مسنداحمد

Musnad Ahmad

یوم عاشوراء

ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان


۔ (۴۰۲۵) عَنْ عُیَنْیَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: ذُکِرَتْ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ عِنْدَ اَبِی بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: مَا اَنَا بِمُلْتَمِسِہَا بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَّا فِی عَشْرِ اْلاَوَاخِرِ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِلْتَمِسُوْہَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ فِی الْوِتْرِ مِنْہُ۔)) قَالَ: فَکَانَ اَبُوْ بَکْرَۃَیُصَلِّیْ فِی الْعِشْرِیْنَ مِنْ رَمَضَانَ کَصَلَاتِہٖفِی سَائِرِ السَّنَۃِ، فَإِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ اِجْتَہَدَ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۸۸)

۔ عبدالرحمن کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی پاس شب ِ قدر کا ذکر ہوا، انہوں نے کہا:میں تو اس رات کو صرف آخری عشرے میں تلاش کروں گا، کیونکہ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم اس کو آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا معمول یہ تھا کہ وہ رمضان کے پہلے بیس دنوںمیں تو پورے سال والی عادت کے مطابق نماز پڑھتے، لیکن جب آخری عشرے کا آغاز ہو جاتا تو عبادت میں خوب محنت کرتے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۴۰۲۵) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ الترمذی: ۷۹۴(انظر: ۲۰۴۱۷)