TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان - ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان - یوم عاشوراء - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of یوم عاشوراء in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 35 · 8 Hadith
۔ (۳۹۴۵) عَنْ اَبِی عُثْمَانَ اَنَّ اَبَا ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ فِیْ سَفَرٍفَلَمَّا نَزَلُوْا اَرْسَلُوْا إِلَیْہِ، وَہُوَ یُصَلِّی، فَقَالَ: إِنِّی صَائِمٌ، فَلَمَّا وَضَعُوْا الطَّعَامَ وَکَادُوا اَنْ یَفْرُغُوْا جَائَ، فَقَالُوْا: ہَلُمَّ فَکُلْ فَاَکَلَ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلٰی الرَّسُوْلِ فَقَالَ: مَا تَنْظُرُوْنَ؟ فَقَالَ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ قَالَ: إِنِّی صَائِمٌ، فَقَالَ اَبُوْ ہُرَیْرَۃَ: صَدَقَ، وَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((صَوْمُ شَہْرِ الصَّبْرِ، وَثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ صَوْمُ الدَّہْرِ کُلِّہِ۔)) فَقَدْ صُمْتُ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ اَوَّلِ الشَّہْرِ فَاَنَا مُفْطِرٌ فِی تَخْفِیْفِ اللّٰہِ، صَائِمٌ فِی تَضْعِیْفِ اللّٰہِ۔ (مسند احمد: ۱۰۶۷۳)
۔ ابو عثمان سے روایت ہے کہ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک سفر میں تھے، جب وہ ایک مقام پر ٹھہرے تو لوگوں نے ان کی طرف کھانا کھانے کا پیغام بھیجا، جبکہ وہ نمازپڑھ رہے تھے، انہوں نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ لوگوں نے کھانا لگایا اور جب وہ فارغ ہونے کے قریب تھے تو سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وہاں آ گئے، لوگوں نے دوبارہ کھانے کی دعوت دی، تو اس بار انھوں نے کھانا شروع کر دیا،یہ صورتحال دیکھ کر لوگوں نے پہلے والے قاصد کی طرف از راہِ تعجب دیکھنا شروع کر دیا، کیونکہ اسی نے روزے کا پیغام دیا تھا، لیکن اس نے کہا: تم کیا دیکھ رہے ہو؟اللہ کی قسم! انہوں نے کہا تھا کہ وہ روزے سے ہیں۔ اس وقت سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ سچ کہہ رہا ہے، بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: ماہِ رمضان کے روزے اور پھر ہر ماہ کے تین روزے سال بھر کے روزوں کے برابر ہیں۔)) میں نے اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے اس مہینے کے آغاز میں تین روزے رکھ لیے تھے، اب میں اللہ تعالیٰ کی رعایت کی بنیاد پر روزہ افطار کر رہا ہوں، جبکہ میں نے اللہ سے کئی گنا اجر پانے کے لیے روزہ رکھا تھا۔
Takhreej
(۳۹۴۵) تخر یـج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ اخرجہ الطیالسی: ۲۳۹۳، والبیھقی: ۴/۲۹۳(انظر: ۱۰۶۶۳)
Explanation
فوائد:… چونکہ ہر نیکی کا ثواب کم از کم دس گنا ملتا ہے، اس طرح ایک ماہ میں رکھے گئے تین روزوں کا ثواب ایک ماہ کے روزوں کی صورت میں ملے گا، اگر کوئی آدمی ایک ماہ میں تین روزوں کی عادت سے زندگی گزارتا ہے، تو اس کو ساری زندگی کے روزوں کا ثواب ملے گا۔ یہ تین روزے مہینے میں کسی وقت بھی رکھے جا سکتے ہیں، لیکن اگر ان کے لیے سوموار اور جمعرات یا ایام بیضیا دوسرے مسنون معین دنوں کو تلاش کرکے تین روزے پورے کر لیے جائیں تو فضیلت میں اضافہ ہو جائے گا، جیسا کہ اگلے باب کی بعض احادیث سے پتہ چلے گا۔ لیکن جن دنوں کے روزوں سے منع کیا گیا، وہ پابندی برقرار رہے گی،مثلا صرف جمعہ کا روزہ۔
3945
Sahih
۔ (۳۹۴۶) عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی تَمِیْمٍ، قَالَ: کُنَّا عِنْدَ بَابِ مُعَاوِیَۃَ بْنِ اَبِی سُفْیَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌وَفِیْنَا اَبُوْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((صَوْمُ شَہْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ صَوْمُ الدَّہْرِ، وَیُذْہِبُ مَغَلَّۃَ الصَّدْرِ)) قَالَ: قُلْتُ: وَمَا مَغَلَّۃُ الصَّدْرِ؟ قَالَ: ((رِجْسُ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۹۱)
۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ماہِ صبر یعنی رمضان کے روزے اور پھر ہر ماہ کے تین روزے سال بھر کے روزوں کے برابر ہیں، ان سے سینہ کی کدورت زائل ہو جاتی ہے۔ میں نے پوچھا: سینے کی کدورت سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: شیطان کی پلیدی۔
Takhreej
(۳۹۴۶) تخر یـج: صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الطیالسی: ۴۸۲ (انظر: ۲۱۳۶۴)
Explanation
فوائد:… اجر و ثواب کے علاوہ نیک عمل کی وجہ سے عامل کی روح اور جسم میں بھی برکت آتی ہے اور آدمی کئی آلائشوں سے بھی پاک ہو جاتا ہے۔روزے دار کو سوچنا چاہیے کہ جہاں وہ بڑا صبر کر کے روزے جیسا عظیم عمل کرتا ہے، وہاں اسے ایسی نیکیوں کو سر انجام دینے کے لیے اور ایسی برائیوں سے بچنے کے لیے بھی ہمت کرنی چاہیے کہ جن کے لیے روزے سے کم صبر درکار ہوتا ہے۔
3946
Sahih
۔ (۳۹۴۷) عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّہَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صِیَامُ ثلَاَثَۃِ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ صِیَامُ الدَّہْرِ وَإِفْطَارُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۷۹)
۔ سیدنا قرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر ماہ میں تین روزے رکھ لینا،یہ سال بھر کے روزے بھی ہیں اور سال بھر کا افطار بھی ہے۔
Takhreej
(۳۹۴۷) اسنادہ صحیح۔ اخرجہ الطیالسی: ۱۰۷۴، والدارمی: ۲/ ۱۹، وابن حبان: ۳۶۵۳ (انظر: ۱۵۵۹۴)
Explanation
فوائد:… سال بھر کا افطار اس طرح ہے کہ ایک ماہ میں ستائیس دنوں کو روزہ نہیں رکھا جاتا اور سال بھر کے روزے اس طرح کہ ثواب پورے سال کے روزوں کا مل جاتا ہے۔
3947
Sahih
۔ (۳۹۴۸) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ اَبِی الْعَاصِ الثَّقَفِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((صِیَامٌ حَسَنٌ: صِیَامُ ثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ مِنَ الشَّہْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۸۸)
۔ سیدنا عثمان بن ابی عاص ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر ماہ میں تین روزے رکھ لینا بہترین روزے ہیں۔
Takhreej
(۳۹۴۸) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ النسائی: ۴/ ۲۱۹(انظر: ۱۶۲۷۹)
3948
Sahih
۔ (۳۹۴۹) عَنْ اَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ صَامَ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرِ فَقَدْ صَامَ الدَّہْرَ کُلَّہُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۲۶)
۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ہر ماہ میں تین روزے رکھے، اس نے گویا سال بھر روزے رکھے۔
Takhreej
(۳۹۴۹) صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابن ماجہ: ۱۷۰۸، والترمذی: ۷۶۲، والنسائی: ۴/ ۲۱۹(انظر: ۲۱۳۰۱)
3949
Sahih
۔ (۳۹۵۰) وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۶۷۶۶)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۳۹۵۰) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۹۷۹، ومسلم: ۱۱۵۹(انظر: ۶۷۶۶)
3950
Sahih
۔ (۳۹۵۱) عَنْ اَبِی نَوْفَلِ بْنِ اَبِی عَقْرَبٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: سَاَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الصَّوْمِ، فَقَالَ: ((صُمْ مِنَ الشَّہْرِ یَوْمًا۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ! إِنِّی اَقْوٰی، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( إِنِّی اَقْوٰی، إِنِّی اَقْوٰی، صُمْ یَوْمَیْنِ کُلِّ شَہْرٍ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! زِدْنِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( زِدْنِی، زِدْنِی، ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۶۱)
۔ سیدنا ابو عقرب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روزوں کے بارے میں پوچھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر ماہ ایک روزہ رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، چلو پھر ہر ماہ دو روزے رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں، مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں، تو پھر ہر ماہ تین روزے رکھ لیا کرو۔
Takhreej
(۳۹۵۱) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ النسائی: ۴/ ۲۲۵(انظر: ۱۹۰۵۱)
Explanation
فوائد:… آخر ِ حدیث میں آپ کا دو دفعہ کہنا ’’مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں۔‘‘ یہ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس صحابی پر طنز کر رہے ہیں اور اس کو ڈانٹ رہے ہیں۔ دراصل آپ تعجب کے اندا زمیں ساتھی کی بات کو دہرا رہے ہیں کہ یہ اپنے اندر زیادہ قوت محسوس کر کے اپنے اوپر مشقت ڈال رہا ہے اور زیادہ کام کرنے کی اجازت مانگ رہا ہے جبکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو آسانی کی طرف رہنمائی کر رہے ہیں۔ (بلوغ الامانی)۔ (عبداللہ رفیق)
3951
Sahih
۔ (۳۹۵۲) عَنْ مُعَاذَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّہَا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُوْمُ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مِنْ اَیِّہِ کَانَ؟ فَقَالَتْ: لَمْ یَکُنْیُبَالِیْ مِنْ اَیِّہِ کَانَ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۴۰)
۔ سیدہ معاذہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر ماہ تین روزے رکھا کرتے تھے، سیدہ معاذہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے پوچھا: وہ مہینے کے کون سے تین دن تھے؟ انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس چیز کی کوئی پروا نہیں کرتے تھے کہ کون سے دن ہیں۔
Takhreej
(۳۹۵۲) تخر یـج:اخرجہ مسلم: ۱۱۶۰(انظر: ۲۵۱۲۷)
Explanation
فوائد:… ہم اس باب کی پہلی حدیث کے بعد اس باب کی تمام احادیث کا خلاصہ پیش کر چکے ہیں۔
3952
Sahih

Chapters

35
01
یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
16 Hadith
02
ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان
15 Hadith
03
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
10 Hadith
04
شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی ممانعت اور اس کی رخصت کا بیان
2 Hadith
05
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
8 Hadith
06
ایامِ بِیض کے روزوں کا بیان
5 Hadith
07
ہر مہینے میں تین متعین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
4 Hadith
08
ہر ماہ کے ابتدائی تین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
1 Hadith
09
ماہِ شوال کے چھ روزوں کا بیان
3 Hadith
10
شوال، بدھ، جمعرات اور جمعہ کے روزوں کا بیان
2 Hadith
11
ہفتہ اور اتوار کے روزوں کا بیان
1 Hadith
12
سوموار اور جمعرات کے روزوں کے مستحبّ ہونے کا بیان
4 Hadith
13
داود علیہ السلام کے روزوں یعنی ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان
5 Hadith
14
حاجیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے ذوالحجہ کے نو دنوں کے اور یومِ عرفہ کے روزوں کا بیان
3 Hadith
15
حجاج کرام کے لیے نو ذوالحجہ کے روزے کی کراہت کا بیان
10 Hadith
16
اعتکاف اور ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت کا بیان اعتکاف کی فضیلت اور اس کے زمان و مکان کا بیان
5 Hadith
17
جائے اعتکاف میں داخل ہونے کے وقت کا بیان، نیز جو شخص اس کا عادی ہو اور اس سے بوجہ عذر رہ جائے تو اس کی قضائی کے مستحب ہونے کا بیان
4 Hadith
18
معتکف کے لیے جائز اور ناجائز امور کا بیان
6 Hadith
19
استحاضہ والی خاتون سمیت عورتوں کے اعتکاف کے جواز کا بیان
3 Hadith
20
ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں بھرپور کوشش کے ساتھ عبادت کرنے کا بیان
5 Hadith
21
شب ِ قدراور اس کی فضیلت کا بیان، نیز اس امر کا بیان کہ وہ ماہِ رمضان کی کونسی رات ہوتی ہے شب ِ قدر کی فضیلت اور اس رات کی خصوصی دعاء کا بیان
3 Hadith
22
رمضان کے آخری دس یا سات دنوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
5 Hadith
23
شب ِ قدر کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہونے یا ماہِ رمضان کی آخری رات ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
3 Hadith
24
ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
8 Hadith
25
رمضان کی اکیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
1 Hadith
26
رمضان کی تئیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
7 Hadith
27
رمضان کی چوبیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
1 Hadith
28
رمضان کی ستائیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
9 Hadith
29
حج اور عمرہ کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
30
حج کی فرضیت کا بیان
5 Hadith
31
خواتین پر حج کے فرض ہونے اور ان سے متعلقہ بعض مسائل کا بیان
4 Hadith
32
عمر رسیدہ اور مستقل بیمار پر حج کے فرض ہونے کا بیان، بشرطیکہ ان کی طرف سے نیابت ممکن ہو اور میت کی طرف سے حج کے جواز کا بیان، جبکہ اس پر واجب ہو
6 Hadith
33
نابالغ بچے اور غلام کے حج کا صحیح ہونا، جبکہ یہ ان پر واجب نہیں ہوتا
3 Hadith
34
زادِ راہ اور سواری کی دستیابی کے ساتھ ساتھ راستے کا پرامن ہونا اور عورت کے ساتھ محرم کا ہونا حج کی استطاعت میں سے ہے
11 Hadith
35
صاحب استطاعت ہونے کے باوجود حج نہ کرنے والے کے حق میں وعید کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.