TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان - ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان - یوم عاشوراء - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 24 of یوم عاشوراء in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 24 of 35 · 8 Hadith
۔ (۴۰۲۵) عَنْ عُیَنْیَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: ذُکِرَتْ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ عِنْدَ اَبِی بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: مَا اَنَا بِمُلْتَمِسِہَا بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَّا فِی عَشْرِ اْلاَوَاخِرِ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِلْتَمِسُوْہَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ فِی الْوِتْرِ مِنْہُ۔)) قَالَ: فَکَانَ اَبُوْ بَکْرَۃَیُصَلِّیْ فِی الْعِشْرِیْنَ مِنْ رَمَضَانَ کَصَلَاتِہٖفِی سَائِرِ السَّنَۃِ، فَإِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ اِجْتَہَدَ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۸۸)
۔ عبدالرحمن کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی پاس شب ِ قدر کا ذکر ہوا، انہوں نے کہا:میں تو اس رات کو صرف آخری عشرے میں تلاش کروں گا، کیونکہ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم اس کو آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا معمول یہ تھا کہ وہ رمضان کے پہلے بیس دنوںمیں تو پورے سال والی عادت کے مطابق نماز پڑھتے، لیکن جب آخری عشرے کا آغاز ہو جاتا تو عبادت میں خوب محنت کرتے۔
Takhreej
(۴۰۲۵) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ الترمذی: ۷۹۴(انظر: ۲۰۴۱۷)
4025
Sahih
۔ (۴۰۲۶) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِلْتَمِسُوْا لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فِی وِتْرٍ، فَإِنِّی قَدْ رَاَیْتُہَا فَنُسِّیْتُہَا وَہِیَ لَیْلَۃُ مَطَرٍ وَرِیْحٍ اَوْ قَالَ: قَطْرٍ وَرِیْحٍ۔)) (مسند احمد: ۲۱۲۳۷)
۔ سیدناجابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم شب ِ قدر کو ماہِ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو، میں نے اس رات کو دیکھا تو تھا، لیکن پھر مجھے بھلا دیا گیا، (اس دفعہ) یہ بارش اور ہوا والی رات ہو گی۔
Takhreej
(۴۰۲۶) تخر یـج: صحیح لغیرہ دون قولہ: ’’وھی لیلۃ مطر وریح‘‘ وھذا اسناد ضعیف، عبد الرحمن بن شریک واھی الحدیث، وذکرہ ابن حبان فی ’’الثقات‘‘ وقال: ربما اخطأ، وابوہ شریک بن عبد اللہ النخعی سییء الحفظ۔ اخرجہ البزار: ۱۰۳۱، والطبرانی: ۱۹۶۲(انظر: ۲۰۹۳۰)
4026
Sahih
۔ (۴۰۲۷) عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الْصَامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یُرِیْدُ اَنْ یُخْبِرَنَا بِلَیْلَۃِ الْقَدْرِ، فَتَلَاحٰی رَجُلَانِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَرَجْتُ وَاَنَا اُرِیْدُ اَنْ اُخْبِرَکُمْ بِلَیْلَۃِ الْقَدْرِ فَتَلاحٰی رُجَلَانِ فَرُفِعَتْ، وَعَسٰی اَنْ یَکُوْنَ خَیْرًا لَکُمْ، فَالْتَمِسُوْہَا فِی التَّاسِعَۃِ، اَوِالسَّابِعَۃِ اَوِ الْخَامِسَۃِ،(وَفِی لَفْظٍ فَاطْلُبُوْہَا فِی الْعَشْرِالْاَوَاخِرِ فِی تَاسِعَۃٍ اَوْ سَابِعَۃٍ اَوْ خَامِسَۃٍ)۔)) (مسند احمد: ۲۳۰۴۸)
۔ سیدناعبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری طرف آئے ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں شب ِ قدر کے بارے میں بتلانا چاہتے تھے، (لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھا کہ) دو آدمی جھگڑ رہے تھے، اور پھر فرمایا: میں تمہیں شب ِ قدر کے بارے میں بتلانے کے لیے آرہا تھا، لیکن جب دو آدمیوں کو جھگڑتا ہوا پایا تو وہ علامتیں اٹھا لی گئیں اور ممکن ہے کہ اسی میں تمہارے لیے خیر اور بہتری ہو، اب تم اس کو آخری عشرے میں اکیسویں، تئیسویں اور پچیسویں رات میں تلاش کرنا۔
Takhreej
(۴۰۲۷) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۴۹، ۲۰۲۳، ۶۰۴۹(انظر: ۲۲۶۷۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ استدلال بھی کر لینا چاہیے کہ مسلمانوں کا آپس میں جھگڑناکس قدر نحوست والا فعل ہے کہ اس کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سینہ ٔ مبارکہ سے شب ِ قدر کی علامتیں اٹھا لی گئیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرماناکہ’’ ممکن ہے کہ اسی میں تمہارے لیے خیر اور بہتری ہو۔‘‘ بہتری کی وجہ یہ ہے کہ اگر شب ِ قدر کا تعین کر دیا جاتا ہے تو صرف ایک رات کا قیام کیا جاتا، اب جو شخص لیلۃ القدر کو پانے کا ارادہ کرے گا، اس کو آخری عشرے کی پانچ طاق راتوں کا قیام کرنا پڑے گا، ان میں سے ایک قدر والی رات ہو گی اور باقی چار راتوں کے قیام کا ثواب بھی مل جائے گا۔
4027
Sahih
۔ (۴۰۲۸) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی لَیْلَۃَ الْقَدْرِ مَا قَدْ عَلِمْتُمْ، فَالْتََمِسُوْہَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ وِتْرًا، فَفِی اَیِّ الْوِتْرِ تَرَوْنَہَا۔ (مسند احمد: ۸۵)
۔ سیدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شب ِ قدر کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے، تم اس کو جانتے ہی ہو، تم اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کیا کرو، تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ کونسی طاق رات ہوگی؟
Takhreej
(۴۰۲۸) تخر یـج: اسنادہ قوی۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۵۱۳، والبزار: ۲۱۰، وابو یعلی: ۱۶۵، ۱۶۸، وابن خزیمۃ: ۲۱۷۲(انظر: ۸۵)
4028
Sahih
۔ (۴۰۲۹) عَنِ ابْنِ عَبَاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِلْتَمِسُوْہَا فِی الْعَشْرِ اْلاَوَاخِرِ فِی تَاسِعَۃٍ تَبْقٰی، اَوْ خَامِسَۃٍ تَبْقٰی اَوْ سَابِعَۃٍ تَبْقٰی۔)) (مسند احمد: ۳۴۰۱)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس رات کو آخری عشرے میں اس وقت تلاش کیا کرو، جب نو یا پانچ یا سات راتیں باقی ہوں۔
Takhreej
(۴۰۲۹) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۲۰۲۱(انظر: ۳۴۰۱)
4029
Sahih
۔ (۴۰۳۰) عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ۔
۔ سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
4030
Sahih
۔ (۴۰۳۱) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَرَجْتُ إِلَیْکُمْ وَقَدْ بُیِّنَتْ لِیْ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ وَمَسِیْحُ الضَّلَالَۃِ، فَکَانَ تَلَاحٍ بَیْنَ رَجُلَیْنِ بِسُدَّۃِ الْمَسْجِدِ، فَاَتَیْتُہُمَا لِاَحْجِزَ بَیْنَہُمَا فَاُنْسِیْتُہَا وَسَاَشْدُوا لَکُمْ شَدْوًا، اَمَّا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ فَالْتَمِسُوْہَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ وِتْرًا، وَاَمَا مَسِیْحُ الضَّلَالَۃِ فَإِنَّہُ اَعُوْرُ الْعَیْنِ، اَجْلَی الْجَبْہَۃِ، عَرِیْضُ النَّحْرِ، فِیْہِ دَفًا، کَاَنَّہُ قَطَنُ بْنُ عَبْدِ الْعُزّٰی۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، یَضُرُّنِیْ شَبَہُہُ؟ قَالَ: ((لاَ، اَنْتَ امْرُؤٌ مُسْلِمٌ وَہُوَ امْرُؤٌ کَافِرٌ۔)) (مسند احمد: ۷۸۹۲)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے شب ِ قدر اور ضلالت والے مسیح دجال کے بارے میں حتمی طور پر بتلا دیا گیا تھا، میں تمہیں آگاہ کرنے کے لیے آیا، لیکن مسجد کے دروازے پر دو آدمی آپس میں الجھ رہے تھے، میں ان کے درمیان رکاوٹ بننے کے لیے ان کی طرف گیا، اتنے میں مجھے ان باتوں کا علم بھلا دیا گیا، اب بالاختصار بات یہ ہے کہ تم شب ِ قدر کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو اور دجال کانا ہوگا، پیشانی پر بال تھوڑے ہوں گے، گردن موٹی ہوگی، کبڑے پن کی وجہ سے جھکا ہوا ہو گا، یوں سمجھیں کہ گویا کہ وہ قطن بن عبدالعزی کے مشابہ ہوگا۔ یہ سن کر سیدنا قطن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس کے ساتھ میری مشابہت میرے لیے نقصان دہ تو نہیں ہو گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں، تم مسلمان ہو اور وہ کافر ہوگا۔
Takhreej
(۴۰۳۱) تخر یـج: حدیث حسن (انظر: ۷۹۰۵)
4031
Sahih
۔ (۴۰۳۲) عَنْ اَبِی نَضْرَۃَ عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِعْتَکَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعَشْرَ اْلاَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ وَہُوَ یَلْتَمِسُ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ قَبْلَ اَنْ تُبَانَ لَہُ، فَلَمَّا تَفَضَّیْنَ اَمَرَ بِبُنْیَانِہِ، فَنُقِضَ ثُمَّ اُبِیْنَتْ لَہُ اَنَّہا فِی الْعَشْرِالْاَوَاخِرِ، فَاَمَرَ بِالْبِنَائِ فَاُعِیْدَ، ثُمَّ اعْتَکَفَ الْعَشْرَ الْاَوَاخِرَ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ: ((یَا اَیُّہَا النَّاسُ! اَنَّہَا اُبِیْنَتْ لِیْ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ فَخَرَجْتُ لِاُخْبِرَکُمْ فَجَائَ رَجُلَانِ یَحْتَقَّانِ، مَعَھُمَا الشَّیْطَانُ فَنُسِّیْتُہَا، فَالْتَمِسُوْہَا فِی التَّاسِعَۃِ وَالسَّابِعَۃِ وَالْخَامِسَۃِ۔)) فَقُلْتُ: یَا اَبَا سَعِیْدٍ! إِنَّکُمْ اَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا، قَالَ: اَنَا اَحَقُّ بِذَاکَ مِنْکُمْ، فَمَا التَّاسِعَۃُ وَالسَّابِعَۃُ وَالْخَامِسَۃُ؟ قَالَ: تَدَعُ الَّتِی تَدْعُوْنَ إِحْدٰی وَعِشْرِیْنَ وَالَّتِی تَلِیْہَا التَّاسِعَۃُ، وَتَدَعُ الَّتِی تَدْعُوْنَ ثَلَاثَۃً وَعِشْرِیْنَ وَالَّتِی تَلِیْہَا السَّابِعَۃُ، وَتَدَعُ الَّتِی تَدْعُوْنَ خَمْسَۃً وَعِشْرِیْنَ وَالَّتِی تَلِیْہَا الْخَامِسَۃُ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۹۲)
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شب ِ قدر کی وضاحت سے قبل رمضان کے درمیانے عشرے کا اعتکاف کیا، جب یہ عشرہ بیت گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے حجرے کو اکھاڑنے کا حکم دیا، سو اسے اکھاڑ دیا گیا، بعد ازاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر واضح ہوا کہ وہ رات تو آخری عشرے میں ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ وہ حجرہ دوبارہ لگا دیا کیا جائے، پس اسے دوبارہ کھڑا کر دیا گیا، اس طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آخری عشرے کا اعتکاف کیا، پھر لوگوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: لوگو! مجھے حتمی طور پر شب ِ قدر کے بارے میں بتلا دیا گیا تھا اور میں تمہیں آگاہ کرنے کے لیے آرہا تھا، لیکن ہوا یوں کہ دو آدمی آپس میں جھگڑ رہے تھے،ان کے ساتھ شیطان بھی تھا، پس مجھے یہ علم بھلا دیا گیا، اب تم اس رات کو نویںاور ساتویں اور پانچویں طاق رات میں تلاش کرو۔ میں ابونضرہ نے کہا:اے ابوسعید! آپ ہم سے بہتر گنتی جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ہم (صحابہ ہونے کی وجہ سے) تمہاری بہ نسبت اس کے زیادہ حقدار بھی ہیں۔ میں نے کہا: نویں، ساتویں اور پانچویں رات کا کیا مفہوم ہے؟ انہوں نے کہا: جس رات کو تم اکیسویںرات کہتے ہو، اسے چھوڑ دو، اس سے اگلی رات نویں ہے،جس رات کو تم تئیسویں رات کہتے ہو، اسے چھوڑ دو اس سے اگلی رات ساتویں ہے اور جس رات کو تم پچیسویں رات کہتے ہو، اسے چھور دو، اس سے اگلی رات پانچویں ہے۔
Takhreej
(۴۰۳۲) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۱۶۷(انظر: ۱۱۰۷۶)
Explanation
فوائد:… اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قول ’’نویں، ساتویں اور پانچویں‘‘ سے مراد اکیسویں، تئیسویں اور پچیسویں رات ہے، لیکن سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی وضاحت کا مقصد مہینہ کو تیس دنوں کا فرض کر کے سائل کو سمجھانا ہے کہ عرب لوگ آخر سے بھی مہینہ کو شمار کر لیتے ہیں، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان کا تعلق (۲۹) دنوں کے مہینہ سے ہے۔
4032
Sahih

Chapters

35
01
یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
16 Hadith
02
ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان
15 Hadith
03
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
10 Hadith
04
شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی ممانعت اور اس کی رخصت کا بیان
2 Hadith
05
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
8 Hadith
06
ایامِ بِیض کے روزوں کا بیان
5 Hadith
07
ہر مہینے میں تین متعین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
4 Hadith
08
ہر ماہ کے ابتدائی تین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
1 Hadith
09
ماہِ شوال کے چھ روزوں کا بیان
3 Hadith
10
شوال، بدھ، جمعرات اور جمعہ کے روزوں کا بیان
2 Hadith
11
ہفتہ اور اتوار کے روزوں کا بیان
1 Hadith
12
سوموار اور جمعرات کے روزوں کے مستحبّ ہونے کا بیان
4 Hadith
13
داود علیہ السلام کے روزوں یعنی ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان
5 Hadith
14
حاجیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے ذوالحجہ کے نو دنوں کے اور یومِ عرفہ کے روزوں کا بیان
3 Hadith
15
حجاج کرام کے لیے نو ذوالحجہ کے روزے کی کراہت کا بیان
10 Hadith
16
اعتکاف اور ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت کا بیان اعتکاف کی فضیلت اور اس کے زمان و مکان کا بیان
5 Hadith
17
جائے اعتکاف میں داخل ہونے کے وقت کا بیان، نیز جو شخص اس کا عادی ہو اور اس سے بوجہ عذر رہ جائے تو اس کی قضائی کے مستحب ہونے کا بیان
4 Hadith
18
معتکف کے لیے جائز اور ناجائز امور کا بیان
6 Hadith
19
استحاضہ والی خاتون سمیت عورتوں کے اعتکاف کے جواز کا بیان
3 Hadith
20
ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں بھرپور کوشش کے ساتھ عبادت کرنے کا بیان
5 Hadith
21
شب ِ قدراور اس کی فضیلت کا بیان، نیز اس امر کا بیان کہ وہ ماہِ رمضان کی کونسی رات ہوتی ہے شب ِ قدر کی فضیلت اور اس رات کی خصوصی دعاء کا بیان
3 Hadith
22
رمضان کے آخری دس یا سات دنوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
5 Hadith
23
شب ِ قدر کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہونے یا ماہِ رمضان کی آخری رات ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
3 Hadith
24
ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
8 Hadith
25
رمضان کی اکیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
1 Hadith
26
رمضان کی تئیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
7 Hadith
27
رمضان کی چوبیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
1 Hadith
28
رمضان کی ستائیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
9 Hadith
29
حج اور عمرہ کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
30
حج کی فرضیت کا بیان
5 Hadith
31
خواتین پر حج کے فرض ہونے اور ان سے متعلقہ بعض مسائل کا بیان
4 Hadith
32
عمر رسیدہ اور مستقل بیمار پر حج کے فرض ہونے کا بیان، بشرطیکہ ان کی طرف سے نیابت ممکن ہو اور میت کی طرف سے حج کے جواز کا بیان، جبکہ اس پر واجب ہو
6 Hadith
33
نابالغ بچے اور غلام کے حج کا صحیح ہونا، جبکہ یہ ان پر واجب نہیں ہوتا
3 Hadith
34
زادِ راہ اور سواری کی دستیابی کے ساتھ ساتھ راستے کا پرامن ہونا اور عورت کے ساتھ محرم کا ہونا حج کی استطاعت میں سے ہے
11 Hadith
35
صاحب استطاعت ہونے کے باوجود حج نہ کرنے والے کے حق میں وعید کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.