مسنداحمد

Musnad Ahmad

زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب

بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان


۔ (۳۵۳۱) وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلَ: ((إِنَّمَا اَنَا خَازِنٌ وَإِنَّمَا یُعْطِیْ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، فَمَنْ اَعْطَیْتُہُ عَطَائً بِطِیْبِ نَفْسٍ فَإِنَّہُ یُبَارَکُ لَہُ فِیْہِ، وَمَنْ اَعْطَیْتُہُ عطَاَئً بِشَرَہِ نَفْسٍ وَشَرَہِ مَسْاَلَۃٍ فَہُوَ کَالَّذِییَاْکُلُ فَلَایَشْبَعُ)) (مسند احمد: ۱۷۰۴۵)

۔ سیدنامعاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تو خزانچی (اور تقسیم کرنے والا) ہوں، دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہے، میں جس آدمی کو بخوشی کوئی چیز دوں گا تو اس کے لئے اس میں برکت کی جائے گی اور میں جس کو اس کے نفس اور سوال کی شدید حرص کے ساتھ دوں گا تو وہ اس شخص کی طرح ہو گا، جو کھاتاتو ہے، لیکن سیر نہیں ہوتا۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۵۳۱) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۰۳۷(انظر: ۱۶۹۲۱)