TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عمرہ کی اور بالخصوص ماہِ رمضان کے عمرہ کی فضیلت کا بیان - عمرہ کی اور بالخصوص ماہِ رمضان کے عمرہ کی فضیلت کا بیان - عمرہ کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of عمرہ کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 11 · 5 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۴۰۹۴) عَنْ ہَرِمِ بْنِ خَنْبَشٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَتَتْہُ امْرَأَۃٌ، فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْ أَیِّ الشُّہُوْرِ أَعْتَمِرُ؟ قَالَ: ((اِعْتَمِرِیْ فِیْ رَمَضَانَ، فَإِنَّ عُمْرَۃً فِیْ رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّۃً۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۴۳)
۔ سیدنا ہرم بن خنبش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں کس مہینہ میں عمرہ کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان میں عمرہ کرو، کیونکہ ماہِ رمضان میں ادا کیا ہوا عمرہ حج کے برابر ہے۔
Takhreej
(۴۰۹۴) تخریج: حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۹۹۲(انظر: ۱۷۶۰۰)
4094
Sahih
۔ (۴۰۹۴) عَنْ ہَرِمِ بْنِ خَنْبَشٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَتَتْہُ امْرَأَۃٌ، فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْ أَیِّ الشُّہُوْرِ أَعْتَمِرُ؟ قَالَ: ((اِعْتَمِرِیْ فِیْ رَمَضَانَ، فَإِنَّ عُمْرَۃً فِیْ رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّۃً۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۴۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔
Takhreej
(۴۰۹۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۸۲، ومسلم: ۱۲۵۶(انظر: ۲۸۰۹)
4095
Sahih
۔ (۴۰۹۶)عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۴۸۵۵)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسی طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۴۰۹۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۹۹۵(انظر: ۱۴۷۹۵)
Explanation
فوائد: …حدیث نمبر (۴۰۸۲)کی شرح میں اس فضیلت کی وضاحت ہو چکی ہے۔
4096
Sahih
۔ (۴۰۹۷)عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ اسْتَأْذَنَہُ فِیْ الْعُمْرَۃِ، فَأَذِنَ لَہُ، فَقَالَ: ((یَا أَخِیْ! لَا تَنْسَنَا مِنْ دُعَائِکَ۔)) وَقَالَ بَعْدُ فِیْ الْمَدِیْنَۃِ: ((أَشْرِکْنَا فِْی دُعَائِکَ۔)) فَقَالَ عُمَرُ: مَا أُحِبُّ أَنَّ لِی بِہَا مَا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ لِقَوْلِہٖ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یاَأَخِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اجازت دی اوریہ بھی فرمایا: میرے بھائی! ہمیں اپنی دعائوں میں بھلا نہ دینا۔ راویٔ حدیث شعبہ نے بعد میں مدینہ میں حدیث بیان کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے تھے: ہمیں اپنی دعاؤںمیں شامل کیے رکھنا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جو مجھے اپنا بھائی کہا تھا، یہ چیز مجھے اتنی پسند آئی کہ میں اس کے مقابلے میں پوری دنیا کو ترجیح نہیں دیتا۔
Takhreej
(۴۰۹۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عاصم بن عبد اللہ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۴۹۸، وابن ماجہ: ۲۸۹۴، والترمذی: ۳۵۶۲ (انظر: ۱۹۵)
Explanation
فوائد: …’’مَا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ‘‘ کا لفظی معنی ہے وہ چیزیں جن پر سورج کی روشنی پڑتی ہے، اس سے مراد پوری دنیا ہے۔
4097
Zaeef
۔ (۴۰۹۸) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْعُمْرَۃُ إِلَی الْعُمْرَۃُ کَفَّارَۃٌ لِمَا بَیْنَہُمَا مِنَ الذُّنُوْبِ وَالْخَطَایَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَیْسَ لَہُ جَزَائٌ إِلَّا الْجَنَّۃُ)) (مسند احمد: ۱۵۷۹۲)
۔ سیدنا عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ کرنا، یہ عمل اِن دو کے درمیانی عرصے کے گناہوں اور خطاؤں کا کفارہ بنتا ہے اور رہا مسئلہ حج مبرور کا تو اس کا بدلہ تو صرف جنت ہے۔
Takhreej
(۴۰۹۸) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۱۵۷۰۱م)
Explanation
فوائد: …دو عمروں کی وجہ سے ان کے درمیانے گناہوں کا بخش دیا جانا، ظاہر بات تو یہی ہے کہ ان گناہوں کی معافی دوسرے عمرے کی وجہ سے ہو گی اور پہلے عمرے کی وجہ سے اس سے پہلے والے گناہ معاف کیے جائیں گے، ’’کِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ‘‘ کے پہلے باب میں مذکورہ احادیث سے یہی پتہ چلتا ہے کہ ہر عمرے کی وجہ سے اس سے پہلے والے گناہ معاف ہوتے ہیں۔
4098
Sahih

Chapters

11