TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

رمضان کے دن میں مجامعت کرنے والے کے کفارہ کا بیان - رمضان کے دن میں مجامعت کرنے والے کے کفارہ کا بیان - روزے دار کا وصال کرنا - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of روزے دار کا وصال کرنا in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 18 · 15 Hadith
۔ (۳۸۲۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا جَائَ رَجُلٌ یَنْتِفُ شَعْرَہُ وَیَدْعُو وَیْلَہُ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( مَالَکَ؟)) قَالَ: قَدْ وَقَعَ عَلَی امْرَاَتِہٖفِی رَمَضَانَ، قَالَ: ((اَعْتِقْ رَقَبَۃً۔)) قَالَ: لَااَجِدُہَا، قَالَ: ((صُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعِیْنِ۔)) قَالَ: لَا اَسْتَطِیْعُ، قَالَ: ((اَطْعِمْ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا۔)) قَالَ: لَا اَجِدُ، قَالَ: فَاُتِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَرَقٍ، فِیْہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، قَالَ: ((خُذْ ہٰذَا فَاَطْعِمْہُ عَنْکَ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا بَیْنَ لَابَتَیْہَا اَہْلُ بَیْتٍ اَفْقَرُ مِنَّا۔ قَالَ: ((کُلْہُ اَنْتَ وَعِیَالُکَ۔)) (مسند احمد: ۶۹۴۴)
۔ (دوسری سند) سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی اپنے بالوں کو نوچتا ہوا اور اپنی ہلاکت کی خبر دیتا ہوا آیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: تجھے ہواکیا ہے؟ اس نے کہا: میں ماہِ رمضان میں(روزے کی حالت میں) اپنی بیوی سے ہم بستری کر بیٹھا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک غلام یا لونڈی آزاد کرو۔ اس نے کہا: میں یہ نہیں کر سکتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو۔ اس نے کہا: مجھ میں اتنی طاقت بھی نہیں ہے۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائو۔ اس نے کہا: میں تو اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا۔ اتنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں ایک ٹوکرا پیش کیا گیا، اس میں پندرہ صاع کھجور تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: یہ لے جاؤ اور ساٹھ مساکین کو کھلا دو۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مدینہ منورہ کے ان دو حرّوں (سیاہ پتھروں والے میدان) میں کوئی بھی گھر والے مجھ سے زیادہ محتاج نہیں ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تم اور تمہارا اہل خانہ ہی کھا لے۔
Takhreej
(۳۸۲۰) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
3820
Sahih
۔ (۳۸۲۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) بِمِثلِہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَزَادَ بَدَنَۃً، وَقَالَ: عَمْرٌو فِیْ حَدِیْثِہٖ: وَاَمَرَہُ اَنْ یَصُوْمَیَوْمًا مَکَانَہُ۔ (مسند احمد: ۶۹۴۵)
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ایک اونٹ کا صدقہ کرنے کے حکم کا اضافہ ہے۔عمرو نے اپنی روایت میں کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے حکم دیا تھا کہ وہ اس کے عوض ایک روزہ بھی رکھے۔
Takhreej
(۳۸۲۱) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… مؤطا امام مالک کی روایت کے مطابق اس زیادتی کی وضاحت یہ ہے کہ پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ایک غلام آزاد کرنے کا حکم دیا، لیکن جب اس نے عدمِ استطاعت کا اظہار کیا توا ٓپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک اونٹ صدقہ کرنے کا حکم دیا، اس کے بعد روزوں اور مسکینوں کو کھانا کھلانے کی بات ہوئی۔
3821
Sahih
۔ (۳۸۲۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ رَابِعٍ) بِنَحْوِ حَدِیْثِ ابْنِ اَبِیْ حَفْصَۃَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ وَفِیْہِ، فاُتِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَرَقٍ وَالْعَرَقُ الْمِکْتَلُ فِیْہِ تَمْرٌ، قَالَ: ((اِذْہَبْ فَتَصَدَّقْ بِہَا…)) الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۷۷۷۲)
۔ (چوتھی سند) اس میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا، اس میں کھجوریں تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جاؤ اور یہ صدقہ کر دو، …۔
Takhreej
(۳۸۲۲) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ’’عَرَق‘‘ اور ’’زِنْبِیْل‘‘ ایک پیمانہ ہے، جس میں پندرہ صاع کھجوریں آتی ہیں، ہم نے آسانی کے لیے اس کا معنی ’’ٹوکرا‘‘ کیا ہے، ایک صاع کا وزن دو کلو سو گرام ہوتا ہے۔
3822
Sahih
۔ (۳۸۲۳) وَعَنْہُ اَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَمَر رَجُلاً اَفْطَرَ فِی رَمَضَانَ اَنْ یُعْتِقَ رَقَبَۃً اَوْ یَصُوْمَ شَہْرِیْنِ اَوْ یُطْعِمَ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا۔ (مسند احمد: ۷۶۷۸)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ ایک غلام یا لونڈی آزاد کرے یا دو ماہ کے روزے رکھے یا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔
Takhreej
(۳۸۲۳) تخر یـج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… دوسری روایات میں ان تین چیزوں کو ترتیب کے ساتھ ذکر کیا گیا، اس حدیث ِ میں ’’اَوْ‘‘ کا لفظ تقسیم کے لیے ہے، نہ کہ تخییر کے لیے۔ مطلبیہ ہے کہ اس حدیث میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ غلام یا لونڈی آزاد کر یا دو ماہ کے روزے رکھ یا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا۔ لیکن دوسری روایات میں ہے کہ آپ نے اسے فرمایا ایک گردن آزاد کر۔ جب اس نے کہا میرے پاس اس کی طاقت نہیں تو آپ نے فرمایا، دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ۔ اس نے اس کی طاقت بھی نہ ہونے کی بات کی تو آپ نے فرمایا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا گویا رمضان کے روزے کی حالت میں کوئی جماعت کر لے تو وہ ایک گردن آزاد کرے، اس کی طاقت نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے، اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔ یہ کفارہ ہیں کہ ان تین کاموں میں سے جو چاہے ایک کام کر لے۔ (عبداللہ رفیق)
3823
Sahih
۔ (۳۸۲۴) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ، حَدَّثَہُ اَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا حَدَّثَتْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَا ہُوَ جَالِسٌ فِی ظِلِّ فَارِعِ اُجُمِ حَسَّانَ، جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: اِحْتَرَقْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((مَا شَأْنُکَ؟)) قَالَ: وَقَعْتُ عَلَی امْرَأَتِی وَاَنَا صَائِمٌ، قَالَ: وَذَاکَ فِی رَمَضَانَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِجْلِسْ۔)) فَجَلَسَ فِی نَاحِیَۃِ الْقَوْمِ فَاَتٰی رَجُلٌ بِحِمَارٍ عَلَیْہِ غِرَارَۃٌ، فِیْہَا تَمْرٌ۔ قَالَ: ہٰذِہِ صَدَقَتِیْیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( اَیْنَ الْمُحْتَرِقُ آنِفًا؟)) فَقَالَ: ہَا ہُوَ ذَا اَنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((خُذْ ہٰذَا، فَتَصَدَّقْ بِہِ۔)) قَالَ: وَاَیْنَ الصَّدَقَۃُیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِلَّا عَلَیَّ وَلِی، فَوَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا اَجِدُ اَنَا وَعِیَالِی شَیْئًا، قَالَ: ((فَخُذْہَا۔)) فَاَخَذَہَا۔ (مسند احمد: ۲۶۸۹۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قلعہ کے سائے میں تشریف فرما تھے، ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو جل گیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: بات کیا ہے؟ اس نے کہا: میں ماہ رمضان میں روزہ کی حالت میں اپنی بیوی سے ہم بستری کا ارتکاب کر بیٹھا ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیٹھ جائو۔ وہ لوگوں کی ایک طرف بیٹھ گیا، اتنے میں ایک آدمی اپنے گدھا پر ایک بورا لاد کر لایا، اس میں کھجوریں تھیں اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میری طرف سے صدقہ ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جلنے والا کہاں ہے، جو ابھی بات کر رہا تھا؟ وہ خود بولا: جی اے اللہ کے رسول! وہ یہ میں ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ لے جاؤ اور صدقہ کر دو۔ اس نے کہا: اللہ کے رسول! صدقہ کہاں ہو گا، مگر مجھ پر اور میرے لیے، اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میرے اور میرے گھر والوں کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر اس کو لے جاؤ۔ پس وہ لے کر چلا گیا۔
Takhreej
(۳۸۲۴) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۶۸۲۲، ومسلم: ۱۱۱۲(انظر: ۲۶۳۵۹)
Explanation
فوائد:… یہ روایتیہاں مختصر ہے، صحیح بخاری میں غلام کو آزاد کرنے اور دو ماہ کے روزے رکھنے کا ذکر موجود ہے۔ ان احادیث سے ثابت ہونے والے احکام درج ذیل ہیں: (۱)جو آدمی روزے کی حالت مجامعت کرے گا، اس پر یہ کفارہ لازم آئے گا: ایک غلام آزاد کرنا، اگر اتنی طاقت نہ ہو تو دو ماہ کے لگاتار روزے رکھنا اور اگر ان کی طاقت بھی نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔ حدیث نمبر (۳۸۲۱) سے معلوم ہوا کہ غلام کو آزاد کرنے کی طاقت نہ رکھنے والا اونٹ کا صدقہ کردے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو روزوں والا حکم اختیار کرے، حسن بصری نے اس کفارے میں اونٹ کے ثبوت کا فتوی دیا ہے۔ (۲)یہ کفارہ روزے کی حرمت کو پامال کرنے کا ہے، اس لیے اس کی ادائیگی کے باوجود روزے کی قضائی دینا پڑے گی۔ (۳) اگر کسی آدمی میں کفارہ کی کوئی شق پوری کرنے کی طاقت نہ ہو تو وہ کچھ کیے بغیر بریٔ الذمہ ہو جائے گا، اس حدیث ِ مبارکہ سے بھی اسی چیز کا ثبوت ملتا ہے اور {لَایُکَلِّفَ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا} میں بیان کیے گئے قانون کا بھییہی تقاضا ہے۔ (۴) ایک انتہائی مسئلہ یہ ہے کہ ایسی صورت میں عورت پر کفارہ پڑے گا یا نہیں؟ اور اگر کفارہ پڑے گا تو اس حدیث میں اس کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا؟ بلا شک و شبہ جس جرم کی وجہ سے خاوند کو یہ کفارہ ادا کرنا پڑتا ہے، وہی جرم عورت میں بھی پایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ زانی مرد و زن، وہ شادی شدہ ہوں یا کنوارے، سب کی سزا برابر برابر ہے (یعنی مرد اور عورت کی حیثیت میں زنا کی سزا ایک ہے، مختلف نہیں، ہاں یہ بات الگ ہے کہ کنوارے اور شادی شدہ کی سزا میں فرق ہے)، اس لیے روزے کی حالت میں مجامعت کرنے والی خاتون الگ سے اپنا کفارہ ادا کرے گی، رہا یہ سوال اس موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیوی کے کفارے کا ذکر کیوں نہیں کیا، تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عادتِ مبارکہ یہ تھی کہ جو مجرم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دربار میں کھڑا ہوتا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی توجہ کو اسی پر مرکوز کرتے تھے اور اس سے متعلقہ دوسرے مجرم کی تفتیش از خود نہیں کرتے تھے، کتاب الحدود میں زنا سے متعلقہ اس قسم کی مثالوں کا ذکر آئے گا، کتاب الحدود کا آغاز حدیث نمبر (۶۶۲۱) سے ہو گا، ہاں اگر دوسرے مجرم کا واضح الفاظ میں ذکر کر دیا جاتا تو پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی بھی تفتیش کرتے تھے، جیسا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا انیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کویہ حکم دے کر ایک خاتون کی طرف بھیجا کہ اگر وہ اعترافِ جرم کر ے تو اسے رجم کر دینا۔ اس تحقیق کی وجہ یہ تھی کہ اس موقع پر دو دفعہ اس خاتون کا بطورِ مجرمہ تذکرہ کیا گیا، ایسے میں حاکم کو یہی زیب دیتا ہے کہ وہ دوسرے مجرم کے معاملے کو بھی سنجیدگی سے لے۔ اب چونکہ روزے کی حالت میں مجامعت کرنے والے اس مرد نے اپنی بیوی کا بطورِ مجرمہ کوئی تذکرہ نہیں، بلکہ ایک روایت کے الفاظ تو یہ ہیں کہ اس بندے نے کہا: ’’میں نے اپنی بیوی سے ہم بستری کر لی ہے، جبکہ میں روزے دار تھا۔‘‘ جبکہ اس چیز کا بھی احتمال ہے کہ بیوی نے کسی عذر کی بنا پر روزہ ہی نہ رکھا ہوا ہو، یا خاوند کے سامنے مجبور ہو گئی ہو، یا وقتی طور پر روزے کو بھول گئی ہو، امام خطابی نے بھییہ وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام ابو ثور اور امام ابن منذر اور ایک روایت کے مطابق امام احمد اسی نظریے کے قائل ہیں کہ بیوی پر الگ سے کفارہ ہو گا۔ (۵)ان احادیث سے یہ بھی اندازہ لگا لیناچاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں شرعی حدود کی کتنی اہمیت ہے کہ جب خاوند روزے کا پاس و لحاظ رکھے بغیر اپنی بیوی سے ہم بستری کر بیٹھتا ہے تو اسے اتنا بڑا کفارہ دینے کا مکلف بنایا جاتا ہے۔
3824
Sahih
۔ (۳۸۲۵) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: جَائَ حَمْزَۃُ (بْنُ عَمْرٍو) الاَسْلَمِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی رَجُلٌ اَسْرُدُ الصَّوْمَ، اَفَاَصُوْمُ فِی السَّفَرِ؟ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَاَفْطِرْ)) (مسند احمد: ۲۶۱۸۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتی ہیں کہ سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں لگاتار روزے رکھتا ہوں، آیا میں سفر میں روزہ رکھ لیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو روزہ رکھ لو اور چاہو تو چھوڑ دو۔
Takhreej
(۳۸۲۵) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۹۴۲، ۱۹۴۳، ومسلم: ۱۱۲۱(انظر: ۲۵۶۶۵)
3825
Sahih
۔ (۳۸۲۶) عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ، وَإِنَّ اَحَدَنَا لَیَضَعُیَدَہُ عَلٰی رَاْسِہِ مِنْ شِدَّۃِ الْحَرِّ وَمَا مِنَّا صَائِمٌ إِلَّا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَوَاحَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۳۹)
۔ سیدناابو دردا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، اس قدر شدید گرمی تھی کہ ہم میں سے بعض اپنے سروں پر ہاتھ رکھتے تھے اوررسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے علاوہ ہم میں کوئی بھی روزے دار نہیں تھا۔
Takhreej
(۳۸۲۶) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۹۴۵، ومسلم: ۱۱۲۲(انظر: ۲۱۶۹۶)
3826
Sahih
۔ (۳۸۲۷) عَنْ سَلْمَۃَ بْنِ الْمَحَبَّقِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((مَنْ کَانَتْ لَہُ حَمُوْلَۃٌ تَاْوِی إِلٰی شِبَعٍ فَلْیَصُمْ رَمَضَانَ حَیْثُ اَدْرَکَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۰۷)
۔ سیدنا سلمہ بن محیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پاس ایسی سواری ہو جو اسے کھانے کی جگہ تک پہنچا سکتی ہو تو رمضان جہاں بھی اسے پا لے، وہ روزہ رکھے۔
Takhreej
(۳۸۲۷) تخر یـج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حبیب بن عبد اللہ، وابنہ عبد الصمد قال البخاری: لین الحدیث، وضعفہ احمد، وقال ابن معین: لیس بہ بأس۔ اخرجہ ابوداود: ۲۴۱۰ (انظر: ۱۵۹۱۲)
3827
Zaeef
۔ (۳۸۲۸) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا نَغْزُوْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ فَلَا یَجِدُ الصَّائِمُ عَلَی الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَی الصَّائِمِ، یُرَوْنَ اَنَّہُ یَعْنِیْ اَنَّہُ مَنْ وَجَدَ قُوَّۃً فَصَامَ فَإِنَّ ذَالِکَ حَسَنٌ، وَیَرَوْنَ اَنَّ مَنْ وَجَدَ ضَعْفًا فَاَفْطَرَ فَإِنَّ ذَالِکَ حَسَنٌ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۹۹)
۔ سیدناابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ غزوہ کرتے تھے، ہم میں سے کوئی روزہ رکھ لیتا تھا اور کوئی نہیں رکھتا تھا، روزہ دار، روزہ نہ رکھنے والوں پر اور روزہ نہ رکھنے والے، روزہ دار پر کوئی ناراضگی کا اظہار نہیں کرتا تھا، ان کا یہ خیال تھا کہ جو شخص سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو اور وہ روزہ رکھ لے تو یہ اچھا ہے اور جو کمزوری محسوس کرتا ہو اور وہ روزہ نہ رکھے تو یہ اس کے لیے اچھا ہے۔
Takhreej
(۳۸۲۸) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۱۱۶(انظر: ۱۱۰۸۳)
3828
Sahih
۔ (۳۸۲۹) عَنِ ابْنِ عَبَّاٍس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَا تَعِبْ عَلٰی مَنْ صَامَ فِی السَّفَرِ ولَا عَلٰی مَنْ اَفْطَرَ، قَدْ صَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی السَّفَرِ وَاَفْطَرَ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نہ تو سفر میں روزہ رکھنے والے پر کوئی عیب لگا اور نہ روزہ چھوڑنے والے پر، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سفر میں روزہ رکھا بھی ہے اور ترک بھی کیا ہے۔
Takhreej
(۳۸۲۹) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۱۱۳(انظر: ۲۰۵۷)
3829
Sahih
۔ (۳۸۳۰) عَنْ اَپِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی مَکَّۃَ، وَنَحْنُ صِیَامٌ، قَالَ: فَنَزَلْنَا مَنْزِلاً، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( إِنَّکُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّکُمْ وَالْفِطْرُ اَقْوٰی لَکُمْ، فَکَانَتْ رُخْصَۃً، فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ اَفْطَرَ، ثُمَّ نَزَلْنَا مَنْزِلًا آخَرَ، فَقَالَ: إِنَّکُمْ مُصَبِّحُوْا عَدُوِّکُمْ وَالْفِطْرُ اَقْوٰی لَکُمْ فَاَفْطِرُوْا، فَکَانَتْ عَزِیْمَۃً فَاَفْطَرْنَا، وَلَقَدْ رَاَیْتُنَا نَصُوْمُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ ذَالِکَ فِی السَّفَرِ۔ (مسند احمد: ۱۱۳۲۷)
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں مکہ مکرمہ کی طرف سفر کیا، جبکہ ہم روزہ کی حالت میں تھے، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا، وہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم دشمن کے قریب پہنچ چکے ہو، تمہارے لیے زیادہ طاقت روزہ نہ رکھنے میں ہے۔ چونکہ یہ رخصت تھی، اس لیے ہم میں سے بعض نے روزہ رکھا اور بعض نے نہ رکھا، اس کے بعد جب ہم نے ایک دوسرے مقام پر پڑاؤ ڈالا تو پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم صبح کو دشمنوں پر حملہ کرنے والے ہو اور تمہارے لیے زیادہ قوت روزہ نہ رکھنے میں ہے، لہذا تم روزہ نہ رکھو۔ یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لازمی حکم تھا اس لیے ہم سب نے روزہ رکھنا ترک کر دیا، بہرحال میں نے دیکھا کہ اس کے بعد بھی ہم صحابہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سفر میں روزہ رکھا کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۸۳۰) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۱۲۰(انظر: )
3830
Sahih
۔ (۳۸۳۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): قَالَ: لَمَّا بَلَغَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ مَرَّ الظَّہْرَانِ آذَنَنا بِلِقَائِ الْعَدُوِّ، فَاَمَرَنَا بِالْفِطْرِ فَاَفْطَرْنَا اَجْمَعُوْنَ۔ (مسند احمد: ۱۱۲۶۲)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوسعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: فتح مکہ کے سال جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مرالظہران کے مقام پر پہنچے تو آپ نے ہمیں دشمن کے مقابلہ کی خبر دی اورروزہ ترک کرنے کا حکم دیا،پس ہم سب نے روزہ چھوڑ دیا۔
Takhreej
(۳۸۳۱) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
3831
Sahih
۔ (۳۸۳۲) عَنْ اَبِیْ بَکْرٍ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَامَ فِی سَفَرٍ عَامَ الْفَتْحَ وَاَمَرَ اَصْحَابَہٗبِالإِفْطَارِ،وَقَالَ: ((إِنَّکُمْتَلْقَوْنَ عَدُوَّ کُمْ فََتَقَوَّوْا۔)) فَقِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَامُوْا لِصِیَامِکَ فَلَمَّا اَتَی الْکَدِیْدَ اَفْطَرَ، قَالَ الَّذِی حَدَّثَنِی فَلَقَدْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُبُّ الْمَائَ عَلٰی رَاْسِہٖمِنَالْحَرِّوَہُوَصَائِمٌ۔ (مسنداحمد: ۱۶۷۱۹)
۔ ایک صحابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ والے سال دورانِ سفر روزہ رکھا،لیکن صحابہ کو روزہ نہ رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا: تم دشمن سے مقابلہ کرنے والے ہو، لہذا (روزہ ترک کر کے) قوت حاصل کرو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے روزہ رکھنے کی بنیاد پر لوگوں نے بھی روزہ رکھا ہوا ہے، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کدید مقام پر پہنچے تو روزہ توڑ دیا۔ مجھے بیان کرنے والے نے یہ بھی کہا: میں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے کی حالت میں تھے۔
Takhreej
(۳۸۳۲) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ ابوداود: ۲۳۶۵(انظر: ۱۶۶۰۲)
Explanation
فوائد:… ان تین احادیث میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں مجاہدین کی مکمل رہنمائی کی گئی ہے۔
3832
Sahih
۔ (۳۸۳۳) عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ فِی سَفَرٍ فِی رَمَضَانَ، فَاُتِیَ بِإِنَائٍ فَوَضَعَہُ عَلٰییَدِہ فَلَمَّا رَآہُ النَّاسُ اَفْطَرُوْا۔ (مسند احمد: ۱۲۲۹۴)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ماہِ رمضان میں سفر میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں ایک برتن پیش کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اپنے ہاتھ پر رکھا، جب لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تو انہوں نے بھی روزہ توڑ دیا۔
Takhreej
(۳۸۳۳) تخر یـج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ اخرجہ ابو یعلی: ۳۸۰۶، ۳۸۰۷، وابن خزیمۃ: ۲۰۳۹، والطحاوی: ۲/ ۶۶ (انظر: ۱۲۲۶۹)
3833
Sahih
۔ (۳۸۳۴) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی رَمَضَانَ، وَالْفَتْحُ فِی رَمَضَانَ فَاَفْطَرْنَا فِیْہَا۔ (مسند احمد: ۱۴۰)
۔ سیدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ماہِ رمضان میں غزوہ کے لیے گئے، اور فتح مکہ بھی ماہ رمضان میں ہوئی تھی، بہرحال ہم نے ان دونوں غزووں میں روزہ نہیں رکھاتھا۔
Takhreej
(۳۸۳۴) تخر یـج: حدیث قوی۔ اخرجہ الترمذی: ۷۱۴(انظر: ۱۴۰)
3834
Sahih

Chapters

18
01
وصال سے منع کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس کا بطور خصوصیت جائزہونے کا بیان
7 Hadith
02
صحابہ کے وصال سے باز آنے سے انکار کرنے پر ان کو عبرت سکھانے کے لیےیا ان کے فعل پر انکار کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان کے ساتھ دو دنوں اور دو راتوں تک وصال کرنے کا بیان
3 Hadith
03
سحری تک وصال کرنے کی رخصت
1 Hadith
04
رمضان کے دن میں مجامعت کرنے والے کے کفارہ کا بیان
15 Hadith
05
سفر میں روزہ نہ رکھنے کو افضل قرار دینے والوں کے دلائل کا بیان
12 Hadith
06
جب مسافر (اپنے علاقے سے) باہر نکل جائے تو کب روزہ چھوڑ سکتا ہے، نیز افطار کو جائز قرار دینے والی مسافت کی مقدار کا بیان
3 Hadith
07
مریض، بوڑھے، حاملہ اور مرضِعہ کے روزے کے حکم کا بیان
2 Hadith
08
رمضان کے روزوں کی قضاء اور اس کے وقت کا بیان
2 Hadith
09
فوت شدہ کی طرف سے روزوں کی قضاء دینے کا بیان
3 Hadith
10
ان دنوں کا بیان جن میں روزہ رکھنا منع ہے عیدین کے دو دنوں کا روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
3 Hadith
11
ایام تشریق کے روزوں کی ممانعت
9 Hadith
12
صرف جمعہ اور ہفتہ کو روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
11 Hadith
13
ہمیشہ کے روزے رکھنے سے ممانعت کا بیان
6 Hadith
14
ان ایام کا بیان کہ جن میں روزہ رکھنا مستحب یا مکروہ ہے
4 Hadith
15
نفلی روزوں اوران ایام کا بیان، جن میں نفلی روزے رکھنا مستحبّ ہیں سفر میں نفلی روزہ رکھنا
4 Hadith
16
خاوند کی موجودگی میں بیوی کا اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھنے کا بیان
2 Hadith
17
نفلی روزہ شروع کر دینے سے اس کے واجب نہ ہو جانے کا بیان
4 Hadith
18
اللہ کے مہینے محرم کے روزے اور ان کی فضیلت
2 Hadith
No chapter matched that.