TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں - مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں - عمرہ کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 10 of عمرہ کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 10 of 11 · 8 Hadith
۔ (۴۱۲۹) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ: قَرَأْتُ عَلٰی أَبِی قُرَّۃَ مَوْسَی بْنِ طَارِقٍ قَالَ: قَالَ مَوْسَی بْنُ عُقْبَۃَ وَقَالَ نَافِعٌ، کَانَ عَبْدُاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ عُمَرَ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما إِذَا صَدَرَ مِنَ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَۃِ أَنَاخَ بِالْبَطْحَائِ الَّتِی بِذِی الْحُلَیْفَۃِ (وَأَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ) حَدَّثَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُعَرِّسُ بِہَا حَتّٰییُصَلِّیَ صَلَاۃَ الصُّبْحِ۔ (مسند احمد: ۵۵۹۴)
۔ جنابِ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب حج یا عمرہ کے بعد واپس لوٹتے تو ذوالحلیفہ کے قریب بطحاء میں ضرور ٹھہرتے اور کہتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہاں رات بسر کیا کرتے تھے، اور اسی مقام پر نماز فجر ادا کرتے تھے۔
4129
Sahih
۔ (۴۱۳۰) قَالَ مُوْسٰی (وَأَخْبَرَنِیْ سَالِمٌ) أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ فِیْ مُعَرَّسِہِ فَقِیْلَ لَہُ إِنَّکَ فِی بَطْحَائَ مُبَارَکَۃٍ۔ (مسند احمد: ۵۵۹۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بطحاء میں رات بسر کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خواب میں بتلایا گیا کہ آپ بابرکت وادیٔ بطحاء میں ہیں۔
Takhreej
(۴۱۳۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۳۵، ۲۳۳۶، ومسلم: ۱۳۴۶
4130
Sahih
۔ (۴۱۳۱) قَالَ: وَقَالَ: (حَدَّثَنَا نَافِعٌ) أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی عَنْدَ الْمَسْجِدِ الصَّغِیْرِ الَّذِیْ دُوْنَ الْمَسْجِدِ الَّذِیْیُشْرِفُ عَلَی الرَّوْحَائِ۔ (مسند احمد: ۵۵۹۶)
۔ عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے روحاء سے اوپر والی مسجد سے ہٹ کر چھوٹی مسجد کی جگہ پر نماز ادا کی تھی۔
Takhreej
(۴۱۳۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۸۵(انظر: ۵۵۹۶)
4131
Sahih
۔ (۴۱۳۲) قَالَ: (وَقَالَ: نَافِعٌ) إِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَنْزِلُ تَحْتَ سَرْحَۃٍ ضَخْمَۃٍ دُوْنَ الرُّوَیْثَۃِ عَنْ یَمِیْنِ الطَّرِیْقِ فِیْ مَکَانٍ بَطْحٍ سَہْلٍ حَیْثُیُفْضٰی مِنَ الْأَکَمَۃِ دُوْنَ بَرِیْدِ الرُّوَیْثَۃِ بِمِیْلَیْنِ، وَقَدِ انْکَسَرَ أَعْلاَہَا وَہِیَ قَائِمَۃٌ عَلٰی سَاقٍ۔ (مسند احمد: ۵۵۹۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم راستہ کی دائیں جانب رویثہ سے دو میل ہٹ کر کنکروں والی کشادہ اور نرم وادییا میدان میں اس بڑ ے درخت کے نیچے تشریف رکھا کرتے تھے، جس کا اوپر کا حصہ ٹوٹ گیا ہے اور اب صرف تنا باقی رہ گیا ہے۔
Takhreej
(۴۱۳۲) أخرجہ البخاری: ۴۸۷(انظر: ۵۵۹۷)
4132
Sahih
۔ (۴۱۳۳) (وَقَالَ نَافِعٌ) إِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی مِنْ وَرَائِ الْعَرْجِ، وَأَنْتَ ذَاہِبٌ عَلٰی رَأْسِ خَمْسَۃِ أَمْیَالٍ مِنَ الْعَرْجِ فِیْ مَسْجِدٍ إِلٰی ہَضْبَۃٍ، عِنْدَ ذَالِکَ الْمَسْجِدِ قَبْرَانِ أَوْ ثَلَاثَۃٌ، عَلَی الْقُبُوْرِ رَضْمٌ مِنْ حِجَارَۃٍ عَلَییَمِیْنِ الطَّرِیْقِ عِنْدَ سَلِمَاتِ الطَّرِیْقِ، بَیْنَ أُوْلٰئِکَ السَّلِمَاتِ کَانَ عَبْدُ اللّٰہِ یَرُوْحُ مِنَ الْعَرْجِ بَعْدَ أَنْ تَمِیْلَ الشَّمْسُ بِالْہَاجِرَۃِ، فَیُصَلِّی الظُّہْرَ فِی ذَالِکَ الْمَسْجِد۔ (مسند احمد: ۵۵۹۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرج سے آگے نماز پڑھی تھی، اس کی تفصیلیہ ہے کہ جب تم عرج سے پانچ میل چلوتو ٹیلہ والی مسجد آئے گی، اس مسجد کے پاس دو تین قبریں بھی ہیں، ان قبروں پر بڑے بڑے پتھر پڑے ہیں، وہاں راستہ کی دائیں جانب کچھ چٹانیںہیں، سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان چٹانوں کے بیچ میں سے عرج سے سورج ڈھلنے کے بعد روانہ ہوتے تھے، اور اس مسجد کی جگہ پر نمازِ ظہر ادا کرتے تھے۔
Takhreej
(۴۱۳۳) أخرجہ البخاری: ۴۸۸(انظر: ۵۵۹۸)
4133
Sahih
۔ (۴۱۳۴) (وَقَالَ نَافِعٌ): إِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَزَلَ تَحْتَ سَرْحَۃٍ (وَفِیْ لَفْظٍ: سَرَحَاتٍ) عَنْ یَسَارِ الطَّرِیْقِ فِیْ مَسِیْلٍ دُوْنَ ہَرْشٰی، ذَالِکَ الْمَسِیْلُ لَاصِقٌ عَلٰی ہَرْشٰی، (وَفِیْ لَفْظٍ: لَاصِقٌ بِکُرَاعِ ہَرْشَا) بَیْنَہُ وَبَیْنَ الطَّرِیْقِ قَرِیْبٌ مِنْ غَلْوَۃِ سَہْمٍ۔ (مسند احمد: ۵۵۹۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے راستہ کی داہنی جانب ھرشا سے ہٹ کر پانی کی گزر گاہ میں ایک بڑے درخت کے پاس قیام فرمایا، پانی کییہ گزر گاہ ھرشا سے متصل ہے۔ (ایک روایت کے مطابق ہرشا کے کنارے کے ساتھ مل گئی ہے) اس کے اور راستہ کے درمیانایک تیر کی پھینک کے برابر مسافت ہے۔
Takhreej
(۴۱۳۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۸۹(انظر: ۵۵۹۹)
4134
Sahih
۔ (۴۱۳۵) (وَقَالَ نَافِعٌ) إِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَنْزِلُ بِذِی طُوًی،یَبِیْتُ بِہِ حَتّٰییُصَلِّیَ صَلَاۃَ الصُّبْحِ حِیْنَ قَدِمَ إِلٰی مَکَّۃَ، وَمُصَلّٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَالِکَ عَلَی أَکَمَۃٍ غَلِیْظَۃٍ لَیْسَ فِیْ الْمَسْجِدِ الَّذِیْ بُنِیَ ثَمَّ وَلٰکِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَالِکَ عَلَی أَکَمَۃٍ خَشِنَۃٍ غَلِیْظَۃٍ۔ (مسند احمد: ۵۶۰۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لاتے تو ذی طوی میں رات بسر کرتے اور وہیں نمازِ فجر ادا کرتے، جس مقام پراس وقت مسجد تعمیر کی گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہاں نہیں، بلکہ اس سے ذرا ہٹ کر نیچے کی طرف پکے ٹیلہ پر نماز ادا کی تھی۔
Takhreej
(۴۱۳۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۹۱، ۱۷۶۷، ومسلم: ۱۲۵۹(انظر: ۵۶۰۰)
4135
Sahih
۔ (۴۱۳۶) (قَالَ وَأَخْبَرَنِی) أَنْ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِسْتَقْبَلَ فُرْضَتَیِ الْجَبْلِ الطَّوِیْلِ الَّذِیْ قِبَلَ الْکَعْبَۃِ فَجَعَلَ الْمَسْجِدَ الَّذِیْ بُنِیَیَسَارَ الْمَسْجِدِ بِطَرَفِ الْأَکَمَۃِ وَمُصَلّٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَسْفَلَ مِنْہُ عَلَی الْأَکَمَۃِ السْوْدَائِ یَدَعُ مِنَ الْأَکَمَۃِ عَشْرَۃَ أَذْرُعٍ أَوْ نَحْوَہَا ، ثُمَّ یُصَلِّی مُسْتَقْبِلَ الْفُرْضَتَیْنِ مِنَ الْجَبَلِ الطَّوِیْلِ الَّذِیْ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْکَعْبَۃِ۔ (مسند احمد: ۵۶۰۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کعبہ کی جانب دو پہاڑی راستوں کو سامنے رکھا اور ٹیلے کی ایک جانب پر جو مسجد ہے، اس سے ذرا بائیں جانب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تقریباً دس ہاتھ چھوڑ کر سیاہ ٹیلے کے اوپر نماز ادا کی۔
Takhreej
(۴۱۳۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۹۲، ومسلم: ۱۲۶۰(انظر: ۵۶۰۱)
4136
Sahih

Chapters

11