مسنداحمد

Musnad Ahmad

جہاد کے مسائل

اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت


۔ (۴۸۲۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیمَا یَحْکِی عَنْ رَبِّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی قَالَ: ((أَیُّمَا عَبْدٍ مِنْ عِبَادِی خَرَجَ مُجَاہِدًا فِی سَبِیلِی ابْتِغَائَ مَرْضَاتِی، ضَمِنْتُ لَہُ أَنْ أُرْجِعَہُ بِمَا أَصَابَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِیمَۃٍ، وَإِنْ قَبَضْتُہُ أَنْ أَغْفِرَ لَہُ وَأَرْحَمَہُ وَأُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند أحمد: ۵۹۷۷)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ربّ سے بیان کرتے ہوئے فرمایا: میرا جو بندہ میری رضامندی کی تلاش میں میرے راستے میںجہاد کرنے کے لیے نکلتا ہے تو میں ضمانت دیتا ہوں کہ اگر میں نے اس کو لوٹایا تو اجر اور غنیمت کے ساتھ لوٹاؤں گا اور اگر اس کی روح قبض کر لی تو اس کو بخش دوں گا، اس پر رحم کروں گا اور اس کو جنت میں داخل کر دوں گا۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۴۸۲۰) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ النسائی: ۶/۱۸(انظر: ۵۹۷۷)