَإِنَّا بِکُمْ لَاحِقُوْنَ، اللّٰہُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَہُمْ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَہُمْ۔)) قَالَتْ: ثُمَّ الْتَفَتَ فَرَآنِیْ، فَقَالَ: ((وَیْحَہَا، لَوِاسْتَطَاعَتْ مَا فَعَلَتْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۷۹)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ایک رات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اٹھ کر چل پڑے، میں نے سمجھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی اور بیوی کے پاس جا رہے ہیں، اس لیے میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے پیچھے چل پڑی، لیکن دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبرستان تشریف لے گئے اور (یہ دعا کرتے ہوئے) فرمایا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ وَأَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ وَإِنَّا بِکُمْ لَاحِقُوْنَ، اَللّٰہُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَہُمْ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَہُمْ۔(اس گھر والے مومنو! تم پر سلامتی ہو، تم ہم سے آگے ہو اور ہم بھی تم کو ملنے والے ہیں، اے اللہ! ہمیں ان کے اجرسے محروم نہ کرنا اور ان کے بعد ہمیں کسی فتنے میں نہ ڈالنا۔) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے طرف متوجہ ہوئے اور مجھے دیکھ کر کہا: یہ ہلاک ہو جائے، اگر اس کو یہ طاقت ہوتی تو یہ کام نہ کرتی۔

۔ (۳۳۵۵) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: وَقَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی الْقَلِیْبِ یَوْمَ بَدْرٍ، فَقَالَ: ((یَا فُلَانُ! یَا فُلَانُ! ہَلْ وَجَدْتُّمْ مَا وَعَدَکُمْ رَبُّکُمْ حَقًّا؟ أَمَا وَاللّٰہِ! إِنَّہُمُ الْآنَ لَیَسْمَعُوْنَ کَلاَمِیْ۔)) قَالَ یَحْیٰی: فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: غَفَرَاللّٰہُ لِأَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، اِنَّہُ وَہِلَ۔ إِنَّمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَاللّٰہِ! إِنَّہُمْ لَیَعْلَمُوْنَ الْآنَ أَنَّ الَّذِی کُنْتُ أَقُوْلُ لَہُمْ حَقًّا، وَإِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یَقُوْلُ: {إِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی} {وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ۔} (مسند احمد: ۴۸۶۴)

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ بدر والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کنویں (جس میں کفار کے مقتولوں کو پھینک دیا گیا تھا) کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا: او فلاں! اوفلاں! تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے درست پایا ہے؟ خبردار! اللہ کی قسم ہے کہ یہ لوگ اس وقت میرا کلام سن رہے ہیں۔ لیکن سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمن پر رحم فرمائے، وہ بھول گئے ہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ اب یہ جانتے ہیں کہ میں ان سے جو کچھ کہتا تھا، وہ حق تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بیشک تو مردوں کو نہیں سنا سکتا۔ نیز فرمایا: جو لوگ قبروں میں ہیں، توان کو نہیں سنا سکتا۔