TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3948 - ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان - یوم عاشوراء - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 8 in this chapter
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
۔ (۳۹۴۸) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ اَبِی الْعَاصِ الثَّقَفِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((صِیَامٌ حَسَنٌ: صِیَامُ ثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ مِنَ الشَّہْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۸۸)
۔ سیدنا عثمان بن ابی عاص ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر ماہ میں تین روزے رکھ لینا بہترین روزے ہیں۔
3948
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۹۴۸) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ النسائی: ۴/ ۲۱۹(انظر: ۱۶۲۷۹)

Related Chapters

366
1
ماہِ رمضان سے پہلے ایکیا دو دن روزے رکھنے اور شک والے دن کا روزہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
2
Chapter: What Has Been Related About Fasting Three (Days) Of Every Month
باب: ہر ماہ تین دن کے روزے رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
4
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
5
ہر مہینے میں تین متعین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
6
ہر ماہ کے ابتدائی تین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
7
(52) CHAPTER. Saum (fasting) in the month of Sha‘ban.
ماہ شعبان میں روزے رکھنے کا بیان
Sahih Bukhari
8
Chapter: The Prophet's Fasts at times other than Ramadan; and it is recommended to ensure that no month is free of fasting
رمضان کے علاوہ (دوسرے مہینوں میں )نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے روزے ‘یہ مستحب ہے کہ کوئی مہینہ روزوں سے خالی نہ رہے
Sahih Muslim
9
CHAPTER: Regarding Whoever Connected Sha’ban With Ramadan
باب: شعبان کے روزے رکھتے ہوئے ماہ رمضان میں داخل ہونے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
10
ماہانہ تین دن روزے رکھنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
11
باب: ماہ رمضان سے ایک روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
12
باب: رمضان میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے (رات کو) قیام کرنے یعنی صلاۃ تراویح پڑھنے اور (دن کو) روزہ رکھنے والے کے ثواب کا بیان اور اس سلسلہ کی حدیث میں زہری پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
13
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Month Of Ramadan
باب: ماہ رمضان کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About: Do Not Precede The Month With Fasting
باب: رمضان کے استقبال کی نیت سے ایک دو روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Breaking The Fast On Purpose
باب: جان بوجھ کر رمضان کے روزے چھوڑ دینے کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About The Atonement For Breaking The Fast During Ramadan
باب: رمضان میں روزہ نہ رکھنے پر عائد کفارہ کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: Performing A Voluntary Fast Without Planning It The Night Before
باب: رات میں روزے کی نیت کئے بغیر نفلی روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast During The Second Half Of Sha'ban For The Sake of Ramdan
باب: رمضان کی تعظیم میں شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About Standing (In The Night Prayer) During The Month Of Ramadan
باب: ماہ رمضان کی راتوں میں قیام (تہجد پڑھنے) کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About 'Both The Buyer And The Seller Retain The Option As Long As They Have Not Separated'
باب: بیچنے والا اور خریدار دونوں کو جب تک وہ جدا نہ ہوں بیع کو باقی رکھنے یا فسخ کرنے کا اختیار ہے
Jam e Tirmazi
21
بَاب قيام شهر رَمَضَان
ماہ رمضان کے قیام کا بیان
Mishkat
22
ماہِ رمضان اور اس میں کیے گئے عمل کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
23
ماہِ رمضان کے روزوں اور اس میںکیے جانے والے دوسرے اعمال میں سستی کرنے والے کے لیے وعید کا بیان
Musnad Ahmad
24
روزے کی فرضیت میں پیش آنے والے مختلف احوال، رمضان کے روزوں کے وجوب اور ان کی فرضیت کی ابتدا کا بیان
Musnad Ahmad
25
ماہِ رمضان کا آغاز اور اختتام چاند کو دیکھ کر کرنے اور بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آنے کی صورت میں تیس دن پورے کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
26
رات کو روزے کی نیت کر لینے کے وجوب اور اور اس شخص کے حکم کا بیان کہ جس پر رمضان کے مہینےیا اس کے کسی دن کے دوران روزے فرض ہو جاتے ہیں
Musnad Ahmad
27
ہمیشہ کے روزے رکھنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
28
یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
Musnad Ahmad
29
داود علیہ السلام کے روزوں یعنی ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
30
اعتکاف اور ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت کا بیان اعتکاف کی فضیلت اور اس کے زمان و مکان کا بیان
Musnad Ahmad
31
ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں بھرپور کوشش کے ساتھ عبادت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
32
شب ِ قدراور اس کی فضیلت کا بیان، نیز اس امر کا بیان کہ وہ ماہِ رمضان کی کونسی رات ہوتی ہے شب ِ قدر کی فضیلت اور اس رات کی خصوصی دعاء کا بیان
Musnad Ahmad
33
شب ِ قدر کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہونے یا ماہِ رمضان کی آخری رات ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
Musnad Ahmad
34
ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
35
عمرہ کی اور بالخصوص ماہِ رمضان کے عمرہ کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
36
مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
37
اس شخص کا بیان جو ماہِ رمضان میں دن میں جماع کرنے کے ڈر سے اپنی بیوی سے ظہار کر لیتا ہے
Musnad Ahmad
38
(28) CHAPTER. To observe Saum [(fasts) (according to Islamic teachings)] during the month of Ramadan (sincerely and faithfully) hoping for Allah's Rewards only, is a part of faith.
خالص نیت کے ساتھ رمضان کے روزے رکھنا ایمان کا جزو ہیں
Sahih Bukhari
39
(5) CHAPTER. Should it be said “Ramadan” or “the month of Ramadam?” And whoever thinks that both are permissible.
رمضان کہا جائے یا ماہ رمضان ؟ اور جن کے نزدیک دونوں لفظوں کی گنجائش ہے ۔
Sahih Bukhari
40
(6) CHAPTER. Whoever observed fast in Ramadan out of sincere faith (that it is an enjoined duty), and hoping for a reward from Allah and with honest intention (i.e., only for Allah's sake).
جو شخص رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت کر کے رکھے اس کا ثواب
Sahih Bukhari
41
(11) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Start observing Saum (fasts) on seeing the crescent-moon of Ramadan, and stop observing Saum on seeing the crescent-moon (of Shawwal).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جب تم ( رمضان کا ) چاند دیکھو تو روزے رکھو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو روزے رکھنا چھوڑ دو
Sahih Bukhari
42
(14) CHAPTER. Not to observe Saum (fast) for a day or two ahead of Ramadan.
رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھے جائیں
Sahih Bukhari
43
(34) CHAPTER. If a person observed Saum (fast) some days of Ramadan and then went on a journey (is it permissible for him to break his Saum).
جب رمضان میں کچھ روزے رکھ کر کوئی سفر کرے
Sahih Bukhari
44
(40) CHAPTER. When to make up for the missed days of fasting of Ramadan.
رمضان کے قضاء روزے کب رکھے جائیں
Sahih Bukhari
45
(36) CHAPTER. The superiority of observing Saum (fast) in Allah's Cause (to seek His good pleasure).
جہاد میں روزے رکھنے کی فضیلت
Sahih Bukhari
46
(72) CHAPTER. Al-Qaza (leaving a tuft of hair here and there after shaving one's head).
قزع یعنی کچھ سر منڈانا کچھ بال رکھنے کے بیان میں
Sahih Bukhari
47
Chapter: The Virtues of the month of Ramadan
ماہ رمضان کی فضیلت
Sahih Muslim
48
Chapter: Do not start fasting one or two days before Ramadan
ایک یا دو دن پہلے روزے رکھ کر رمضان سے سبقت نہ کرو
Sahih Muslim
49
Chapter: It is permissible to observe a voluntary fast with an intention formed during the day before the sun reaches its Zenith, and it is permissible for one who is observing a voluntary fast to break his fast with no excuse, although it is better for him to complete it
زوال سے پہلے نفلی روزے کی نیت کرنے اور نفلی روزہ رکھنے والے کے لیے عذر کے بغیر افطار کرنے کا جواز(روزے کو )پورا کرنا افضل ہے
Sahih Muslim
50
Chapter: Prohibition of Fasting for a lifetime for the one who will be harmed by that or who will neglect other duties, or does not break his fast on the two 'Ids or during the days of At-Tashriq; It is better to fast alternate days
اس شخص کے لیے سال بھر کے روزے رکھنے کی ممانعت جسے اس سےنقصان پہنچنے یا وہ اس کی وجہ سے کسی حق کو ضائع کرے ‘یا عید ین اور ایام تشریق کاٰ روزہ بھی نہ چھوڑے ‘اور ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کی فضیلت
Sahih Muslim
No related chapter matched that.

Related Hadith

20
Musnad Ahmad
7048
۔ (۷۰۴۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُالصَّمَدِ ثَنَا ھَمَّامٌ ثَنَا قَتَادَۃُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُثْمَانَ الثَّقَفِیِّ عَنْ رَجُلٍ أَعْوَرَ مِنْ ثَقِیْفٍ، قَالَ قَتَادَۃُ: وَکَانَ یُقَالُ لَہُ: مَعْرُوْفٌ، اِنْ لَمْ یَکُنْ اِسْمُہُ زُھَیْرُ بْنُ عُثْمَانَ فَـلَا أَدْرِیْ مَا اسْمُہُ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَلِیْمَۃُ أَوَّلِ یَوْمٍ حَقٌّ وَالثَّانِی مَعْرُوْفٌ وَالْیَوْمِ الثَّالِثِ سُمْعَۃٌ وَرِیَائٌ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۹۱)
۔ بنو ثقیف کا ایک کانا آدمی تھا، امام قتادہ کہتے ہیں: اس کو معروف کہا جاتا ہے اور اگر اس کا نام زہیر بن عثمان نہیں تھا تو میں نہیں جانتا کہ پھر اس کا نام کیا تھا، بہرحال اس آدمی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پہلے دن کاولیمہ حق ہے، دوسرے دن کا معروف رواج ہے اور تیسرے دن کا ولیمہ شہرت اور نمود ونمائش ہے۔
Musnad Ahmad
89
۔ (۸۹)۔عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ الثَّقَفِیِّ ؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قُلْ لِیْ فِیْ الْاِسُلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْہُ أَحَدًا غَیْرَکَ، قَالَ أَبُوْ مُعَاوِیَۃَ: بَعْدَکَ، قَالَ: ((قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۴۹۴)
سیدنا سفیان بن عبد اللہ ثقفیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتائیں کہ آپ کے علاوہ (ابو معاویہ نے آپ کے بعد کے لفظ بولے ہیں) کسی سے اس کے بارے میں سوال کرنے کی گنجائش باقی نہ رہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم کہو کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا ہوں اور پھر اس پر ڈٹ جاؤ۔
Musnad Ahmad
100
۔ (۱۰۰)۔عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی الشَّرِیْدِ (بْنِ سُوَیْدٍ الثَّقَفِیِّ ؓ) أَنَّ أُمَّہُ أَوْصَتْ أَنْ یُعْتِقَ عَنْہَا رَقَبَۃً مُؤْمِنَۃً فَسَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذَالِکَ، فَقَالَ: عِنْدِیْ جَارِیَۃٌ سَوْدَائُ نُوْبِیََّۃٌ فَأُعْتِقُہَا؟ فَقَالَ: ((ائْتِ بِہَا۔)) فَدَعَوْتُہَا فَجَائَ تْ فَقَالَ لَہَا: (( مَنْ رَبُّکِ؟)) قَالَتْ: اللّٰہُ، قَالَ: ((مَنْ أَنَا؟)) فَقَالَتْ: رَسُوْلُُ اللّٰہِ، فَقَالَ: ((أَعْتِقْہَا فَإِنَّہَا مُؤْمِنَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۱۰۹)
سیدنا ابو شرید بن سوید ثقفیؓ سے مروی ہے کہ اس کی ماں نے یہ وصیت کی تھی کہ وہ اس کی طرف سے مسلمان غلام آزاد کرے، پس اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوال کیا کہ اس کے پاس کالے رنگ کی سوڈانی لونڈی ہے، کیا وہ اس کو آزاد کر سکتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو میرے پاس لے آؤ۔ پس میں نے اس کو بلایا اور وہ آگئی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے فرمایا: تیرا ربّ کون ہے؟ اس نے کہا: اللہ تعالی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پھر فرمایا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو آزاد کر دے، کیونکہ یہ مؤمنہ ہے۔
Musnad Ahmad
126
۔ (۱۲۶)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: ثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ النُّعْمَانِ قَالَ: سَمِعْتُ أُوَیْسًا (یَعْنِی بْنَ أَبِی أُوَیْسٍ الثَّقَفِیِّؓ) یَقُوْلُ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ فِی وَفْدِ ثَقِیْفٍ فَکُنَّا فِی قُبَّۃٍ فَقَامَ مَنْ کَانَ فِیْہَا غَیْرِیْ وَ غَیْرَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَجَائَ رَجُلٌ فَسَارَّہُ فَقَالَ: اذْہَبْ فَاقْتُلْہُ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَلَمَّا وَلَّی الرَّجُلُ دَعَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) ثُمَّ قَالَ: ((أَلَیْسَ یَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔)) قَالَ: بَلٰی! وَلٰکِنَّہُ یَقُوْلُہَا تَعَوُّذًا، فَقَالَ: ((رُدُّوْہُ۔)) (وَفِی رِوَایَۃٍ: اذْہَبُوْا فَخَلُّوْا سَبِیْلَہُ) ثُمَّ قَالَ: ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَقُوْلُو ا لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّّٰہُ، فَاِذَا قَالُوْہَا حَرُمَتْ عَلَیَّ دِمَائُہُمْ وَ أَمْوَالُہُمْ إِلَّا بِحَقِّہَا، فَقُلْتُ لِشُعْبَۃَ: أَلَیْسَ فِی الْحَدِیْثِ ثُمَّ قَالَ: أَلَیْسَ یَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ أَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ؟ قَالَ شُعبَۃُ: أَظُنُّہَا مَعَہَا وَلَا أَدْرِیْ۔ (مسند أحمد: ۱۶۲۶۰)
سیدنا اویس بن ابو ایس ثقفی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ثقیف کے وفد میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، ہم ایک قبّہ میں تھے، ہوا یوں کہ میرے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے علاوہ سارے لوگ چلے گئے، اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کوئی سرگوشی کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر جاؤ اور اس کو قتل کر دو۔ ایک روایت میں ہے: جب وہ بندہ جانے لگا تورسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے بلایا اور پوچھا: کیا وہ لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی گواہی دیتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، لیکن وہ یہ کلمہ تو محض بچنے کے لیے کہتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو۔ ایک روایت میں ہے: جاؤ اور اس کو جانے دو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے اس وقت تک لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جب تک وہ لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ نہیں کہہ دیتے، جب وہ یہ کلمہ کہہ دیتے ہیں تو ان کے خون اورمال مجھ پر حرام ہو جاتے ہیں، مگر ان کے حق کے ساتھ۔ میں (محمد بن جعفر) نے امام شعبہ سے کہا: کیا حدیث کے الفاظ اس طرح نہیں تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پوچھا کہ کیا وہ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ أَ نِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ کی گواہی دیتا ہے۔ انھوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ الفاظ بھی تھے، لیکن اب مجھے یاد نہیں ہے۔
Musnad Ahmad
605
۔ (۶۰۵)۔ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَانِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُفْیَانَ الثَّقَفِیِّ أَنَّہُمْ غَزَوْا غَزْوَۃَ السَّـلَاسِلِ فَفَاتَہُمُ الْغَزْوُ فَرَابَطُوْا ثُمَّ رَجَعُوْا اِلَی مُعَاوِیَۃَ وَعِنْدَہُ أَبُوْ أَیُوْبَ وَعُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍؓ فَقَالَ عَاصِمٌ: یَا أَبَا أَیُوْبَ! فَاتَنَا الْغَزْوُ الْعَامَ وَقَدْ أُخْبِرْنَا أَنَّ مَنْ صَلّٰی فِی الْمَسْجِدِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فِی الْمَسَاجِدِ الْأَرْبَعَۃِ) غُفِرَ لَہُ ذَنْبُہُ، فَقَالَ: ابْنَ أَخِیْ! أَدُلُّکَ عَلَی أَیْسَرَ مِن ذٰلِکَ؟ اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَوَضَّأَ کَمَا أُمِرَ وَصَلّٰی کَمَا أُمِرَ غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ عَمَلٍ)) أَ کَذَاکَ یَا عُقْبَۃُ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند أحمد: ۲۳۹۹۳)
عاصم بن سفیان ثقفی کہتے ہیں: ہم لوگ غزوۂ سلاسل کیلئے گئے، لیکن یہ غزوہ رہ گیا، پس انھوںنے سرحد پر پہرہ دیا اور پھر سیدنا معاویہؓ کی طرف لوٹ آئے جبکہ ان کے پاس سیدناابوایوب اور سیدنا عقبہ بن عامر ؓبھی بیٹھے تھے، عاصم نے کہا: اے ابوایوب! اس سال ہم سے جہاد فوت ہو گیا ہے، جبکہ ہمیں بتلایا گیا ہے کہ جو آدمی چار مسجدوںمیں نماز پڑھے گا، اس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ انھوں نے کہا: بھتیجے! کیا میں تجھے اس سے آسان عمل نہ بتا دوں؟ بیشک میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سناہے: جس نے اس طرح وضو کیا، جس طرح اس کو حکم دیا گیا اور اس طرح نماز پڑھی، جیسے اس کو پڑھنے کا حکم دیا گیا، تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ عقبہ! اسی طرح حدیث ہے نا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
Musnad Ahmad
756
۔ (۷۵۶)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَالِثٍ)۔عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِیْ أَوْسٍ الثَّقَفِیِّؓ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتٰی کِظَامَۃَ قَومٍ فَتَوَضَّأَ۔ (مسند أحمد: ۱۶۲۵۶)
۔ (تیسری سند) سیدنا اوس ثقفیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ قوم کی دو کنووں کے درمیان والی نالی کے پاس گئے اور وضو کیا۔
Musnad Ahmad
1157
۔ (۱۱۵۷)۔عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍؓ قَالَ: اِنِّیْ أَعْلَمُ النَّاسِ أَوْ کَأَعْلَمِ النَّاسِ بِوَقْتِ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلْعِشَائِ، کَانَ یُصَلِّیْہَا بَعْدَ سُقُوْطِ الْقَمَرِ فِیْ اللَیْلَۃِ الثَّالِثَۃِ مِنْ أَوَّلِ الشَّہْرِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۵۶۷)
سیدنا نعمان بن بشیرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نمازِ عشا کے وقت کو سب سے زیادہ جاننے والا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مہینے کے شروع میں تیسری رات کے چاند کے غروب ہونے کے بعد اس نماز کو ادا کرتے تھے۔
Musnad Ahmad
1228
۔ (۱۲۲۸)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ عَلْقَمَۃَ الثَّقَفِیِّ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: لَمَّا انْصَرَفْنَا مِنْ غَزْوَۃِ الْحُدَیْبِیَۃِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ یَحْرُسُنَا اللَّیْلَۃَ؟)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَقُلْتُ: أَنَا، حَتّٰی عَادَ مِرَارًا، قُلْتُ: أَنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((فَأَنْتَ اِذًا۔)) فَحَرَسْتُہُمْ حَتّٰی اِذَا کَانَ وَجْہُ الصُّبْحِ أَدْرَکَنِیْ قَوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّکَ تَنَامُ۔)) فَنِمْتُ فَمَا أَیْقَظَنَا اِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فِیْ ظُہُوْرِنَا، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَنَعَ کَمَا کَانَ یَصْنَعُ مِنَ الْوُضُوْئِ وَرَکْعَتَیِ الْفَجْرِ، ثُمَّ صَلّٰی بِنَا الصُّبْحَ، فَلَمَّا اِنْصَرَفَ قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَوْ أَرَادَ أَنْ لَا تَنَامُوْا وَلٰـکِنْ أَرَادَ أَنْ تَکُوْنُوْا لِمَنْ بَعْدَکُمْ، فَہٰکَذَا لِمَنْ نَامَ أَوْ نَسِیَ۔)) قَالَ: ثُمَّ اِنَّ نَاقَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاِبِلَ الْقَوْمِ تَفَرَّقَتْ فَخَرَجَ النَّاسُ فِیْ طَلْبِہَا فَجَاؤُا بِاِبِلِہِمْ اِلَّا نَاقَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((خُذْ ہٰہُنَا۔)) فَأَخَذْتُ حَیْثُ قَالَ لِیْ فَوَجَدْتُ زِمَامَہَا قَدِ الْتَوٰی عَلٰی شَجَرَۃٍ مَا کَانَتْ لِتَحُلَّہَا اِلَّا یَدٌ، قَالَ: فَجِئْتُ بِہَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ نَبِیًّا لَقَدْ وَجَدْتُ زِمَامَہَا مُلْتَوِیًا عَلٰی شَجَرَۃٍ مَا کَانَتْ لِتَحُلَّہَا اِلَّا یَدٌ، قَالَ: وَنَزَلَتْ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُوْرَۃُ الْفَتْحِ: {اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِیْنًا}۔ (مسند أحمد: ۳۷۱۰)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: غزوۂ حدیبیہ کے موقع پر ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ واپس لوٹے (اور ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس رات کو کون ہمارا پہرہ دے گا؟ سیدنا عبد اللہ نے کہا: جی میں، (لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم تو سو جاؤ گے ) لیکن جب انھوں نے بار بار یہی بات کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر تم ہی سہی۔ پس میں نے ان کا پہرہ دیا، جب صبح سے پہلے کا وقت ہوا تو میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے قول تم تو سو جاؤ گے۔ کا مصداق بن گیا اور میں سو گیا، جب سورج کی گرمی ہماری کمروں پر پڑی تو تب ہمیں جاگ آئی، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اٹھے اور عادت کے مطابق وضو کیا، فجر کی دو سنتیں پڑھیں اور پھر ہمیں نمازِ فجر پڑھائی، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ فارغ ہوئے تو فرمایا: بیشک اگر اللہ تعالیٰ تمہارا نہ سونا چاہتا تو تم نہ سوتے، لیکن اس کا ارادہ یہ تھا کہ تم بعد والوںکے لیے اسوہ اور نمونہ بن جاؤ، پس سو جانے والے اور بھول جانے والے کے لیے یہی حکم ہے۔ پھر یوں ہوا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اونٹنی اور لوگوں کی اونٹنیاں کہیں نکل گئیں، پس لوگ ان کو تلاش کرنے کے لیے نکلے اور وہ اپنے اپنے اونٹ پکڑ کر لے آئے، ما سوائے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اونٹنی کے، سیدنا عبد اللہ ؓ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے فرمایا: تم اس طرف جاؤ۔ پس جس طرف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا تھا، میں اس طرف نکل پڑا اور دیکھا کہ اس کی لگام ایک درخت کے ساتھ اس طرح بل کھا گئی تھی کہ اس کو ہاتھ سے ہی کھولا جا سکتا تھا، پس میں اس کو لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا! میں نے اس کو اس حالت میں پایا کہ اس کی لگام ایک درخت کے ساتھ یوں بل کھا گئی تھی کہ اس کو ہاتھ سے ہی کھولا جا سکتاتھا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر سورۂ فتح {اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِیْنًا} نازل ہوئی۔
Musnad Ahmad
3241
۔ (۳۲۴۱) عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی زُہَیْرٍ الثَّقَفِیِّ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَقُوْلُ بِالنَّبَائَ ۃِ أَوِ النَّبَاوَۃِ، شَکَّ نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، مِنَ الطَّائِفِ وَہُوَ یَقُوْلُ: ((یَاأَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّکُمْ تُوشِکُوْنَ أَنْ تَعْرِفُوْا أَہْلَ الْجَنَّۃِ مِنْ أَہْلِ النَّارِ، اَوْ قَالَ: خِیَارَکُمْ مِنْ شِرَارِکُمْ)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ: بِمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((بِالثَّنَائِ السَّیِّیئِ وَالثَّنَائِ الْحَسَنِ،وَأَنْتُمْ شُہَدَائُ اللّٰہِ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ)) (مسند احمد: ۱۵۵۱۸)
سیّدنا ابوزہیر ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو طائف کے قریب نَبَائَ ۃ یا نَبَاوَۃ مقام پر یہ فرماتے ہوئے سنا: لوگو! تم جہنمیوں میں سے جنتیوں یا بروں میں سے نیکوں کو پہنچان سکتے ہو۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بری یا اچھی تعریف کے ساتھ، دراصل تم لوگ زمین میں ایک دوسرے کے حق میں اللہ کے گواہ ہو۔