۔ (۳۳۵۱) عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہ ِ(بُرْیَدَۃَ الأَسْلَمِیِّ) رضی اللہ عنہ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُعَلِّمُہُمْ إِذَا خَرَجُوْا إِلَی الْمَقَابِرِ، فَکَانَ قَائِلُہُمْ یَقُوْلُ: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَہْلَ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ، قَالَ مُعَاوِیَۃُ فِی حَدِیْثِہِ: إِنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ، أَنْتُمْ فَرَطُنَا وَنَحْنُ لَکُمْ تَبَعٌ، وَنَسْأَلُ اللّٰہَ لَنَا وَلَکُمُ الْعَافِیَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۷۳)
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ لوگ قبرستان کی طرف جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو یہ دعا پڑھنے کی تعلیم دیتے تھے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَہْلَ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ، إِنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ، أَنْتُمْ فَرَطُنَا وَنَحْنُ لَکُمْ تَبَعٌ، وَنَسْأَلُ اللّٰہَ لَنَا وَلَکُمُ الْعَافِیَۃَ۔ (اے ان گھروں والو مومنو اور مسلمانو!تم پر سلامتی ہو،ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں، تم ہم سے آگے ہو اور ہم تمہارے پیچھے پیچھے آرہے ہیں، ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت مانگتے ہیں۔)
Takhreej
(۳۳۵۱)تخر یـج:…أخرجہ مسلم: ۹۷۵(انظر: ۲۲۹۸۵)
Explanation
فوائد:… مرنا تو یقینی ہے، لیکن برکت کے طور پر اور اللہ تعالیٰ کے درج ذیل فرمان کے پیش نظر دعا کے الفاظ میں ’’ان شاء اللہ‘‘ کہا گیا ہے:
3351
Sahih