مسنداحمد

Musnad Ahmad

عمرہ کے ابواب

عمرہ کی اور بالخصوص ماہِ رمضان کے عمرہ کی فضیلت کا بیان


۔ (۴۰۹۸) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْعُمْرَۃُ إِلَی الْعُمْرَۃُ کَفَّارَۃٌ لِمَا بَیْنَہُمَا مِنَ الذُّنُوْبِ وَالْخَطَایَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَیْسَ لَہُ جَزَائٌ إِلَّا الْجَنَّۃُ)) (مسند احمد: ۱۵۷۹۲)

۔ سیدنا عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ کرنا، یہ عمل اِن دو کے درمیانی عرصے کے گناہوں اور خطاؤں کا کفارہ بنتا ہے اور رہا مسئلہ حج مبرور کا تو اس کا بدلہ تو صرف جنت ہے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۴۰۹۸) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۱۵۷۰۱م)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد: …دو عمروں کی وجہ سے ان کے درمیانے گناہوں کا بخش دیا جانا، ظاہر بات تو یہی ہے کہ ان گناہوں کی معافی دوسرے عمرے کی وجہ سے ہو گی اور پہلے عمرے کی وجہ سے اس سے پہلے والے گناہ معاف کیے جائیں گے، ’’کِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ‘‘ کے پہلے باب میں مذکورہ احادیث سے یہی پتہ چلتا ہے کہ ہر عمرے کی وجہ سے اس سے پہلے والے گناہ معاف ہوتے ہیں۔