TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3525 - بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان - زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 11 in this chapter
بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
۔ (۳۵۲۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لاَ یَفْتَحُ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہِ بَابَ مَسْاَلَۃٍ إِلَّا فَتَح اللّٰہُ عَلَیْہِ بَابَ فَقْرٍ، یَاْخُذُ الرَّجُلُ حَبْلَہُ فَیَعْمِدُ إِلَی الْجَبَلِ فَیَحْتَطِبُ عَلٰی ظَہْرِہِ، فَیَاْکُلُ بِہِ خَیْرٌ لَہُ مِنْ اَنْ یَسْاَلَ النَّاسَ مُعْطًی اَوْ مَمْنُوْعًا۔)) (مسند احمد: ۹۴۱۱)
۔ (تیسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی بھی اپنے لیے سوال اور بھیک کا دروازہ کھولتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیےفقیری اور حاجت کا دروازہ کھول دیتا ہے، اگر ایک آدمی رسی لے کر پہاڑ کی طرف نکل جائے اور اپنی کمر پر ایندھن کاٹ کر لائے اور (اس کے ذریعے) کھانا کھائے تو یہ اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے سوال کرے اور کہیں اسے کوئی چیز دے دی جائے اور کہیں محروم کر دیا جائے۔
3525
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۵۲۵) تخر یـج: اسنادہ قوی، وانظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ ہر مسلمان کو حلال کمائی کے لیے ہر ممکنہ کوشش کرنی چاہیے اور لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلانے سے بچنا چاہیے۔

Related Chapters

131
1
Chapter: It Is Recommended For The One Who Supplicated Not To Be Impatient. And Not To Say: I Supplicated And Received No Response
دعا مانگنے والے کی دعا پوری ہوتی ہے اگر وہ جلد بازی کرتے ہوئے یہ نہ کہے: میں نے دعا کی لیکن قبول نہیں ہوئی
Sahih Muslim
2
Chapter: It is permissible to exit Ihram if one is prevented from completing Hajj; It is permissible to perform Qiran and the pilgrim performing Qiran should perform just one Tawaf and one Sa'i
کسی رکاوٹ کے باعث (راستے میں)احرام کھول دینے ‘نیز حج قران اور اس میں ایک طواف اور ایک سعی پر اکتفاکرنے کا جواز
Sahih Muslim
3
CHAPTER: Disapproval Of Begging.
باب: بھیک مانگنے کی کراہت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
4
Chapter: One who asks when he is not in need
مالدار ہوتے ہوئے (بلا ضرورت) مانگنے پر وارد وعید کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
5
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Raise The Hands On The Minbar
باب: منبر پر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: , What Has Been Related About The Right Of The One Asking
باب: مانگنے والے کے حق کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Begging
باب: دوسروں سے مانگنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About The Dowry Of The Baghi
باب: زانیہ کی کمائی کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About The Earning Of The Cupper
باب: پچھنا لگانے والے کی کمائی کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Permitting The Earnings Of A Cupper
باب: پچھنا لگانے والے کی کمائی کے جائز ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About One Who Asks For Martyrdom
باب: شہادت کی دعا مانگنے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About Seeking Permission To Enter From In Front Of The House
باب: گھر کے (دروازے) کے سامنے کھڑے ہو کر اجازت مانگنے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
بَاب الِاسْتِعَاذَة
پناہ مانگنے کا بیان
Mishkat
14
تین پتھروں سے کم پر اکتفا کرنے سے نہی کا بیان
Musnad Ahmad
15
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
16
نماز خوف کی تیسری صورت ہر گروہ کا امام کے ساتھ والی ایک رکعت پر ہی اکتفا کرنا اور دوسری کی قضائی نہ دینا
Musnad Ahmad
17
عذاب قبر اور اس سے پناہ مانگنے کا بیان
Musnad Ahmad
18
اگر بن مانگے کچھ مل جانے تو اسے قبول کر لینے اور اگر مانگنے کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو تو نیک لوگوں سے سوال کر لینے کا بیان
Musnad Ahmad
19
روزہ رکھنے اور ترک کرنے کے بارے میں چاند کی رؤیت کے سلسلے میں کیسے افراد کی گواہی پر اکتفا کیا جائے؟
Musnad Ahmad
20
تعوذ (پناہ مانگنے)، اس کے صیغوں اور فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
21
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
Musnad Ahmad
22
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
Musnad Ahmad
23
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
24
سینگی لگانے والوں، لونڈیوں، قصاب اور سنار وغیرہ کی کمائی کا بیان
Musnad Ahmad
25
ٹیکس وصول کرنے والوں اور سرداروں کی کمائی کا بیان
Musnad Ahmad
26
تجارت کے ذریعے کمائی کرنے کا بیان خرید و فروخت میں سچائی اور امانت اور ان کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
27
کتے، بلی اور چوری کی ہوئی بکری کی قیمت، زانیہ کی کمائی، نجومی کی مٹھائی اور گانے والیوں کی خریدو فروخت سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
28
غلام کی ضمانت اور اس چیز کا بیان کہ تازہ کی ہوئی کمائی عیب کی وجہ سے سودا واپس کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے گی
Musnad Ahmad
29
جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے اور اس سے جنت کا سوال کرنے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ دونوں انسان کے تسمے سے زیادہ قریب ہیں
Musnad Ahmad
30
(8) CHAPTER. As-Sadaqa (charity) must be from money earned honestly.
حلال کمائی میں سے خیرات کرنا
Sahih Bukhari
31
(12) CHAPTER. Allah's Statement: “...Spend of the good things which you have (legally) earned...” (V.2:267)
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنی پاک کمائی میں سے خرچ کرو ( البقرہ : 267 )
Sahih Bukhari
32
Chapter: The permissibility of cursing the Shaitan during prayer, and seeking refuge with Allah from him; and the permissibility of doing a few actions while in salat
نماز کے دوران میں شیطان پر لعنت بھیجنے ، اس سے پناہ مانگنے اور تھوڑے سے عمل کا جواز
Sahih Muslim
33
Chapter: Acceptance of charity that comes from good (Tayyib) earnings, and the growth thereof
:پاکیزہ کمائی سے صدقے کی قبولیت اور اس کی نشوو نما
Sahih Muslim
34
Chapter: It is permissible to take without asking for it or hoping for it
اگر مانگنے اور طمع کے بغیر ملے تو لینا جائز ہے
Sahih Muslim
35
Chapter: Giving to those whose hearts have been inclined (towards Islam) and to those for whose faith there is fear if they are not given anything, and putting up with the one who asks rudely due to ignorance, and the Khawarij and rulings regarding them
جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہو اور جن کا ایمان نہ ہونے کی بنا پرضائع ہونے کا خطرہ ہو‘ان کو دینا ‘جہالت کی بناپر مذموم طریقے سے مانگنے والے کو برداشت کرنا ‘اور خوارج اور ان کے بارے میں احکام شریعت
Sahih Muslim
36
CHAPTER: The Supplication During The Prayer.
باب: نماز میں دعا مانگنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
37
CHAPTER: Raising The Hands During Istisqa’.
باب: نماز استسقا میں دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
38
CHAPTER: Regarding Seeking Refuge.
باب: ( بری باتوں سے اللہ کی ) پناہ مانگنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
39
CHAPTER: Repugnance Of Begging In The Name Of Allah, The Exalted.
باب: اللہ کے نام پر مانگنے کی کراہت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
40
CHAPTER: Regarding A Person Who Asks Allah For Martyrdom.
باب: اللہ تعالیٰ سے شہادت مانگنے والے شخص کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
41
CHAPTER: Seeking Assistance From Allah By (Supplication, Worship Etc.) Of Weak Horses and Weak People.
باب: ضعیف اور بے کس لوگوں کے واسطہ سے مدد مانگنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
42
CHAPTER: Regarding What Is Recommended Of Spending All The Supplies In Battle Upon The Return Of The Warrior.
باب: جہاد سے واپسی میں زادراہ ختم ہو جانے پر دوسروں سے مانگنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
43
CHAPTER: Regarding The Earnings Of Physicians.
باب: طبیب اور معالج کی کمائی کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
44
CHAPTER: Regarding The Earning Of A Slave-Women.
باب: لونڈیوں کی کمائی لینا منع ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
45
نماز میں اعوذ باللہ پڑھنے (یعنی شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنے) کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
46
کتے کی قیمت، زانیہ کی کمائی، کاہن کی اجرت اور نر سے جفتی کرانے کی اجرت کے احکام کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
47
حجام (پچھنا لگانے والے) کی کمائی کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
48
غلام کی کمائی اس کے ضامن مالک سے جڑی ہوئی ہے
Sunnan Ibn e Maja
49
بھوک سے اللہ کی پناہ مانگنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
50
جنبی جب کھانے کا ارادہ کرے تو اس کے صرف دونوں ہاتھ دھونے پر اکتفا کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

6
Mishkat
68
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الانسان مجْرى الدَّم»
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے ہر شخص کے ساتھ اس کا ایک جن اور ایک فرشتہ ساتھی مامور کر دیا گیا ہے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ ﷺ کے ساتھ بھی ؟ آپ نے فرمایا :’’ میرے ساتھ بھی لیکن اللہ نے اس کے خلاف میری اعانت کی تو وہ مطیع ہو گیا ، وہ مجھے صرف خیرو بھلائی کی بات ہی کہتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Musnad Ahmad
748
۔ (۷۴۸)۔عَنْ عُمَرَ بْنِ اِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ قَالَ: قَرَأْتُ فِی کِتَابٍ لِعَطَائِ بْنِ یَسَارٍ مَعَ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ: فَسَأَلْتُ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّیْنِ، قَالَتْ: قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَکُلُّ سَاعَۃٍ یَمْسَحُ الْاِنْسَانُ عَلٰی الْخُفَّیْنِ وَلَا یَنْزِعُہُمَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۳۶۴)
کرنے کی گنجائش ہے، البتہ اس موضوع پر درج ذیل روایت قابل توجہ ہے: حضرت عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: خَرَجتُ مِنَ الشَّامِ إِلٰی الْمَدِیْنَۃِ یَوْمَ الْجُمَعَۃِ، فَدَخَلْتُ عَلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: مَتٰی أَوْلَجْتَ خُفَّیْکَ فِی رِجْلَیْکَ؟ قُلْتُ: یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، قَالَ: فَھَلْ نَزَعْتَھُمَا؟ قُلْتُ: لَا۔ قَالَ: أَصَبْتَ السُّنَّۃَ۔…میں جمعہ کے روز شام سے مدینہ کی طرف روانہ ہوا، (جب وہاں پہنچا تو) حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس گیا۔ انھوں نے کہا: تم نے موزے کب پہنے تھے؟ میں نے کہا: جمعہ کے روز۔ انھوں نے پوچھا: کیا پھر ان کو اتارا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انھوں نے کہا: تم نے سنت کی موافقت کی ہے۔ (شرح معانی الآثار: ۱/۴۸،دارقطنی: ص۷۲، حاکم: ۱/۱۸۰ـ ۱۸۱،صحیحہ: ۲۶۲۲) جب صحابی کسی عمل یا قول کو سنت کہہ دے تو اس کی مراد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت ہوتی ہے۔ اس حدیث کا پچھلے باب کی احادیث سے تعارض ہے، کیونکہ ان میں مسافر کو تین دنوں کی اور اس میں سات دنوں کی گنجائش دی گئی ہے۔ ان دو احادیث میں اس طرح جمع و تطبیق ممکن ہے کہ سات دنوں والی روایت کو ضرورت اور جماعت کی معیت میں رہنے کی وجہ سے موزے نہ اتار سکنے پر محمول کیا جائے، شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کا بھی یہی خیال ہے۔
Musnad Ahmad
3193
۔ (۳۱۹۳) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ أَبِی سَعِیْدٍ نِ الْخُدْرِیِّ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَۃُ، وَاحْتَمَلَہَا الرِّجَالُ عَلٰی أَعْنَاقِہِمْ، فِاِنْ کَانَتْ صَالِحَۃً قَالَتْ قَدِّمُوْنِی، وَإِنْ کَانَتْ غَیْرَ صَالِحَۃٍ قَالَتْ یَا وَیْلَہَا، أَیْنَ تَذْہَبُوْنَ بِہَا یَسْمَعُ صَوْتَہَا کُلُّ شَیْئٍ إِلَّا الإِنْسَانَ وَلَوْ سَمِعَہَا الْاِنْسَانُ لَصَعِقَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۹۲)
سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب میت کو چارپائی پر رکھ دیا جاتا ہے اور مرد اسے کندھوں پر اٹھا لیتے ہے، اگر وہ میت نیک ہو تو کہتی ہے: مجھے آگے لے چلو اور اگر وہ نیک نہ ہو تو کہتی ہے: ہائے! تم مجھے کدھر لے کر جا رہے ہو۔ انسان کے علاوہ ہر مخلوق اس کی آواز کو سنتی ہے اور اگر انسان اسے سن لے تو وہ بے ہوش ہو جائے۔
Musnad Ahmad
9824
۔ (۹۸۲۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ خَطَّ خَطًّا مُرَبَّعًا، وَخَطَّ خَطًّا وَسْطَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ، وَخُطُوْطًا اِلٰی جَنْبِ الْخَطِّ الّذِیْ وَسْطَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ، وَخَطٌّ خَارِجٌ مِنَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ، قَالَ: ((ھَلْ تَدْرُوْنَ مَاھٰذَا؟)) قَالُوْا: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((ھٰذَا الْاِنْسَانُ، الْخَطُّ الْاَوْسَطُ، وَھٰذِہِ الْخُطُوْطُ الَّتِیْ جَنْبَہُ الْاَعْرَاضُ تَنْھَشُہُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ، اِنْ اَخْطَاَ ھٰذَا، اَصَابَہُ ھٰذَا، وَالْخَطُّ الْمُرَبَّعُ، الْاَجَلُ الْمُحِیْطُ بِہٖ،وَالْخَطُّالْخَارِجُالْاَمَلُ۔)) (مسنداحمد: ۳۶۵۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لکیریں لگا کر ایک مربع شکل بنائی، اس شکل کے درمیان میں ایک خط لگایا اور پھر اس کے ساتھ اور شکل کے اندر ہی کئی لکیریں لگائی اور ایک لکیر اس مربع کے باہر لگائی اور پھر فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: درمیان میں لگی ہوئییہ لکیر انسان ہے، اس کے ساتھ لگی ہوئییہ لکیریںبیماریاں ہیں، جو اس کو ہر مقام پر نوچنے کی کوشش کرتی ہیں، اگر ایک اپنے نشانے سے گھس جاتی ہے تو دوسری لگ جاتی ہے،یہ مربع شکل میں لگے ہوئے خطوط انسان کی موت ہے، جو اس کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور اس شکل سے باہر لگی ہوئی لکیر انسان کی امید ہے ۔
Musnad Ahmad
9825
۔ (۹۸۲۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَرَزَ بَیْنَیَدَیْہِ غَرْزًا، ثُمَّ غَرَزَ اِلٰی جَنْبِہٖآخَرَ،ثُمَّغَرَزَالثَّالِثَفَاَبْعَدَہُ،ثُمَّقَالَ: ((ھَلْتَدْرُوْنَمَاھٰذَا؟)) قَالُوْا: اللّٰہُوَرَسُوْلُہُاَعْلَمُ،قَالَ: ((ھٰذَا الْاِنْسَانُ، وَھٰذَا اَجَلُہُ، وَھٰذَا اَمَلُہُ، یَتَعَاطَی الْاَمَلَ، یَخْتَلِجُہُ الْاَجَلُ دَوْنَ ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۴۹)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے سامنے ایک چیز گاڑھی، پھر اس کے پہلو میں ایک دوسری چیز گاڑھ دی اور اس سے ذرا دو ر کر کے تیسری چیز گاڑھ دی اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ انسان ہے، اس کے ساتھ گڑھی ہوئییہ چیز اس کی موت ہے اور وہ دور گڑھی ہوئی اس کی امید ہے، ابھی تک وہ اپنی امید کے درپے ہوتا ہے کہ اس سے پہلے ہی موت اس کو اچک لیتی ہے۔
Musnad Ahmad
10305
۔ (۱۰۳۰۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَرَّ یَھُوْدِیٌّ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُحَدِّثُ اَصْحَابَہُ، فَقَالَتْ قُرَیْشٌ : یَایَھُوْدِیُّ! اِنَّ ھٰذَا یَزْعَمُ اَنَّہُ نَبِیٌّ، فَقَالَ: لَاَسْاَلَنَّہُ عَنْ شَیْئٍ لَا یَعْلَمُہُ اِلَّا نَبِیٌّ، قَالَ: فَجَائَ حَتّٰی جَلَسَ ثُمَّ قَالَ: یَامُحَمَّدُ! مِمَّ یُخْلَقُ الْاِنْسَانُ؟ قَالَ: ((یَایَھُوْدِیُّ! مِنْ کُلٍّ یُخْلَقُ، مِنْ نُطْفَۃِ الرَّجُلِ وَمِنْ نُطْفَۃِ الْمَرْاَۃِ، فَاَمَّا نُطْفَۃُ الرَّجُلِ فَنُطْفَۃٌ غَلِیْظَۃٌ مِنْھَا الْعَظَمُ، وَالْعَصَبُ، وَاَمَّا نُطْفَۃُ الْمَرْاَۃِ فَنُطْفَۃٌ رَقِیْقَۃٌ مِنْھَا اللَّحْمُ، وَالدَّمُ۔)) فَقَامَ الْیَھُوْدِیُّ فَقَالَ: ھٰکَذَا کَانَ یَقُوْلُ مَنْ قَبْلَکَ۔ (مسند احمد: ۴۴۳۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایکیہودی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے صحابہ کو احادیث بیان کر رہے تھے، قریشیوں نے یہودی سے کہا: اے یہودی! یہ آدمی اپنے آپ کو نبی خیال کرتا ہے، اس نے کہا: میں اس سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کرتا ہوں کہ اس کو جاننے والا صرف نبی ہوتا ہے ، پس وہ آیا اور بیٹھ گیا، پھر اس نے کہا: اے محمد! انسان کو کس چیز سے پیدا کیا جاتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہودی! مرد و زن میں سے ہر ایک سے انسان کو پیدا کیا جاتا ہے، مرد کے نطفے سے بھی اور عورت کے نطفے سے بھی، مرد کا نطفہ گاڑھا ہوتا ہے، اس سے ہڈیاں اور پٹھے بنتے ہیں اور عورت کا نطفہ پتلا ہوتا ہے، اس سے گوشت اور خون بنایا جاتا ہے۔ یہودی نے کہا: آپ سے پہلے والے لوگ بھی اسی طرح کہتے تھے۔