۔ جنابِ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب حج یا عمرہ کے بعد واپس لوٹتے تو ذوالحلیفہ کے قریب بطحاء میں ضرور ٹھہرتے اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہاں رات بسر کیا کرتے تھے، اور اسی مقام پر نماز فجر ادا کرتے تھے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بطحاء میں رات بسر کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں بتلایا گیا کہ آپ بابرکت وادیٔ بطحاء میں ہیں۔
۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روحاء سے اوپر والی مسجد سے ہٹ کر چھوٹی مسجد کی جگہ پر نماز ادا کی تھی۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راستہ کی دائیں جانب رویثہ سے دو میل ہٹ کر کنکروں والی کشادہ اور نرم وادییا میدان میں اس بڑ ے درخت کے نیچے تشریف رکھا کرتے تھے، جس کا اوپر کا حصہ ٹوٹ گیا ہے اور اب صرف تنا باقی رہ گیا ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرج سے آگے نماز پڑھی تھی، اس کی تفصیلیہ ہے کہ جب تم عرج سے پانچ میل چلوتو ٹیلہ والی مسجد آئے گی، اس مسجد کے پاس دو تین قبریں بھی ہیں، ان قبروں پر بڑے بڑے پتھر پڑے ہیں، وہاں راستہ کی دائیں جانب کچھ چٹانیںہیں، سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان چٹانوں کے بیچ میں سے عرج سے سورج ڈھلنے کے بعد روانہ ہوتے تھے، اور اس مسجد کی جگہ پر نمازِ ظہر ادا کرتے تھے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے راستہ کی داہنی جانب ھرشا سے ہٹ کر پانی کی گزر گاہ میں ایک بڑے درخت کے پاس قیام فرمایا، پانی کییہ گزر گاہ ھرشا سے متصل ہے۔ (ایک روایت کے مطابق ہرشا کے کنارے کے ساتھ مل گئی ہے) اس کے اور راستہ کے درمیانایک تیر کی پھینک کے برابر مسافت ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لاتے تو ذی طوی میں رات بسر کرتے اور وہیں نمازِ فجر ادا کرتے، جس مقام پراس وقت مسجد تعمیر کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہاں نہیں، بلکہ اس سے ذرا ہٹ کر نیچے کی طرف پکے ٹیلہ پر نماز ادا کی تھی۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ کی جانب دو پہاڑی راستوں کو سامنے رکھا اور ٹیلے کی ایک جانب پر جو مسجد ہے، اس سے ذرا بائیں جانب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تقریباً دس ہاتھ چھوڑ کر سیاہ ٹیلے کے اوپر نماز ادا کی۔