TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان - بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان - زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 16 of زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 16 of 34 · 11 Hadith
۔ (۳۵۲۳) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ! لَاَنْ یَاْخُذَ اَحَدُکُمْ حَبْلَہُ فَیَذْہَبَ إِلَی الْجَبَلِ فَیَحْتَطِبَ، ثُمَّ یَاْتِیَ بِہِ یَحْمِلُہُ عَلٰی ظَہْرِہِ فَیَبِیْعَہُ فَیَاْکُلَ خَیْرٌ لَہُ، مِنْ اَنْ یَسْاَلَ النَّاسَ، وَلَاَنْ یَاْخُذَ تُرَابًا فَیَجْعَلَہُ فِی فِیْہِ خَیْرٌ لَہُ مِنْ اَنْ یَجْعَلَ فِی فِیْہِ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد:۷۴۸۲)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی آدمی رسی لے کر پہاڑ کی طرف جائے اور وہاں سے لکڑیاں کاٹ کر اپنی پشت پر لاد کر لائے اور اسے فروخت کرکے کھائے، تو یہ اس کے حق میں لوگوں سے بھیک مانگنے کی بہ نسبت زیادہ بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ کسی چیز کو منہ میں ڈالنے سے بہتر ہے کہ بندہ مٹی اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لے۔
Takhreej
(۳۵۲۳) تخر یـج: حدیث صحیح بالطرق، لکن قولہ: ((ولأن یاخذ…۔)) ضعیف بعنعنۃ محمد بن اسحاق المدلس۔ اخرجہ البخاری: ۱۴۷۰، ومسلم: ۱۰۴۲ دون الجملۃ الاخیرۃ الضعیفۃ (انظر: ۷۴۹۰)
Explanation
فوائد:… آخری جملے کا مطلب یہ بنتا ہے کہ بندہ حلال کھانے کی کوشش کرے، اگرچہ وہ سالن کے بغیر جَو کی روٹی ہی ہو، مٹی کا ذکر بطورِ مبالغہ کیا گیا ہے، کیونکہ اس کو کھایا تو نہیں جاتا، رہا مسئلہ حرام کے کھانے کا تو وہ دل کو اندھا کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ناراض۔
3523
Sahih
۔ (۳۵۲۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَاللّٰہِ! لَاَنْ یَاْخُذَ اَحَدُکُمْ حَبْلًا فَیَحْتَطِبَ فَیَحْمِلَہُ عَلٰی ظَہْرِہِ فَیَاْکُلَ اَوْ یَتَصَدَّقَ خَیْرٌ لَہُ مِنْ اَنْ یَاْتِی رَجُلاً اَغْنَاہُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہِ فَیَسْاَلَہُ اَعْطَاہُ اَوْ مَنَعَہُ، ذَلِکَ بِاَنَّ الْیَدَ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنَ الْیَدِ السُّفْلٰی۔)) (مسند احمد:۷۳۱۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تم میں سے کوئی آدمی رسی لے کر جائے اور لکڑیاں کاٹ کر اپنی کمر پر لاد کر لائے اور اس طرح (ان کی قیمت سے) کھانا بنائے یا صدقہ کر دے تو یہ کام اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسے بندے کے پاس جا کر سوال کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے غنی کر رکھا ہو، آگے سے اس کی مرضی کہ کچھ دے دے یا نہ دے، یہ اس وجہ سے ہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔
Takhreej
(۳۵۲۴) تخر یـج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، وانظر الحدیث بالطریق الاول
3524
Sahih
۔ (۳۵۲۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لاَ یَفْتَحُ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہِ بَابَ مَسْاَلَۃٍ إِلَّا فَتَح اللّٰہُ عَلَیْہِ بَابَ فَقْرٍ، یَاْخُذُ الرَّجُلُ حَبْلَہُ فَیَعْمِدُ إِلَی الْجَبَلِ فَیَحْتَطِبُ عَلٰی ظَہْرِہِ، فَیَاْکُلُ بِہِ خَیْرٌ لَہُ مِنْ اَنْ یَسْاَلَ النَّاسَ مُعْطًی اَوْ مَمْنُوْعًا۔)) (مسند احمد: ۹۴۱۱)
۔ (تیسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی بھی اپنے لیے سوال اور بھیک کا دروازہ کھولتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیےفقیری اور حاجت کا دروازہ کھول دیتا ہے، اگر ایک آدمی رسی لے کر پہاڑ کی طرف نکل جائے اور اپنی کمر پر ایندھن کاٹ کر لائے اور (اس کے ذریعے) کھانا کھائے تو یہ اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے سوال کرے اور کہیں اسے کوئی چیز دے دی جائے اور کہیں محروم کر دیا جائے۔
Takhreej
(۳۵۲۵) تخر یـج: اسنادہ قوی، وانظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ ہر مسلمان کو حلال کمائی کے لیے ہر ممکنہ کوشش کرنی چاہیے اور لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلانے سے بچنا چاہیے۔
3525
Sahih
۔ (۳۵۲۶) عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((لاَتَزَالُالْمَسْاَلَۃُ بِاَحَدِکُمْ، حَتّٰییَلْقَی اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعالٰی وَلَیْسَ فِیوَجْہِہِ مُزْعَۃُ لَحْمٍ۔)) (مسند احمد: ۴۶۳۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو بندہ بھی ہمیشہ بھیک مانگتا رہے گا، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ہو گا۔
Takhreej
(۳۵۲۶) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۴۷۴، ومسلم: ۱۰۴۰(انظر: ۴۶۳۸)
3526
Sahih
۔ (۳۵۲۷) وَعَنْہُ ایْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَلْمَسْاَلَۃُ کُدُوْحٌ فِی وَجْہِ صِاحِبِہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَمَنْ شَائَ فَلْیَسْتَبْقِ عَلٰی وَجْہِہِ، وَاَہْوَنُ الْمَسْئَلَۃِ مَسْاَلَۃُ ذَوِی الرَّحِمِ، تَسْاَلُہُ فِی حَاجَۃٍ، وَخَیْرُ الْمَسْاَلَۃُ عَنْ ظَہْرٍ غَنًی،وَابْدَاْ بِمَنْ تَعُوْلُ۔)) (مسند احمد: ۵۶۸۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بھیک مانگنا تو قیامت والے دن مانگنے والے کے چہرے پر خراشوں کا سبب ہو گا، لہٰذا اب جو آدمی چاہتا ہے، ان خراشوں کو اپنے چہروں پر باقی رکھے، اس سلسلے میں سب سے آسان سوال تو رشتہ داروں سے مانگ لینا ہے، لیکن وہ بھی ضرورت کے وقت ہونا چاہیے، اور سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد کیا جائے اور خرچ کرتے وقت اپنے زیر کفالت افراد سے آغاز کرو۔
Takhreej
(۳۵۲۷) تخر یـج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین (انظر: ۵۶۸۰)
3527
Sahih
۔ (۳۵۲۸) عَنْ یَزِیْدَ بْنِ عُقْبَۃَ الْفَزَارِی قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی الْحَجَّاجِِ بْنِ یُوْسُفَ فَقُلْتُ: اَصْلَحَ اللّٰہُ الْاَمِیْرَ، اَلاَ اُحَدِّثُکَ حَدِیْثًا حَدَّثَنِیْہِ سَمْرَۃُ بْنُ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: بَلٰی، قَالَ: سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَسَائِلُ کَدٌّ یَکُدُّ بِہَا الرَّجُلُ وَجْہَہُ، فَمَنْ شَائَ اَبْقٰی عَلٰی وَجْہِہِ وَمَنْ شَاء َترَکَ َإِلاَّ اَنْ یَسْاَلَ رَجُلٌ ذَا سُلْطَانٍ، اَوْ یَسْاَلَ فِی اَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۶۶)
۔ یزید بن عقبہ فزاری کہتے ہیں: میں حجاج بن یوسف کے ہاں گیا اورکہا: اللہ تعالیٰ امیر کے احوال کی اصلاح فرمائے، کیا میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک حدیث سنائوں جو مجھے سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کی ہے، اس نے کہا: جی ہاں۔ یزید نے کہا: میں نے سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سوال کرنا خراش ہے، جس کے ذریعے بندہ اپنے چہرہ کو زخمی کرتا ہے،اب جو آدمی چاہتا ہے وہ اپنے چہرے کوبچا لے اور جو چاہتا ہے تووہ اسے چھوڑ دے۔ ہاں انسان کو چاہیے کہ وہ حکمران سے سوال کر لے یا کوئی ایسی ضرورت پوری کرنی ہو، جس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو۔
Takhreej
(۳۵۲۸) اسنادہ صحیح۔ اخرجہ ابوداود: ۱۶۳۹، والترمذی: ۶۸۱، والنسائی: ۵/ ۱۰۰(انظر: ۲۰۱۰۶)
Explanation
فوائد:… (۱) یعنی سوال کر کے زخمی نہ کرے اور چہرہ زخموں سے محفوظ رکھے۔ (۲) یعنی سوال نہ کر کے چہرے پر جو رونق رہتی ہے اور چہرہ زخمی نہیں ہوتا اس کیفیت کو چھوڑے یعنی سوال کرے اور چہرہ زخمی کرے۔ (عون المعبود:۲/ ۳۹)۔ (عبداللہ رفیق)
3528
Sahih
۔ (۳۵۲۹) عَنْ اَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَقَدْ سَمِعْتُ فُلَانًا وَ فُلَانًا یُحْسِنَانِ الثَّنَائَ، یَذْکُرَانِ اَنَّکَ اَعْطَیْتَہُمَا دِیْنَارَیْنِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لٰکِنْ وَاللّٰہِ! فُلَانًا مَا ہُوَ کَذٰلِکَ، لَقَدْ اَعْطَیْتُہُ مِنْ عَشَرَۃٍ إِلٰی مِائَۃٍ، فَمَا یَقُوْلُ ذَاکَ، اَمَا وَاللّٰہِ! إِنَّ اَحَدَکُمْ لَیُخْرِجُ مَسْاَلَتَہُ مِنْ عِنْدِییَتَاَبَّطُہَایَعْنِی تَکُوْنَ تَحْتَ إِبْطِہِ یَعْنِی نَارًا۔)) قَالَ: قاَلَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لِمَ تُعْطِیْہَا إِیَّاہَمْ؟ قَالَ: ((فَمَا اَصْنَعُ؟ یَاْبَوْنَ إِلاَّ ذَاکَ وَیَاْبَیْ اللّٰہُ لِیَ الْبَخْلَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۱۷)
۔ سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے فلاں اور فلاں آدمی کو سنا، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ذکر ِ خیر کر رہے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں دو دینار دیئے تھے، یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم!فلاں آدمی تو اس طرح کا نہیںہے، میں نے تو اسے دس سے سو دینار دیئے ہیں، لیکن اس نے تو (احسان مند ہونے کی اور اچھے کلمات کہنے کی) کوئی بات ہی نہیں کی۔ خبردار! اللہ کی قسم ہے کہ تم میں سے ایک آدمی کا سوال مجھ سے کوئی مال نکال تو لیتا ہے، پھر بغل میں دبا کر چلا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ اپنی بغل کے نیچے آگ دے رہا ہوتا ہے۔ یہ سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسے لوگوں کو دیتے کیوں ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں کیا کروں، وہ مانگنے سے باز نہیں آتے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بخل نہیں کرنے دیتا۔
Takhreej
(۳۵۲۹) تخر یـج: اسنادہ صحیح علی شرط البخاری۔ اخرجہ البزار: ۹۲۵، وابن حبان: ۳۴۱۲، ۳۴۱۴، والحاکم: ۱/ ۴۶(انظر: ۱۱۰۰۴)
Explanation
فوائد:… آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے لوگوں کو نہ دیں تو وہ زبان درازی شروع کر دیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بخیل کہنا شروع کردیں گے، جبکہ اللہ تعالیٰ نے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فطرت اور جبلّت میں سخاوت رکھ دی ہے۔
3529
Sahih
۔ (۳۵۳۰) عَنْ مُعَاوِیَۃَ (بْنِ اَبِی سُفْیَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ) سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا تُلْحِفُوا فِی الْمَسْاَلَۃِ فوََاللّٰہِ! لَا یَسْاَلُنِیْ اَحَدٌ شَیْئًا فَتَخْرُجَ لَہُ مَسْاَلَتُہُ، فَیُبَارَکَ لَہُ فِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۱۷)
۔ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مانگنے پر اصرار نہ کیا کرو، اللہ کی قسم! جو بندہ بھی مجھ سے سوال کرے گا اور پھر اس کا سوال مجھ سے مال بھی نکال لے گا تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں کی جائے گی۔
Takhreej
(۳۵۳۰) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۰۳۸(انظر: ۱۶۸۹۳)
Explanation
فوائد:… صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((فَوَاللّٰہِ! لَا یَسْاَلُنِیْ اَحَدٌ مِنْکُمْ شَیْئًا فَتُخْرِجُ لَہٗمَسْاَلَتُہٗمِنِّیْ شَیْئًا وَاَنَا لَہٗکَارِہٌفَیُبَارَکَ لَہٗفِیْ مَا اَعْطَیْتُہٗ۔)) یعنی: ’’اللہ کی قسم! جو بندہ بھی مجھ سے سوال کرتا ہے اور اس کا سوال مجھ سے مال بھی نکال لیتا ہے، جبکہ میں ناپسند کرنے والا ہوں، تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں کی جائے گی۔‘‘
3530
Sahih
۔ (۳۵۳۱) وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلَ: ((إِنَّمَا اَنَا خَازِنٌ وَإِنَّمَا یُعْطِیْ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، فَمَنْ اَعْطَیْتُہُ عَطَائً بِطِیْبِ نَفْسٍ فَإِنَّہُ یُبَارَکُ لَہُ فِیْہِ، وَمَنْ اَعْطَیْتُہُ عطَاَئً بِشَرَہِ نَفْسٍ وَشَرَہِ مَسْاَلَۃٍ فَہُوَ کَالَّذِییَاْکُلُ فَلَایَشْبَعُ)) (مسند احمد: ۱۷۰۴۵)
۔ سیدنامعاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تو خزانچی (اور تقسیم کرنے والا) ہوں، دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہے، میں جس آدمی کو بخوشی کوئی چیز دوں گا تو اس کے لئے اس میں برکت کی جائے گی اور میں جس کو اس کے نفس اور سوال کی شدید حرص کے ساتھ دوں گا تو وہ اس شخص کی طرح ہو گا، جو کھاتاتو ہے، لیکن سیر نہیں ہوتا۔
Takhreej
(۳۵۳۱) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۰۳۷(انظر: ۱۶۹۲۱)
3531
Sahih
۔ (۳۵۳۲) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَاللّٰہِ مَا اُوْتِیْکُمْ مِنْ شَیْئٍ وَلَا اَمْنَعُکُمُوْہُ،إِنْ اَنَا إِلَّا خَازِنٌ اَصْنَعُ حَیْثُ اُمِرْتُ۔)) (مسند احمد: ۸۱۴۰)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں نہ کوئی چیز دے سکتا ہوں اور نہ کسی چیز سے محروم کر سکتا ہوں، میں تو محض خزانچی (اور تقسیم کرنیوالا) ہوں، مجھے جیسے حکم ملتا ہے، میں اس کے مطابق کر دیتا ہوں۔
Takhreej
(۳۵۳۲) تخر یـج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ اخرجہ ابوداود: ۲۹۴۹(انظر: ۸۱۵۵)
3532
Sahih
۔ (۳۵۳۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھٰذِہِ الدُّنْیَا خَضِرَۃٌ حُلْوَۃٌ، فَمَنْ آتَیْنَاہُ مِنْہَا شَیْئًا بِطِیْبِ نَفْسٍ مِنَّا وَطِیْبِ طُعْمَۃٍ،وَلَا إِشْرَاہٍ، بُوْرکَ لَہُ فِیْہِ وَمَنْ آتَیْنَاُہ مِنْہَا شَیْئًا بِغَیْرِ طِیْبِ نَفْسٍ مِنَّا وَغَیْرِ طِیْبِ طُعْمَۃٍ وَإِشْرَاہٍ مِنْہُ لَمْ یُبَارَکْ لَہُ فِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۹۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دنیا سر سبز اور میٹھی ہے، ہم جسے خوش دلی سے اور اس کی حرص کے بغیر اس کے حصہ سے زائد بھی دے دیں تو اس کے لئے اس میں برکت ہوتی ہے اور ہم جسے بادل ناخوانستہ اور اس کی حرص کی بنا پر کچھ دیں گے تو اس کے لئے اس میں برکت نہیں ہوتی۔
Takhreej
(۳۵۳۳) تخر یـج: حدیث حسن، وھذا اسناد ضعیف لضعف شریک۔ اخرجہ ابن حبان: ۳۲۱۵، والبزار: ۹۲۰(انظر: ۲۴۳۹۴)
Explanation
فوائد:… جہاں اس باب میں لوگوں سے سوال کرنے کی سخت مذمت کی گئی ہے، وہاں مجبوری میں اس چیز کو جائز بھی قرار دیا ہے، لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ اِن احادیث ِ مبارکہ کا ہماری زندگیوں سے کیا تعلق ہے،یہ فرمودات ِ عالیہ ہمیں کیا سمجھا کر ہماری کس چیز کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں، اس چیز کو محسوس کرنے کے لیےیقینا بڑے ضمیر کی ضرورت ہے، جو اس چیز کو پا لینے کی اہلیت رکھتا ہو کہ معاشرے میں عزت کے کیا تقاضے ہیں اور بے عزتی کی کون سی صورتیں ہیں، مصیبتیہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جن لوگوں کی نگاہیں دوسروں کے جیبوں پر جمی ہوئی ہیں، وہ اسلامی غیرت اور معاشرتی عزت کو محسوس کرنے سے ہی عاری ہیں اور بے شعور زندگی گزار رہے ہیں، اس معاملے میں مساجد و مدارس سے متعلقہ مذہبی طبقے کے بعض افراد کو بھی کافی توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔
3533
Sahih

Chapters

34
01
زکوۃ ادا کرنے میں جلدی کرنے، وقت سے پہلے ادا کردینے اور امام کا زکوۃ دینے والے کے حق میں دعا کرنے کا بیان
7 Hadith
02
اس امر کا بیان کہ انسان کسی کو مستحق سمجھ کرصدقہ ادا کر دے، لیکن بعد میں پتہ چلے کہ وہ صدقہ کا مستحق نہ تھا
3 Hadith
03
مالک کے ساتھ نرمی کرنے اور زکوۃ وصول کرنے والے نمائندے کا خود اس کی طرف چلے جانے اور اس پر زیادتی نہ کرنے کا بیان
3 Hadith
04
زکوۃ وصول کنندہ کو راضی کرنا
3 Hadith
05
حقیر قسم کی چیز کا قصد کرنے اور اس کا صدقہ کرنے کی کراہت اور عمدہ چیز کا صدقہ کرنے کی فضلیت کی بیان
6 Hadith
06
حکمران کا کسی مصلحت کی بنا پر بعض لوگوں کو دینا اور بعض کو محروم کر دینا
3 Hadith
07
فقیر اور مسکین کا بیان
7 Hadith
08
عاملینِ زکوۃ
7 Hadith
09
ان لوگوںکا بیان، جن کو تالیف ِ قلبی کے لیے زکوۃ دی جاتی ہے
3 Hadith
10
غلاموں کی آزادی پر زکوۃ صرف کرنا
2 Hadith
11
قرض داروں کو زکوۃ دینا
5 Hadith
12
اللہ کی راہ میں اور مسافروں کو صدقہ دینے اور مصارفِ زکوٰۃ کی تمام اصناف کو صدقہ دینے کا بیان
3 Hadith
13
بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌
15 Hadith
14
صدقہ میں خیانت کرنے اور ایسا کرنے والے کے لئے وعید کا بیان
20 Hadith
15
اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا بیان
8 Hadith
16
بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
11 Hadith
17
سوال کرنے سے بچنے اور اس کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
18
سوال نہ کرنے پر بیعت کرنا
3 Hadith
19
اگر بن مانگے کچھ مل جانے تو اسے قبول کر لینے اور اگر مانگنے کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو تو نیک لوگوں سے سوال کر لینے کا بیان
5 Hadith
20
سائل کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے اور خواہ وہ گھوڑے پر آئے، اس کو کچھ نہ کچھ دینے کا بیان
6 Hadith
21
اللہ تعالیٰ کے نام پر یا اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر سوال کرنے کا بیان
8 Hadith
22
صدقہ فطر کی مشروعیت اور حکم کا اور جن لوگوں پر یہ فرض ہے، ان کا بیان
6 Hadith
23
گندم کے نصف صاع کی روایت بیان کرنے والے
6 Hadith
24
صدقۂ فطر دینے کے وقت کا بیان
20 Hadith
25
سب سے زیادہ فضیلت والے صدقے کا بیان
5 Hadith
26
عاریۃً دی ہوئی چیزکا بیان
3 Hadith
27
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
28
جسم کے صدقہ کا بیان
8 Hadith
29
اس آدمی کا بیان جسے دو کپڑے بطورِ صدقہ دیئے گئے، لیکن اس نے ان میں سے ایک کپڑا صدقہ کی نیت سے ڈال دیا
1 Hadith
30
شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
6 Hadith
31
نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
2 Hadith
32
بیوی کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے صدقہ کرنے کا بیان
3 Hadith
33
مخفی طور پر صدقہ کرنے کی فضیلت
3 Hadith
34
صدقہ جاریہ کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.