مسنداحمد

Musnad Ahmad

یوم عاشوراء

ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان

۔ (۳۹۴۵) عَنْ اَبِی عُثْمَانَ اَنَّ اَبَا ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ فِیْ سَفَرٍفَلَمَّا نَزَلُوْا اَرْسَلُوْا إِلَیْہِ، وَہُوَ یُصَلِّی، فَقَالَ: إِنِّی صَائِمٌ، فَلَمَّا وَضَعُوْا الطَّعَامَ وَکَادُوا اَنْ یَفْرُغُوْا جَائَ، فَقَالُوْا: ہَلُمَّ فَکُلْ فَاَکَلَ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلٰی الرَّسُوْلِ فَقَالَ: مَا تَنْظُرُوْنَ؟ فَقَالَ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ قَالَ: إِنِّی صَائِمٌ، فَقَالَ اَبُوْ ہُرَیْرَۃَ: صَدَقَ، وَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((صَوْمُ شَہْرِ الصَّبْرِ، وَثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ صَوْمُ الدَّہْرِ کُلِّہِ۔)) فَقَدْ صُمْتُ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ اَوَّلِ الشَّہْرِ فَاَنَا مُفْطِرٌ فِی تَخْفِیْفِ اللّٰہِ، صَائِمٌ فِی تَضْعِیْفِ اللّٰہِ۔ (مسند احمد: ۱۰۶۷۳)

۔ ابو عثمان سے روایت ہے کہ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک سفر میں تھے، جب وہ ایک مقام پر ٹھہرے تو لوگوں نے ان کی طرف کھانا کھانے کا پیغام بھیجا، جبکہ وہ نمازپڑھ رہے تھے، انہوں نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ لوگوں نے کھانا لگایا اور جب وہ فارغ ہونے کے قریب تھے تو سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وہاں آ گئے، لوگوں نے دوبارہ کھانے کی دعوت دی، تو اس بار انھوں نے کھانا شروع کر دیا،یہ صورتحال دیکھ کر لوگوں نے پہلے والے قاصد کی طرف از راہِ تعجب دیکھنا شروع کر دیا، کیونکہ اسی نے روزے کا پیغام دیا تھا، لیکن اس نے کہا: تم کیا دیکھ رہے ہو؟اللہ کی قسم! انہوں نے کہا تھا کہ وہ روزے سے ہیں۔ اس وقت سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ سچ کہہ رہا ہے، بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: ماہِ رمضان کے روزے اور پھر ہر ماہ کے تین روزے سال بھر کے روزوں کے برابر ہیں۔)) میں نے اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے اس مہینے کے آغاز میں تین روزے رکھ لیے تھے، اب میں اللہ تعالیٰ کی رعایت کی بنیاد پر روزہ افطار کر رہا ہوں، جبکہ میں نے اللہ سے کئی گنا اجر پانے کے لیے روزہ رکھا تھا۔

۔ (۳۹۴۷) عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّہَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صِیَامُ ثلَاَثَۃِ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ صِیَامُ الدَّہْرِ وَإِفْطَارُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۷۹)

۔ سیدنا قرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر ماہ میں تین روزے رکھ لینا،یہ سال بھر کے روزے بھی ہیں اور سال بھر کا افطار بھی ہے۔

۔ (۳۹۴۸) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ اَبِی الْعَاصِ الثَّقَفِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((صِیَامٌ حَسَنٌ: صِیَامُ ثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ مِنَ الشَّہْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۸۸)

۔ سیدنا عثمان بن ابی عاص ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر ماہ میں تین روزے رکھ لینا بہترین روزے ہیں۔

۔ (۳۹۴۹) عَنْ اَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ صَامَ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرِ فَقَدْ صَامَ الدَّہْرَ کُلَّہُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۲۶)

۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ہر ماہ میں تین روزے رکھے، اس نے گویا سال بھر روزے رکھے۔

۔ (۳۹۵۰) وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۶۷۶۶)

۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔

۔ (۳۹۵۱) عَنْ اَبِی نَوْفَلِ بْنِ اَبِی عَقْرَبٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: سَاَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الصَّوْمِ، فَقَالَ: ((صُمْ مِنَ الشَّہْرِ یَوْمًا۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ! إِنِّی اَقْوٰی، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( إِنِّی اَقْوٰی، إِنِّی اَقْوٰی، صُمْ یَوْمَیْنِ کُلِّ شَہْرٍ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! زِدْنِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( زِدْنِی، زِدْنِی، ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۶۱)

۔ سیدنا ابو عقرب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روزوں کے بارے میں پوچھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر ماہ ایک روزہ رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، چلو پھر ہر ماہ دو روزے رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں، مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں، تو پھر ہر ماہ تین روزے رکھ لیا کرو۔

۔ (۳۹۵۲) عَنْ مُعَاذَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّہَا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُوْمُ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مِنْ اَیِّہِ کَانَ؟ فَقَالَتْ: لَمْ یَکُنْیُبَالِیْ مِنْ اَیِّہِ کَانَ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۴۰)

۔ سیدہ معاذہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر ماہ تین روزے رکھا کرتے تھے، سیدہ معاذہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے پوچھا: وہ مہینے کے کون سے تین دن تھے؟ انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس چیز کی کوئی پروا نہیں کرتے تھے کہ کون سے دن ہیں۔