مسنداحمد

Musnad Ahmad

زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب

بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان

۔ (۳۵۲۳) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ! لَاَنْ یَاْخُذَ اَحَدُکُمْ حَبْلَہُ فَیَذْہَبَ إِلَی الْجَبَلِ فَیَحْتَطِبَ، ثُمَّ یَاْتِیَ بِہِ یَحْمِلُہُ عَلٰی ظَہْرِہِ فَیَبِیْعَہُ فَیَاْکُلَ خَیْرٌ لَہُ، مِنْ اَنْ یَسْاَلَ النَّاسَ، وَلَاَنْ یَاْخُذَ تُرَابًا فَیَجْعَلَہُ فِی فِیْہِ خَیْرٌ لَہُ مِنْ اَنْ یَجْعَلَ فِی فِیْہِ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد:۷۴۸۲)

۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی آدمی رسی لے کر پہاڑ کی طرف جائے اور وہاں سے لکڑیاں کاٹ کر اپنی پشت پر لاد کر لائے اور اسے فروخت کرکے کھائے، تو یہ اس کے حق میں لوگوں سے بھیک مانگنے کی بہ نسبت زیادہ بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ کسی چیز کو منہ میں ڈالنے سے بہتر ہے کہ بندہ مٹی اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لے۔

۔ (۳۵۲۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَاللّٰہِ! لَاَنْ یَاْخُذَ اَحَدُکُمْ حَبْلًا فَیَحْتَطِبَ فَیَحْمِلَہُ عَلٰی ظَہْرِہِ فَیَاْکُلَ اَوْ یَتَصَدَّقَ خَیْرٌ لَہُ مِنْ اَنْ یَاْتِی رَجُلاً اَغْنَاہُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہِ فَیَسْاَلَہُ اَعْطَاہُ اَوْ مَنَعَہُ، ذَلِکَ بِاَنَّ الْیَدَ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنَ الْیَدِ السُّفْلٰی۔)) (مسند احمد:۷۳۱۵)

۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تم میں سے کوئی آدمی رسی لے کر جائے اور لکڑیاں کاٹ کر اپنی کمر پر لاد کر لائے اور اس طرح (ان کی قیمت سے) کھانا بنائے یا صدقہ کر دے تو یہ کام اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسے بندے کے پاس جا کر سوال کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے غنی کر رکھا ہو، آگے سے اس کی مرضی کہ کچھ دے دے یا نہ دے، یہ اس وجہ سے ہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔

۔ (۳۵۲۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لاَ یَفْتَحُ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہِ بَابَ مَسْاَلَۃٍ إِلَّا فَتَح اللّٰہُ عَلَیْہِ بَابَ فَقْرٍ، یَاْخُذُ الرَّجُلُ حَبْلَہُ فَیَعْمِدُ إِلَی الْجَبَلِ فَیَحْتَطِبُ عَلٰی ظَہْرِہِ، فَیَاْکُلُ بِہِ خَیْرٌ لَہُ مِنْ اَنْ یَسْاَلَ النَّاسَ مُعْطًی اَوْ مَمْنُوْعًا۔)) (مسند احمد: ۹۴۱۱)

۔ (تیسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی بھی اپنے لیے سوال اور بھیک کا دروازہ کھولتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیےفقیری اور حاجت کا دروازہ کھول دیتا ہے، اگر ایک آدمی رسی لے کر پہاڑ کی طرف نکل جائے اور اپنی کمر پر ایندھن کاٹ کر لائے اور (اس کے ذریعے) کھانا کھائے تو یہ اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے سوال کرے اور کہیں اسے کوئی چیز دے دی جائے اور کہیں محروم کر دیا جائے۔

۔ (۳۵۲۶) عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((لاَتَزَالُالْمَسْاَلَۃُ بِاَحَدِکُمْ، حَتّٰییَلْقَی اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعالٰی وَلَیْسَ فِیوَجْہِہِ مُزْعَۃُ لَحْمٍ۔)) (مسند احمد: ۴۶۳۸)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو بندہ بھی ہمیشہ بھیک مانگتا رہے گا، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ہو گا۔

۔ (۳۵۲۷) وَعَنْہُ ایْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَلْمَسْاَلَۃُ کُدُوْحٌ فِی وَجْہِ صِاحِبِہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَمَنْ شَائَ فَلْیَسْتَبْقِ عَلٰی وَجْہِہِ، وَاَہْوَنُ الْمَسْئَلَۃِ مَسْاَلَۃُ ذَوِی الرَّحِمِ، تَسْاَلُہُ فِی حَاجَۃٍ، وَخَیْرُ الْمَسْاَلَۃُ عَنْ ظَہْرٍ غَنًی،وَابْدَاْ بِمَنْ تَعُوْلُ۔)) (مسند احمد: ۵۶۸۰)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بھیک مانگنا تو قیامت والے دن مانگنے والے کے چہرے پر خراشوں کا سبب ہو گا، لہٰذا اب جو آدمی چاہتا ہے، ان خراشوں کو اپنے چہروں پر باقی رکھے، اس سلسلے میں سب سے آسان سوال تو رشتہ داروں سے مانگ لینا ہے، لیکن وہ بھی ضرورت کے وقت ہونا چاہیے، اور سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد کیا جائے اور خرچ کرتے وقت اپنے زیر کفالت افراد سے آغاز کرو۔

۔ (۳۵۲۸) عَنْ یَزِیْدَ بْنِ عُقْبَۃَ الْفَزَارِی قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی الْحَجَّاجِِ بْنِ یُوْسُفَ فَقُلْتُ: اَصْلَحَ اللّٰہُ الْاَمِیْرَ، اَلاَ اُحَدِّثُکَ حَدِیْثًا حَدَّثَنِیْہِ سَمْرَۃُ بْنُ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: بَلٰی، قَالَ: سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَسَائِلُ کَدٌّ یَکُدُّ بِہَا الرَّجُلُ وَجْہَہُ، فَمَنْ شَائَ اَبْقٰی عَلٰی وَجْہِہِ وَمَنْ شَاء َترَکَ َإِلاَّ اَنْ یَسْاَلَ رَجُلٌ ذَا سُلْطَانٍ، اَوْ یَسْاَلَ فِی اَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۶۶)

۔ یزید بن عقبہ فزاری کہتے ہیں: میں حجاج بن یوسف کے ہاں گیا اورکہا: اللہ تعالیٰ امیر کے احوال کی اصلاح فرمائے، کیا میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک حدیث سنائوں جو مجھے سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کی ہے، اس نے کہا: جی ہاں۔ یزید نے کہا: میں نے سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سوال کرنا خراش ہے، جس کے ذریعے بندہ اپنے چہرہ کو زخمی کرتا ہے،اب جو آدمی چاہتا ہے وہ اپنے چہرے کوبچا لے اور جو چاہتا ہے تووہ اسے چھوڑ دے۔ ہاں انسان کو چاہیے کہ وہ حکمران سے سوال کر لے یا کوئی ایسی ضرورت پوری کرنی ہو، جس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو۔

۔ (۳۵۲۹) عَنْ اَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَقَدْ سَمِعْتُ فُلَانًا وَ فُلَانًا یُحْسِنَانِ الثَّنَائَ، یَذْکُرَانِ اَنَّکَ اَعْطَیْتَہُمَا دِیْنَارَیْنِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لٰکِنْ وَاللّٰہِ! فُلَانًا مَا ہُوَ کَذٰلِکَ، لَقَدْ اَعْطَیْتُہُ مِنْ عَشَرَۃٍ إِلٰی مِائَۃٍ، فَمَا یَقُوْلُ ذَاکَ، اَمَا وَاللّٰہِ! إِنَّ اَحَدَکُمْ لَیُخْرِجُ مَسْاَلَتَہُ مِنْ عِنْدِییَتَاَبَّطُہَایَعْنِی تَکُوْنَ تَحْتَ إِبْطِہِ یَعْنِی نَارًا۔)) قَالَ: قاَلَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لِمَ تُعْطِیْہَا إِیَّاہَمْ؟ قَالَ: ((فَمَا اَصْنَعُ؟ یَاْبَوْنَ إِلاَّ ذَاکَ وَیَاْبَیْ اللّٰہُ لِیَ الْبَخْلَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۱۷)

۔ سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے فلاں اور فلاں آدمی کو سنا، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ذکر ِ خیر کر رہے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں دو دینار دیئے تھے، یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم!فلاں آدمی تو اس طرح کا نہیںہے، میں نے تو اسے دس سے سو دینار دیئے ہیں، لیکن اس نے تو (احسان مند ہونے کی اور اچھے کلمات کہنے کی) کوئی بات ہی نہیں کی۔ خبردار! اللہ کی قسم ہے کہ تم میں سے ایک آدمی کا سوال مجھ سے کوئی مال نکال تو لیتا ہے، پھر بغل میں دبا کر چلا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ اپنی بغل کے نیچے آگ دے رہا ہوتا ہے۔ یہ سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسے لوگوں کو دیتے کیوں ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں کیا کروں، وہ مانگنے سے باز نہیں آتے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بخل نہیں کرنے دیتا۔

۔ (۳۵۳۰) عَنْ مُعَاوِیَۃَ (بْنِ اَبِی سُفْیَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ) سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا تُلْحِفُوا فِی الْمَسْاَلَۃِ فوََاللّٰہِ! لَا یَسْاَلُنِیْ اَحَدٌ شَیْئًا فَتَخْرُجَ لَہُ مَسْاَلَتُہُ، فَیُبَارَکَ لَہُ فِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۱۷)

۔ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مانگنے پر اصرار نہ کیا کرو، اللہ کی قسم! جو بندہ بھی مجھ سے سوال کرے گا اور پھر اس کا سوال مجھ سے مال بھی نکال لے گا تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں کی جائے گی۔

۔ (۳۵۳۱) وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلَ: ((إِنَّمَا اَنَا خَازِنٌ وَإِنَّمَا یُعْطِیْ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، فَمَنْ اَعْطَیْتُہُ عَطَائً بِطِیْبِ نَفْسٍ فَإِنَّہُ یُبَارَکُ لَہُ فِیْہِ، وَمَنْ اَعْطَیْتُہُ عطَاَئً بِشَرَہِ نَفْسٍ وَشَرَہِ مَسْاَلَۃٍ فَہُوَ کَالَّذِییَاْکُلُ فَلَایَشْبَعُ)) (مسند احمد: ۱۷۰۴۵)

۔ سیدنامعاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تو خزانچی (اور تقسیم کرنے والا) ہوں، دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہے، میں جس آدمی کو بخوشی کوئی چیز دوں گا تو اس کے لئے اس میں برکت کی جائے گی اور میں جس کو اس کے نفس اور سوال کی شدید حرص کے ساتھ دوں گا تو وہ اس شخص کی طرح ہو گا، جو کھاتاتو ہے، لیکن سیر نہیں ہوتا۔

۔ (۳۵۳۲) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَاللّٰہِ مَا اُوْتِیْکُمْ مِنْ شَیْئٍ وَلَا اَمْنَعُکُمُوْہُ،إِنْ اَنَا إِلَّا خَازِنٌ اَصْنَعُ حَیْثُ اُمِرْتُ۔)) (مسند احمد: ۸۱۴۰)

۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں نہ کوئی چیز دے سکتا ہوں اور نہ کسی چیز سے محروم کر سکتا ہوں، میں تو محض خزانچی (اور تقسیم کرنیوالا) ہوں، مجھے جیسے حکم ملتا ہے، میں اس کے مطابق کر دیتا ہوں۔

۔ (۳۵۳۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھٰذِہِ الدُّنْیَا خَضِرَۃٌ حُلْوَۃٌ، فَمَنْ آتَیْنَاہُ مِنْہَا شَیْئًا بِطِیْبِ نَفْسٍ مِنَّا وَطِیْبِ طُعْمَۃٍ،وَلَا إِشْرَاہٍ، بُوْرکَ لَہُ فِیْہِ وَمَنْ آتَیْنَاُہ مِنْہَا شَیْئًا بِغَیْرِ طِیْبِ نَفْسٍ مِنَّا وَغَیْرِ طِیْبِ طُعْمَۃٍ وَإِشْرَاہٍ مِنْہُ لَمْ یُبَارَکْ لَہُ فِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۹۸)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دنیا سر سبز اور میٹھی ہے، ہم جسے خوش دلی سے اور اس کی حرص کے بغیر اس کے حصہ سے زائد بھی دے دیں تو اس کے لئے اس میں برکت ہوتی ہے اور ہم جسے بادل ناخوانستہ اور اس کی حرص کی بنا پر کچھ دیں گے تو اس کے لئے اس میں برکت نہیں ہوتی۔