TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4111 - اس چیز کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے حج اور کتنے عمرے کیے؟ - عمرہ کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 6 in this chapter
اس چیز کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے حج اور کتنے عمرے کیے؟
۔ (۴۱۱۱) عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا: کَمْ اِعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: أَرْبَعًا، عُمْرَتَہُ الَّتِی صَدَّہُ عَنْہَا الْمُشْرِکُوْنَ فِیْ ذِی الْقَعْدَۃِ، وَعُمْرَتَہُ أَیْضَاً فِیْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِیْ ذِی الْقَعْدَۃِ، وَعُمْرَتَہُ حِیْنَ قَسَمَ غَنِیْمَۃَ حُنَیْنٍ مِنَ الْجِعْرَانَۃِ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ، وَعُمْرَتَہُ مَعَ حَجَّتِہِ۔ (مسند احمد: ۱۳۶۰۰)
۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے عمرے کئے تھے؟ انہوں نے کہا: چار،پہلا وہ عمرہ جس سے مشرکوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو روک دیا تھا، یہ ذی قعدہ میں تھا، دوسرا جو اگلے سال کیا تھا، یہ بھی ذی قعدہ میں تھا، تیسرا جو غزوۂ حنین کی غنیمت کی تقسیم کے وقت جعرانہ سے کیا تھا اور یہ بھی ذی قعدہ میں تھا، اور چوتھا جو آپ نے حجۃ الوداع کے ساتھ کیا تھا۔
4111
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۴۱۱۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۷۸، ۱۷۷۹، ۱۷۸۰، ومسلم: ۱۲۵۳(انظر: ۱۳۵۶۵)

Related Chapters

2,175
1
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے بعد کسی چیز میں تبدیلی کر دینے والے یا کسی چیز کو ایجاد کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
2
نبیذ کی جائز اور حرام اقسام کا بیان نبیذ کی جائز اقسام کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے نبیذ کیسے اور کس چیز سے نبیذ بنائی جاتی تھی
Musnad Ahmad
3
اس چیز کا بیان جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرق نساء بیماری کے لیے تجویز کی
Musnad Ahmad
4
سورۃ النصر اس چیز کا بیان کہ سورۂ نصر، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے اعلان کے لیے نازل ہوئی
Musnad Ahmad
5
اس چیز کی ترغیب کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کے پاس دنیا کی بقدر ضرورت قلیل مقدار تھی
Musnad Ahmad
6
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
Musnad Ahmad
7
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
Musnad Ahmad
8
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس چیز کاانکار کرنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء والی رات کو بیت المقدس میں نماز پڑھی ہے
Musnad Ahmad
9
اسراء و معراج کے بعد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مکہ مکرمہ کی طرف واپس لوٹنا، قریش کو اس چیز کی خبرد ینا اور ان کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جھٹلا دینا
Musnad Ahmad
10
سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فضائل اور اس کا بیان کہ وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں، نیز اس چیز کی وضاحت کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی وجہ سے ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے تین ماہ تک مقاطعہ کر لیا تھا
Musnad Ahmad
11
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اپنی ازواج کے درمیان ہر چیز میں انصاف کرنے اور دن کے کسی حصہ میں سب کے ہاں چکر لگانے کا بیان
Musnad Ahmad
12
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
13
(3) CHAPTER. How many times did the Prophet perform Umra?
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے ہیں
Sahih Bukhari
14
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
15
روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہوئے
Musnad Ahmad
16
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت کو تھامنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
17
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نیند ناقضِ وضو نہیں تھی، اگرچہ وہ لیٹ کر ہوتی
Musnad Ahmad
18
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بعض بیویوں سے اس موضوع سے متعلقہ بیان کی گئی مرویات کا بیان
Musnad Ahmad
19
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان میرے لیے زمین مسجد اور پاک کرنے والی بنائی گئی ہے کا بیان
Musnad Ahmad
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے بعد تعوذ اور دعا کا بیان
Musnad Ahmad
21
سلام کے بعد امام کا لوگوں کی طرف رخ کرنااور صحابہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے برکت حاصل کرنا
Musnad Ahmad
22
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان
Musnad Ahmad
23
وصال سے منع کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس کا بطور خصوصیت جائزہونے کا بیان
Musnad Ahmad
24
صحابہ کے وصال سے باز آنے سے انکار کرنے پر ان کو عبرت سکھانے کے لیےیا ان کے فعل پر انکار کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان کے ساتھ دو دنوں اور دو راتوں تک وصال کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
25
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
26
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حج کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
27
صحابہ کرام کا اس بارے میں اختلاف کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کس جگہ سے تلبیہ پڑھا تھا
Musnad Ahmad
28
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
Musnad Ahmad
29
وہ افراد جن کے نام نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکھے اور وہ افراد کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی مصلحت کی وجہ سے جن کے نام تبدیل کیے
Musnad Ahmad
30
لقب اور ان افراد کا بیان جن کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کنیتیں رکھیں
Musnad Ahmad
31
اس بات کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہید کی وفات پائی
Musnad Ahmad
32
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
Musnad Ahmad
33
سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
34
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
Musnad Ahmad
35
اس نابینا آدمی کی دعا، جس نے اپنی بینائی حاصل کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وسیلہ دیا تھا
Musnad Ahmad
36
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے وجوب کا بیان
Musnad Ahmad
37
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود چھوڑ دینے والے شخص کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
38
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کی فضیلت اور یہ عمل کرنے والے کے اجر کا کئی گناہ تک بڑھنا
Musnad Ahmad
39
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پسندیدہ کھانوں کا ذکر
Musnad Ahmad
40
مشکیزے کی نبیذ اور اس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پینے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اس کو اچھا سمجھنے کا بیان
Musnad Ahmad
41
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خوابوں کا بیان
Musnad Ahmad
42
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خواب میں اللہ تعالی کو دیکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
43
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کا بیان کہ جس نے مجھے نیند میں دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا
Musnad Ahmad
44
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگوٹھی اور اس کا چاندی کے ہونے کا بیان آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نقش کے بارے میں تنبیہ
Musnad Ahmad
45
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا جبریل کا قرآن مجید کا دور کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
46
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بھوک کا واقعہ اور اس معاملے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عظیم معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
47
جنوں کے ایک گروہ کے اسلام لانے، ان کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قرآن سننے کا بیان
Musnad Ahmad
48
غزوۂ تبوک والے سال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حجر وادی سے گزرنا، جس کا تعلق ثمود کی زمین سے ہے
Musnad Ahmad
49
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ولادت باسعادت کا بیان
Musnad Ahmad
50
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رضاعت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دودھ پلانے والیوں اور دائیوںکا ذکر
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

26
Musnad Ahmad
4112
۔ (۴۱۱۱) عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا: کَمْ اِعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: أَرْبَعًا، عُمْرَتَہُ الَّتِی صَدَّہُ عَنْہَا الْمُشْرِکُوْنَ فِیْ ذِی الْقَعْدَۃِ، وَعُمْرَتَہُ أَیْضَاً فِیْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِیْ ذِی الْقَعْدَۃِ، وَعُمْرَتَہُ حِیْنَ قَسَمَ غَنِیْمَۃَ حُنَیْنٍ مِنَ الْجِعْرَانَۃِ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ، وَعُمْرَتَہُ مَعَ حَجَّتِہِ۔ (مسند احمد: ۱۳۶۰۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چار عمرے کئے، ایک عمرۂ حدیبیہ ، دوسرا عمرۂ قضا، تیسرا جعرانہ مقام سے اور چوتھا حج کے ساتھ۔
Musnad Ahmad
4137
۔ (۴۱۳۷) عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا سُرَیْجٌ وَیُوْنُسُ قَالَا ثَنَا حَمَّاٌد یَعْنِی ابْنَ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ الْغَنَوِیِّ عَنْ أَبِی طُفَیْلِ، قَالَ: قُلْتُ لِأبْنِ عَبَّاسٍ: یَزْعُمُ قَوْمُکَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَمَلَ بِالْبَیْتِ، وَأَنَّ ذَالِکَ سُنَّۃٌ، قَالَ: صَدَقُوْا وَکَذَبُوْا، قُلْتُ: وَمَا صَدَقُوْا وَکَذَبُوْا؟ قَالَ: صَدَقُوْا، رَمَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْبَیْتِ، وَکَذَبُوْا ، لَیْسَ بِسُنَّۃٍ، إِنَّ قُرَیْشَاً قَالَتْ زَمَنَ الْحُدَیْبَیِۃ: دَعُوْا مُحَمَّدً وَأَصْحَابَہُ حَتّٰییَمُوْتُوْا مَوْتَ النَّغَفِ، فَلَمَّا صَالَحُوہُ عَلٰی أَنْ یَقْدَمُوْا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ وَیُقِیْمُوْا بِمَکَّۃَ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ، فَقَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْمُشْرِکُوْنَ مِنْ قِبَلِ قُعَیْقِعَانَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَصْحَابِہِ: اُرْمُلُوْا بِالْبَیْتِ ثَلَاثًا۔)) وَلَیْسَ بِسُنَّۃٍ۔ قُلْتُ: وَیَزْعُمُ قَوْمُکَ أَنَّہُ طَافَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ عَلٰی بَعِیْرٍ وَأَنَّ ذَالِکَ سُنَّۃٌ، فَقَالَ: صَدَقُوْا وَکَذَبُوْا، فَقُلْتُ: وَمَا صَدَقُوْا وَکَذَبُوْا؟ فَقَالَ: صَدَقُوْا قَدْ طَافَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ عَلٰی بَعِیْرٍ، وَکَذَبُوْا لَیْسَتْ بِسُنَّۃٍ، کَانَ النَّاسُ لَا یُدْفَعُوْنَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا یُصْرَفُوْنَ عَنْہُ، فَطَافَ عَلَی بَعِیْرٍ لِیَسْمَعُوْا کَلَامَہُ وَلَا تَنَالُہُ أَیْدِیْہِمْ، قُلْتُ: وَیَزْعُمُ قَوْمُکَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَعٰی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃ َوَأَنَّ ذَالِکَ سُنَّۃٌ، قَالَ: صَدَقُوْا، إِنَّ إِبْرَہِیْمَ لَمَا أُمِرَ بِالْمَنَاسِکِ عَرَضَ لَہُ الشَّیْطَانُ عِنْدَ المَسْعٰی فَسَابَقَہُ فَسَبَقَہُ إِبْرَاہِیْمُ، ثُمَّ ذَہَبَ بِہِ جِبْرِیْلُ إِلٰی جَمْرَۃِ الْعَقَبَۃِ فَعَرَضَ لَہُ شَیْطَانٌ (وَفِی لَفْظٍ الشَّیْطَانُ) فَرَمَاہُ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ حَتَّی ذَہَبَ، ثُمَّ عَرَضَ لَہُ عِنْدَ الْجَمْرَۃِ الْوَسْطٰی فَرَمَاہُ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ، قَالَ: قَدْ تَلَّہُ لِلْجَبِیْنِ(وَفِیْ لَفْظٍ وَثَمَّ تَلَّہُ لِلْجَبِیْنِ) وَعَلٰی إِسْمَاعِیْلَ قَمِیْصٌ أَبْیَضُ، وَقَالَ: یَا أَبَتِ إِنَّہُ لَیْسَ لِی ثََوْبٌ تُکَفِّنُنِی فِیْہِ غَیْرَہُ فَاخْلَعْہُ حَتّٰی تُکَفِّنَنِیْ فِیْہِ، فَعَالَجَہُ لِیَخْلَعَہُ فَنُوْدِیَ مِنْ خَلْفِہِ أَنْ یَا إِبْرَاہِیْمْ! قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا فَالْتَفَتَ إِبْرَاہِیْمُ فَإِذَا ہُوَ بِکَبْشٍ أَبْیَضَ أَقْرَنَ أَعْیَنَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَقَدْ رَأَیْتُنَا نَتَّبَّعُ ہٰذَا الضَّرْبَ مِنَ الْکِبَاشِ، (قَالَ) ثُمَّ ذَہَبَ بِہِ جِبْرِیْلُ إِلَی الْجَمْرَۃِ الْقُصْوٰی، فَعَرَضَ لَہُ الشَّیْطَانُ فَرَمَاہُ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ حَتّٰی ذَہَبَ، ثُمَّ ذَہَبَ بِہِ جِبْرِیْلُ إِلٰی مِنًی قَالَ: ہٰذَا مِنًی (وَفِیْ لَفْظٍ: ہَذَا مُنَاخُ النَّاسِ) ثُمَّ أَتٰی بِہِ جَمْعًا، فَقَالَ: ہٰذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ، ثُمَّ ذَہَبَ بِہِ إِلٰی عَرَفَۃَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ہَلْ تَدْرِی لِمَ سُمِّیَتْ عَرَفَۃُ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: إِنَّ جِبْرِیْلَ قَالَ لإِبْرَاہِیْمَ: عَرَفْتَ، (وَفِیْ لَفْظٍ: ہَلْ عَرَفْتَ)؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَمِنْ ثَمَّ سُمِّیَتْ عَرَفَۃَ، ثُمَّ قَالَ: ہَلْ تَدْرِیْ کَیْفَ کَانَتِ التَّلْبِیَۃُ؟ قُلْتُ: وَکَیْفَ کَانَتْ؟ قَالَ: إِنَّ إِبْرَاہِیْمَ لَمَا أُمِرَ أَنْ یُؤَذِّنَ فِیْ النَّاسِ بِالْحَجِّ خَفَضَتْ لَہُ الْجِبَالُ رُئُ ْوسَہَا وَرُفِعَتْ لَہُ الْقُرٰی فَأَذَّنَ فِیْ النَّاسِ بِالْحَجِّ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۷)
۔ ابوطفیل کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: ٓپ کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ کا طواف کرتے وقت رمل کیا تھا، لہٰذا یہ عمل سنت ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ان کییہ بات کسی حد تک درست بھی اور کسی حد تک غلط بھی، میں نے کہا: اس کا کیا مطلب کہ درست بھی ہے اور غلط بھی؟ انھوں نے کہا:ان کییہ بات تو درست ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ کا طواف کرتے وقت رمل کیا تھا، البتہ اس عمل کو سنت کہنا درست نہیں،یہ عمل سنت نہیں ہے، اس کی تفصیلیہ ہے کہ قریشیوں نے (توہین کرتے ہوئے) حدیبیہ کے دنوں میں کہا تھا: محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم )اور ان کے دوستوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہیہ لوگ اپنی موت آپ مر جائیں، جب قریش کا آپ سے اس بات پر معاہدہ ہو گیا کہ مسلمان آئندہ سال آ کر مکہ میں تین دن قیام کر سکیں گے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے، مشرکینِ مکہ قعیقان پہاڑ کی جانب تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ سے فرمایا: بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے تین چکروں میں رمل کرو۔ لہٰذا یہ عمل سنت نہیں ہے۔ ابو طفیل کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان سعی اونٹ پر کی تھی اور یہ عمل سنت ہے، سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ان کییہ بات بھی کچھ صحیح اور کچھ غلط ہے۔ ان کا یہ کہنا تو درست ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صفا و مروہ کی سعی اونٹ پر کی تھی، لیکن ان کا یہ کہنا غلط ہے کہ یہ عمل سنت ہے، اصل بات یہ ہے کہ لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آگے پیچھے سے ہٹائے نہیں جاتے تھے، (اور وہ خود بھی آپ سے الگ اور دور نہیں ہوتے تھے) اس لئے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اونٹ پر سعی کی تھی، تاکہ لوگوں کے ہاتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک نہ پہنچ سکیں اور وہ آسانی سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات بھی سن لیں۔ ابوطفیل کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صفا و مروہ کے مابین دوڑے تھے اور یہ عمل سنت ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ان کییہ بات درست ہے، جب ابراہیم علیہ السلام کو مناسک حج ادا کرنے کا حکم ہوا تو سعی کے موقعہ پر شیطان ان کے سامنے آ گیا اور آگے نکل گیا، لیکن پھر ابراہیم علیہ السلام دوڑ کر اس سے آگے نکل گئے، اس کے بعد جبریل علیہ السلام ، ابراہیم علیہ السلام کو جمرۂ عقبہ کے پاس لے گیا،وہاں شیطان ان کے سامنے آیاتو انھوںنے اسے سات کنکر مارے، سو وہ چلا گیا، پھرجب جمرۂ وسطیٰ کے قریب ان کے سامنے آیا تو انہوں نے دوبارہ اسے سات کنکر مارے، اس موقعہ پر ابراہیم علیہ السلام نے اسمٰعیل علیہ السلام کو ان کے پہلو کے بل لٹایا، وہ سفید قمیض پہنے ہوئے تھے، انہوں نے کہا: ابا جان! اس قمیض کے علاوہ میرا کوئیکپڑا ایسا نہیں جس میں آپ مجھے کفن دے سکیں گے، اس لیے اس قمیض کو اتار لیجئے تاکہ آپ مجھے اس میں کفن دے سکیں، جب ابراہیم، اسمٰعیلm کی قمیض اتارنے لگے تو ان کے پیچھے سے یہ آواز آئی: ابراہیم! آپ نے خواب سچا کر دکھایا ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے مڑ کر ادھر دیکھا تو وہاں ایک سفید سینگ دار خوبصورت فراخ چشم مینڈھا موجود تھا۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:ہم قربانی کے لئے اسی قسم کے مینڈھے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے بعد جبریل، ابراہیمm کو جمرۂ قصویٰ کی طرف لے گئے، وہاں شیطان ایک مرتبہ پھر سامنے آیا، ابراہیم علیہ السلام نے اسے سات کنکر مارے، سووہ بھاگ گیا، اس کے بعد ابراہیم علیہ السلام کو جبریل علیہ السلام منیٰ کی طرف لے گئے اور بتلایا کہ یہ منیٰ ہے، دوسری روایت میں ہے: انہوں نے بتلایاکہیہ لوگوں کی قیام گاہ ہے، اس کے بعد جبریل، ابراہیمm کو مزدلفہ میں لے گئے اور بتلایا کہ یہ مشعرِ حرام ہے، اس کے بعد وہ انہیں عرفہ میں لے گئے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس نے پوچھا: جانتے ہو کہ عرفہ کی وجۂ تسمیہ کیا ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں۔ انھوں نے کہا: جب جبریل، ابراہیمm کو یہاں لے آئے تو ان سے پوچھا: کیا آپ یہ سب امور جان گئے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اس وجہ سے اس وادی کا نام عرفہ رکھا گیا۔اس کے بعد سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: تم جانتے ہو کہ تلبیہ کی ابتدا کیسے ہوئی؟ میں نے کہا: جی کیسے ہوئی؟ انھوں نے کہا: جب ابراہیم علیہ السلام کو حکم ہوا کہ وہ لوگوں میں حج کا اعلان کریں تو ان کی آواز پر پہاڑوں نے سر جھکا دیئے اور تمام آبادیاں بلند کر دی گئیں تب انہوںنے لوگوں میں حج کا اعلان کیا۔
Musnad Ahmad
521
۔ (۵۲۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ عَنْ سَلْمَانَ الْفَاِرسیِّؓ قَالَ: قَالَ لَہُ الْمُشْرِکُوْنَ: اِنَّا نَرٰی صَاحِبَکُمْ یُعَلِّمُکُمْ حَتّٰی یُعَلِّمَکُمُ الْخِرَائَ ۃَ، قَالَ: أَجَلْ، اِنَّہُ یَنْہَانَا أَنْ یَسْتَنْجِیَ أَحَدُنَا بِیَمِیْنِہِ أَوْ یَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃَ وَیَنْہَانَا عَنِ الرَّوْثِ وَالْعِظَامِ وَقَالَ: ((لَا یَسْتَنْجِیْ أَحَدُکُمْ بِدُوْنِ ثَلَاثَۃِ أَحْجَارٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۱۰۹)
سیدنا سلمان فارسی ؓ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ مشرکوں نے ان سے مذاق کرتے ہوئے کہا: ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارا نبی تو تمہیں قضائے حاجت کے آداب کی بھی تعلیم دیتا ہے، انھوں نے آگے سے کہا: جی بالکل، بیشک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں منع کیا ہے کہ کوئی آدمی دائیں ہاتھ سے استنجا کرے یا قبلہ رخ ہو کو قضائے حاجت کرے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں لید اور ہڈی سے استنجا کرنے سے منع کیا ہے، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کوئی آدمی تین پتھروں سے کم سے استنجا نہ کرے۔
Musnad Ahmad
1785
۔ (۱۷۸۵) عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِیْ عَنِ افْتِرَاشِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخِذَہُ الْیُسْرٰی فِی وَسَطِ الصَّلاَۃِ وَفِی آخِرِھَا وَقُعُودِہِ عَلٰی وَرِکِہِ الْیُسْرٰی وَوَضْعِہِ یَدَہُ الیُسْرٰی عَلٰی فَخِذَہِ الْیُسْرٰی وَنَصْبِہِ قَدَمَہُ الْیُمْنٰی وَوَضْعِہِ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذَہِ الْیُمْنٰی وَنَصْبِہِ إِصْبَعَہُ السَّبَابَۃَیُوَحِّدُ بِہَا رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ عِمْرَانُ ابْنُ أَبِیْ أَنَسٍ أَخُوْ بَنِیْ عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ وَکَانَ ثِقَۃً عَنْ أَبِی الْقَاسِمِ مِقْسَمٍ مَوْلٰیعَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ حَدَّثَنِیِْ رَجُلٌ مِنْ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ قَالَ صَلَّیْتُ فِیْ مَسْجِدِ بَنِیْ غِفَارٍ، فَلَمَّا جَلَسْتُ فِیْ صَلاَتِیْ اِفْتَرَشْتُ فَخِذِیْ الْیُسْرٰی وَنَصَبْتُ السَّبَّابَۃَ، قَالَ: فَرَآنِیْ خُفَافُ بُنْ إِیِمَائِ ابْنِ رَحَضَۃَ الْغِفَارِیُّ وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا أَصْنَعُ ذٰلِکَ، قَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفْتُ مِنْ صَلاَتِیْ، قَالَ لِیْ: أَیْ بُنَیَّ لِمَ نَصَبْتَ إِصْبَعَکَ ھٰکَذَا؟ قَالَ: وَمَا تُنْکِرُ رَأَیْتُ النَّاسَ یَصْنَعُ ذٰلِکَ؟ قَالَ: فَإِنَّکَ أَصَبْتَ، إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا صَلّٰییَصْنَعُ ذٰلِکَ، فَکَانَ الْمُشْرِکُوْنَ یَقُوْلُوْنَ إِنَّمَا یَصْنَعَ ھٰذَا مُحَمَّدٌ بِإِصْبَعِہِ یَسْحَرُ بِہَا وَکَذَبُوْا، إِنَّمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ ذٰلِکَ یُوَحِّدُ بِہَا رَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۸۸)
ابن اسحاق کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نماز کے درمیان اور اس کے آخر میں بائیں ران کو بچھانے، دائیں قدم کو کھڑا رکھنے، دائیں ہاتھ کو ران پر رکھنے اور انگلی کے ساتھ ربّ تعالیٰ کی توحید بیان کرنے کے بارے میں مجھے عمران بن ابو انس نے بیان کیا، … … مدینہ منورہ کے ایک باشندے نے کہا: میں نے مسجد بنو غفار کی مسجد میں نماز پڑھی، جب میں بیٹھا تو بائیں ران کو بچھا دیا اور انگشت ِ شہادت کو گاڑھ دیا، مجھے صحابی رسول خفاف بن ایماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس طرح کرتے ہوئے دیکھا، جب میں نماز سے فارغ ہواتو انھوں نے مجھے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! تو اس طرح اپنی انگلی کو کیوں گاڑھا ہوا ہے؟ میں نے کہا: آپ کون سے چیز کا انکار کرنا چاہتے ہیں، بس میں نے لوگوں کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا؟ انھوں نے کہا: بیشک تو نے سنت کے مطابق کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب نماز پڑھتے تھے تو اسی طرح کرتے تھے اور ربّ تعالیٰ کی توحید بیان کرتے تھے، جبکہ مشرکین کہتے تھے: محمد اپنی انگلی سے اس طرح کر کے جادو کرتا ہے، اور انہوں نے جھوٹ بولا ہے۔
Musnad Ahmad
2948
۔ (۲۹۴۸) عَنْ أَبِیْ عَیَّاشٍ الزُّرَقِی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعُسْفَانَ فَاسْتَقْبَلَنَا الْمُشْرِکُوْنَ عَلَیْہٖمْ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیْدِ وَہُمْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ فَصَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّہْرَ فَقَالُوْا: قَدْ کَانُوْا عَلٰی حَالٍ لَوْ أَصَبْنَا غِرَّتَہُمْ، قَالُوْا: تَأْتِیْ عَلَیْہِمُ الْآنَ صَلَاۃٌ ہِیَ أَحَبُّ إِلَیْہِمْ مِنْ أَبْنَائِہِمْ وَأَنْفُسِہِمْ، ثُمَّ قَالَ: فَنَزَلَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ بِہٰذِہِ الْآیَاتِ بَیْنَ الظَّہْرِ وَالْعَصْرِ {وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَأَقَمْتَ لَہُمْ الصَّلَاۃَ …} قَالَ: فَحَضَرَتْ فَأَمَرَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأخَذُوْا السَّلَاحَ، قَالَ: فَصَفَفْنَا خَلْفَہُ صَفَّیْنِ، قَالَ: ثُمَّ رَکَعَ فَرَکَعْنَا جَمِیْعًا، ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعْنَا جَمِیْعًا، ثُمَّ سَجَدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالصَّفِّ الَّذِیْ یَلَیْہِ وَالآخَرُوْنَ قِیَامٌ یَحْرُسُوْنَھُمْ فَلَمَّا سَجَدُو وَقَامُوْا جَلَسَ اْلآخَرُوْنَ فَسَجَدُوْا فِی مَکَانِھِمْ ثُمَّ تَقَدَّمَ ھٰؤُلَائِ إِلَی مَصَافِّ ھٰؤُلَائِ وَجَائَ ھٰؤُلَائِ إِلٰی مَصَافِّ ھٰؤُلَائِ، قَالَ: ثُمَّ رَکَعَ فَرَکَعُوا جَمِیْعًا، ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوْا جَمِیْعًا، ثُمَّ سَجَدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالصَّفُّ الَّذِی یَلِیْہِ، وَالآخَرُوْنََ قِیَامٌ یَحْرُسُوْنَھُمْ، فَلَمَّا جَلَسَ جَلَسَ الآخَرُوْنَ فَسَجَدُوْ فَسَلَّمَ عَلَیْھِمْ ثُمَّ انْصَرَفَ، قَالَ: فَصَلَّاھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی اٰلِہِ وَسَلَّمَ مَرَّتَیْنِ، مَرَّۃً بِعُسْفَانَ، وَمَرَّۃً بَأَرْضِ بَنِی سُلَیْمٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۹۶)
سیّدنا ابو عیاش زرقی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ عسفان کے مقام پر تھے، مشرکین ہمارے مدمقابل آ گئے، ان کی قیادت خالد بن ولید کر رہے تھے، وہ لوگ ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، وہ لوگ آپس میں کہنے لگے:یہ مسلمان نماز میں مشغول تھے، کاش کہ ہم ان کی غفلت سے فائدہ اٹھا لیتے۔ پھر انھوں نے کہا: ابھی کچھ دیر بعد ان کی ایک اور نماز کاوقت ہونے والا ہے، وہ ان کو اپنی جانوں اور اولادوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔اسی وقت ظہر اور عصر کے درمیان جبریل علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہوئے۔ {وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَأَقَمْتَ لَہُمْ الصَّلَاۃَ …} (جب تو ان میں ہو، پس ان کے لیے نماز قائم کرے…۔) جب عصر کاوقت ہوا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ صحابہ کرام اسلحہ لے کر کھڑے ہوں، ہم نے آپ کے پیچھے دو صفیں بنا لیں، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا تو ہم سب نے رکوع کیا اور جب آپ رکوع سے اٹھے تو ہم بھی اٹھ گئے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سجدہ کیا تو صرف آپ کے پیچھے والی پہلی صف والوں نے سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہے۔ جب وہ لوگ سجدے کرکے کھڑے ہوئے تو دوسری صف والوں نے بیٹھ کر اپنی اپنی جگہ سجدہ کیا، پھر (دوسری رکعت کے شروع میں) اگلی صف والے پیچھے اور پچھلی صف والے آ گئے۔ پھر اسی طرح سب نمازیوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رکوع کیا اور رکوع سے سر اٹھایا، پھر جب آپ نے سجدہ کیا تو پہلی صف والوں نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہے، جب آپ اور پہلی صف والے لوگ سجدہ کرکے بیٹھ گئے تو دوسری صف والوں نے بیٹھ کر سجدہ کر لیا (اور سب تشہد میں بیٹھ گئے، پھر) سب نے مل کر سلام پھیر ا اور نماز سے فارغ ہوئے۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس انداز میں دو دفعہ نماز پڑھائی، ایک دفعہ عسفان میں اور دوسری دفعہ بنو سلیم کے علاقہ میں۔
Musnad Ahmad
2959
۔ (۲۹۵۹) عَنْ أَبِی ہُرَْیرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَزَلَ بَیْنَ ضَجْنَانَِ وَعُسْفَانَ فَقَالَ الْمُشْرِکُوْنَ: إِنَّ لَہُمْ صَلَاۃً ہِیَ أَحَبُّ إِلَیْہِمْ مِنْ آبَائِہِمْ وَاَبْنَائِہِمْ وَہِیَ الْعََصْرُ، فَأَجْمِعُوْا أَمْرَکُمْ فَمِیْلُوْا عَلَیْہِمْ مَیْلَۃً وَاحِدَۃً، وَأِنَّ جِبْرِیْلَ علیہ السلام أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَمَرَہُ أَنْ یَقْسِمَ أَصْحَابَہٗ شَطْرَیْنِ فَیُصَلِّیَ بِبَعْضِہِمْ، وَتَقُوْمُ الطَّائِفَۃُ اْلأُخْرٰی وَرَائَ ہُمْ، وَلْیَأْخُذُوا حِذْرَہُمْ وَأَسْلِحَتَہُمْ، ثُمَّ تَأْتِیْ الأُخْرَی فَیُصَلُّوْنَ مَعَہُ وَیَأْخُذُ ہٰؤُلَائِ حِذْرَہُمْ وَأَسْلِحَتَہُمْ لِتَکُوْنَ لَہُمْ رَکْعَۃٌ رَکْعَۃٌ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَانِ۔ (مسند احمد: ۱۰۷۷۵)
ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ضجنان اور عسفان کے درمیان پڑاؤ ڈالا۔ مشرکین نے کہا:مسلمانوں کو عصر کی نماز اپنے آباء و اجداد اور اولادسے بھی بڑھ کر محبوب ہے۔ تیاری مکمل کر لو، ان پر یکدم حملہ کرناہے۔ اُدھر جبریل علیہ السلام نے آ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حکم دیا کہ آپ اپنے صحابہ کر دو گروہوں میں تقسیم کر دیں، ایک گروہ کو نماز پڑھائیں اوردوسرا گروہ ان کے پیچھے اپنی بچاؤ کی چیزیں اور اسلحہ پکڑ کر کھڑا ہو جائے، پھر وہ دوسرا گروہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھے اور یہ گروہ اپنی بچاؤ کی چیزیں اور اسلحہ پکڑ لے، اس طرح لوگوں کی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک ایک رکعت ہو جائے گی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دو رکعتیں ہو جائیں گی۔
Musnad Ahmad
2965
۔ (۲۹۶۵)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی اِذَا کُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ قَالَ کُنَّا إِذَا أَتَیْنَا عَلٰی شَجَرَۃٍ ظَلِیْلَۃٍ تَرَکْنَاہَا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَائَ رََجُلٌ مِنَ الْمُشْرِکُوْنَ، وَسَیْفُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُعَلَّقٌ بَشَجَرَۃٍ فَأَخَذَ سَیْفَ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاخْتَرَطَہُ، ثُمَّ قَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَتَخَافُنِی؟ قَالَ: ((لَا۔)) قَالَ: فَمَنْ یَمْنَعُکَ مِنِّی؟ قَالَ: ((اَللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ یَمْنَعُنِی مِنْکَ)) فَتَہَدَّدَہُ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَغْمَدَ السَّیْفَ وَعَلَّقَہُ، فَنُوْدِیَ بِالصَّلَاۃِ، فَصَلّٰی بِطَائِفَۃٍ رَکْعَتَیْنِ وَتَأَخَّرُوْا وَصَلّٰی بِالطَّائِفَۃِ الْأُخْرٰی رَکْعَتَیْنِ فَکَانَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْبَعُ رَکَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَکْعَتَانِ۔ (مسند احمد: ۱۴۹۹۰)
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چلے، یہاں تک کہ ذات الرقاع مقام تک پہنچ گئے، جب ہم کسی سایہ دار درخت کے پاس آتے تو اسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے چھوڑ دیتے۔ تو ایک مشرک آیا، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تلوار درخت کے ساتھ لٹک رہی تھی،اس نے یہ تلوار پکڑی اور اسے سونت کر کہا: کیا آپ مجھ سے ڈرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ وہ بولا: تو پھر اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ صحابۂ کرام اس کو جھڑکنے لگے، پس اس نے تلوار میان میں ڈالی اور اسے لٹکا دیا، اتنے میں نماز کے لیے اذان دے دی گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں، پھر وہ لوگ چلے گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چار رکعات ہو گئیں اور لوگوں کی دو دو۔
Musnad Ahmad
4120
۔ (۴۱۲۰)عَنْ مُحَرِّشٍ الْکَعْبِیِّ الْخُزَاعِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ لَیْلًا مِنَ الْجِعْرَانَۃِ، حِیْنَ أَمْسٰی مُعْتَمِرًا فَدَخَلَ مَکَّۃَ لَیْلًا فَقَضٰی عُمْرَتَہُ، ثُمَّ خَرَجَ مِنْ تَحْتِ لَیْلَتِہِ فَأَصْبَحَ بِالْجِعْرَانَۃِ کَبَائِتٍ حَتّٰی إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ خَرَجَ مِنَ الْجِعْرَانَۃِ فِیْ بَطْنِ سَرِفَ، حَتّٰی جَامَعَ الطَّرِیْقَ طَرِیْقَ الْمَدِیْنَۃِ بِسَرِفَ، قَالَ مُحَرِّشٌ: فَلِذٰلِکَ خَفِیَتْ عُمْرَتُہُ عَلٰی کَثِیْرٍ مِنَ النَّاسِ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ:) فَنَظَرْتُ إِلٰی ظَھْرِہِ کَأَنَّہُ سَبِیْکَۃُ فِضَّۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۰۴)
۔ سیدنا محرش کعبی خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عمرہ کرنے کے لیے رات کو جعرانہ سے روانہ ہوئے اوررات کو مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ ادا کیا، پھر اسی رات کو وہاں سے نکل آئے اور صبح کے وقت جعرانہ میں تھے، ایسے لگ رہا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جعرانہ میں ہی رات گزاری ہے، پھر جب سورج ڈھل گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جعرانہ سے وادیٔ سرف کی طرف نکلے اور سرف سے نکلنے والے مدینہ منورہ والے راستے پر آ گئے۔ سیدنا محرش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس عمرہ کی اطلاع نہ ہو سکی، ایک روایت میں ہے: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پشت مبارک کی طرف دیکھا گویا وہ (صفائی ستھرائی میں) چاندی کی لڑی تھی۔
Musnad Ahmad
4255
۔ (۴۲۵۵) عَنْ عَطَائٍ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّۃَ أَخْبَرَہُ أَنَّ یَعْلٰی کَانَ یَقُوْلُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: لَیْتَنِی أَرَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَیُنْزَلُ عَلَیْہِ، قَالَ: فَلَمَّا کَانَ بِالْجِعْرَانَۃِ وَعَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَوْبٌ قَدْ أُظِلَّ بِہِ، مَعَہُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِہِ، مِنْہُمْ عُمَرُ إِذْ جَائَ ہُ رَجُلٌ، عَلَیْہِ جُبَّۃٌ مُتَضَمِّخًا بِطِیْبٍ (وَفِیْ لَفْظٍ: وَہُوَ مُتَضَمِّخٌ بِخَلُوْقٍ وَعَلَیْہِ مُقَطَّعَاتٌ) قَالَ: فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ تَرٰی فِی رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَۃٍ فِیْ جُبَّۃٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِطِیْبٍ فَنَظَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَاعَۃً ثُمَّ سَکَتَ، فَجَائَ ہُ الْوَحْیُ، فَأَشَارَ عُمَرُ إِلٰییَعْلٰی أَنْ تَعَالَ۔ فَجَائَ ہُ یَعْلٰی فَأَدْخَلَ رَأْسَہُ (وَفِیْ لَفْظٍ قَالَ: فَأَدْخَلْتُ رَأْسِی مَعَہُمْ فِیْ السِّتْرِ) فَإِذَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُحْمَرُّ الْوَجْہِ یَغِطُّ کَذَالِکَ سَاعَۃً ثُمَّ سُرِّیَ عَنْہُ، فَقَالَ: ((أَیْنَ الَّذِیْ سَأَلَنِی عَنِ الْعُمْرَۃِ آنِفًا؟)) فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ فَأُتِیَ بِہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَّا الطِّیْبُ الَّذِیْ بِکَ فَاغْسِلْہُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَأَمَّا الْجُبْۃُ، فَانْزِعْہَا ثُمَّ اصْنَعْ فِیْ عُمْرَتِکَ کَمَا تَصْنَعُ فِیْ حَجَّتِک۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۱۲)
۔ صفوان بن یعلی بن امیہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنایعلی، سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا کرتے تھے کہ میری خواہش ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہو تو میں اس کیفیت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھوں۔ بعد میں ایک دن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جعرانہ مقام میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اوپر ایک کپڑے سے سایہ کیا گیا تھا، صحابہ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی موجود تھے، اسی دوران ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آیا، جبکہ اس نے ایک جبہ پہنا ہوا تھا اور اس سے خوشبو آ رہی تھی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے جس نے اچھی طرح خوشبو ملنے کے بعد جبہ میں عمرہ کا احرام باندھا ہو؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ دیر اس کی طرف دیکھا اور پھر خاموش ہو گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی کا نزول شروع ہو گیا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنایعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف اشارہ کیا کہ ادھر آئو، چنانچہ سیدنایعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور اپنا سر کپڑے کے اندر داخل کر لیا، انھوں نے دیکھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرۂ مبارک سرخ ہو رہا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خراٹے لے رہے تھے، کچھ دیریہی کیفیت رہی، بعد ازاںیہ زائل ہو گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ابھی عمرہ کے بارے میں پوچھ رہا تھا، وہ کہاں ہے؟ جب اس شخص کو تلاش کرکے لایا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم پر جو خوشبو لگی ہوئی ہے، اسے تین دفعہ اچھیطرح دھو ڈالو، اور یہ جبہ اتار دو اور عمرہ کے لئے باقی سارے کام اسی طرح کرو جیسے حج میں کرتے ہو۔