مسنداحمد

Musnad Ahmad

روزے دار کا وصال کرنا

سفر میں روزہ نہ رکھنے کو افضل قرار دینے والوں کے دلائل کا بیان


۔ (۳۸۳۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَزَادَ) فَدَعَاہُ فَاَمَرَہُ اَنْ یُفْطِرُ فَقَالَ: ((اَمَا یَکْفِیْکَ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ وَمَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی تَصُوْمَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۶۲)

۔ (دوسری سند) یہی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کو بلوایا،اسے روزہ افطار کرنے کا حکم دیا اور اس سے فرمایا: کیا تیرے لیے اتنا کافی نہیں ہے کہ تو اللہ کے رسول کے ساتھ اللہ کی راہ میں نکلا ہوا ہے کہ تو پھر روزہ بھی رکھ رہا ہے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۸۳۶) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول