TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

حکمران کا کسی مصلحت کی بنا پر بعض لوگوں کو دینا اور بعض کو محروم کر دینا - حکمران کا کسی مصلحت کی بنا پر بعض لوگوں کو دینا اور بعض کو محروم کر دینا - زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 6 of زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 34 · 3 Hadith
۔ (۳۴۵۰) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَسَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قِسْمَۃً، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَغَیْرُ ہٰؤُلَائِ أَحَقُّ مِنْہُمْ ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہُمْ خَیَّرُوْنِیْ بَیْنَ أَنْ یَسْأَلُوْنِی بِالْفُحْشِ أَوْ یُبَخِّلُوْنِی، فَلَسْتُ بِبَاخِلٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی چیز تقسیم کی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جن لوگوں کو دیا ہے، ان کی بہ نسبت تو دوسرے لوگ زیادہ حق دار تھے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے مجھے یوں اختیار دیا ہے کہ وہ یا تو مجھ سے ناروا انداز سے طلب کریں گے یا پھر مجھے بخیل کہیں گے، جبکہ میں بخیل نہیں ہوں۔
Takhreej
(۳۴۵۰) تخر یـج: أخرجہ مسلم: ۱۰۵۶(انظر: ۲۳۴)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ یہ لوگ دوسروں کی بہ نسبت واقعی زیادہ مستحق تو نہیں تھے، لیکن اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو نہ دیتے تو انھوں نے نازیبا انداز میں گفتگو کر کے اصرار کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مطالبہ کرنا تھا اور اگر پھر بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو نہ دیتے تو انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بخیل کہہ دینا تھا۔ معلوم ہوا کہ جاہل اور سخت طبیعت لوگوں سے نرمی اور دلجوئی کا معاملہ کرنا چاہیے اور ان کی تالیف ِ قلبی کرنی چاہیے، کیونکہ اس میں مصلحت زیادہ ہے، بہرحال اس معاملے میں حاکم وقت کو اختیار ہے کہ وہ اسلام کی بڑی منفعتوں کو سامنے رکھ کر تقسیم کار کا کوئی طریقہ بھی اختیار کر سکتا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ اس کا مقصد واضح اور اسلام کی نظر میں قابل تعریف ہو، عصرِ حاضر میں اس معاملے میں حکمران طبقہ راہِ عدل و انصاف سے بہت دور جا چکا ہے۔ مطلبیہ ہے کہ میں بخیل نہیں ہوں اور میں یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ لوگ مجھ سے اصرار کے ساتھ سوال کریں اور نہ ملنے پر ترش کلامی اور فحش گوئی پر اتر آئیں۔ اس لیے بہت زیادہ حقدار نہ ہونے کے باوجود میں ان کو مال دے دیتا ہوں۔ (بلوغ المانی)۔ (عبداللہ رفیق)
3450
Sahih
۔ (۳۴۵۱) عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: أَتَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَابَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فِی أُنَاسٍ مِنْ قَوْمِی فَجَعَلَ یَفْرِضُ لِلرَّجُلِ مِنْ طَیِّیئٍ فِی أَلْفَیْنِ وَیُعْرِضُ عَنِّی، قَالَ: فَاسْتَقْبَلْتُہُ فَأَعْرَضَ عَنِّی، ثُمَّ أَتَیْتُہُ مِنْ حِیَالِ وَجْہِہِ فَأَعْرَضَ عَنِّی، قَالَ: فَقُلْتُ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! أَتَعْرِفُنِی؟ قَالَ: فَضَحِکَ حَتّٰی اِسْتَلْقَی لِقَفَاہُ ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ وَاللّٰہِ! إِنِّی لَأَعْرِفُکَ، آمَنْتَ إِذْ کَفَرُوْا، وَأَقْبَلْتَ إِذْ أَدْبَرُوْا وَوَفَیْتَ إِذ غَدَرُوْا، وإِنَّ أَوَّلَ صَدَقَۃٍ بَیَّضَتْ وَجْہَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَوُجُوْہَ أَصْحَابِہِ صَدَقَۃُ عَدِیٍّ جِئْتَ بِہَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ أَخَذَ یَعْتَذِرُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا فَرَضْتُ لِقَوْمٍ أَجْحَفَتْ بِہِمُ الْفَاقَۃُ وَہُمْ سَادَۃُ عَشَائِرِہِمْ لِمَا یَنُوْبُہُمْ مِنَ الْحُقُوْقِ۔)) (مسند احمد: ۳۱۶)
۔ سیدناعدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں اپنی قوم کے کچھ افراد کے ہمراہ سیدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے بنو طیٔ کے ہر ہر فرد کو دو دو ہزار دیئے اورمجھ سے اعراض کیا، پھر میں ان کے سامنے آیا، لیکن انھوں نے بے رخی اختیار کی، پھر میں بالکل ان کے چہرہ کے سامنے آیا، تب بھی انہوں نے مجھ سے اعراض کیا، بالآخر میں نے کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے پہچانتے ہیں؟یہ بات سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس قدر ہنسے کہ گدی کے بل لیٹ گئے اور پھر فرمایا: جیہاں، اللہ کی قسم! میں تمہیں پہچانتا ہوں، تم اس وقت ایمان لائے تھے جب یہ لوگ کفر پر ڈٹے ہوئے تھے، تم اس وقت اسلام کی طرف متوجہ ہوئے تھے جب ان لوگوں نے پیٹھ کی ہوئی تھی اور تم نے اس وقت وفاداری دکھائی جب یہ لوگ غداری کر رہے تھے، اور میں جانتا ہوں کہ سب سے پہلا صدقہ، جس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ کے چہرے روشن کر دیئے تھے، وہ تو عدی کا صدقہ تھا، جو تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے کر آئے تھے، بعد ازاں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عدی سے معذرت کی اور کہا: میں نے ان لوگوں کو اس لئے دیا ہے کہ یہ لوگ آج کل فاقوں سے دو چار ہیں، جبکہ یہ اپنے اپنے قبیلوں کے سردار بھی ہیں اور ان پر کافی ساری ذمہ داریاں ہیں۔
Takhreej
(۳۴۵۱) تخر یـج: أخرجہ البخاری: ۴۳۹۴، ومسلم: ۲۵۲۳(انظر: ۳۱۶)
Explanation
فوائد:… کتنی قابل غور بات ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، سیدنا عدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کی خوبیوںکے معترف بھی ہیں اور وہ بار بار اِن کے سامنے اس مقصد سے آ رہے ہیں کہ ان کو بھی کچھ مال ودولت دے دیا جائے، لیکن ان دو چیزوں کے باوجود ان کو کچھ بھی نہیں دیا جا رہا، کیونکہ بڑی مصلحت اور منفعت اس میں تھی کہ دوسروں لوگوں میں مال تقسیم کر دیا جائے۔
3451
Sahih
۔ (۳۴۵۲) عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ اَبِی وَقَّاصٍ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ:اَعْطَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رِجَالاً وَلَمْ یُعْطِ رَجُلًا مِنْہُمْ شَیْئًا، فقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! اَعْطَیْتَ فُلَانًا وَلَمْ تُعْطِ فُلَانَا شَیْئًا وَہُوَ مُؤْمِنٌ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَوْ مُسْلِمٌ۔)) حَتّٰی اَعَادَہَا سَعْدٌ ثَلَاثًا وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَوْ مُسْلِمٌ۔)) ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((إِنِّی لَاُعْطِی رِجَالاً وَاَدَعُ مَنْ ہُو اَحَبُّ إِلَیَّ مِنْہِمْ فَلَا اُعْطِیْہِ شَیْئًا مَخَافَۃَ اَنْ یُکَبُّوا فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۲)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کئی لوگوں کو مال دیا اور ان میں سے ایک فرد کو کچھ نہیں دیا، سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی ! آپ نے فلاں فلاں کو تو مال دیا ہے، مگر فلاں کو کچھ بھی نہیں دیا، حالانکہ وہ بھی تو مومن ہے؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا وہ مسلمان نہیں ہے؟ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہی فرماتے رہے کہ کیا وہ مسلمان نہیں ہے؟ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بسا اوقات یوں ہوتا ہے کہ میں بہت سے لوگوں کو عطیات دیتا ہوں اور ان میں سے جو مجھے زیادہ محبوب ہوتا ہے، اسے کچھ نہیں دیتا، مبادا کہ دوسرے لوگ (عطیہ نہ ملنے کی وجہ سے) چہروں کے بل جہنم میں جا پڑیں گے۔
Takhreej
(۳۴۵۲) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۲۷، ۱۴۷۸، ومسلم: ۱۵۰ (انظر: ۱۵۲۲)
Explanation
فوائد:… امام نووی نے کہا: جب سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے دیکھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم افضل و اعلی لوگوں کو چھوڑ کر دوسرے عام لوگوں میں اموال تقسیم کیے جا رہے ہیں، جبکہ ان کا خیالیہ تھا کہ کم یا زیادہ حصے کا دارومدار دین میں برتری پر ہے، نیز وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جن لوگوں کو چھوڑ رہے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان کی افضیلت کا علم نہیں ہے، اس لیے جب انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ایسے لوگوں کی نشاندہی کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’یا وہ مسلمان ہے؟‘‘ لیکن سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یہ نہ سمجھ سکے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اس قسم کی سفارش سے منع کرنا چاہتے ہیں، اس لیے تین دفعہ تکرار ہو جانے کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وضاحت کی کہ تقسیم کا انحصار دین میں برتری پر نہیں ہے۔ جب کسی مقام پر ایمان اور اسلام کو فرق کے ساتھ پیش کیا جائے تو اسلام کا تعلق ظاہری اطاعت سے ہوتا ہے اور ایمان کا باطنی اطاعت سے، اس مقام پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ کہہ کر کہ ’’یا وہ مسلمان ہے؟‘‘یہ سبق دینا چاہتے ہیں کہ کسی کے ایمان کا قطعی فیصلہ نہیں کر دینا چاہیے، کیونکہ اس کے باطن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، ذہن نشین کر لیناچاہیے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایمان کی نفی نہیںکر رہے، بلکہ کسی کے ایمان کے بارے میں قطعی فیصلہ کر دینے سے منع کر رہے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیتقسیم کا دارومدار اس امر پر ہوتا تھا کہ اسلام کا زیادہ فائدہ کس میں ہے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کافروں تک کو مال کی بڑی مقدار اس لیے عطا کر دیتے تھے کہ ممکن ہے کہ یہ لوگ اس احسان کی وجہ سے مسلمان ہو جائیں اور واقعۃً ایسے ہوا بھی، اسی طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نو مسلموں اور ضعیف الاسلام لوگوں کو قدیم اور راسخ الایمان صحابہ پر ترجیح دیتے تھے۔ اس مقام پر ہم بڑے دکھ اور ارمان کے ساتھ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس وقت تقسیمِ مال کے اس سلسلے میں امت ِ مسلمہ کے مسئولین مکمل طور پر طرزِ نبوی سے منحرف ہو چکے ہیں، الا ما شاء اللہ۔اس وقت مساجد، مدارس، دفاتر، خیراتی اداروں کی عمارتوں، ان کے دفتروں کی تعمیر پر اور ان میں استعمال ہونے والے فرنیچر پراور ان کو خوبصورت سے خوبصورت تر بنانے پر بھاری سرمایہ خرچ کیا جا رہا ہے، جبکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سنہری دور میں مال کا مصرف صرف اور صرف شخصیت تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دور میں مدینہ منورہ میں سب سے اہم مقام مسجد ِ نبوی تھی، جو صرف جائے نماز نہیں تھی، بلکہ مسلمانوں کی ہدایت، سیاست اور قیادت کا مرکز تھی، لیکن جب اس کی تعمیر ہونے لگی تھی تو اعتدال کے علم بردار، حکمتوں سے معمور اور لوگوں کی امانتوں کے امین محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاتھا: ((اِبْنُوْہُ عَرِیْشاً کَعَرِیْشِ مُوْسٰی۔)) ’’موسیٰ علیہ السلام کے چھپر کی طرح اس کو تعمیر کر دو۔‘‘ لیکن آج خدمت ِ اسلام کی بنیاد خوبصورت عمارت پر ہے، عصرِ حاضر میں غریبوں اور مسکینوں کا پرسانِ حال کوئی نہیں رہا، جس ادارے کا رقم کی صورت میں تعاون کیا جائے، وہ صرف اس سوچ کا پابند ہو کر رہ گیا ہے کہ اس مال کو دیواروں پر کیسے ’’تھوپا‘‘ جائے یا پھر ادارے کی توسیع اور خود کفالت کا مسئلہ کھڑا کیا ہے جائے گا، یہ اس دور والوں کا طرزِ نبوی سے انحراف اور بے اعتدالی کی بڑی قسم ہے۔
3452
Sahih

Chapters

34
01
زکوۃ ادا کرنے میں جلدی کرنے، وقت سے پہلے ادا کردینے اور امام کا زکوۃ دینے والے کے حق میں دعا کرنے کا بیان
7 Hadith
02
اس امر کا بیان کہ انسان کسی کو مستحق سمجھ کرصدقہ ادا کر دے، لیکن بعد میں پتہ چلے کہ وہ صدقہ کا مستحق نہ تھا
3 Hadith
03
مالک کے ساتھ نرمی کرنے اور زکوۃ وصول کرنے والے نمائندے کا خود اس کی طرف چلے جانے اور اس پر زیادتی نہ کرنے کا بیان
3 Hadith
04
زکوۃ وصول کنندہ کو راضی کرنا
3 Hadith
05
حقیر قسم کی چیز کا قصد کرنے اور اس کا صدقہ کرنے کی کراہت اور عمدہ چیز کا صدقہ کرنے کی فضلیت کی بیان
6 Hadith
06
حکمران کا کسی مصلحت کی بنا پر بعض لوگوں کو دینا اور بعض کو محروم کر دینا
3 Hadith
07
فقیر اور مسکین کا بیان
7 Hadith
08
عاملینِ زکوۃ
7 Hadith
09
ان لوگوںکا بیان، جن کو تالیف ِ قلبی کے لیے زکوۃ دی جاتی ہے
3 Hadith
10
غلاموں کی آزادی پر زکوۃ صرف کرنا
2 Hadith
11
قرض داروں کو زکوۃ دینا
5 Hadith
12
اللہ کی راہ میں اور مسافروں کو صدقہ دینے اور مصارفِ زکوٰۃ کی تمام اصناف کو صدقہ دینے کا بیان
3 Hadith
13
بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌
15 Hadith
14
صدقہ میں خیانت کرنے اور ایسا کرنے والے کے لئے وعید کا بیان
20 Hadith
15
اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا بیان
8 Hadith
16
بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
11 Hadith
17
سوال کرنے سے بچنے اور اس کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
18
سوال نہ کرنے پر بیعت کرنا
3 Hadith
19
اگر بن مانگے کچھ مل جانے تو اسے قبول کر لینے اور اگر مانگنے کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو تو نیک لوگوں سے سوال کر لینے کا بیان
5 Hadith
20
سائل کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے اور خواہ وہ گھوڑے پر آئے، اس کو کچھ نہ کچھ دینے کا بیان
6 Hadith
21
اللہ تعالیٰ کے نام پر یا اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر سوال کرنے کا بیان
8 Hadith
22
صدقہ فطر کی مشروعیت اور حکم کا اور جن لوگوں پر یہ فرض ہے، ان کا بیان
6 Hadith
23
گندم کے نصف صاع کی روایت بیان کرنے والے
6 Hadith
24
صدقۂ فطر دینے کے وقت کا بیان
20 Hadith
25
سب سے زیادہ فضیلت والے صدقے کا بیان
5 Hadith
26
عاریۃً دی ہوئی چیزکا بیان
3 Hadith
27
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
28
جسم کے صدقہ کا بیان
8 Hadith
29
اس آدمی کا بیان جسے دو کپڑے بطورِ صدقہ دیئے گئے، لیکن اس نے ان میں سے ایک کپڑا صدقہ کی نیت سے ڈال دیا
1 Hadith
30
شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
6 Hadith
31
نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
2 Hadith
32
بیوی کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے صدقہ کرنے کا بیان
3 Hadith
33
مخفی طور پر صدقہ کرنے کی فضیلت
3 Hadith
34
صدقہ جاریہ کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.