TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت - اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت - جہاد کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of جہاد کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 53 · 24 Hadith
۔ (۴۸۱۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ عَلَیْہِمْ، وَہُمْ جُلُوسٌ فَقَالَ: ((أَلَا أُحَدِّثُکُمْ بِخَیْرِ النَّاسِ مَنْزِلَۃً؟)) فَقَالُوا: بَلٰی یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((رَجُلٌ مُمْسِکٌ بِعِنَانِ فَرَسِہِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ حَتَّی یَمُوتَ أَوْ یُقْتَلَ أَفَأُخْبِرُکُمْ بِالَّذِی یَلِیہِ؟)) قَالُوا: نَعَمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِمْرُؤٌ مُعْتَزِلٌ فِی شِعْبٍ یُقِیمُ الصَّلَاۃَ وَیُؤْتِی الزَّکَاۃَ وَیَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ، أَفَأُخْبِرُکُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلَۃً؟)) قَالُوا: نَعَمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اَلَّذِی یُسْأَلُ بِاللّٰہِ وَلَا یُعْطِی بِہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۱۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ بیٹھے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو بتاؤں کہ مرتبہ کے اعتبار سے سب سے بہترین آدمی کون ہے؟ انھوں نے کہا: جی بالکل، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے، یہاں تک کہ وہ فوت جاتا ہے یا اس کو قتل کر دیا جاتا ہے، اچھا کیا میں تم کو اس شخص کے بارے میں بتلاؤں، جس کا مرتبہ اس کے بعد ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جو کسی گھاٹی میں الگ تھلگ ہو کر نماز قائم کرتا ہو اور زکاۃ ادا کرتا ہو اور لوگوں کے شرور سے دور ہو گیا ہو، اب کیا میں تم کو بتاؤں کہ بدترین مرتبہ کس کا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی ہے، جس سے اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کیا جاتا ہے ، لیکن وہ پھر بھی نہیں دیتا۔
Takhreej
(۴۸۱۳) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الترمذی: ۱۶۵۲، والنسائی: ۵/ ۸۳ (انظر: ۲۱۱۶)
Explanation
فوائد:… گھاٹی میں الگ تھلگ رہنا، عام حالات میں گوشہ نشینی اور مسلم معاشرے سے علیحدگی جائز نہیں، نماز باجماعت اور جمعہ فرض ہیں، بیماروں کی بیمار پرسی اور ضعیفوں کی مدد کرنا بھی مسلمانوں کے حقوق میں سے ہیں، یہ سب کچھ معاشرے کے اندر ہ کر ہی ممکن ہے، اکیلا شخص ان سب فرائض اور حقوق کا تارک ہو گا، وہ افضل کیسے ہو سکتا ہے؟ البتہ جب معاشرے میں رہ کر دین کے ضائع ہونے کا قوی امکان اور خطرہ موجود ہو تو گوشہ نشینی بہتر ہے، مگر موہوم خطرات کے پیش نظر جائز نہیں۔ دیکھیں کہ صحابۂ کرام نے انتہائی تکالیف برداشت کر کے بھی معاشرے کو نہیں چھوڑا بلکہ اصلاح کی کوشش کرتے رہے، نیز تبلیغ بھی تو ایک فریضہ ہے اور یہ معاشرے میں رہ کر ہی ممکن ہے۔
4813
Sahih
۔ (۴۸۱۴)۔ عن ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ خَطَبَ النَّاسَ بِتَبُوکَ: ((مَا فِی النَّاسِ مِثْلُ رَجُلٍ آخِذٍ بِرَأْسِ فَرَسِہِ یُجَاہِدُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَیَجْتَنِبُ شُرُورَ النَّاسِ وَمِثْلُ آخَرَ بَادٍ فِی نِعْمَۃٍ یَقْرِی ضَیْفَہُ وَیُعْطِی حَقَّہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۸۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جس دن تبوک میں لوگوں سے خطاب کیا تھا، اس میں یہ بھی فرمایا تھا: لوگوں میں اس آدمی کی مثل کوئی نہیں ہے، جو اپنے گھوڑے کا سر پکڑ کر اور لوگوں کے شرور سے اجتناب کر کے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کر رہا ہو، اور وہ آدمی بھی بے مثال ہے، جو دیہات میں نعمتوں میں رہ رہا ہو، مہمان کی ضیافت کرتا ہو اور اپنا حق ادا کرتا ہو۔
Takhreej
(۴۸۱۴) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الطبرانی: ۱۲۹۲۴(انظر: ۱۹۸۷)
Explanation
فوائد:… جہاد بے مثال عبادت ہے، یہ ایک بھٹھی ہے، جس سے ایمان وایقان میں نکھار پیدا ہوتا ہے، ہر مسلمان پر لازم ہے کہ جہاد کرنے کی صلاحیت پیدا کر کے رکھے۔
4814
Sahih
۔ (۴۸۱۵)۔ مَالِکُ بْنُ یَخَامِرَ: أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ حَدَّثَہُ وَقَالَ: رَوْحٌ حَدَّثَہُمْ: أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ جَاہَدَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، (وَقَالَ رَوْحٌ: قَاتَلَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ) مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فُوَاقَ نَاقَۃٍ فَقَدْ وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ، وَمَنْ سَأَلَ اللّٰہَ الْقَتْلَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِہِ صَادِقًا ثُمَّ مَاتَ أَوْ قُتِلَ فَلَہُ أَجْرُ الشُّہَدَائِ، وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ أَوْ نُکِبَ نَکْبَۃً فَإِنَّہَا تَجِیئُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَأَغْزَرِ مَا کَانَتْ، (وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: کَأَغَزِّ، وَرَوْحٌ کَأَغْزَرِ، وَحَجَّاجٌ: کَأَعَزِّ) مَا کَانَتْ لَوْنُہَا کَالزَّعْفَرَان، وَرِیحُہَا کَالْمِسْکِ، وَمَنْ جُرِحَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَعَلَیْہِ طَابَعُ الشُّہَدَائِ۔))(وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: کَأَغْزَرِ، وَرُوْحٌ: کَأَغَرِّ، وَحَجَّاجٌ: کَأَغَرِّ) (مسند أحمد: ۲۲۴۶۷)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اونٹنی کے فَوَاق کے برابر جہاد کیا، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی، (فَوَاق سے مراد اتنا وقت ہے، جس میں اونٹنی اپنا دودھ دوہنے والے کے لیے اتار دیتی ہے) اور جس نے سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت کا سوال کیا اور پھر وہ طبعی موت مرا یا شہید ہوا، بہرحال اس کو شہید کا ہی اجر ملے گا، جس کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں زخم لگا یا کسی اور مصیبت میں مبتلا ہوا تو وہ زخم قیامت والے اس طرح ہو گا کہ اس سے زیادہ خون بہنے والا ہو گا، اس کا رنگ زعفران کی طرح ہو گا اور اس کی خوشبو کستوری کی طرح ہو گی اور جس کو اللہ کی راہ میں زخم لگے گا، اس پر شہداء کی مہر ہو گی۔ اَغْزَر اور اَغَرّ کا ایک ہی معنی ہے، صرف راویوں کا اختلاف ہے۔
Takhreej
(۴۸۱۵) اسنادہ صحیح، أخرجہ الترمذی: ۱۶۵۴، ۱۶۵۷، وابن ماجہ: ۲۷۹۲ (انظر: ۲۲۱۱۶)
Explanation
فوائد: اونٹنی کا فَوَاق: یہ لفظ وقت کی ایک مقدار بیان کرتا ہے، اس کے یہ معانی ہیں: (۱)دو دفعہ دوہنے کے درمیان کا وقت، (۲) دوہنے والے کے تھن کو دو دفعہ پکڑنے کے درمیان کا وقت، (۳) جو ترجمہ میں بیان کیا گیا۔
4815
Sahih
۔ (۴۸۱۶)۔عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عَجِبَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَجُلَیْنِ، رَجُلٍ ثَارَ عَنْ وِطَائِہِ وَلِحَافِہِ مِنْ بَیْنِ أَہْلِہِ وَحَیِّہِ إِلٰی صَلَاتِہِ، فَیَقُولُ رَبُّنَا: یَا مَلَائِکَتِی انْظُرُوْا إِلٰی عَبْدِی ثَارَ مِنْ فِرَاشِہِ وَوِطَائِہِ وَمِنْ بَیْنِ حَیِّہِ وَأَہْلِہِ إِلٰی صَلَاتِہِ، رَغْبَۃً فِیمَا عِنْدِی، وَشَفَقَۃً مِمَّا عِنْدِی، وَرَجُلٍ غَزَا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، فَانْہَزَمُوْا فَعَلِمَ مَا عَلَیْہِ مِنْ الْفِرَارِ، وَمَا لَہُ فِی الرُّجُوعِ، فَرَجَعَ حَتَّی أُہَرِیقَ دَمُہُ، رَغْبَۃً فِیمَا عِنْدِی، وَشَفَقَۃً مِمَّا عِنْدِی، فَیَقُولُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَلَائِکَتِہِ: انْظُرُوْا إِلَی عَبْدِی، رَجَعَ رَغْبَۃً فِیمَا عِنْدِی، وَرَہْبَۃً مِمَّا عِنْدِی، حَتَّی أُہَرِیقَ دَمُہُ۔)) (مسند أحمد: ۳۹۴۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہمارا ربّ کو دوآدمیوں پر تعجب ہوتا ہے، ایک وہ آدمی جو اپنے بچھونے، لحاف، بیوی اور قبیلے کے درمیان سے اٹھ کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ کہتا ہے: اے فرشتو! میرے اس بندے کی طرف دیکھو، وہ نماز کے لیے اپنے بستر، بچھونے، قبیلے اور بیوی کے پاس سے کھڑا ہو گیا ہے، اس چیز کی رغبت کے لیے جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے ڈرتے ہوئے جو میرے پاس ہے اور دوسرا وہ آدمی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا، ہوا یوں کہ اس کا لشکر شکست گیا، لیکن جب اسے یہ معلوم ہو اکہ بھاگ جانے میں کتنا گناہ ہے اور دشمن کی طرف لوٹ جانے میں کتنا ثواب ہے تو وہ دشمن کی طرف پلٹ پڑا، یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا گیا، اس کا یہ اقدام اس چیز کی رغبت کے لیے تھے، جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے بچنے کے لیے تھا، جو میرے پاس ہے، پس اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے: میرے بندے کی طرف دیکھو، وہ میری انعامات کی رغبت کی بنا پر اور میرے عذاب سے ڈرتے ہوئے لوٹ آیا، یہاں تک کہ اس کا خون بہادیا گیا۔
Takhreej
(۴۸۱۶) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابویعلی: ۵۲۷۲، وابن حبان: ۲۵۵۷، وأخرجہ بذکر رجل غزا: ۲۵۳۶ (انظر: ۳۹۴۹)
Explanation
فوائد:… تعجب کرنا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، جیسے اس کے شایانِ شان ہے۔
4816
Sahih
۔ (۴۸۱۷)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الْمُجَاہِدِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، کَمَثَلِ الصَّائِمِ نَہَارَہُ وَالْقَائِمِ لَیْلَہُ حَتّٰی یَرْجِعَ مَتٰی یَرْجِعُ)) (مسند أحمد: ۱۸۵۹۱)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے، یہاں تک کہ مجاہد لوٹ آئے، وہ جب بھی لوٹے۔
Takhreej
(۴۸۱۷) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ البزار: ۱۶۴۵، وعبد الرزاق: ۹۵۳۷ (انظر: ۱۸۴۰۱)
4817
Sahih
۔ (۴۸۱۸)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ: قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ رَمٰی بِسَھْمٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَبَلَغَ فَأَصَابَ أَوْ أَخْطَأَ، کَانَ کَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَۃً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِیلَ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۱۴۵)
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے تیر پھینکا اور وہ پہنچ گیا،وہ اپنے نشانے پر لگا یا نہ لگا، تو وہ اس شخص کی مانند ہو گا، جس نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک گردن آزاد کی ہو۔
Takhreej
(۴۸۱۸) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ من ولد اسماعیل وھذا اسناد منقطع، سُلَیم بن عامر الخبائری لم یُدرک عمرو بن عبسۃ، أخرجہ أبوداود: ۳۹۶۶، والنسائی: ۶…۲۶، وابن ماجہ: ۲۸۱۲(انظر: ۱۷۰۲۰)
4818
Sahih
۔ (۴۸۱۹)۔ عَنْ شُرَحْبِیلَ بْنِ السِّمْطِ قَالَ: قَالَ لِکَعْبِ بْنِ مُرَّۃَ: یَا کَعْبُ بْنَ مُرَّۃَ! حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاحْذَرْ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((اِرْمُوا أَہْلَ صُنْعٍ، مَنْ بَلَغَ الْعَدُوَّ بِسَہْمٍ رَفَعَہُ اللّٰہُ بِہِ دَرَجَۃً۔)) قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی النَّحَّامِ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَمَا الدَّرَجَۃُ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَا إِنَّہَا لَیْسَتْ بِعَتَبَۃِ أُمِّکَ وَلٰکِنَّہَا بَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ مِائَۃُ عَامٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۲۳۰)
۔ سیدنا شرحبیل بن سمط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا کعب بن مرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے کعب بن مرہ! ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی حدیث بیان کرو، لیکن احتیاط کرنا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ہنر مندو! تیر پھینکو، جس کا تیر دشمن تک پہنچ گیا، اللہ تعالیٰ اس کو ایک درجہ بلند کر دے گا۔ سیدنا عبد الرحمن بن ابی نحام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! درجہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ درجہ تیری اماں جان کی دہلیز نہیں ہے، بلکہ دو درجوں کے درمیان سو برسوں کی مسافت جتنا فاصلہ ہے۔
Takhreej
(۴۸۱۹) حسن لغیرہ، أخرجہ النسائی: ۶/۲۷، وأخرجہ أبوداود: ۳۹۶۷ ولم یسق لفظہ (انظر: ۱۸۰۶۳)
Explanation
فوائد:… اگرچہ کسی کے منہ پر اس کی ماں کا ذکر کرنا عرفِ عام میںمعیوب سمجھا جاتا ہے، مگر شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے، خصوصاً جب کہ متعلقہ شخص اسے محسوس نہ کرے۔
4819
Sahih
۔ (۴۸۲۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیمَا یَحْکِی عَنْ رَبِّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی قَالَ: ((أَیُّمَا عَبْدٍ مِنْ عِبَادِی خَرَجَ مُجَاہِدًا فِی سَبِیلِی ابْتِغَائَ مَرْضَاتِی، ضَمِنْتُ لَہُ أَنْ أُرْجِعَہُ بِمَا أَصَابَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِیمَۃٍ، وَإِنْ قَبَضْتُہُ أَنْ أَغْفِرَ لَہُ وَأَرْحَمَہُ وَأُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند أحمد: ۵۹۷۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ربّ سے بیان کرتے ہوئے فرمایا: میرا جو بندہ میری رضامندی کی تلاش میں میرے راستے میںجہاد کرنے کے لیے نکلتا ہے تو میں ضمانت دیتا ہوں کہ اگر میں نے اس کو لوٹایا تو اجر اور غنیمت کے ساتھ لوٹاؤں گا اور اگر اس کی روح قبض کر لی تو اس کو بخش دوں گا، اس پر رحم کروں گا اور اس کو جنت میں داخل کر دوں گا۔
Takhreej
(۴۸۲۰) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ النسائی: ۶/۱۸(انظر: ۵۹۷۷)
4820
Sahih
۔ (۴۸۲۱)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاہُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَھُمَا حَرَامٌ عَلَی النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۰۱۰)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے پاؤں اللہ کی راہ میں غبار آلود ہو گئے، وہ آگ پر حرام ہو جائیں گے۔
Takhreej
(۴۸۲۱) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابویعلی: ۲۰۷۵(انظر: ۱۴۹۴۷)
Explanation
فوائد:… یہ بڑا شرف تھا جو خیر القرون کی مقدس ہستیوں کو مل چکا، ان کے پاس اس مبارک عمل کی مقدار بھی بہت زیادہ تھی اور معیار بھی بہت اعلی تھا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی پر خلوص موقع عطا فرمائے۔ آمین۔
4821
Sahih
۔ (۴۸۲۲)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَاتَلَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فُوَاقَ نَاقَۃٍ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلٰی وَجْہِہِ النَّارَ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۶۷۴)
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس اونٹنی کے فَواق کی مقدار کے برابر اللہ کی راہ میں جہاد کیا، اللہ تعالیٰ آگ کو اس کے چہرے کے لیے حرام کر دے گا۔
Takhreej
(۴۸۲۲) تخریج: حدیث قوی لغیرہ (انظر: ۱۹۴۴۴)
Explanation
فوائد:… حدیث نمبر (۴۸۱۵) میں فَوَاق کا معنی واضح کیا گیا ہے۔
4822
Sahih
۔ (۴۸۲۳)۔ عَنْ اَنَسٍ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قاَلَ: ((لَغَدْوَۃٌ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوْ رَوْحَۃٌ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِکُمْ، أَوْ مَوْضِعُ قَدِّہِ یَعْنِی سَوْطَہُ مِنْ الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا، وَلَوِ اطَّلَعَتْ امْرَأَۃٌ مِنْ نِسَائِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ إِلٰی الْأَرْضِ لَمَلَأَتْ مَا بَیْنَہُمَا رِیحًا، وَلَطَابَ مَا بَیْنَہُمَا وَلَنَصِیفُہَا عَلٰی رَأْسِہَا، خَیْرٌ مِنْ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۲۴۶۳)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں صبح کے وقت یا شام کے وقت ایک دفعہ چلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، کسی کی کمان یا کوڑے کی مقدار کے برابر کی جنت میں جگہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہے، اگر اہل جنت کی بیویوں میں سے ایک بیوی زمین کی طرف جھانکے تو زمین و آسمان کے درمیان کے خلا کو خوشبو سے بھر دے گی اور اس میں موجود سب چیزوں کو طیّب بنا دے گی، جنتی خاتون کا دوپٹہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں صبح کے وقت یا شام کے وقت ایک دفعہ چلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، کسی کی کمان یا کوڑے کی مقدار کے برابر کی جنت میں جگہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہے، اگر اہل جنت کی بیویوں میں سے ایک بیوی زمین کی طرف جھانکے تو زمین و آسمان کے درمیان کے خلا کو خوشبو سے بھر دے گی اور اس میں موجود سب چیزوں کو طیّب بنا دے گی، جنتی خاتون کا دوپٹہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے۔
Takhreej
(۴۸۲۳) تخریج: أخرجہ مطولا ومختصرا البخاری: ۲۷۹۲، ۲۷۹۶، ۶۵۶۸(انظر: ۱۲۴۳۶)
Explanation
فوائد:… سبحان اللہ! اللہ پاک ہمیں توفیق دے کہ ہم ایسے نعمت کدے کے لیے اسباب پیدا کر سکیں۔
4823
Sahih
۔ (۴۸۲۴)۔ عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدِ نِ السَّاعَدِيِّ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہٗ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۴۵)
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۴۸۲۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۷۹۴، ومسلم: ۱۸۸۱ (انظر: ۱۵۵۶۰)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ کے متن کے الفاظ یہ ہیں:
4824
Sahih
۔ (۴۸۲۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِشِعْبٍ فِیہِ عَیْنٌ عَذْبَۃٌ قَالَ: فَأَعْجَبَتْہُ یَعْنِی طِیبَ الشِّعْبِ، فَقَالَ: لَوْ أَقَمْتُ ہَاہُنَا وَخَلَوْتُ ثُمَّ قَالَ: لَا، حَتّٰی أَسْأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَسَأَلَہُ فَقَالَ: ((مَقَامُ أَحَدِکُمْ یَعْنِی فِی سَبِیلِ اللّٰہِ خَیْرٌ مِنْ عِبَادَۃِ أَحَدِکُمْ فِی أَہْلِہِ سِتِّینَ سَنَۃً، أَمَا تُحِبُّونَ أَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَتَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ، جَاہِدُوْا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، مَنْ قَاتَلَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فُوَاقَ نَاقَۃٍ وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ۔)) (مسند أحمد: ۹۷۶۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اصحابِ رسول میں سے ایک آدمی ایک گھاٹی،جس میں میٹھے پانی کا چشمہ تھا، کے پاس سے گزرا، اس کی خوشبو اسے بڑی اچھی لگی۔ وہ (دل میں) کہنے لگا: اگر میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر اسی گھاٹی میں فروکش ہو جاؤں تو … لیکن میں پہلے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشورہ کروں گا۔ جب اس نے یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (ایسے نہیںکرنا، کیونکہ) اللہ کے راستے میں تمھارا ٹھہرنا اپنے اہل میں ساٹھ سالوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ کیا تم لوگ نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمھیں بخش دیں اور تمھیں جنت میں داخل کر دیں! اللہ کے راستے میںجہاد کرو، جس نے اللہ کے راستے میں اونٹنی کے دو بار دوہنے کی درمیانی مدت کے برابر جہاد کیا تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔
Takhreej
(۴۸۲۵) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الترمذی: ۱۶۵۰ (انظر:۹۷۶۲)
Explanation
فوائد:… حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا دل لگانے کی جگہ نہیں ہے، یہ تو آخرت کی کامیابی کا ایک ذریعہ ہے، دیکھو صحابۂ کرام کے پاکیزہ گروہ کو، انھوں نے فقرو فاقہ کو ترجیح دی، اپنوں پرائیوں کا غضب مول لیا، لیکن اپنی مختصر زندگی میں محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سچی وفا کی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بہشتوں کے وارث بن گئے۔
4825
Sahih
۔ (۴۸۲۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَلِجُ النَّارَ أَحَدٌ بَکٰی مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ حَتّٰی یَعُودَ اللَّبَنُ فِی الضَّرْعِ، وَلَا یَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ وَدُخَانُ جَہَنَّمَ فِی مَنْخِرَیْ امْرِئٍ أَبَدًا۔)) وَقَالَ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ اَلْمُقْرِیئ: ((فِی مَنْخِرَیْ مُسْلِمٍ أَبَدًا۔)) (مسند أحمد: ۱۰۵۶۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی ایسا آدمی آگ میں داخل نہیں ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کی خشیت کی وجہ سے رو پڑا، یہاں تک کہ دودھ تھن میں واپس آ جائے، کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے راستے کاغبار اور جہنم کا دھواں ایک آدمی کے دو نتھنوں میں جمع نہیں ہو سکے گا۔ ابو عبد الرحمن راوی نے کہا: مسلمان کے دو نتھنوں میں۔
Takhreej
(۴۸۲۶) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الترمذی: ۱۶۳۳، ۲۳۱۱(انظر: ۱۰۵۶۰)
Explanation
فوائد:… دودھ کا تھن میں واپس آنا ممکن نہیں ہے، عقلاً بھی اور عادتاً بھی، مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ڈر سے رونے والے کا جہنم میں جانا ناممکن ہے، اسی طرح خلوص کے ساتھ جہاد کرنے والا بھی ہر گز جہنم میں نہیں جا سکتا۔
4826
Sahih
۔ (۴۸۲۷)۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَجْتَمِعُ فِي النَّارِ مَنْ قَتَلَ کَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ بَعْدَہٗ۔)) (مسند أحمد: ۷۵۶۵)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے کافر کو قتل کیا اور پھر راہِ صواب پر چلتارہا، وہ آگ میں نہیں جائے گا۔
Takhreej
(۴۸۲۷) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ النسائی: ۶/ ۱۲(انظر: ۷۵۷۵)
4827
Sahih
۔ (۴۸۲۸)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ الْعَلَائِ، عَنْ أَبِیْہٖ، عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَجْتَمِعُ الْکَافِرُ وَ قَاتِلُہُ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ فِي النَّارِ أَبَدًا)) (مسند أحمد: ۸۸۰۲)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کافر اور اس کا مسلمان قاتل جہنم میں کبھی بھی اکٹھے نہیں ہوں گے۔
Takhreej
(۴۸۲۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… قاتل سے مراد مجاہد ہے۔
4828
Sahih
۔ (۴۸۲۹)۔ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِی وَہُوَ بِحَضْرَۃِ الْعَدُوِّ، یَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّۃِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّیُوفِ)) قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ رَثُّ الْہَیْئَۃِ فَقَالَ: یَا أَبَا مُوسٰی! آنْتَ سَمِعْتَ ہٰذَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلٰی أَصْحَابِہِ فَقَالَ: أَقْرَأُ عَلَیْکُمُ السَّلَامَ، ثُمَّ کَسَرَ جَفْنَ سَیْفِہِ فَأَلْقَاہُ ثُمَّ مَشٰی بِسَیْفِہِ فَضَرَبَ بِہِ حَتّٰی قُتِلَ۔ (مسند أحمد: ۱۹۷۶۷)
۔ ابو بکر بن عبد اللہ کہتے ہیں: میں نے دشمنوں کی موجودگی میں اپنے باپ کو یوں کہتے ہوئے سنا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: جنت کے دروازے تلواروں کے سائیوں تلے ہیں۔ پراگندہ حالت والا ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے ابو موسی! کیا تم نے یہ حدیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پس وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹا اور کہا: میں تم لوگوں کو سلام کہتا ہوں، پھر اس نے اپنی تلوار کا میان توڑ کر پھینک دیا اور اپنی تلوار لے کر چل پڑا اور اس کے ذریعے دشمنوںکو مارنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ وہ خود شہید ہو گیا۔
Takhreej
(۴۸۲۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۰۲(انظر: ۱۹۵۳۸)
Explanation
فوائد:… اَللّٰہُ اَکْبَرُ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی احادیث ِ مبارکہ پر کیسا ایمان تھا کہ جان کی بھی پروا نہیں کی۔
4829
Sahih
۔ (۴۸۳۰)۔ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ یَرْفَعُ الْحَدِیثَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَجْمَعُ اللّٰہُ فِی جَوْفِ رَجُلٍ غُبَارًا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ وَدُخَانَ جَہَنَّمَ، وَمَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاہُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ حَرَّمَ اللّٰہُ سَائِرَ جَسَدِہِ عَلَی النَّارِ، وَمَنْ صَامَ یَوْمًا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ بَاعَدَ اللّٰہُ عَنْہُ النَّارَ مَسِیرَۃَ أَلْفِ سَنَۃٍ لِلرَّاکِبِ الْمُسْتَعْجِلِ، وَمَنْ جُرِحَ جِرَاحَۃً فِی سَبِیلِ اللّٰہِ خَتَمَ لَہُ بِخَاتَمِ الشُّہَدَائِ، لَہُ نُورٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَوْنُہَا مِثْلُ لَوْنِ الزَّعْفَرَانِ وَرِیحُہَا مِثْلُ رِیحِ الْمِسْکِ، یَعْرِفُہُ بِہَا الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ، یَقُولُونَ فُلَانٌ عَلَیْہِ طَابَعُ الشُّہَدَائِ، وَمَنْ قَاتَلَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فُوَاقَ نَاقَۃٍ وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ)) (مسند أحمد: ۲۸۰۵۲)
۔ سیدنا ابودرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی آدمی کے پیٹ میں راہِ خدا کا غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں کرے گا، جس کے پاؤں اللہ کے راستے میں خاک آلود ہو گئے، اللہ تعالیٰ اس کے باقی جسم پر بھی آگ کو حرام کر دے گا، جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اس کو ایک ہزار سال کی مسافت آگ سے دور کر دے گا، جبکہ اس عرصے میں مسافت طے کرنے والا جلدی چلنے والا سوار ہو، جس کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخم لگا، اس پر شہداء کی مہر لگا دی جائے گی، وہ زخم اس کے لیے قیامت کے دن نور ہو گا، اس کا رنگ زعفران کی طرح کا اور خوشبو کستوری کی طرح کی ہو گی، اگلے پچھلے اس کو پہنچان لیں گے، لوگ کہیں گے: فلاں آدمی پر شہداء کی مہر ہے اور جس نے اللہ کے راستے میں اونٹنی کے دو بار دوہنے کی درمیانی مدت کے برابر جہاد کیا تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔
Takhreej
(۴۸۳۰) تخریج: حدیث صحیح بشواھدہ دون قولہ: الف سنۃ للراکب المستعجل …۔ وقولہ: یعرفہ بھا الاولون والآخرون یقولون: فلان علیہ طابع الشھدائ وھذا اسناد ضعیف لانقطاعہ، خالد بن دریک لم یدرک ابا الدردائ، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۵۵۲۹ (انظر: ۲۷۵۰۳)
4830
Sahih
۔ (۴۸۳۱)۔ عَنْ أَبَی الْمُصَبِّحِ الْأَوْزَاعِیَّ حَدَّثَہُمْ قَالَ: بَیْنَا نَسِیرُ فِی دَرْبِ قَلَمْیَۃَ إِذْ نَادَی الْأَمِیرُ مَالِکُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْخَثْعَمِیَّ رَجُلٌ یَقُودُ فَرَسَہُ فِی عِرَاضِ الْجَبَلِ یَا أَبَا عَبْدِاللّٰہِ! أَلَا تَرْکَبُ؟ قَالَ: إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ اغْبَرَّتْ قَدَمَاہُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ فَہُمَا حَرَامٌ عَلَی النَّارِ)) (مسند أحمد: ۲۲۳۰۸)
۔ ابو مصبّح اوزاعی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ملک ِ روم کے قلمیہ علاقے میں داخل ہونے والے کھلے راستے پر چل رہے تھے کہ مالک بن عبد اللہ خثعمی، جو کہ امیر تھے، نے ایک آدمی کو آواز دی، وہ پہاڑ کے دامن میں چل رہا تھا، اس امیر نے کہا: اے ابو عبداللہ! کیا تو سوار نہیں ہوتا؟ کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس آدمی کے دو پاؤں اللہ کے راستے میں دن کے کچھ وقت میں خاک آلود ہو گئے، اللہ تعالیٰ اس کو آگ پر حرام کر دے گا۔
Takhreej
(۴۸۳۱) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۶۶۱ (انظر: ۲۱۹۶۲)
4831
Sahih
۔ (۴۸۳۲)۔ عَنْ مَالِکِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْخَثْعَمِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاہُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، حَرَّمَہُ اللّٰہُ عَلَی النَّارِ)) (مسند أحمد: ۲۲۳۰۹)
۔ سیدنا مالک بن عبد اللہ خثعمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے دو پاؤں اللہ کے راستے میں خاک آلود ہو گئے، اللہ تعالیٰ اس کو آگ پر حرام کر دے گا۔
Takhreej
(۴۸۳۲) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۲۱۹۶۳)
4832
Sahih

Chapters

53
01
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
11 Hadith
02
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
8 Hadith
03
اللہ تعالیٰ کی راہ میں رباط اور پہرے کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
04
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
24 Hadith
05
بحری جہاد کرنے والوں کی فضیلت
4 Hadith
06
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
12 Hadith
07
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
12 Hadith
08
مجاہدوں کی بیویوں کی حرمت اور مجاہد کے اہل کے معاملے میں خیانت کرنے والے کی وعید کا بیان
4 Hadith
09
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
6 Hadith
10
شہداء کی فضیلت
13 Hadith
11
ایسے شخص کا بیان، جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے اور اس پر قرضہ بھی ہو
4 Hadith
12
اللہ کے راستہ کے شہداء کی اقسام اور ان کی نیتوں کے اعتبار سے ان کے درجات کا بیان
6 Hadith
13
شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
18 Hadith
14
اس بات کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہید کی وفات پائی
2 Hadith
15
اس آدمی کا بیان جو جہاد کا ارادہ کرے اور اس کے والدین زندہ ہوں
7 Hadith
16
اس چیز کا بیان کہ امام لشکر کے سپہ سالاروں سے مشورہ کرے، ان کی خیرخواہی کرے، ان کے ساتھ نرمی برتے اور ان سے ان کی ذمہ داریاں نبھانے کا عہد لے
3 Hadith
17
اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان
6 Hadith
18
قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینے اور امام کا لشکر کے امیر کو وصیت کرنے کا بیان
6 Hadith
19
لڑائی میں دھوکہ دینے، توریہ کرنے، بات کو چھپانے اور جاسوسوں کو بھیجنے کے جواز کا بیان
7 Hadith
20
سرایا اور جیوش کو ترتیب دینے اور جھنڈوں اور ان کے رنگوں کا اہتمام کرنے کا بیان
4 Hadith
21
مجاہد کو الوداع کہنے، اس کا استقبال کرنے اور امام کا اس کو وصیت کرنے کا بیان
12 Hadith
22
مخصوص اوقات میں غزوہ کے لیے روانہ ہونے کے مستحب ہونے، دشمن سے لڑائی شروع کرنے، صفوں کو ترتیب دینے اور مسلمانوں کے شعار کا بیان
10 Hadith
23
جنگ میں فخر کرنے کے مستحب ہونے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی تمنا کرنے اور لشکر کی اکثریت سے دھوکہ کھانے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
24
جس کے ہاں اسلام کی علامت موجود ہو، اس پر شب خون مارنے کے وقت رک جانے کا بیان
2 Hadith
25
اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
8 Hadith
26
کافروں پر اچانک حملہ کرنے کا بیان، اگرچہ اس میں ان کے بچے قتل ہو جائیں
5 Hadith
27
عورتوں، بچوں، پادریوں اور انتہائی بوڑھے لوگوں کو بالارادہ قتل کرنے سے روکنے کا بیان
8 Hadith
28
مثلہ، جلانے، درخت کاٹنے اور عمارتیں گرانے سے ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی ضرورت اور مصلحت ہو
9 Hadith
29
لڑائی کے وقت بھاگ جانے کی حرمت کا بیان، الا یہ کہ آدمی نے اپنی جماعت کو ملنا ہو، اگرچہ وہ جماعت دور ہو
3 Hadith
30
فتح والے مقام میں تین دن ٹھہرنے کے مستحب ہونے کا بیان
2 Hadith
31
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
9 Hadith
32
جس جس عامل نے میدان جنگ میں اپنی طاقت کے بقدر کام کیا،ان میں برابری کے ساتھ مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا بیان
4 Hadith
33
غنیمت کے خُمُس کا اللہ اور اس کے رسول کے لیے فرض ہونے اور اس کی تقسیم کا بیان
9 Hadith
34
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
9 Hadith
35
اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
9 Hadith
36
لشکر کے بعض افراد کو اس بنا پر زائد حصہ دینے کا بیان کہ انھوں نے لڑائی لڑی یا مشکلات کو برداشت کیا
2 Hadith
37
لشکر کے سریہ کو زائد حصہ دینے اور پھر ان دونوں کو غنیمت میں شریک کرنے کا بیان
6 Hadith
38
مالِ فے کے مصرف کا بیان
6 Hadith
39
تالیف ِ قلبی کے لیے دینے کا بیان
2 Hadith
40
امیر اور عامل کے تحائف
2 Hadith
41
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
12 Hadith
42
قیدیوں کے حق میں احسان کرنے، ان سے فدیہ لینے اور ان سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب ہوازن کے وفود پر ان کے قیدیوں کے معاملے میں احسان کرنے کا باب
2 Hadith
43
سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک معجزے کا بیان
2 Hadith
44
اس آدمی کا بیان جس نے اپنے باپ کے فدیے میں چار ہزار درہم دیئے
3 Hadith
45
سیدہ زینب بنت رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے خاوند سیدنا ابو العاص کا فدیہ
1 Hadith
46
ایک مشرک کے فدیے میں دو مسلمان لینے کا بیان ان قیدیوں کا بیان جنھوں نے اپنے فدیے میں انصاریوں کے بچوں کو کتابت کی تعلیم دی
4 Hadith
47
بدر کے قیدیوں کے فدیے اور اس کی وجہ سے نازل ہونے والے قرآن کا بیان
3 Hadith
48
ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
10 Hadith
49
اس قیدی کا بیان جو قید سے پہلے قبولیت ِ اسلام کا دعوی کر دے، نیز اسلام قبول کرنے والے قیدی کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
50
مسلمان ہونے والے قیدی کا مسلمانوں کی ملکیت میں ہی رہنے کا اور عربوں کو غلام بنانے کے جواز کا بیان
3 Hadith
51
اس چیز کا بیان کہ جاسوس کے ساتھ کیا کیا جائے، وہ مسلمان ہو یا حربی یا ذمی
3 Hadith
52
اس چیز کا بیان کہ جب کافر کا غلام مسلمان ہو کر ہمارے پاس آ جائے تو وہ آزاد ہو گا
4 Hadith
53
اس چیز کا بیان کہ اگر حربی قابو میں آنے سے پہلے مسلمان ہو گیا تو اپنے مال کو بچا لے گا، نیز غنیمت والی زمین کا حکم
6 Hadith
No chapter matched that.