مسنداحمد

Musnad Ahmad

زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب

بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان


۔ (۳۵۲۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لاَ یَفْتَحُ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہِ بَابَ مَسْاَلَۃٍ إِلَّا فَتَح اللّٰہُ عَلَیْہِ بَابَ فَقْرٍ، یَاْخُذُ الرَّجُلُ حَبْلَہُ فَیَعْمِدُ إِلَی الْجَبَلِ فَیَحْتَطِبُ عَلٰی ظَہْرِہِ، فَیَاْکُلُ بِہِ خَیْرٌ لَہُ مِنْ اَنْ یَسْاَلَ النَّاسَ مُعْطًی اَوْ مَمْنُوْعًا۔)) (مسند احمد: ۹۴۱۱)

۔ (تیسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی بھی اپنے لیے سوال اور بھیک کا دروازہ کھولتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیےفقیری اور حاجت کا دروازہ کھول دیتا ہے، اگر ایک آدمی رسی لے کر پہاڑ کی طرف نکل جائے اور اپنی کمر پر ایندھن کاٹ کر لائے اور (اس کے ذریعے) کھانا کھائے تو یہ اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے سوال کرے اور کہیں اسے کوئی چیز دے دی جائے اور کہیں محروم کر دیا جائے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۵۲۵) تخر یـج: اسنادہ قوی، وانظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ ہر مسلمان کو حلال کمائی کے لیے ہر ممکنہ کوشش کرنی چاہیے اور لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلانے سے بچنا چاہیے۔