۔ سیدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر کے دوران ایک آدمی کو دیکھا کہ لوگ اس کے اردگرد جمع تھے، اس کے اوپر سایہ کیا گیا تھا اور لوگ بتا رہے تھے کہ یہ روزے دار آدمی ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ نیکی نہیں ہے کہ تم لوگ سفر میں روزہ رکھو۔
۔ (دوسری سند) یہی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کو بلوایا،اسے روزہ افطار کرنے کا حکم دیا اور اس سے فرمایا: کیا تیرے لیے اتنا کافی نہیں ہے کہ تو اللہ کے رسول کے ساتھ اللہ کی راہ میں نکلا ہوا ہے کہ تو پھر روزہ بھی رکھ رہا ہے۔
۔ سیدناکعب بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ ، جو اصحابِ سقیفہ میں سے تھے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔
۔ ابوطعمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا، ایک آدمی نے آکر کہا: اے ابوعبدالرحمن! میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں( تو کیا میں روزہ رکھ لیا کروں)؟سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو آدمی اللہ تعالیٰ کی رخصت کو قبول نہیں کرتا، اسے عرفہ کے پہاڑوں جتنا گناہ ملتا ہے۔
۔ بشر بن حرب کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ تم سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انھوں نے کہا: اگر میں تم کو بیان کروں تو تسلیم کرو گے؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تو واپس آنے تک نماز بھی قصر کرتے تھے اور روزہ بھی ترک کر دیتے تھے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے سال ماہِ رمضان میں مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے تھے، ایک روایت میں ہے کہ ماہِ رمضان کے دس دن گزر چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا،عین دوپہر کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی کے ایک تالاب کے پاس سے گزرے، چونکہ لوگ پیاسے تھے، اس لیے وہ گردنیں لمبی کر کے دیکھ رہے تھے اور ان کے نفس پانی کو چاہ رہے تھے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی کا پیالہ منگوا کر اپنے ہاتھ میں پکڑے رکھا، یہاں تک کہ سب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں دیکھ لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے نوش فرمایا اور لوگوں نے بھی پانی پی لیا۔
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے سال ماہِ رمضان میں سفر پر روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور دوسرے مسلمانوں نے روزہ رکھا ہو اتھا،جب کدید کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لکڑی کے پیالے میں پانی منگوایا،جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پانی پی اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہے تھے، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو یہ بتلانا چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو روزہ توڑ دیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر لوگوں نے بھی روزہ افطار کر لیا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے (سفر میں) دن روزہ رکھا ہوا تھا، جب آپ قدید مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا پیالہ پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے روزہ توڑ دیا اور لوگوں کو بھی افطار کرنے کا حکم دے دیا۔
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عسفان کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک برتن منگوایا اوراسے اپنے ہاتھ پر رکھا،یہاں تک کہ سب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح دیکھ لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ توڑ دیا۔ اسی لیے سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ (سفر میں) جو چاہے روزہ رکھ لے اور جو چاہے افطار کر لے۔
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے دن سفر پر روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کدید مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ توڑ دیا۔(قانون یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری فعل پر عمل کیا جاتا ہے۔کسی نے سفیان سے پوچھا: یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری فعل پر عمل کیا جاتا ہے۔ امام زہری کے ہیںیا سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے؟ انہوں نے کہا: اسی طرح اس حدیث میں ہے۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (سفر کے دوران) بارانی پانی کی ایک نہر پر پہنچے، گرمی سخت تھی اور لوگ روزے سے تھے اور پیدل سفر کر رہے تھے، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! پانی پی لو۔ لیکن لوگوں نے پانی نہ پیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میں تم میں سب سے زیادہ آسانی والا ہوں، میں تو سوار ہوں۔ لیکن لوگ (روزہ نہ توڑنے پر) اڑے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ران موڑی، نیچے اترے اورپانی پی لیا اور (یہ منظر دیکھ کر) لوگوں نے بھی پانی پی لیا، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ پانی پینے کا نہیں تھا۔