۔ (دوسری سند) سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی اپنے بالوں کو نوچتا ہوا اور اپنی ہلاکت کی خبر دیتا ہوا آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: تجھے ہواکیا ہے؟ اس نے کہا: میں ماہِ رمضان میں(روزے کی حالت میں) اپنی بیوی سے ہم بستری کر بیٹھا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک غلام یا لونڈی آزاد کرو۔ اس نے کہا: میں یہ نہیں کر سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو۔ اس نے کہا: مجھ میں اتنی طاقت بھی نہیں ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائو۔ اس نے کہا: میں تو اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک ٹوکرا پیش کیا گیا، اس میں پندرہ صاع کھجور تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: یہ لے جاؤ اور ساٹھ مساکین کو کھلا دو۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مدینہ منورہ کے ان دو حرّوں (سیاہ پتھروں والے میدان) میں کوئی بھی گھر والے مجھ سے زیادہ محتاج نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم اور تمہارا اہل خانہ ہی کھا لے۔
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ایک اونٹ کا صدقہ کرنے کے حکم کا اضافہ ہے۔عمرو نے اپنی روایت میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیا تھا کہ وہ اس کے عوض ایک روزہ بھی رکھے۔
۔ (چوتھی سند) اس میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا، اس میں کھجوریں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور یہ صدقہ کر دو، …۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ ایک غلام یا لونڈی آزاد کرے یا دو ماہ کے روزے رکھے یا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قلعہ کے سائے میں تشریف فرما تھے، ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو جل گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: بات کیا ہے؟ اس نے کہا: میں ماہ رمضان میں روزہ کی حالت میں اپنی بیوی سے ہم بستری کا ارتکاب کر بیٹھا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جائو۔ وہ لوگوں کی ایک طرف بیٹھ گیا، اتنے میں ایک آدمی اپنے گدھا پر ایک بورا لاد کر لایا، اس میں کھجوریں تھیں اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میری طرف سے صدقہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جلنے والا کہاں ہے، جو ابھی بات کر رہا تھا؟ وہ خود بولا: جی اے اللہ کے رسول! وہ یہ میں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لے جاؤ اور صدقہ کر دو۔ اس نے کہا: اللہ کے رسول! صدقہ کہاں ہو گا، مگر مجھ پر اور میرے لیے، اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میرے اور میرے گھر والوں کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اس کو لے جاؤ۔ پس وہ لے کر چلا گیا۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں لگاتار روزے رکھتا ہوں، آیا میں سفر میں روزہ رکھ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو روزہ رکھ لو اور چاہو تو چھوڑ دو۔
۔ سیدناابو دردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، اس قدر شدید گرمی تھی کہ ہم میں سے بعض اپنے سروں پر ہاتھ رکھتے تھے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہم میں کوئی بھی روزے دار نہیں تھا۔
۔ سیدنا سلمہ بن محیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پاس ایسی سواری ہو جو اسے کھانے کی جگہ تک پہنچا سکتی ہو تو رمضان جہاں بھی اسے پا لے، وہ روزہ رکھے۔
۔ سیدناابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ کرتے تھے، ہم میں سے کوئی روزہ رکھ لیتا تھا اور کوئی نہیں رکھتا تھا، روزہ دار، روزہ نہ رکھنے والوں پر اور روزہ نہ رکھنے والے، روزہ دار پر کوئی ناراضگی کا اظہار نہیں کرتا تھا، ان کا یہ خیال تھا کہ جو شخص سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو اور وہ روزہ رکھ لے تو یہ اچھا ہے اور جو کمزوری محسوس کرتا ہو اور وہ روزہ نہ رکھے تو یہ اس کے لیے اچھا ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: نہ تو سفر میں روزہ رکھنے والے پر کوئی عیب لگا اور نہ روزہ چھوڑنے والے پر، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا بھی ہے اور ترک بھی کیا ہے۔
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں مکہ مکرمہ کی طرف سفر کیا، جبکہ ہم روزہ کی حالت میں تھے، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا، وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دشمن کے قریب پہنچ چکے ہو، تمہارے لیے زیادہ طاقت روزہ نہ رکھنے میں ہے۔ چونکہ یہ رخصت تھی، اس لیے ہم میں سے بعض نے روزہ رکھا اور بعض نے نہ رکھا، اس کے بعد جب ہم نے ایک دوسرے مقام پر پڑاؤ ڈالا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم صبح کو دشمنوں پر حملہ کرنے والے ہو اور تمہارے لیے زیادہ قوت روزہ نہ رکھنے میں ہے، لہذا تم روزہ نہ رکھو۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لازمی حکم تھا اس لیے ہم سب نے روزہ رکھنا ترک کر دیا، بہرحال میں نے دیکھا کہ اس کے بعد بھی ہم صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں روزہ رکھا کرتے تھے۔
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: فتح مکہ کے سال جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرالظہران کے مقام پر پہنچے تو آپ نے ہمیں دشمن کے مقابلہ کی خبر دی اورروزہ ترک کرنے کا حکم دیا،پس ہم سب نے روزہ چھوڑ دیا۔
۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے سال دورانِ سفر روزہ رکھا،لیکن صحابہ کو روزہ نہ رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا: تم دشمن سے مقابلہ کرنے والے ہو، لہذا (روزہ ترک کر کے) قوت حاصل کرو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزہ رکھنے کی بنیاد پر لوگوں نے بھی روزہ رکھا ہوا ہے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کدید مقام پر پہنچے تو روزہ توڑ دیا۔ مجھے بیان کرنے والے نے یہ بھی کہا: میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں تھے۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ رمضان میں سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ پر رکھا، جب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو انہوں نے بھی روزہ توڑ دیا۔
۔ سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ماہِ رمضان میں غزوہ کے لیے گئے، اور فتح مکہ بھی ماہ رمضان میں ہوئی تھی، بہرحال ہم نے ان دونوں غزووں میں روزہ نہیں رکھاتھا۔