مسنداحمد

Musnad Ahmad

روزے دار کا وصال کرنا

رمضان کے دن میں مجامعت کرنے والے کے کفارہ کا بیان


۔ (۳۸۲۸) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا نَغْزُوْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ فَلَا یَجِدُ الصَّائِمُ عَلَی الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَی الصَّائِمِ، یُرَوْنَ اَنَّہُ یَعْنِیْ اَنَّہُ مَنْ وَجَدَ قُوَّۃً فَصَامَ فَإِنَّ ذَالِکَ حَسَنٌ، وَیَرَوْنَ اَنَّ مَنْ وَجَدَ ضَعْفًا فَاَفْطَرَ فَإِنَّ ذَالِکَ حَسَنٌ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۹۹)

۔ سیدناابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ غزوہ کرتے تھے، ہم میں سے کوئی روزہ رکھ لیتا تھا اور کوئی نہیں رکھتا تھا، روزہ دار، روزہ نہ رکھنے والوں پر اور روزہ نہ رکھنے والے، روزہ دار پر کوئی ناراضگی کا اظہار نہیں کرتا تھا، ان کا یہ خیال تھا کہ جو شخص سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو اور وہ روزہ رکھ لے تو یہ اچھا ہے اور جو کمزوری محسوس کرتا ہو اور وہ روزہ نہ رکھے تو یہ اس کے لیے اچھا ہے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۸۲۸) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۱۱۶(انظر: ۱۱۰۸۳)