TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4098 - عمرہ کی اور بالخصوص ماہِ رمضان کے عمرہ کی فضیلت کا بیان - عمرہ کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 5 in this chapter
عمرہ کی اور بالخصوص ماہِ رمضان کے عمرہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۴۰۹۸) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْعُمْرَۃُ إِلَی الْعُمْرَۃُ کَفَّارَۃٌ لِمَا بَیْنَہُمَا مِنَ الذُّنُوْبِ وَالْخَطَایَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَیْسَ لَہُ جَزَائٌ إِلَّا الْجَنَّۃُ)) (مسند احمد: ۱۵۷۹۲)
۔ سیدنا عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ کرنا، یہ عمل اِن دو کے درمیانی عرصے کے گناہوں اور خطاؤں کا کفارہ بنتا ہے اور رہا مسئلہ حج مبرور کا تو اس کا بدلہ تو صرف جنت ہے۔
4098
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۴۰۹۸) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۱۵۷۰۱م)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد: …دو عمروں کی وجہ سے ان کے درمیانے گناہوں کا بخش دیا جانا، ظاہر بات تو یہی ہے کہ ان گناہوں کی معافی دوسرے عمرے کی وجہ سے ہو گی اور پہلے عمرے کی وجہ سے اس سے پہلے والے گناہ معاف کیے جائیں گے، ’’کِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ‘‘ کے پہلے باب میں مذکورہ احادیث سے یہی پتہ چلتا ہے کہ ہر عمرے کی وجہ سے اس سے پہلے والے گناہ معاف ہوتے ہیں۔

Related Chapters

816
1
ماہ رمضان میں عمرہ کرنے کی فضیلت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
2
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Month Of Ramadan
باب: ماہ رمضان کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Umrah During Ramadan
باب: رمضان میں عمرہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
ماہِ رمضان اور اس میں کیے گئے عمل کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
5
اعتکاف اور ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت کا بیان اعتکاف کی فضیلت اور اس کے زمان و مکان کا بیان
Musnad Ahmad
6
شب ِ قدراور اس کی فضیلت کا بیان، نیز اس امر کا بیان کہ وہ ماہِ رمضان کی کونسی رات ہوتی ہے شب ِ قدر کی فضیلت اور اس رات کی خصوصی دعاء کا بیان
Musnad Ahmad
7
Chapter: The Virtues of the month of Ramadan
ماہ رمضان کی فضیلت
Sahih Muslim
8
Chapter: The virtue of the Umrah performed during Ramadan
رمضان المبارک میں عمرہ کرنے کی فضیلت
Sahih Muslim
9
ماہ رمضان کی فضیلت
Sunnan Ibn e Maja
10
باب: ماہ رمضان کی فضیلت۔
Sunnan Nisai
11
Chapter: What Has Been Related About Standing (In The Night Prayer) During The Month Of Ramadan
باب: ماہ رمضان کی راتوں میں قیام (تہجد پڑھنے) کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: Encouragement To Perform The Night Prayer During Ramadan And The Virtues That Accompany It
باب: قیام رمضان (تراویح پڑھنے) کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related Mentioning The Virtues Of 'Umrah
باب: عمرہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
14
بَاب قيام شهر رَمَضَان
ماہ رمضان کے قیام کا بیان
Mishkat
15
رمضان کے روزوں اور قیام کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
16
ماہِ رمضان کے روزوں اور اس میںکیے جانے والے دوسرے اعمال میں سستی کرنے والے کے لیے وعید کا بیان
Musnad Ahmad
17
ماہِ رمضان کا آغاز اور اختتام چاند کو دیکھ کر کرنے اور بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آنے کی صورت میں تیس دن پورے کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
18
ماہِ رمضان سے پہلے ایکیا دو دن روزے رکھنے اور شک والے دن کا روزہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
19
یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
Musnad Ahmad
20
ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
21
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
22
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
23
ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں بھرپور کوشش کے ساتھ عبادت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
24
شب ِ قدر کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہونے یا ماہِ رمضان کی آخری رات ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
Musnad Ahmad
25
ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
26
حج اور عمرہ کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
27
ماہِ رجب میں عمرہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
28
اس شخص کا بیان جو ماہِ رمضان میں دن میں جماع کرنے کے ڈر سے اپنی بیوی سے ظہار کر لیتا ہے
Musnad Ahmad
29
(1) CHAPTER. The obligation of performing Umrah and its superiority.
عمرہ کا وجوب اور اس کی فضیلت
Sahih Bukhari
30
(4) CHAPTER. Umra in (the month of) Ramadan.
رمضان میں عمرہ کرنے کا بیان
Sahih Bukhari
31
(5) CHAPTER. Should it be said “Ramadan” or “the month of Ramadam?” And whoever thinks that both are permissible.
رمضان کہا جائے یا ماہ رمضان ؟ اور جن کے نزدیک دونوں لفظوں کی گنجائش ہے ۔
Sahih Bukhari
32
(1) CHAPTER. The superiority of praying (Nawafil) at night in Ramadan.
رمضان میں تراویح پڑھنے کی فضیلت
Sahih Bukhari
33
ماہرقرآن کی فضیلت اور وہ جو اس میں اٹکتا ہے(اس کا اجر)
Sahih Muslim
34
Chapter: The virtue of the day of 'Arafat
حج اور عمرہ اور یوم عرفہ کے دن کی فضیلت
Sahih Muslim
35
CHAPTER: Regarding Standing (In Voluntary Night Prayer) During The Month Of Ramadan.
ماہ رمضان میں قیام اللیل ( تراویح ) کا بیان
Sunnan Abu Dawood
36
CHAPTER: Regarding Whoever Connected Sha’ban With Ramadan
باب: شعبان کے روزے رکھتے ہوئے ماہ رمضان میں داخل ہونے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
37
ماہ رمضان میں قیام اللیل (تراویح) کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
38
رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
39
حج اور عمرہ کی فضیلت
Sunnan Ibn e Maja
40
ماہ ذی قعدہ میں عمرہ کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
41
ماہ رجب میں عمرہ کرنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
42
ماہ رمضان میں قیام اللیل (تہجد) کا بیان۔
Sunnan Nisai
43
باب: ماہ رمضان میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی مہربانی اور جود و سخا کا بیان۔
Sunnan Nisai
44
باب: ماہ رمضان کو صرف رمضان کہنے کی رخصت کا بیان۔
Sunnan Nisai
45
باب: ماہ رمضان کے چاند (دیکھنے) پر ایک آدمی کی گواہی قبول کرنے کا بیان اور سماک (والی) حدیث میں راویوں کے سفیان پر اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
46
باب: ماہ رمضان سے ایک روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
47
باب: عمرہ کی فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
48
باب: حج کے ساتھ عمرہ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
49
باب: ماہ رمضان میں قیام اللیل (تہجد پڑھنے) کا بیان۔
Sunnan Nisai
50
(2)Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Purification
باب: طہارت کی فضیلت کا بیان​
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

5
Musnad Ahmad
4058
۔ (۴۰۵۸) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَیْسَ لَہُ جَزَائٌ إِلَّا الْجَنَّۃُ، وَالْعُمْرَتَانِ تُکَفِّرَانِ مَا بَیْنَہُمَا مِنَ الذُّنُوْبِ۔)) (مسند احمد: ۹۹۴۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حج مبرور کا ثواب تو جنت ہی ہے اور دو عمرے اپنے درمیانی عرصے کے گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں۔
Musnad Ahmad
603
۔ (۶۰۳)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَۃَ یَقُوْلُ: اِذَا وَضَعْتَ الطَّہُوْرَ مَوَاضِعَہُ قَعَدْتَّ مَغْفُوْرًا لَکَ، فَاِنْ قَامَ یُصَلِّی کَانَتْ لَہُ فَضِیْلَۃً وَأَجْرًا، وَاِنْ قَعَدَ قَعَدَ مَغْفُوْرًا لَہُ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: یَا أَبَا أُمَامَۃَ! أرَأَیْتَ اِنْ قَامَ فَصَلّٰی تَکُوْنُ لَہُ نَافِلَۃً؟ قَالَ: لَا، اِنَّمَا النَّافِلَۃُ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَیْفَ تَکُوْنُ لَہُ نَافِلَۃً وَھُوَ یَسْعٰی فِی الذُّنُوْبِ وَالْخَطَایَا، تَکُوْنُ لَہُ فَضِیْلَۃً وَأَجْرًا۔ (مسند أحمد: ۲۲۵۴۹)
سیدنا ابو امامہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب تو وضو کے پانی کو اس کے مقام پر استعمال کرے گا تو بخشا بخشایا بیٹھ جائے گا، پھر اگر کوئی آدمی کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے تو اس میں اس کے لیے فضیلت اور اجر و ثواب ہوتا ہے۔ ایک آدمی نے ان سے کہا: اے ابو امامہ: اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر ایسا آدمی کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے، تو اس کی نماز زائد ہو گی؟ انھوں نے کہا: نہیں، یہ زائد ہونا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے تھا۔ عام بندے کے لیے یہ نماز فضیلت اور اجر کا باعث ہو گی۔
Musnad Ahmad
4059
۔ (۴۰۵۹) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَیْسَ لَہُ جَزَائٌ إِلَّا الْجَنَّۃُ۔)) قَالُوْا: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! مَا الْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ؟ قَالَ: ((إِطْعَامُ الْطَّعَامِ وَإِفْشَائُ السَّلَامِ)) (مسند احمد: ۱۴۵۳۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حج مبرور کی جزا نہیں ہے، مگر جنت۔ صحابہ نے پوچھا: اللہ کے نبی! حج مبرور کسے کہتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے دوران لوگوں کو کھانا کھلایا جائے اور سلام عام کیا جائے۔
Musnad Ahmad
4799
۔ (۴۷۹۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلا نَخْرُجُ نُجَاھِدُ مَعَکُمْ؟ قَالَ: ((لَا، جِھَادُکُنَّ الْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ، ھَوَ لَکُنَّ جِھَادٌ)) (مسند أحمد: ۲۴۹۲۶)
۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے ساتھ جہاد کرنے کے لیے نہ نکلیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، تمہارا جہاد حج مبرور ہے، یہی تمہارا جہاد ہے۔
Musnad Ahmad
4892
۔ (۴۸۹۲)۔ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِیِّ، وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْقَتْلُ ثَلَاثَۃٌ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ قَاتَلَ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ حَتّٰی إِذَا لَقِیَ الْعَدُوَّ قَاتَلَہُمْ حَتّٰی یُقْتَلَ، فَذٰلِکَ الشَّہِیدُ الْمُفْتَخِرُ فِی خَیْمَۃِ اللّٰہِ تَحْتَ عَرْشِہِ، لَا یَفْضُلُہُ النَّبِیُّونَ إِلَّا بِدَرَجَۃِ النُّبُوَّۃِ، وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ قَرَفَ عَلٰی نَفْسِہِ مِنْ الذُّنُوبِ وَالْخَطَایَا، جَاہَدَ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ حَتّٰی إِذَا لَقِیَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتّٰی یُقْتَلَ، مُحِیَتْ ذُنُوبُہُ وَخَطَایَاہُ، إِنَّ السَّیْفَ مَحَّائُ الْخَطَایَا، وَأُدْخِلَ مِنْ أَیِّ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ شَائَ، فَإِنَّ لَہَا ثَمَانِیَۃَ أَبْوَابٍ، وَلِجَہَنَّمَ سَبْعَۃُ أَبْوَابٍ، وَبَعْضُہَا أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ، وَرَجُلٌ مُنَافِقٌ جَاہَدَ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ حَتّٰی إِذَا لَقِیَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ حَتّٰی یُقْتَلَ، فَإِنَّ ذٰلِکَ فِی النَّارِ السَّیْفُ لَا یَمْحُو النِّفَاقَ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۸۰۷)
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سُلَمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ صحابۂ رسول میں سے تھے، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قتل کی تین اقسام ہیں: (۱) وہ مؤمن آدمی جو اپنے جان و مال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتال کرتا ہے، جب دشمن سے اس کی ٹکر ہوتی ہے تو وہ اس سے لڑائی کرتا ہے، یہاں تک کہ شہید ہو جاتا ہے، یہ وہ شہید ہے، جو اللہ کے عرش کے نیچے خیمۃ اللہ میں فخر کرنے والا ہو گا، انبیاء صرف نبوت کے درجے کی وجہ سے ایسے شہید سے فضیلت رکھتے ہوں گے، (۲) وہ مؤمن آدمی، جس نے اپنی جان پر گناہ کیے ہوتے ہیں اور وہ اپنے مال وجان سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے، جب وہ دشمنوں سے ملتا ہے تو ان سے قتال کرتا ہے، یہاں تک کہ شہید ہو جاتا ہے، ایسے شہید کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، بیشک تلوار گناہوں کو مٹا دینے والی ہے، ایسا شہید جنت کے جس دروازے سے چاہے گا، داخل ہو جائے گا، جنت کے آٹھ دروازے ہیں، جن میں سے بعض دروزے بعض سے افضل ہیں اور جہنم کے سات دروازے ہیں، اور (۳) وہ منافق آدمی جو اپنے جان ومال سے قتال کرتا ہے، جب دشمن سے اس کی ٹکر ہوتی ہے تو وہ راہِ خدا میں لڑتا ہے، یہاں تک کہ قتل کر دیا جاتا ہے، یہ شخص جہنم میں ہو گا، کیونکہ تلوار نفاق جیسے گناہ کو نہیں مٹا سکتی۔