مسنداحمد

Musnad Ahmad

روزے دار کا وصال کرنا

رمضان کے دن میں مجامعت کرنے والے کے کفارہ کا بیان


۔ (۳۸۲۳) وَعَنْہُ اَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَمَر رَجُلاً اَفْطَرَ فِی رَمَضَانَ اَنْ یُعْتِقَ رَقَبَۃً اَوْ یَصُوْمَ شَہْرِیْنِ اَوْ یُطْعِمَ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا۔ (مسند احمد: ۷۶۷۸)

۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ ایک غلام یا لونڈی آزاد کرے یا دو ماہ کے روزے رکھے یا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۸۲۳) تخر یـج: انظر الحدیث السابق
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… دوسری روایات میں ان تین چیزوں کو ترتیب کے ساتھ ذکر کیا گیا، اس حدیث ِ میں ’’اَوْ‘‘ کا لفظ تقسیم کے لیے ہے، نہ کہ تخییر کے لیے۔ مطلبیہ ہے کہ اس حدیث میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ غلام یا لونڈی آزاد کر یا دو ماہ کے روزے رکھ یا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا۔ لیکن دوسری روایات میں ہے کہ آپ نے اسے فرمایا ایک گردن آزاد کر۔ جب اس نے کہا میرے پاس اس کی طاقت نہیں تو آپ نے فرمایا، دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ۔ اس نے اس کی طاقت بھی نہ ہونے کی بات کی تو آپ نے فرمایا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا گویا رمضان کے روزے کی حالت میں کوئی جماعت کر لے تو وہ ایک گردن آزاد کرے، اس کی طاقت نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے، اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔ یہ کفارہ ہیں کہ ان تین کاموں میں سے جو چاہے ایک کام کر لے۔ (عبداللہ رفیق)