مسنداحمد

Musnad Ahmad

عمرہ کے ابواب

حج سے پہلے، اس کے بعد اور اس کے ساتھ، غرضیکہ سال کے تمام مہینوں میںعمرہ کے جواز کا بیان


۔ (۴۱۰۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِیْنَۃَ فِیْ نَفَرٍ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ، نُرِیْدُ الْعُمْرَۃَ مِنْہَا، فَلَقِیْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، فَقُلْتُ إِنَّا قَوْمٌ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ قَدِمْنَا الْمَدِیْنَۃَ وَلَمْ نَحُجَّ قَطُّ، أَفَنَعْتَمِرُ مِنْہَا؟ قَالَ: نَعَمْ، وَمَا یَمْنَعُکُمْ مِنْ ذٰلِکَ؟ فَقَدِ اعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عُمَرَہُ کُلَّہَا قَبْلَ حَجَّتِہِ وَاعْتَمَرْنَا۔ (مسند احمد: ۶۴۷۵)

۔ (دوسری سند) عکرمہ کہتے ہیں: میں اہل مکہ کے چند افراد کے ہمراہ مدینہ منورہ آیا، دراصل ہم وہاں سے عمرہ کے لئے جانا چاہتے تھے، میری ملاقات سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہو گئی، میں نے ان سے پوچھا: ہم مکہ کے رہنے والے لوگ ہیں، اب ہم مدینہ آئے ہوئے ہیں، ہم نے کبھی بھی حج نہیں کیا، تو کیا اب ہم یہاں سے عمرہ کر سکتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، بھلا کون سی چیز تمہیں اس سے مانع ہو سکتی ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو اپنے سارے عمرے حج سے پہلے کئے تھے اور ہم نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ یہ عمرے کیے تھے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۴۱۰۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول