۔ (۳۴۵۱) عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: أَتَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَابَ رضی اللہ عنہ فِی أُنَاسٍ مِنْ قَوْمِی فَجَعَلَ یَفْرِضُ لِلرَّجُلِ مِنْ طَیِّیئٍ فِی أَلْفَیْنِ وَیُعْرِضُ عَنِّی، قَالَ: فَاسْتَقْبَلْتُہُ فَأَعْرَضَ عَنِّی، ثُمَّ أَتَیْتُہُ مِنْ حِیَالِ وَجْہِہِ فَأَعْرَضَ عَنِّی، قَالَ: فَقُلْتُ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! أَتَعْرِفُنِی؟ قَالَ: فَضَحِکَ حَتّٰی اِسْتَلْقَی لِقَفَاہُ ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ وَاللّٰہِ! إِنِّی لَأَعْرِفُکَ، آمَنْتَ إِذْ کَفَرُوْا، وَأَقْبَلْتَ إِذْ أَدْبَرُوْا وَوَفَیْتَ إِذ غَدَرُوْا، وإِنَّ أَوَّلَ صَدَقَۃٍ بَیَّضَتْ وَجْہَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَوُجُوْہَ أَصْحَابِہِ صَدَقَۃُ عَدِیٍّ جِئْتَ بِہَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثُمَّ أَخَذَ یَعْتَذِرُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا فَرَضْتُ لِقَوْمٍ أَجْحَفَتْ بِہِمُ الْفَاقَۃُ وَہُمْ سَادَۃُ عَشَائِرِہِمْ لِمَا یَنُوْبُہُمْ مِنَ الْحُقُوْقِ۔)) (مسند احمد: ۳۱۶)
۔ سیدناعدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنی قوم کے کچھ افراد کے ہمراہ سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے بنو طیٔ کے ہر ہر فرد کو دو دو ہزار دیئے اورمجھ سے اعراض کیا، پھر میں ان کے سامنے آیا، لیکن انھوں نے بے رخی اختیار کی، پھر میں بالکل ان کے چہرہ کے سامنے آیا، تب بھی انہوں نے مجھ سے اعراض کیا، بالآخر میں نے کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے پہچانتے ہیں؟یہ بات سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس قدر ہنسے کہ گدی کے بل لیٹ گئے اور پھر فرمایا: جیہاں، اللہ کی قسم! میں تمہیں پہچانتا ہوں، تم اس وقت ایمان لائے تھے جب یہ لوگ کفر پر ڈٹے ہوئے تھے، تم اس وقت اسلام کی طرف متوجہ ہوئے تھے جب ان لوگوں نے پیٹھ کی ہوئی تھی اور تم نے اس وقت وفاداری دکھائی جب یہ لوگ غداری کر رہے تھے، اور میں جانتا ہوں کہ سب سے پہلا صدقہ، جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کے چہرے روشن کر دیئے تھے، وہ تو عدی کا صدقہ تھا، جو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر آئے تھے، بعد ازاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عدی سے معذرت کی اور کہا: میں نے ان لوگوں کو اس لئے دیا ہے کہ یہ لوگ آج کل فاقوں سے دو چار ہیں، جبکہ یہ اپنے اپنے قبیلوں کے سردار بھی ہیں اور ان پر کافی ساری ذمہ داریاں ہیں۔