TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس چیز کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے حج اور کتنے عمرے کیے؟ - اس چیز کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے حج اور کتنے عمرے کیے؟ - عمرہ کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of عمرہ کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 11 · 6 Hadith
۔ (۴۱۱۰) عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی زَیْدُ بْنُ أَرْقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَزَا تِسْعَ عَشْرَۃَ، وَأَنَّہُ حَجَّ بَعْدَ مَا ہَاجَرَ حَجَّۃً وَاحِدَۃً، حَجَّۃَ الْوَدَاعِ، قَالَ أَبُوْ إِسْحَاقَ: وَبِمَکَّۃَ أُخْرٰی۔ (مسند احمد: ۱۹۵۱۳)
۔ سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انیس غزوے کیے اور ہجرت کے بعد صرف ایک حج کیا، جو کہ حجۃ الوداع تھا۔ ابو اسحاق نے کہا: ایک حج آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (قبل از ہجرت) مکہ میں کیا تھا۔
Takhreej
(۴۱۱۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۵۴(انظر: ۱۹۲۹۸)
Explanation
فوائد: …’’کتاب السیرۃ النبویۃ‘‘ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غزووں کی تفصیل آئے گی۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہجرت کے بعد بالاتفاق ایک ہی حج کیا تھا، جس کو حجۃ الوداع کہتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فریضہ۱۰ ھ میں ادا کیا تھا۔
4110
Sahih
۔ (۴۱۱۱) عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا: کَمْ اِعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: أَرْبَعًا، عُمْرَتَہُ الَّتِی صَدَّہُ عَنْہَا الْمُشْرِکُوْنَ فِیْ ذِی الْقَعْدَۃِ، وَعُمْرَتَہُ أَیْضَاً فِیْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِیْ ذِی الْقَعْدَۃِ، وَعُمْرَتَہُ حِیْنَ قَسَمَ غَنِیْمَۃَ حُنَیْنٍ مِنَ الْجِعْرَانَۃِ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ، وَعُمْرَتَہُ مَعَ حَجَّتِہِ۔ (مسند احمد: ۱۳۶۰۰)
۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے عمرے کئے تھے؟ انہوں نے کہا: چار،پہلا وہ عمرہ جس سے مشرکوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو روک دیا تھا، یہ ذی قعدہ میں تھا، دوسرا جو اگلے سال کیا تھا، یہ بھی ذی قعدہ میں تھا، تیسرا جو غزوۂ حنین کی غنیمت کی تقسیم کے وقت جعرانہ سے کیا تھا اور یہ بھی ذی قعدہ میں تھا، اور چوتھا جو آپ نے حجۃ الوداع کے ساتھ کیا تھا۔
Takhreej
(۴۱۱۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۷۸، ۱۷۷۹، ۱۷۸۰، ومسلم: ۱۲۵۳(انظر: ۱۳۵۶۵)
4111
Sahih
۔ (۴۱۱۱) عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا: کَمْ اِعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: أَرْبَعًا، عُمْرَتَہُ الَّتِی صَدَّہُ عَنْہَا الْمُشْرِکُوْنَ فِیْ ذِی الْقَعْدَۃِ، وَعُمْرَتَہُ أَیْضَاً فِیْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِیْ ذِی الْقَعْدَۃِ، وَعُمْرَتَہُ حِیْنَ قَسَمَ غَنِیْمَۃَ حُنَیْنٍ مِنَ الْجِعْرَانَۃِ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ، وَعُمْرَتَہُ مَعَ حَجَّتِہِ۔ (مسند احمد: ۱۳۶۰۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چار عمرے کئے، ایک عمرۂ حدیبیہ ، دوسرا عمرۂ قضا، تیسرا جعرانہ مقام سے اور چوتھا حج کے ساتھ۔
Takhreej
(۴۱۱۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۷۸، ۱۷۷۹، ۱۷۸۰، ومسلم: ۱۲۵۳(انظر: ۱۳۵۶۵)
Explanation
فوائد: … نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کل چار عمرے کیے: ۱۔ عمرۂ حدیبیہ، جوکہ مکمل نہیں ہوا تھا، بلکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم راستے سے واپس آ گئے تھے، یہ ذوالقعدہ ۶ھ کا واقعہ تھا۔ ۲۔ عمرۂ قضائ، یہ وہ عمرہ ہے جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صلح حدیبیہ کے معاہدے کے مطابق اگلے سال ادا کیا تھا، یہ ذوالقعدہ۷ھ کا واقعہ تھا، اس سے مراد قضائی والا عمرہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ مشرکوں کے ساتھ قضاء (فیصلہ) کے نتیجے میں ہوا تھا۔ ۳۔ عمرۂ جعرانہ،جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوۂ حنین اور غزوۂ طائف سے فارغ ہو کر جعرانہ مقام پر پہنچے اور وہاں پڑاؤ ڈالا تو اس دوران یہ عمرہ ادا کیا تھایہ فتح مکہ کے بعد۸ھ میں پیش آیا تھا۔ ۴۔ حجۃ الوداع کے ساتھ والا عمرہ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج قران کیا تھا، یعنی ایک ہی احرام میں حج اور عمرہ کی ادائیگی مکمل کی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ۱۰ ھ میں حجۃ الاسلام ادا کیا تھا۔ ہر عمرے کی اس کی مخصوص باب میں وضاحت آ رہی ہے۔
4112
Sahih
۔ (۴۱۱۳) عَنْ عَمْرِوْ بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖأَنَّالنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِعْتَمَرَ ثَلَاثَ عُمَرٍ، کُلُّ ذٰلِکَ فِیْ ذِی الْقَعْدَۃِیُلَبِّی حَتّٰییَسْتَلِمَ الْحَجَرَ۔ (مسند احمد: ۶۶۸۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین عمرے کئے تھے اور یہ سارے ذوالقعدہ میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تلبیہ جاری رکھتے، یہاں تک حجرِ اسود کا استلام کر لیتے۔
Takhreej
(۴۱۱۳) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۶۶۸۶)
Explanation
فوائد: … انھوں نے حج کے ساتھ والا عمرہ شمار نہیں کیا، معلوم ہوا کہ عمرہ کے موقع پر احرام باندھنے سے لے کر طواف شروع کرنے تک تلبیہ جاری رکھا جائے گا۔
4113
Sahih
۔ (۴۱۱۴)عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: مَا اعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَّا فِیْ ذِی الْقَعْدَۃِ وَلَقَدْ اِعْتَمَرَ ثَلَاثَ عُمَرٍ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۳۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ذی قعدہ میں ہی عمرے کئے تھے اور کل تین عمرے کیے تھے۔
Takhreej
(۴۱۱۴) تخریج: حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۹۹۷(انظر: ۲۵۹۱۰)
Explanation
فوائد: … اس حدیث میں بھی حجۃ الوداع والے عمرے کا ذکر نہیں کیا گیا۔
4114
Sahih
۔ (۴۱۱۵) عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: سُئِلَ کَمِ اعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: مَرَّتَیْنِ ، فَقَالَتْ: عاَئِشَۃُ: لَقَدْ عَلِمَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدِ اعْتَمَرَ ثَلَاثَۃً، سِوَی الَّتِیْ قَرَغہَاَ بِحَجَّۃِ الْوَدَاعِ۔ (مسند احمد:۵۳۸۳)
۔ مجاہد کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ سوال کیا گیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے عمرے کئے تھے؟ تو انہوں نے کہا: دو، لیکن سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو علم ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج والے عمرے کے علاوہ کل تین عمرے کئے تھے۔
Takhreej
(۴۱۱۵) تخریج: صحیح بالشواھد ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۹۹۲، وأخرجہ البخاری: ۱۷۷۵، ۱۷۷۶، ۴۲۵۳، ۴۲۵۴، ومسلم: ۱۲۵۵ مطولا بلفظ: … یا ام المؤمنین! الا تسمعی ما یقول ابوعبد الرحمن؟ یقول: اعتمر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اربعا، احداھن فی رجب؟ فقالت: یرحم اللہ ابا عبد الرحمن، أما انہ لمیعتمر عمرۃ الا وھو شاھدھا، وما اعتمر شیئا فی رجب۔ (انظر: ۵۳۸۳)
Explanation
فوائد: … صحیح بخاری کی ایک حدیث کے مطابق سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چار عمروں کا تذکرہ کیا ہے، اس حدیث میں حدیبیہ اور حجۃ الوداع والے عمروں کا تذکرہ نہیں کیا گیا، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اول الذکر سے روک لیا گیا تھا اور مؤخر الذکر حج کے ساتھ ملا ہوا تھا، دوسرے دو عمروں کی طرح مستقل نہیں تھا۔
4115
Sahih

Chapters

11