مسنداحمد

Musnad Ahmad

جہاد کے مسائل

مجاہد کو الوداع کہنے، اس کا استقبال کرنے اور امام کا اس کو وصیت کرنے کا بیان


۔ (۴۹۶۰)۔ عَنْ اُمِّ عَطِیَّۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبْعَ غَزَوَاتٍ، اُدَاوِی الْمَرْضٰی، وَاَقُوْمُ عَلٰی جَرَاحَاتِھِمْ، فَاُخَلِّفُھُمْ فِی رِحَالِھِمْ، اَصْنَعُ لَھُمُ الطَّعَامَ۔ (مسند أحمد: ۲۷۸۴۳)

۔ سیدہ ام عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سات غزوات میںشریک ہوئی، میں مریضوں کا دوا دارو کرتی، زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی، مجاہدین کی رہائش گاہوں میں پیچھے رہتی اور ان کے لیے کھانا تیار کرتی۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۴۹۶۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۱۲(انظر: ۲۷۳۰۰)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((نَعَمْ، عَلَیْھِنَّ جِھَادٌ لَا قِتَالَ فِیْہِ، اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ۔)) … جی ہاں، ان پر جہاد ہے، لیکن اس میں کوئی قتال نہیں ہے اور وہ ہے حج اور عمرہ۔ (سنن ابن ماجہ: ۲۹۰۱)