۔ سیدناقبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے (لوگوں میں اصلاح کی غرض سے) ایک مالی ضمانت قبول کر لی اور اس سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آ کر تعاون کی گزارش کی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے پاس زکوۃ آنے تک انتظار کرو، یا تو ہم مکمل ادائیگی کر دیں گے یا اس سلسلہ میں کچھ تعاون کر دیں گے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سوال کرنا اور مانگنا حلال نہیں ہے، مگر تین قسم کے آدمیوں کے لئے: (۱)وہ آدمی جو لوگوں (کے درمیان اصلاح) کی خاطر مالی ضمانت دے دیتا ہے، وہ اس سلسلے میں سوال کرسکتا ہے، لیکن جب وہ ضمانت ادا کر دے تو مانگنے سے باز آ جائے، (۲)وہ آدمی کہ اس پر ایسی آفت آ پڑے کہ اس کے مال کو تباہ کر دے، تو وہ ضرورت پوری ہونے تک سوال کر لے اور پھرایسا کرنے سے رک جائے اور (۳)وہ آدمی جو فاقہ میں مبتلا ہو گیا ہو، ایسا آدمی بھی حاجت پوری ہونے تک سوال کر سکتا ہے، لیکن پھر ایسا کرنے سے باز آ جائے۔ قبیصہ ! ان صورتوں کے علاوہ مانگنا حرام ہے، ایسا کرنے والا حرام کھاتا ہے۔
۔ (دوسری سند) یہی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: (تیسرا) وہ فاقہ کش اور ضرورت مند آدمی ہے کہ جس کی قوم کے تین عقلمند آدمییہ گواہی دے دیں کہ واقعی فلاں آدمی حاجت اور فاقے میں مبتلا ہے۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک سوال کرنا حلال نہیں ہے، مگر تین افراد کے لیے : کسی مقتول کی تکلیف دہ دیت ادا کرنے والا، بہت زیادہ مقروض اور بہت زیادہ فقیر۔
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! ہم ایسی قوم ہیں کہ ایک دوسرے سے مانگتے ہیں،( کیایہ جائز ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کسی آفتیا لڑائی کے سلسلے میں لوگوں کے مابین صلح کروانے کے لیے مانگتا ہے، لیکن جب وہ اپنے مقصد تک پہنچ جاتا ہے یا اس کے قریب ہو جاتا ہے تو باز آ جاتا ہے۔
۔ سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص نے پھل خریدے، لیکن وہ کسی آفت میں مبتلا ہو گیا اور اس کا قرض بہت زیادہ ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اس پر صدقہ کرو۔ چنانچہ لوگوں نے اس پر صدقہ تو کیالیکن اس سے اس کا قرضہ پورا نہ ہو سکا۔بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (قرض خواہوں سے) فرمایا: جو مال تم نے اس کے پاس پا لیا ہے، وہ لے لو، اور تمہیں صرف یہی ملے گا۔