مسنداحمد

Musnad Ahmad

عمرہ کے ابواب

حج سے پہلے، اس کے بعد اور اس کے ساتھ، غرضیکہ سال کے تمام مہینوں میںعمرہ کے جواز کا بیان


۔ (۴۱۰۲)عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ أَنْ یَحُجَّ، وَاعْتَمَرَ قَبْلَ أَنْ یَحُجَّ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: لَقَدْ عَلِمَ أَنَّہُ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ بِعُمْرَتِہِ الَّتِیْ حَجَّ فِیْہَا۔ (مسند احمد: ۱۸۸۳۲)

۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک عمرہ حج سے پہلے کیا اور ایک اور عمرہ حج سے پہلے کیا، لیکن سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: وہ جانتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چار عمرے کیے تھے اور ان میں سے ایک عمر ہ، حج کے ساتھ کیا تھا۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۴۱۰۲) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ البیھقی: ۵/ ۱۱، وابویعلی: ۱۶۶۰، واخرج البخاری: ۱۷۸۱ بلفظ: اعتمر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فی ذی القعدۃ مرتین۔ (انظر: ۱۸۶۲۹)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد: … سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے صرف عمرۂ قضا اور عمرۂ جعرانہ کا ذکر کیا ہے، عمرۂ حدیبیہ کا تذکرہ اس لیے نہیں کیا کہ یہ مکمل نہیں ہوا تھا اور آخری عمرے کا ذکر اس لیے نہیں کہ یہ حج کے اعمال میں داخل تھا۔