۔ سیدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس (کھیتی کو) آسمان اور چشمے سیراب کریں، اس میں دسواں حصہ زکوۃ ہے اور جس کو اونٹ سیراب کریں، اس میں بیسواں حصہ زکوۃ ہے۔
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس زمین کو نہریں اور بادل سیراب کریں، اس میں دسواں حصہ زکوۃ ہے اور جس کو اونٹ سیراب کریں، اس میں بیسواں حصہ زکوۃ ہے۔
Takhreej
(۳۴۰۹)تخر یـج:…انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… ہمارے ہاں عام طور پر فصلوں کی زکوۃ کو زکوۃ نہیں کہا جاتا، بلکہ ’’عشر‘‘ کہا جاتا ہے، حالانکہ ’’عشر‘‘ اور ’’نصف العشر‘‘ یعنی دسویں اور بیسویں حصے میں زکوۃ کی مقدار بیان کی گئی ہے۔
۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس (کھیتی) کو آسمان سیراب کریں، اس میں دسواں حصہ زکوۃ ہے اور جس کو ڈول اور اونٹ سے سیراب کیا جائے، اس میں بیسواں حصہ ہے۔
فوائد:… یہ تینوں احادیث اس اعتبار سے انتہائی قابل غور ہیں کہ آج کل عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ نہری علاقے کی فصل کا بیسواں حصہ اور بارانی علاقے کی فصل کا دسواں حصہ زکوۃ میں دیا جائے۔ لیکن ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ چشموں اور نہروں اور دریاؤں سے سیراب ہونے والی فصلوں کی شرح زکوۃ بھی دسواں حصہ ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دسویں اور بیسویں حصے کا دارومدار فصلوں کو پانی پلانے کیلئے کی گئی محنت پر ہے اگر آبپاشی کے لیے چرخی اور رہٹ استعمال کیا جائے یابالٹی سے پانی نکالا جائے یا سواریوں پر پانی لاد کر فصلوں کو سیراب کیا جائے، تو ایسی فصل کا بیسواں حصہ زکوۃ میں ادا کیا جائے گا۔ اگر ٹیوب ویلیا ٹربائن وغیرہ کو استعمال کیا جائے یا مزدوروں کے ذریعے زمین کو سیراب کیا جائے تو اس کا بھی بیسویں حصے والا معاملہ ہو گا، کیونکہیہ محنت کا متبادل ہیں، جسے پیسہ خرچ کر کے حاصل کیا جاتا ہے۔
اب اگر کوئی زمین کسی نہر یا چشمے کے اتنے قریب ہے کہ پانی حاصل کرنے کے لیے کوئی بڑی محنت نہیں کرنا پڑتی، بلکہ زمیندار کی صرف یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پانی کو اپنی زمین میں پھیر لے، تو ایسے زمین کی پیداوار کا دسواں حصہ ادا کرنا پڑے گا، کیونکہ مذکورہ بالا احادیثمیں جن نہروں اور چشموں کا ذکر کیا گیا ہے، ان سے زمین کو سیراب کرنے کے لیے بھی اتنی محنت تو کرنی پڑتی ہے، یہاں اس امر کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ زمیندار لوگ نہری پانی کے عوض میں جو قیمت ادا کرتے ہیں، اس کی مقدار اتنی معمولی ہوتی ہے کہ زکوۃ کے دسویںیا بیسویں حصے کے ساتھ اس کا تعلق نہیں جوڑا جا سکتا، مثلا ۲۰۱۲ءمیں مجھے ایک زمیندار نے بتایا کہ وہ ایک سال میں پچاس روپے فی ایکڑ نہر کا معاملہ ادا کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی زمین، نہر سے اتنی دور ہے کہ اس سے زمین تک پانی پہنچانے کے لیے کھالوں وغیرہ کی تیاری کی صورت میں بڑی محنت درکار ہے تو اس کی پیداوار کا بیسواں حصہ ادا کیا جائے گا۔مشینری، کھاد، سپرے، ملازموں یا موچیوں اور حجاموں کی اجرتوں وغیرہ جیسی سہولیات اور امور کا زکوۃ کے دسویںیا بیسویں حصے سے قطعی طور پر کوئی تعلق نہیں ہے۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم (فصل) پر، پانچ اوقیوں سے کم (چاندی) پر اور پانچ اونٹوں سے کم پر کوئی زکوۃ نہیں۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم (فصل) پر کوئی زکوۃ نہیں ہے اور ایک وسق ساٹھ مہرزدہ صاع کا ہوتا ہے۔
Takhreej
(۳۴۱۴)تخر یـج:…صحیح دون قولہ: ((والوسق ستون مختوما)) وھذا اسناد منقطع، انظر الحدیث بالطریق الاول أخرجہ ابوداود: ۱۵۵۹، وابن ماجہ: ۱۸۳۲، والنسائی: ۵/ ۴۰(انظر: ۱۱۵۶۴)
Explanation
فوائد: اس صاع کے اوپر والے حصے پر امراء کی طرف سے مہر لگائی جاتی تھی، تاکہ اس کی مقدار کو کم یا زیادہ نہ کر دیا جائے۔ زمین سے فصلیں پیدا کرکے انسان کو رزق مہیا کرنا اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے، اللہ تعالیٰ نے اس احسان کا بدلہ یوں طلب کیا ہے کہ زرعی پیدا وار کا دسواںیا بیسواں حصہ بطورِ زکوۃ اس کی راہ میں دیا جائے، جو پیدا ہونے والی کل فصل کے مقابلے میں انتہائی کم مقدار ہے۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ فصل میں زکوۃ کو لاگو کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پانچ وسق ہو، اس کو نصابِ زکوۃ کہتے ہیں، اس کی تفصیلیہ ہے کہ ایک وسق میں (۶۰) صاع ہوتے ہیں، اس طرح پانچ اوساق کی کل مقدار (۳۰۰)صاع ہوگئی، جبکہ ایک صاع کا وزن تقریبا دو کلو سو گرام ہوتا ہے، اس طرح پانچ وسق کا کل وزن پندرہ من اورتیس کلو گرام بن جاتا ہے، معلوم ہوا کہ فصلوں کا نصابِ زکوۃ (۱۵) من اور (۳۰) کلو گرام ہے۔
۔ سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بحرینیا ہجر کی طرف بھیجا تھا، میں جب ایسے باغ میں جاتا، جو مختلف بھائیوںکا ہوتا اور ان میں سے ایک مسلمان ہو چکا ہوتا تو مسلمان سے دسواں حصہ زکوۃ لیتا اور دوسروں سے خراج وصول کرتا تھا۔
فوائد: خراج: وہ جزیہ جو ذمیوں سے وصول کیا جاتا ہے۔ یہ حدیث تو ضعیف ہے، لیکن ذمی لوگوں سے جزیہ وصول کرنا ایک شرعی مسئلہ ہے، اس کی ماہانہ یا سالانہ مقدار کا فیصلہ حاکمِ وقت کرے گا، ویسے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَمَرَہٗاَنْیَّاْخُذَ مِنْ کُلِّ حَالِمٍ دِیْنَارًا۔ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہر بالغ سے ایک دینار وصول کریں)۔ (ابوداود: ۳۰۳۸، ترمذی: ۶۲۳، نسائی: ۵/ ۲۶، ابن ماجہ: ۱۸۰۳)
ایک دینار ساڑھے چار (4+) ماشے سونے کا ہوتا ہے۔ یہ خراج سالانہ فی کس کے لحاظ سے لیا جاتا تھا۔ (عبداللہ رفیق)
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ جو شخص دس وسق کھجور کاٹ لے، وہ مسجد میں مساکین کے لیے ایک خوشہ لٹکا دے۔
Takhreej
(۳۴۱۶) تخر یـج:…اسنادہ حسن أخرجہ ابوداود: ۱۶۶۲(انظر: ۱۴۸۶۷)
Explanation
فوائد: امام ابوداود نے اس حدیث کو ’’باب فی حقوق المال‘‘ میں ذکر کیا ہے، ذہن نشین رہنا چاہیے کہ اس حدیث کا تعلق زکوۃ سے نہیں ہے، بلکہ نفلی صدقہ سے ہے، اس لیے اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ زکوۃ کے علاوہ بھی مال میں دوسروں لوگوں کے حقوق موجود ہیں۔
۔ موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں: ہمارے پاس سیدنامعاذ رضی اللہ عنہ کی ایک تحریر ہے، اس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف گندم، جو، منقیٰ اور کھجور سے زکوۃ وصول کی ہے۔
فوائد:… سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نصابِ زکوۃ اور شرحِ زکوۃ کے تعین کے بعد وہ کون کون سی فصلیں ہیں، جن پر زکوۃ عائد ہوتی ہے یا جو زکوۃسے مستثنی ہیں، اس مسئلہ ہم درج ذیل بحث کرتے ہیں: عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی اللہ عنہ ،قَالَ: إِنَّمَا سَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الزَّکَاۃَ فِی ھٰذِہِ الْأَرْبَعَۃِ: الْحِنْطَۃِ، وَالشَّعِیْرِ، وَالزَّبِیْبِ وَالتَّمْرِ۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان چار اصناف میں زکوۃ نافذ کی: گندم، جو، منقی اور کھجور۔ (الدارقطني:۲۰۱، صحیحہ: ۸۷۹)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کی سندی حیثیت پر درج ذیل بحث کی ہے: یہ حدیث سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس کی سند میں محمد بن عبید اللہ عزرمی ’’متروک‘‘ ہے، لیکن اس کی متابعت موجود ہے، جسے امام دار قطنیؒ اور امام حاکم نے روایت کیا کہ موسی بن طلحہ نے کہا: عِنْدَناَ کِتَابُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَنَّہٗاَنَّمَااَخَذَالصَّدَقَۃَ مِنَ الْحِنْطَۃِ … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گندم اور … سے زکوۃ وصول کی ہے۔ امام حاکم نے کہا: موسی بن طلحہ عظیم تابعی ہیں اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے زمانے کو ان کے پانے کا انکار نہیں کیا گیا۔ لیکن ابن عبد البر نے کہا کہ موسی بن طلحہ ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو نہ ملے ہیں اور نہ ان کو پایا ہے۔
لیکن امام حاکم نے صحیح سند کے ساتھ اس کا یہ شاہد ذکر کیا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَاتَاْخُذُوا اِلاَّ مِنْ ھٰذِہِ الْاَرْبَعۃِ…)) صرف ان چار اصناف میں زکوۃ وصول کرو۔ ان احادیث کی روشنی میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ، امام عبد اللہ بن مبارک، امام حسن بصریاور امیر صنعانی وغیرہ کا یہ مسلک ہے کہ زرعی پیدوار کی تمام اقسام میں سے صرف گندم، جو، کھجور اور منقی پر زکوۃ فرض ہے۔ امام صنعانی نے کہا: قطعی اور حتمی بات تو یہ ہے کہ مسلمان کا مال حرمت والا ہے، کسی قطعی دلیل کی روشنی میں ہی اس حرمت کو ختم کیا جا سکتا ہے، احتیاط اور دوسرے عام دلائل ناکافی ہیں، دوسری بات یہ ہے کہ اصل قانون تو براء ت ِ ذمہ کا ہے، یہ دو بنیادی اصول ہیں، جن کا حکم ختم کرنے کے لیے اِن کے مقابلے کی قطعی دلیل درکار ہے۔ رہا مسئلہ احتیاط کا، تو اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ مکئی وغیرہ پر بھی زکاۃ عائد نہ کی جائے، کیونکہ اس قسم کی فصلوں کے لیے جس عموم کا سہارا لیا گیا، ان کی تخصیص ثابت ہو چکی ہے۔ (سبل السلام: ۴/ ۳۶) جبکہ بعض علمائے کرام کا یہ مسلک ہے کہ زمین سے پیدا ہونے والی ہر قسم کی زرعی پیداوار پر عُشر یعنی زکوۃ فرض ہے، انھوں نے اپنے حق میں درج ذیل عام آیات پیش کی ہیں،ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَآتُوا حَقَّہٗیَوْمَ حَصَادِہٖ} (سورۂانعام: ۱۴۲) … ’’کھیتی کٹنے کے دن اس کا حق ادا کر دو۔‘‘ نیز فرمایا: {مِمَّا اَخْرَجْنَا لَکُمْ مِنَ الْاَرْضِ} (سورۂ بقرہ: ۲۶۷) … ’’ اس چیز میں سے خرچ کرو جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالی۔‘‘ نیز بعض احادیث بھی اس عموم پر دلالت کرتی ہیں، جیسے ((فِیْمَا سَقَتِ السَّمَائُ وَالْعُیُونُ … عُشر… وَنِصْفُ الْعُشْرِ۔))
۔ سید عائشہ رضی اللہ عنہا خیبر کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتی ہیں: جب وہاں کی کھجوریں تیار ہو جاتیں، لیکن ابھی تک کھانے کے قابل نہ ہوتیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو یہودیوں کی طرف بھیجتے تاکہ وہ وہاں جا کرکھجوروں کی فصل کا اندازہ لگائیں، وہ اندازہ لگا کر ان کو اختیار دے دیتے کہ وہ یا تو اس لگائے ہوئے اندا زے کے مطابق کھجوریں لے لیں اور فصل چھوڑ دیںیا اس اندازہ کے حساب سے حصہ ادا کریں،نبی کریم کا یہ حکم اس وجہ سے تھا کہ کھجوروں کو کھانے اور تقسیم کرنے سے پہلے پہلے ہی ان کی مقدار کا اندازہ ہو جائے۔
Takhreej
(۳۴۱۸) تخر یـج: اسنادہ ضیعف لانقطاعہ، ابن جریج لم یسمع ھذا الحدیث من ابن شہاب۔ أخرجہ ابوداود: ۱۶۰۶، ۳۴۱۳(انظر: ۲۵۳۰۵)
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدناابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کھجوروں کا اندازہ چالیس ہزار وسق کی صورت میں لگایا، پھر جب انھوں نے یہودیوں کو اختیار دیا تو انہوں نے پھل کو اپنے حق میں ترجیح دی اور بیس ہزار وسق کھجور ادا کرنا ان کے ذمیّ ٹھہرا۔
۔ سیدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدناابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو خیبر کی طرف روانہ کیا تاکہ وہ وہاں جا کر کھجور کی فصل کا اندازہ لگائیں، انہوں نے فصل کا اندازہ لگانے کے بعد انہیں اختیار دے دیا کہ وہ چاہیں تو اسے قبول کر لیںیا چاہیں توردّ کر دیں، لیکن انھوں نے (یہ فیصلہ سن کر)کہا: یہی فیصلہ حق ہے اور اسی کی بدولت آسمان و زمین قائم ہیں۔
Takhreej
(۳۴۲۰) تخر یـج: اسنادہ ضعیف لضعف العمری وھو عبد اللہ بن عمر (انظر: ۴۷۶۸)
۔ سیدناسہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم فصل کا اندازہ کر لو تو اس کے کٹنے کے بعد (زکوۃ کییہ مقدار وصول کرو، لیکن) ایک تہائی چھوڑ دو، اگر تم اتنا نہ چھوڑو تو ایک چوتھائی چھوڑ دو۔
فوائد:… اس باب کی احادیث کھجور اور انگور وغیرہ کی فصل کا اندازہ لگانے کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہیں شافعی اور احمد کے نزدیک ان فصلوں کا اندازہ لگانا مستحب ہے۔ مالک، شریح اور ابو جعفر اور بعض ظاہریہ کے نزدیکیہ واجب ہے۔ نودی نے کہا ہے کہ کھجور اور انگور وغیرہ کی فصل جن میں عشر و اجب ہوتا ہے۔ ان میں فصل کا اندازہ کر لینا مستحب ہے۔ اس باب میں زمیندار لوگوں کے لیے ایک بڑی سہولت آمیز رخصت کا بیان ہے اور وہ یہ کہ حکومت کے نمائندے فصل تیار ہو چکنے کے بعد فصل کا اندازہ لگائیں اور پھر دسویںیا بیسویں حصے کی روشنی میں زمیندار کے لیے زکوۃ کی کل مقدار کا تعین کر دیں، اس طرح سے زمیندار لوگ ساری فصل کے باریک اور مجموعی حساب سے محفوظ ہو جاتے ہیں، کیونکہ کئی فصلیں ایسی ہیں کہ ان کی کچھ مقدار جانوروں کو کھلا دی جاتی ہیں، کچھ مقدار مالک اپنے گھر میں رکھ لیتا ہے، کچھ مقدار موچی اور حجام لوگوں کو دے دی جاتی ہے اور کچھ مقدار تاجروں کو فروخت کر دی جاتی ہے۔
۔ سیدناابو سیارہ متعی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس شہد کی مکھیاں ہیں، ( یعنی میرے پاس شہد ہوتاہے۔)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا دسواں حصہ (بطورِ زکوۃ) ادا کیا کر۔ اس نے کہا: تو پھر آپ وہ علاقہ تو میرے لیے مختص کر دیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ علاقہ اس کے لیے محفوظ کر دیا۔ عبد الرحمن راوی نے (حدیث کے الفاظ بیان کرتے ہوئے) کہا: آپ وہ پہاڑ میرے لیے خاص کر دیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پہاڑ اس کے لیے مختص کر دیا۔
Takhreej
(۳۴۲۲) تخر یـج: قال الالبانی فی ابن ماجہ: حسن بما بعد۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۸۲۳(انظر: ۱۸۰۶۹)
Explanation
فوائد:… سب سے پہلے ہم شہد کی زکوۃ پر مشتمل دیگر احادیث نقل کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ نے شہد کا دسواں حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں (بطورِ زکوۃ) پیش کیا، دراصل انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی تھی کہ ’’سلبہ‘‘ نامی وادی ان کے لیے محفوظ کر دی جائے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وادی کو ان کے لیے خاص قرار دیا تھا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت شروع ہوا تو سفیان بن وہب نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ دریافت کرنے کے لیے ان کے نام ایک تحریر لکھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواباً لکھا: وہ شہد کا جو دسواں حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بطورِ زکوۃ دیا کرتے تھے، اگر وہ دیتے رہیں تو ان کے لیے اس وادی کو محفوظ کیے رکھو، وگرنہ یہ بارش کی وجہ سے پیدا ہونے والا شہد ہے، جو چاہتا ہے، اس کو کھا سکتا ہے۔ (ابوداود: ۱۶۰۰، نسائی: ۲۴۹۹، ابن ماجہ: ۱۸۲۴)
سنن ابوداود(۱۶۰۱) کی روایت کی میں ہے: (سیدناعمر رضی اللہ عنہ کے جواب کے بعد) وہ لوگ اسی حساب سے زکوۃ ادا کرتے رہے، جس حساب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زکوۃ دیا کرتے تھے، اس لیے سفیان بن وہب نے دو وادیوں کو ان کے لیے محفوظ کر دیا تھا۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہد کے بارے میں فرمایا: ((فِیْ کُلِّ عَشْرَۃِ اَزْقَاقٍ زِقٌّ۔))… ’’ہر دس مشکوں میں ایک مشک (زکوۃ) ہے۔‘‘ (ترمذی: ۶۶۹) ان روایات سے معلوم ہوا کہ شہد میں اس وقت زکوۃ ادا کی جائے گی، جب حاکم کی طرف سے شہد والا کوئی خاص علاقہ کسی ایک شخص کے نام محفوظ کر دیا جائے گا، بصورتِ دیگر شہد پر زکوۃ نہیں ہو گی، امام احمد شہد میں دسویں حصے زکوۃ کے قائل تھے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو عورتیں نبی کریم کی خدمت حاضر ہوئیں، ان کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے، رسول اللہ نے ان سے پوچھا: کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہیں آگ کے کنگن پہنائے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اس زیور کا حق (زکوۃ) ادا کیا کرو جو تمہارے ہاتھوں میں ہے۔
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہے: میں اور میری خالہ ہم دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، جبکہ ہم نے سونے کے کنگن بھی پہنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے پوچھا: کیا تم اس زیور کی زکوٰۃ ادا کیا کرتی ہو؟ ہم نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس کے عوض آگ کے کنگن پہنائے، اس کی زکوٰۃ ادا کیا کرو۔
Takhreej
(۳۴۲۴) تخر یـج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن عاصم الواسطی وشھر بن حوشب۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۴ (۴۳۱) (انظر: ۲۷۶۱۴)
Explanation
فوائد:… عبداللہ بن شداد بن ہاد کہتے ہیں: ہم سیدہ زوجۂ رسول عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میرے ہاتھ میں چاندی کی بڑی بڑی انگوٹھیاں دیکھ کر فرمایا: ’’عائشہ! یہ کیا ہیں؟‘‘ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے یہ تیار کیےہیں، تاکہ آپ کے لیے زینت اختیار کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تم ان کی زکوۃ ادا کرتی ہو؟‘‘ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تو پھر تجھے جہنم کے لیےیہی چیز کافی ہے۔‘‘ (ابوداود: ۱۵۶۵) اس باب کی دوسری حدیث بھی اِن شواہد کی روشنی میں قابل حجت معلوم ہوتی ہے، سونے اور چاندی کی زکوۃ کے نصاب اور شرح پر پہلے بحث ہو چکی ہے، اصل معیار وہی نصاب اور شرح ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سونا اور چاندی ڈلی کی صورت میںپڑا ہو یا زیورات میں ڈھلا ہوا ہو، وہ استعمال کیا جا رہا ہو یا نہ کیا جا رہا ہو۔ واضح رہے کہ زکوٰۃ صرف سونے اور چاندی کے زیورات پر واجب ہے، ان کے علاوہ دیگر قیمتی دھاتوں اور پتھروں کے بنے ہوئے زیورات پر زکوۃ نہیں ہے، اگرچہ ان کی قیمت سونے سے بھی زیادہ ہو۔
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف گئے، ہمارا ایک ساتھی قضائے حاجت کے لئے ایک ویرانے کی طرف گیا، جب اس نے استنجاء کرنے کے لئے ایک اینٹ اٹھائی تو اسے وہاں سے سونے کی ایک ڈلی ملی،اس نے وہ اٹھا لی اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا اور ساری بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلا دی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا وزن کرو۔ اس نے وزن کیا تو وہ دو سو درہم کی ہوئی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ رکاز ہے اور اس میںخُمُسیعنی پانچواں حصہ زکوٰۃ ہے۔
Takhreej
(۳۴۲۵) تخر یـج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد الرحمن بن زید۔ أخرجہ البزار ۸۹۳، والبیھقی: ۴/۱۵۵ (انظر: ۱۲۲۹۸)
Explanation
فوائد:… رِکاز کی تعریف میں اختلاف پایا جاتا ہے: جمہور، امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک اس سے مراد دورِ جاہلیت کا زمین میں مدفون خزانہ ہے، جو بغیر کسی محنت و مشقت کے حاصل ہو جاتا ہے۔ امام ابو حنیفہ اور امام ثوری کے نزدیک اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا زمین میں پیدا کیا ہوا اصلی حالت میں معدنیات کا ذخیرہ ہے۔ ابن اثیر اور صاحب قاموس نے رکاز کے یہ دونوں معانی ذکر کیے ہیں، ظاہر بات ہے کہ کسی ایک معنی کا تعین کرنا ضروری ہے۔ جمہور کا مسلک راجح معلوم ہوتا ہے، جیسا کہ شیخ البانی نے کہا: لغت میں دونوں معنے مراد ہیں، لیکن شرعا صرف جاہلیت کا دفینہ مراد ہے، جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے معلوم ہو رہا ہے۔ (تمام المنۃ: ص ۳۷۶) تیسرے نمبر پر آنے والی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کییہ حدیث اور اس کی شرح ملاحظہ فرمائیں۔
۔ ابوزبیر کہتے ہیں: میں نے سیدناجابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ رِکاز میں خمس یعنی پانچواں حصہ زکوٰۃ ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔