۔ (۴۰۹۹)عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمَرَ رضی اللہ عنہما عَنِ الْعُمْرَۃِ قَبْلَ الْحَجِّ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لاَ بَأْسَ عَلٰی أَحَدٍ یَعْتَمِرُ قَبْلَ أَنْ یَحُجَّ۔ قَالَ عِکْرِمَۃُ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: اِعْتَمَرَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَبْلَ أَنْ یَحُجَّ۔ (مسند احمد: ۵۰۶۹)
۔ عکرمہ بن خالد کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے قبل از حج عمرہ کرنے کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: حج سے پہلے عمرہ کرنے والے پر کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود حج سے پہلے عمرہ کیا تھا۔
Takhreej
(۴۰۹۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۷۴(انظر: ۵۰۶۹)
Explanation
فوائد: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کل چار عمرے کیے:
(۱) عمرۂ حدیبیہ ،(۲) عمرۂ قضا، (۳) عمرۂ جعرانہ اور (۴) حجۃ الوداع کے ساتھ والا عمر۔
پہلے تینوں عمرے حرمت والے مہینے ذوالقعدہ میں ادا کیے،یہ مہینہ ذوالحجہ سے پہلے ہے اور چوتھا عمرہ ذوالحجہ کے مہینے میں حج کے ساتھ ادا کیا، ایک باب کے بعد ان تمام عمروں کی وضاحت آ رہی ہے۔
4099
Sahih