مسنداحمد

Musnad Ahmad

جہاد کے مسائل

اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت

۔ (۴۸۱۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ عَلَیْہِمْ، وَہُمْ جُلُوسٌ فَقَالَ: ((أَلَا أُحَدِّثُکُمْ بِخَیْرِ النَّاسِ مَنْزِلَۃً؟)) فَقَالُوا: بَلٰی یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((رَجُلٌ مُمْسِکٌ بِعِنَانِ فَرَسِہِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ حَتَّی یَمُوتَ أَوْ یُقْتَلَ أَفَأُخْبِرُکُمْ بِالَّذِی یَلِیہِ؟)) قَالُوا: نَعَمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِمْرُؤٌ مُعْتَزِلٌ فِی شِعْبٍ یُقِیمُ الصَّلَاۃَ وَیُؤْتِی الزَّکَاۃَ وَیَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ، أَفَأُخْبِرُکُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلَۃً؟)) قَالُوا: نَعَمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اَلَّذِی یُسْأَلُ بِاللّٰہِ وَلَا یُعْطِی بِہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۱۶)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ بیٹھے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو بتاؤں کہ مرتبہ کے اعتبار سے سب سے بہترین آدمی کون ہے؟ انھوں نے کہا: جی بالکل، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے، یہاں تک کہ وہ فوت جاتا ہے یا اس کو قتل کر دیا جاتا ہے، اچھا کیا میں تم کو اس شخص کے بارے میں بتلاؤں، جس کا مرتبہ اس کے بعد ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جو کسی گھاٹی میں الگ تھلگ ہو کر نماز قائم کرتا ہو اور زکاۃ ادا کرتا ہو اور لوگوں کے شرور سے دور ہو گیا ہو، اب کیا میں تم کو بتاؤں کہ بدترین مرتبہ کس کا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی ہے، جس سے اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کیا جاتا ہے ، لیکن وہ پھر بھی نہیں دیتا۔

۔ (۴۸۱۴)۔ عن ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ خَطَبَ النَّاسَ بِتَبُوکَ: ((مَا فِی النَّاسِ مِثْلُ رَجُلٍ آخِذٍ بِرَأْسِ فَرَسِہِ یُجَاہِدُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَیَجْتَنِبُ شُرُورَ النَّاسِ وَمِثْلُ آخَرَ بَادٍ فِی نِعْمَۃٍ یَقْرِی ضَیْفَہُ وَیُعْطِی حَقَّہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۸۷)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جس دن تبوک میں لوگوں سے خطاب کیا تھا، اس میں یہ بھی فرمایا تھا: لوگوں میں اس آدمی کی مثل کوئی نہیں ہے، جو اپنے گھوڑے کا سر پکڑ کر اور لوگوں کے شرور سے اجتناب کر کے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کر رہا ہو، اور وہ آدمی بھی بے مثال ہے، جو دیہات میں نعمتوں میں رہ رہا ہو، مہمان کی ضیافت کرتا ہو اور اپنا حق ادا کرتا ہو۔

۔ (۴۸۱۵)۔ مَالِکُ بْنُ یَخَامِرَ: أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ حَدَّثَہُ وَقَالَ: رَوْحٌ حَدَّثَہُمْ: أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ جَاہَدَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، (وَقَالَ رَوْحٌ: قَاتَلَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ) مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فُوَاقَ نَاقَۃٍ فَقَدْ وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ، وَمَنْ سَأَلَ اللّٰہَ الْقَتْلَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِہِ صَادِقًا ثُمَّ مَاتَ أَوْ قُتِلَ فَلَہُ أَجْرُ الشُّہَدَائِ، وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ أَوْ نُکِبَ نَکْبَۃً فَإِنَّہَا تَجِیئُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَأَغْزَرِ مَا کَانَتْ، (وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: کَأَغَزِّ، وَرَوْحٌ کَأَغْزَرِ، وَحَجَّاجٌ: کَأَعَزِّ) مَا کَانَتْ لَوْنُہَا کَالزَّعْفَرَان، وَرِیحُہَا کَالْمِسْکِ، وَمَنْ جُرِحَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَعَلَیْہِ طَابَعُ الشُّہَدَائِ۔))(وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: کَأَغْزَرِ، وَرُوْحٌ: کَأَغَرِّ، وَحَجَّاجٌ: کَأَغَرِّ) (مسند أحمد: ۲۲۴۶۷)

۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اونٹنی کے فَوَاق کے برابر جہاد کیا، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی، (فَوَاق سے مراد اتنا وقت ہے، جس میں اونٹنی اپنا دودھ دوہنے والے کے لیے اتار دیتی ہے) اور جس نے سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت کا سوال کیا اور پھر وہ طبعی موت مرا یا شہید ہوا، بہرحال اس کو شہید کا ہی اجر ملے گا، جس کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں زخم لگا یا کسی اور مصیبت میں مبتلا ہوا تو وہ زخم قیامت والے اس طرح ہو گا کہ اس سے زیادہ خون بہنے والا ہو گا، اس کا رنگ زعفران کی طرح ہو گا اور اس کی خوشبو کستوری کی طرح ہو گی اور جس کو اللہ کی راہ میں زخم لگے گا، اس پر شہداء کی مہر ہو گی۔ اَغْزَر اور اَغَرّ کا ایک ہی معنی ہے، صرف راویوں کا اختلاف ہے۔

۔ (۴۸۱۶)۔عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عَجِبَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَجُلَیْنِ، رَجُلٍ ثَارَ عَنْ وِطَائِہِ وَلِحَافِہِ مِنْ بَیْنِ أَہْلِہِ وَحَیِّہِ إِلٰی صَلَاتِہِ، فَیَقُولُ رَبُّنَا: یَا مَلَائِکَتِی انْظُرُوْا إِلٰی عَبْدِی ثَارَ مِنْ فِرَاشِہِ وَوِطَائِہِ وَمِنْ بَیْنِ حَیِّہِ وَأَہْلِہِ إِلٰی صَلَاتِہِ، رَغْبَۃً فِیمَا عِنْدِی، وَشَفَقَۃً مِمَّا عِنْدِی، وَرَجُلٍ غَزَا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، فَانْہَزَمُوْا فَعَلِمَ مَا عَلَیْہِ مِنْ الْفِرَارِ، وَمَا لَہُ فِی الرُّجُوعِ، فَرَجَعَ حَتَّی أُہَرِیقَ دَمُہُ، رَغْبَۃً فِیمَا عِنْدِی، وَشَفَقَۃً مِمَّا عِنْدِی، فَیَقُولُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَلَائِکَتِہِ: انْظُرُوْا إِلَی عَبْدِی، رَجَعَ رَغْبَۃً فِیمَا عِنْدِی، وَرَہْبَۃً مِمَّا عِنْدِی، حَتَّی أُہَرِیقَ دَمُہُ۔)) (مسند أحمد: ۳۹۴۹)

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہمارا ربّ کو دوآدمیوں پر تعجب ہوتا ہے، ایک وہ آدمی جو اپنے بچھونے، لحاف، بیوی اور قبیلے کے درمیان سے اٹھ کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ کہتا ہے: اے فرشتو! میرے اس بندے کی طرف دیکھو، وہ نماز کے لیے اپنے بستر، بچھونے، قبیلے اور بیوی کے پاس سے کھڑا ہو گیا ہے، اس چیز کی رغبت کے لیے جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے ڈرتے ہوئے جو میرے پاس ہے اور دوسرا وہ آدمی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا، ہوا یوں کہ اس کا لشکر شکست گیا، لیکن جب اسے یہ معلوم ہو اکہ بھاگ جانے میں کتنا گناہ ہے اور دشمن کی طرف لوٹ جانے میں کتنا ثواب ہے تو وہ دشمن کی طرف پلٹ پڑا، یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا گیا، اس کا یہ اقدام اس چیز کی رغبت کے لیے تھے، جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے بچنے کے لیے تھا، جو میرے پاس ہے، پس اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے: میرے بندے کی طرف دیکھو، وہ میری انعامات کی رغبت کی بنا پر اور میرے عذاب سے ڈرتے ہوئے لوٹ آیا، یہاں تک کہ اس کا خون بہادیا گیا۔

۔ (۴۸۱۷)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الْمُجَاہِدِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، کَمَثَلِ الصَّائِمِ نَہَارَہُ وَالْقَائِمِ لَیْلَہُ حَتّٰی یَرْجِعَ مَتٰی یَرْجِعُ)) (مسند أحمد: ۱۸۵۹۱)

۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے، یہاں تک کہ مجاہد لوٹ آئے، وہ جب بھی لوٹے۔

۔ (۴۸۱۸)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ: قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ رَمٰی بِسَھْمٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَبَلَغَ فَأَصَابَ أَوْ أَخْطَأَ، کَانَ کَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَۃً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِیلَ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۱۴۵)

۔ سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے تیر پھینکا اور وہ پہنچ گیا،وہ اپنے نشانے پر لگا یا نہ لگا، تو وہ اس شخص کی مانند ہو گا، جس نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک گردن آزاد کی ہو۔

۔ (۴۸۱۹)۔ عَنْ شُرَحْبِیلَ بْنِ السِّمْطِ قَالَ: قَالَ لِکَعْبِ بْنِ مُرَّۃَ: یَا کَعْبُ بْنَ مُرَّۃَ! حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاحْذَرْ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((اِرْمُوا أَہْلَ صُنْعٍ، مَنْ بَلَغَ الْعَدُوَّ بِسَہْمٍ رَفَعَہُ اللّٰہُ بِہِ دَرَجَۃً۔)) قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی النَّحَّامِ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَمَا الدَّرَجَۃُ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَا إِنَّہَا لَیْسَتْ بِعَتَبَۃِ أُمِّکَ وَلٰکِنَّہَا بَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ مِائَۃُ عَامٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۲۳۰)

۔ سیدنا شرحبیل بن سمط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا کعب بن مرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے کعب بن مرہ! ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی حدیث بیان کرو، لیکن احتیاط کرنا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ہنر مندو! تیر پھینکو، جس کا تیر دشمن تک پہنچ گیا، اللہ تعالیٰ اس کو ایک درجہ بلند کر دے گا۔ سیدنا عبد الرحمن بن ابی نحام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! درجہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ درجہ تیری اماں جان کی دہلیز نہیں ہے، بلکہ دو درجوں کے درمیان سو برسوں کی مسافت جتنا فاصلہ ہے۔

۔ (۴۸۲۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیمَا یَحْکِی عَنْ رَبِّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی قَالَ: ((أَیُّمَا عَبْدٍ مِنْ عِبَادِی خَرَجَ مُجَاہِدًا فِی سَبِیلِی ابْتِغَائَ مَرْضَاتِی، ضَمِنْتُ لَہُ أَنْ أُرْجِعَہُ بِمَا أَصَابَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِیمَۃٍ، وَإِنْ قَبَضْتُہُ أَنْ أَغْفِرَ لَہُ وَأَرْحَمَہُ وَأُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند أحمد: ۵۹۷۷)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ربّ سے بیان کرتے ہوئے فرمایا: میرا جو بندہ میری رضامندی کی تلاش میں میرے راستے میںجہاد کرنے کے لیے نکلتا ہے تو میں ضمانت دیتا ہوں کہ اگر میں نے اس کو لوٹایا تو اجر اور غنیمت کے ساتھ لوٹاؤں گا اور اگر اس کی روح قبض کر لی تو اس کو بخش دوں گا، اس پر رحم کروں گا اور اس کو جنت میں داخل کر دوں گا۔

۔ (۴۸۲۱)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاہُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَھُمَا حَرَامٌ عَلَی النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۰۱۰)

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے پاؤں اللہ کی راہ میں غبار آلود ہو گئے، وہ آگ پر حرام ہو جائیں گے۔

۔ (۴۸۲۲)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَاتَلَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فُوَاقَ نَاقَۃٍ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلٰی وَجْہِہِ النَّارَ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۶۷۴)

۔ سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس اونٹنی کے فَواق کی مقدار کے برابر اللہ کی راہ میں جہاد کیا، اللہ تعالیٰ آگ کو اس کے چہرے کے لیے حرام کر دے گا۔

۔ (۴۸۲۳)۔ عَنْ اَنَسٍ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قاَلَ: ((لَغَدْوَۃٌ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوْ رَوْحَۃٌ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِکُمْ، أَوْ مَوْضِعُ قَدِّہِ یَعْنِی سَوْطَہُ مِنْ الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا، وَلَوِ اطَّلَعَتْ امْرَأَۃٌ مِنْ نِسَائِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ إِلٰی الْأَرْضِ لَمَلَأَتْ مَا بَیْنَہُمَا رِیحًا، وَلَطَابَ مَا بَیْنَہُمَا وَلَنَصِیفُہَا عَلٰی رَأْسِہَا، خَیْرٌ مِنْ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۲۴۶۳)

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں صبح کے وقت یا شام کے وقت ایک دفعہ چلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، کسی کی کمان یا کوڑے کی مقدار کے برابر کی جنت میں جگہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہے، اگر اہل جنت کی بیویوں میں سے ایک بیوی زمین کی طرف جھانکے تو زمین و آسمان کے درمیان کے خلا کو خوشبو سے بھر دے گی اور اس میں موجود سب چیزوں کو طیّب بنا دے گی، جنتی خاتون کا دوپٹہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں صبح کے وقت یا شام کے وقت ایک دفعہ چلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، کسی کی کمان یا کوڑے کی مقدار کے برابر کی جنت میں جگہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہے، اگر اہل جنت کی بیویوں میں سے ایک بیوی زمین کی طرف جھانکے تو زمین و آسمان کے درمیان کے خلا کو خوشبو سے بھر دے گی اور اس میں موجود سب چیزوں کو طیّب بنا دے گی، جنتی خاتون کا دوپٹہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے۔

۔ (۴۸۲۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِشِعْبٍ فِیہِ عَیْنٌ عَذْبَۃٌ قَالَ: فَأَعْجَبَتْہُ یَعْنِی طِیبَ الشِّعْبِ، فَقَالَ: لَوْ أَقَمْتُ ہَاہُنَا وَخَلَوْتُ ثُمَّ قَالَ: لَا، حَتّٰی أَسْأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَسَأَلَہُ فَقَالَ: ((مَقَامُ أَحَدِکُمْ یَعْنِی فِی سَبِیلِ اللّٰہِ خَیْرٌ مِنْ عِبَادَۃِ أَحَدِکُمْ فِی أَہْلِہِ سِتِّینَ سَنَۃً، أَمَا تُحِبُّونَ أَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَتَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ، جَاہِدُوْا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، مَنْ قَاتَلَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فُوَاقَ نَاقَۃٍ وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ۔)) (مسند أحمد: ۹۷۶۱)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اصحابِ رسول میں سے ایک آدمی ایک گھاٹی،جس میں میٹھے پانی کا چشمہ تھا، کے پاس سے گزرا، اس کی خوشبو اسے بڑی اچھی لگی۔ وہ (دل میں) کہنے لگا: اگر میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر اسی گھاٹی میں فروکش ہو جاؤں تو … لیکن میں پہلے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشورہ کروں گا۔ جب اس نے یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (ایسے نہیںکرنا، کیونکہ) اللہ کے راستے میں تمھارا ٹھہرنا اپنے اہل میں ساٹھ سالوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ کیا تم لوگ نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمھیں بخش دیں اور تمھیں جنت میں داخل کر دیں! اللہ کے راستے میںجہاد کرو، جس نے اللہ کے راستے میں اونٹنی کے دو بار دوہنے کی درمیانی مدت کے برابر جہاد کیا تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔

۔ (۴۸۲۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَلِجُ النَّارَ أَحَدٌ بَکٰی مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ حَتّٰی یَعُودَ اللَّبَنُ فِی الضَّرْعِ، وَلَا یَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ وَدُخَانُ جَہَنَّمَ فِی مَنْخِرَیْ امْرِئٍ أَبَدًا۔)) وَقَالَ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ اَلْمُقْرِیئ: ((فِی مَنْخِرَیْ مُسْلِمٍ أَبَدًا۔)) (مسند أحمد: ۱۰۵۶۷)

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی ایسا آدمی آگ میں داخل نہیں ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کی خشیت کی وجہ سے رو پڑا، یہاں تک کہ دودھ تھن میں واپس آ جائے، کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے راستے کاغبار اور جہنم کا دھواں ایک آدمی کے دو نتھنوں میں جمع نہیں ہو سکے گا۔ ابو عبد الرحمن راوی نے کہا: مسلمان کے دو نتھنوں میں۔

۔ (۴۸۲۷)۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَجْتَمِعُ فِي النَّارِ مَنْ قَتَلَ کَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ بَعْدَہٗ۔)) (مسند أحمد: ۷۵۶۵)

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے کافر کو قتل کیا اور پھر راہِ صواب پر چلتارہا، وہ آگ میں نہیں جائے گا۔

۔ (۴۸۲۸)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ الْعَلَائِ، عَنْ أَبِیْہٖ، عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَجْتَمِعُ الْکَافِرُ وَ قَاتِلُہُ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ فِي النَّارِ أَبَدًا)) (مسند أحمد: ۸۸۰۲)

۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کافر اور اس کا مسلمان قاتل جہنم میں کبھی بھی اکٹھے نہیں ہوں گے۔

۔ (۴۸۲۹)۔ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِی وَہُوَ بِحَضْرَۃِ الْعَدُوِّ، یَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّۃِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّیُوفِ)) قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ رَثُّ الْہَیْئَۃِ فَقَالَ: یَا أَبَا مُوسٰی! آنْتَ سَمِعْتَ ہٰذَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلٰی أَصْحَابِہِ فَقَالَ: أَقْرَأُ عَلَیْکُمُ السَّلَامَ، ثُمَّ کَسَرَ جَفْنَ سَیْفِہِ فَأَلْقَاہُ ثُمَّ مَشٰی بِسَیْفِہِ فَضَرَبَ بِہِ حَتّٰی قُتِلَ۔ (مسند أحمد: ۱۹۷۶۷)

۔ ابو بکر بن عبد اللہ کہتے ہیں: میں نے دشمنوں کی موجودگی میں اپنے باپ کو یوں کہتے ہوئے سنا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: جنت کے دروازے تلواروں کے سائیوں تلے ہیں۔ پراگندہ حالت والا ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے ابو موسی! کیا تم نے یہ حدیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پس وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹا اور کہا: میں تم لوگوں کو سلام کہتا ہوں، پھر اس نے اپنی تلوار کا میان توڑ کر پھینک دیا اور اپنی تلوار لے کر چل پڑا اور اس کے ذریعے دشمنوںکو مارنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ وہ خود شہید ہو گیا۔

۔ (۴۸۳۰)۔ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ یَرْفَعُ الْحَدِیثَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَجْمَعُ اللّٰہُ فِی جَوْفِ رَجُلٍ غُبَارًا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ وَدُخَانَ جَہَنَّمَ، وَمَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاہُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ حَرَّمَ اللّٰہُ سَائِرَ جَسَدِہِ عَلَی النَّارِ، وَمَنْ صَامَ یَوْمًا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ بَاعَدَ اللّٰہُ عَنْہُ النَّارَ مَسِیرَۃَ أَلْفِ سَنَۃٍ لِلرَّاکِبِ الْمُسْتَعْجِلِ، وَمَنْ جُرِحَ جِرَاحَۃً فِی سَبِیلِ اللّٰہِ خَتَمَ لَہُ بِخَاتَمِ الشُّہَدَائِ، لَہُ نُورٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَوْنُہَا مِثْلُ لَوْنِ الزَّعْفَرَانِ وَرِیحُہَا مِثْلُ رِیحِ الْمِسْکِ، یَعْرِفُہُ بِہَا الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ، یَقُولُونَ فُلَانٌ عَلَیْہِ طَابَعُ الشُّہَدَائِ، وَمَنْ قَاتَلَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فُوَاقَ نَاقَۃٍ وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ)) (مسند أحمد: ۲۸۰۵۲)

۔ سیدنا ابودرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی آدمی کے پیٹ میں راہِ خدا کا غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں کرے گا، جس کے پاؤں اللہ کے راستے میں خاک آلود ہو گئے، اللہ تعالیٰ اس کے باقی جسم پر بھی آگ کو حرام کر دے گا، جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اس کو ایک ہزار سال کی مسافت آگ سے دور کر دے گا، جبکہ اس عرصے میں مسافت طے کرنے والا جلدی چلنے والا سوار ہو، جس کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخم لگا، اس پر شہداء کی مہر لگا دی جائے گی، وہ زخم اس کے لیے قیامت کے دن نور ہو گا، اس کا رنگ زعفران کی طرح کا اور خوشبو کستوری کی طرح کی ہو گی، اگلے پچھلے اس کو پہنچان لیں گے، لوگ کہیں گے: فلاں آدمی پر شہداء کی مہر ہے اور جس نے اللہ کے راستے میں اونٹنی کے دو بار دوہنے کی درمیانی مدت کے برابر جہاد کیا تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔

۔ (۴۸۳۱)۔ عَنْ أَبَی الْمُصَبِّحِ الْأَوْزَاعِیَّ حَدَّثَہُمْ قَالَ: بَیْنَا نَسِیرُ فِی دَرْبِ قَلَمْیَۃَ إِذْ نَادَی الْأَمِیرُ مَالِکُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْخَثْعَمِیَّ رَجُلٌ یَقُودُ فَرَسَہُ فِی عِرَاضِ الْجَبَلِ یَا أَبَا عَبْدِاللّٰہِ! أَلَا تَرْکَبُ؟ قَالَ: إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ اغْبَرَّتْ قَدَمَاہُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ فَہُمَا حَرَامٌ عَلَی النَّارِ)) (مسند أحمد: ۲۲۳۰۸)

۔ ابو مصبّح اوزاعی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ملک ِ روم کے قلمیہ علاقے میں داخل ہونے والے کھلے راستے پر چل رہے تھے کہ مالک بن عبد اللہ خثعمی، جو کہ امیر تھے، نے ایک آدمی کو آواز دی، وہ پہاڑ کے دامن میں چل رہا تھا، اس امیر نے کہا: اے ابو عبداللہ! کیا تو سوار نہیں ہوتا؟ کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس آدمی کے دو پاؤں اللہ کے راستے میں دن کے کچھ وقت میں خاک آلود ہو گئے، اللہ تعالیٰ اس کو آگ پر حرام کر دے گا۔

۔ (۴۸۳۲)۔ عَنْ مَالِکِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْخَثْعَمِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاہُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، حَرَّمَہُ اللّٰہُ عَلَی النَّارِ)) (مسند أحمد: ۲۲۳۰۹)

۔ سیدنا مالک بن عبد اللہ خثعمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے دو پاؤں اللہ کے راستے میں خاک آلود ہو گئے، اللہ تعالیٰ اس کو آگ پر حرام کر دے گا۔