TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مجاہد کو الوداع کہنے، اس کا استقبال کرنے اور امام کا اس کو وصیت کرنے کا بیان

Chapter 21 of جہاد کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 21 of 53 · 12 Hadith
۔ (۴۹۵۱)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَأَنْ اُشَیِّعُ مُجَاھِدًا فِیْ سَبِیلِ اللّٰہِ، فَأَکْتَفَّہُ عَلٰی رَاحِلَۃٍ غَدْوَۃً أَوْ رَوْحَۃً أَحَبُّ إِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۵۷۲۸)
۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑنے والے کو الوداع کہوں اور اس کی ضروریات پوری کرنے میں اس کی مدد کروں، اس کی روانگی کے وقت یا اس کی واپس کے وقت تو یہ مجھے دنیا و ما فیہا سے زیادہ پسند ہو گا۔
Takhreej
(۴۹۵۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۸۲۴(انظر: ۱۵۶۴۳)
4951
Zaeef
۔ (۴۹۵۲)۔ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ الصِّبْیَانِ اِلٰی ثَنِیَّۃِ الْوِدَاعِ، نَتَلَقّٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ، وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً: اَذْکُرُ مَقْدَمَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ تَبُوْکَ۔ (مسند أحمد: ۱۵۸۱۲)
۔ سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بچوں کے ساتھ ثنیۃ الوداع کی طرف نکلا، ہم دراصل رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ملنے کے لیے گئے تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوۂ تبوک سے واپس آرہے تھے۔ سفیان راوی نے ایک بار کہا: مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا آنا یاد ہے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تبوک سے واپس لوٹے تھے۔
Takhreej
(۴۹۵۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۰۸۳، ۴۴۲۶، ۴۴۲۷(انظر: ۱۵۷۲۱)
4952
Sahih
۔ (۴۹۵۳)۔ قَالَ صَفْوَانُ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَرِیَّۃٍ، قَالَ: ((سِیرُوا بِاسْمِ اللّٰہِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، تُقَاتِلُونَ أَعْدَائَ اللّٰہِ، لَا تَغُلُّوْا وَلَا تَقْتُلُوْا وَلِیدًا، وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَۃُ أَیَّامٍ وَلَیَالِیہِنَّ یَمْسَحُ عَلٰی خُفَّیْہِ إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَیْہِ عَلٰی طُہُورٍ، وَلِلْمُقِیمِ یَوْمٌ وَلَیْلَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۲۶۶)
۔ سیدنا صفوان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایک سریّہ میں بھیجا اور فرمایا: اللہ کے نام کے ساتھ اس کی راہ میں چلو، اللہ کے دشمنوں سے لڑا، نہ خیانت کرو اور نہ کسی بچے کو قتل کرو، مسافر تین دنوں تک اپنے موزوں پر مسح کر سکتا ہے، جبکہ اس نے وضو کی حالت میں موزے پہنے ہوں اور مقیم ایک دن رات تک ان پر مسح کر سکتا ہے۔
Takhreej
(۴۹۵۳) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۸۵۷(انظر: ۱۸۰۹۴)
4953
Sahih
۔ (۴۹۵۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَشٰی مَعَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی بَقِیعِ الْغَرْقَدِ، ثُمَّ وَجَّہَہُمْ، وَقَالَ: ((انْطَلِقُوا عَلَی اسْمِ اللّٰہِ، اللّٰہُمَّ أَعِنْہُمْ)) یَعْنِی النَّفَرَ الَّذِینَ وَجَّہَہُمْ إِلٰی کَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ۔ (مسند أحمد: ۲۳۹۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بقیع الغرقد تک ان کے ساتھ چلے، پھر ان کو الوداع کہا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نام پر چلو، اے اللہ! ان لوگوں کی مدد فرما۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد وہ لوگ تھے، جن کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کعب بن اشرف کو قتل کرنے کے لیے بھیجا تھا۔
Takhreej
(۴۹۵۴) اسنادہ حسن، أخرجہ الطبرانی: ۱۱۵۵۴، والبزار: ۱۸۰۱، والحاکم: ۲/ ۹۸ (انظر: ۲۳۹۱)
4954
Sahih
۔ (۴۹۵۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا بَعَثَ جُیُوشَہُ، قَالَ: ((اخْرُجُوا بِسْمِ اللّٰہِ، تُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ مَنْ کَفَرَ بِاللّٰہِ، لَا تَغْدِرُوْا، وَلَا تَغُلُّوا، وَلَا تُمَثِّلُوا، وَلَا تَقْتُلُوا الْوِلْدَانَ وَلَا أَصْحَابَ الصَّوَامِع۔)) (مسند أحمد: ۲۷۲۸)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب اپنے لشکروں کو روانہ کرتے تو فرماتے: اللہ کے نام کے ساتھ نکلو، اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں سے اللہ کی راہ میں لڑو، نہ دھوکہ کرو، نہ خیانت کرو، نہ مثلہ کرو اور نہ بچوں اور گرجاگھروں والوں کو قتل کرو۔
Takhreej
(۴۹۵۵) حسن لغیرہ، أخرجہ البزار: ۱۶۷۷، والطبرانی: ۱۱۵۶۲، والبیھقی: ۹/ ۹۰ (انظر: ۲۷۲۸)
4955
Sahih
۔ (۴۹۵۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا قَاتَلَ اَحَدُکُمْ فَلْیَجْتَنِبِ الْوَجْہَ)) (مسند أحمد: ۸۵۵۶)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی لڑے تو وہ چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے۔
Takhreej
(۴۹۵۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۱۲(انظر: ۸۵۷۳)
4956
Sahih
۔ (۴۹۵۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یُّتَعَاطَی السَّیْفُ مَسْلُوْلًا۔ (مسند أحمد: ۱۴۲۵۰)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ تلوار کو میان سے نکال کر پکڑا جائے (تاکہ کسی کو لگ نہ جائے)۔
Takhreej
(۴۹۵۷) اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابوداود: ۲۵۸۸، والترمذی: ۲۱۶۳ (انظر: ۱۴۲۰۱)
4957
Sahih
۔ (۴۹۵۸)۔ عن حَشْرَجَ بْنِ زِیَادٍ الْأَشْجَعِیِّ، عَنْ جَدَّتِہِ أُمِّ أَبِیہِ، أَنَّہَا قَالَتْ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَزَاۃِ خَیْبَرَ، وَأَنَا سَادِسَۃُ سِتِّ نِسْوَۃٍ، فَبَلَغَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ مَعَہُ نِسَائً، فَأَرْسَلَ إِلَیْنَا (وَفِیْ لَفْظٍ: فَدَعَانَا قَالَتْ: فَرَاَیْنَا فِیْ وَجْھِہِ الْغَضَبَ) فَقَالَ: ((مَا أَخْرَجَکُنَّ وَبِأَمْرِ مَنْ خَرَجْتُنَّ؟)) فَقُلْنَا: خَرَجْنَا نُنَاوِلُ السِّہَامَ، وَنَسْقِی النَّاسَ السَّوِیقَ، وَمَعَنَا مَا نُدَاوِی بِہِ الْجَرْحٰی، وَنَغْزِلُ الشَّعْرَ، وَنُعِینُ بِہِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، قَالَ: قُمْنَ فَانْصَرِفْنَ، فَلَمَّا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْہِ خَیْبَرَ، أَخْرَجَ لَنَا سِہَامًا کَسِہَامِ الرَّجُلِ (وَفِیْ لَفْظٍ: کَسِھَامِ الرِّجَالِ) قُلْتُ: یَا جَدَّۃُ! مَا أَخْرَجَ لَکُنَّ قَالَتْ: تَمْرًا۔ (مسند أحمد: ۲۲۶۸۸)
۔ حشرج بن زیاد اشجعی اپنے دادی جان سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: میں غزوۂ خیبر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نکلی، جبکہ میں چھ خواتین میں سے چھٹی تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پتہ چلا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ عورتیں بھی جا رہی ہیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں بلایا، ہمیں محسوس ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے پر غضب کے آثار ہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کس نے تم کو نکالا ہے اور کس کے حکم سے تم نکلی ہو؟ ہم نے کہا: جی ہم خود نکلی ہیں، تاکہ مجاہدوں کو تیر پکڑا سکیں، لوگوں کو ستو پلا سکیں، ہم میں بعض خواتین زخمیوں کا علاج بھی کر سکتی ہیں اور بالوں کو بٹ کر اللہ کی راہ میں مدد کریں گی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اٹھو اور پیچھے ہٹ جاؤ۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر خیبر کو فتح کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں بھی مردوں کی طرح کا حصہ دیا، میں حشرج نے کہا: اے دادی جان! تمہیں حصے میں کیا دیا تھا؟ انھوں نے کہا: کھجور۔
Takhreej
(۴۹۵۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حشرج بن زیاد، أخرجہ أبوداود: ۲۷۲۹(انظر: ۲۲۳۳۲)
4958
Zaeef
۔ (۴۹۵۹)۔ عَنْ رُبَیِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَائَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کُنَّا نَغْزُوْا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَسْقِی الْقَوْمَ وَنَخْدُمُھُمْ، وَنَرُدُّ الْجَرْحٰی وَالْقَتْلٰی اِلَی الْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۵۷)
۔ سیدہ ربیع بنت ِ معوذ بن عفراء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جہاد کرتی تھیں، جس میں ہم لوگوں کو پانی پلاتیں، ان کی خدمت کرتیں اور زخمی لوگوں اور شہداء کو مدینہ منورہ میں منتقل کرتی تھیں۔
Takhreej
(۴۹۵۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۸۸۳، ۵۶۷۹ (انظر: ۲۷۰۱۷)
4959
Sahih
۔ (۴۹۶۰)۔ عَنْ اُمِّ عَطِیَّۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبْعَ غَزَوَاتٍ، اُدَاوِی الْمَرْضٰی، وَاَقُوْمُ عَلٰی جَرَاحَاتِھِمْ، فَاُخَلِّفُھُمْ فِی رِحَالِھِمْ، اَصْنَعُ لَھُمُ الطَّعَامَ۔ (مسند أحمد: ۲۷۸۴۳)
۔ سیدہ ام عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سات غزوات میںشریک ہوئی، میں مریضوں کا دوا دارو کرتی، زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی، مجاہدین کی رہائش گاہوں میں پیچھے رہتی اور ان کے لیے کھانا تیار کرتی۔
Takhreej
(۴۹۶۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۱۲(انظر: ۲۷۳۰۰)
Explanation
فوائد:… سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((نَعَمْ، عَلَیْھِنَّ جِھَادٌ لَا قِتَالَ فِیْہِ، اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ۔)) … جی ہاں، ان پر جہاد ہے، لیکن اس میں کوئی قتال نہیں ہے اور وہ ہے حج اور عمرہ۔ (سنن ابن ماجہ: ۲۹۰۱)
4960
Sahih
۔ (۴۹۶۱)۔ عَنْ أُمَیَّۃَ بِنْتِ أَبِی الصَّلْتِ، عَنِ امْرَأَۃٍ مِنْ بَنِی غِفَارٍ، وَقَدْ سَمَّاہَا لِی، قَالَتْ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی نِسْوَۃٍ مِنْ بَنِی غِفَارٍ، فَقُلْنَا لَہُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَدْ أَرَدْنَا أَنْ نَخْرُجَ مَعَکَ إِلٰی وَجْہِکَ ہٰذَا، وَہُوَ یَسِیرُ إِلٰی خَیْبَرَ، فَنُدَاوِیَ الْجَرْحٰی، وَنُعِینَ الْمُسْلِمِینَ بِمَا اسْتَطَعْنَا، فَقَال:َ عَلٰی بَرَکَۃِ اللّٰہِ، قَالَتْ: فَخَرَجْنَا مَعَہُ، وَکُنْتُ جَارِیَۃً حَدِیثَۃً، فَأَرْدَفَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی حَقِیبَۃِ رَحْلِہِ، قَالَتْ: فَوَاللّٰہِ، لَنَزَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الصُّبْحِ فَأَنَاخَ وَنَزَلْتُ عَنْ حَقِیبَۃِ رَحْلِہِ، وَإِذَا بِہَا دَمٌ مِنِّی، فَکَانَتْ أَوَّلَ حَیْضَۃٍ حِضْتُہَا، قَالَتْ: فَتَقَبَّضْتُ إِلَی النَّاقَۃِ وَاسْتَحْیَیْتُ، فَلَمَّا رَأٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا بِی وَرَأَی الدَّمَ، قَالَ: ((مَا لَکِ لَعَلَّکِ نَفِسْتِ؟)) قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَأَصْلِحِی مِنْ نَفْسِکِ، وَخُذِی إِنَائً مِنْ مَائٍ فَاطْرَحِی فِیہِ مِلْحًا، ثُمَّ اغْسِلِی مَا أَصَابَ الْحَقِیبَۃَ مِنْ الدَّمِ، ثُمَّ عُودِی لِمَرْکَبِکِ۔)) قَالَتْ: فَلَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَیْبَرَ، رَضَخَ لَنَا مِنْ الْفَیْئِ، وَأَخَذَ ہٰذِہِ الْقِلَادَۃَ الَّتِی تَرَیْنَ فِی عُنُقِی، فَأَعْطَانِیہَا وَجَعَلَہَا بِیَدِہِ فِی عُنُقِی، فَوَاللّٰہِ، لَا تُفَارِقُنِی أَبَدًا، قَالَ: وَکَانَتْ فِی عُنُقِہَا حَتّٰی مَاتَتْ، ثُمَّ أَوْصَتْ أَنْ تُدْفَنَ مَعَہَا، فَکَانَتْ لَا تَطْہُرُ مِنْ حَیْضَۃٍ إِلَّا جَعَلَتْ فِی طَہُورِہَا مِلْحًا، وَأَوْصَتْ أَنْ یُجْعَلَ فِی غُسْلِہَا حِینَ مَاتَتْ۔ (مسند أحمد: ۲۷۶۷۷)
۔ بنو غفار کی ایک خاتون (سیدہ ام زیاد اشجعی) سے مروی ہے، وہ کہتی ہے: میں بنو غفار کی چند خواتین سمیت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم بھی آپ کے ساتھ اس طرف نکلنا چاہتی ہیں، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خیبر کی طرف جا رہے تھے، ہم زخمیوں کا علاج کریں گی اور حسب ِ استطاعت مسلمانوں کی مدد کریں گی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی برکت پر نکلو۔ پس ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نکل پڑیں، میں نو عمر لڑکی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی سواری پر پالان کے پچھلے حصے میں بٹھا لیا، اللہ کی قسم ! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صبح کے وقت اترے، اونٹ کو بٹھایا اور میں بھی پالان کے پچھلے حصے سے اتر آئی، اچانک دیکھا کہ اس میں تو مجھ سے بہنے والا خون تھا، یہ میرا پہلا حیض تھا، میں گھبرا کر اونٹنی کی طرف کودی اور شرما گئی، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اور میرے ساتھ لگے ہوئے خون کو دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تجھے کیا ہو گیا، شاید تجھے ماہواری آ گئی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنے آپ کو سنوار لے اور ایک برتن میں پانی لے، اس میں نمک ڈال اور پالان کو جو خون لگا ہے، اس کو دھو دے، پھر اپنی سواری پر بیٹھ جا۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خیبر فتح کر لیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں بھی مالِ فے میں تھوڑی مقدار والے عطیے دیئے، یہ جو ہار میری گردن میں نظر آ رہا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ ہار پکڑا اور مجھے دے دیا، بلکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ سے میری گردن میں ڈالا، اللہ کی قسم! اب یہ ہار مجھ سے کبھی بھی جدا نہیں ہو گا۔ راوی کہتے ہیں: پھر ان کی موت تک یہ ہار ان کی گردن میں رہا، بلکہ انھوں نے وصیت کی تھی کہ اس ہار کو ان کے ساتھ دفن کیا جائے، نیز اس خاتون کو بعد میں جب بھی حیض آتا تھا تو اس سے پاکیزگی حاصل کرتے وقت وہ پانی میں نمک ڈالتی تھیں اور انھوں نے یہ وصیت بھی کی تھی کہ ان کے غسل کے پانی میں بھی نمک ڈالا جائے۔
Takhreej
(۴۹۶۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ امیۃ بنت ابی الصلت، أخرجہ ابوداود: ۳۱۳ (انظر: ۲۷۱۳۶)
4961
Sahih
۔ (۴۹۶۲)۔ عَنْ حُمَیْدٍ یَعْنِی ابْنَ ہِلَالٍ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ مِنْ الطُّفَاوَۃِ طَرِیقُہُ عَلَیْنَا، فَأَتٰی عَلَی الْحَیِّ فَحَدَّثَہُمْ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فِی عِیرٍ لَنَا فَبِعْنَا بِیَاعَتَنَا، ثُمَّ قُلْتُ: لَأَنْطَلِقَنَّ إِلٰی ہٰذَا الرَّجُلِ فَلَآتِیَنَّ مَنْ بَعْدِی بِخَبَرِہِ، قَالَ: فَانْتَہَیْتُ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَإِذَا ہُوَ یُرِینِی بَیْتًا، قَالَ: إِنَّ امْرَأَۃً کَانَتْ فِیہِ، فَخَرَجَتْ فِی سَرِیَّۃٍ مِنْ الْمُسْلِمِینَ، وَتَرَکَتْ ثِنْتَیْ عَشْرَۃَ عَنْزًا لَہَا وَصِیصِیَتَہَا کَانَتْ تَنْسِجُ بِہَا، قَالَ: فَفَقَدَتْ عَنْزًا مِنْ غَنَمِہَا وَصِیصِیَتَہَا، فَقَالَتْ: یَا رَبِّ إِنَّکَ قَدْ ضَمِنْتَ لِمَنْ خَرَجَ فِی سَبِیلِکَ أَنْ تَحْفَظَ عَلَیْہِ، وَإِنِّی قَدْ فَقَدْتُ عَنْزًا مِنْ غَنَمِی وَصِیصِیَتِی، وَإِنِّی أَنْشُدُکَ عَنْزِی وَصِیصِیَتِی، قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُ شِدَّۃَ مُنَاشَدَتِہَا لِرَبِّہَا تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَأَصْبَحَتْ عَنْزُہَا وَمِثْلُہَا وَصِیصِیَتُہَا وَمِثْلُہَا۔)) وَہَاتِیکَ فَأْتِہَا فَاسْأَلْہَا إِنْ شِئْتَ، قَالَ: قُلْتُ: بَلْ أُصَدِّقُکَ۔ (مسند أحمد: ۲۰۹۴۰)
۔ حُمید بن ہلال سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں :طفاوہ قبیلے کے ایک آدمی کا راستہ ہمارے پاس سے گزرتا تھا، وہ ایک قبیلے کے پاس آیا اور ان کو یہ واقعہ بیان کیا: میں اپنے قافلے میں مدینہ منورہ گیا، وہاں اپنا سامان فروخت کیا، پھر میں نے کہا: میں ضرور ضرور اس آدمی (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے پاس جاؤں گا اور اپنے پیچھے والوں کو بھی اس کی حقیقت سے آگاہ کروں گا، جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک گھر دکھایا اور فرمایا: بیشک ایک خاتون اس گھر میں رہتی تھی، وہ مسلمانوں کے ایک سریّہ میں چلی گئی اور گھر میں بارہ بکریاں اور کاتنے کا ایک تکلا چھوڑ کر گئی، وہ اس تکلے سے بننے کا کام کرتی تھی، جب وہ واپس آئی تو اس نے ایک بکری اور اس تکلے کو گم پایا، پھر اس نے کہا: اے میرے ربّ! جو آدمی تیرے راستے میں جاتا ہے، اس کی چیزوں کی حفاظت کی ضمانت تو خود لیتا ہے، اب میرے ایک بکری اور تکلا گم ہے، میں تجھے وہی وعدہ یاد کروا کر کہتی ہوں کہ میری بکری اور میرا تکلا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کے مطالبے اور اپیل کی شدت کا ذکر کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر ہوا یوں کہ اس کی بکری اور اس کی مثل ایک اور بکری اور اس کا تکلا اور اس کی مثل ایک اور تکلا اس کے پاس پہنچا دیئے گئے۔اور تو خود اس کے پاس جا اور اگر چاہتا ہے تو اس سے پوچھ لے۔ میں نے کہا: جی میں آپ کی تصدیق کرتا ہوں۔
Takhreej
(۴۹۶۲) تخریج: رجالہ الی حمید بن ھلال ثقات رجال الصحیح، ولیس فی النص ما یصرح بسماع حمید من الرجل الطفاوی (انظر: ۲۰۶۶۴)
Explanation
فوائد:… اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ مجاہد کو الوداع کرنے کے لیے اس کے ساتھ چلنا، واپسی پر آگے جا کر ان کا استقبال کرنا اور لشکروں کو روانہ کرتے وقت امام اور حکمران کا جہاد سے متعلق ان کو پند ونصائح کرنا
4962
Sahih

Chapters

53
01
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
11 Hadith
02
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
8 Hadith
03
اللہ تعالیٰ کی راہ میں رباط اور پہرے کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
04
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
24 Hadith
05
بحری جہاد کرنے والوں کی فضیلت
4 Hadith
06
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
12 Hadith
07
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
12 Hadith
08
مجاہدوں کی بیویوں کی حرمت اور مجاہد کے اہل کے معاملے میں خیانت کرنے والے کی وعید کا بیان
4 Hadith
09
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
6 Hadith
10
شہداء کی فضیلت
13 Hadith
11
ایسے شخص کا بیان، جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے اور اس پر قرضہ بھی ہو
4 Hadith
12
اللہ کے راستہ کے شہداء کی اقسام اور ان کی نیتوں کے اعتبار سے ان کے درجات کا بیان
6 Hadith
13
شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
18 Hadith
14
اس بات کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہید کی وفات پائی
2 Hadith
15
اس آدمی کا بیان جو جہاد کا ارادہ کرے اور اس کے والدین زندہ ہوں
7 Hadith
16
اس چیز کا بیان کہ امام لشکر کے سپہ سالاروں سے مشورہ کرے، ان کی خیرخواہی کرے، ان کے ساتھ نرمی برتے اور ان سے ان کی ذمہ داریاں نبھانے کا عہد لے
3 Hadith
17
اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان
6 Hadith
18
قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینے اور امام کا لشکر کے امیر کو وصیت کرنے کا بیان
6 Hadith
19
لڑائی میں دھوکہ دینے، توریہ کرنے، بات کو چھپانے اور جاسوسوں کو بھیجنے کے جواز کا بیان
7 Hadith
20
سرایا اور جیوش کو ترتیب دینے اور جھنڈوں اور ان کے رنگوں کا اہتمام کرنے کا بیان
4 Hadith
21
مجاہد کو الوداع کہنے، اس کا استقبال کرنے اور امام کا اس کو وصیت کرنے کا بیان
12 Hadith
22
مخصوص اوقات میں غزوہ کے لیے روانہ ہونے کے مستحب ہونے، دشمن سے لڑائی شروع کرنے، صفوں کو ترتیب دینے اور مسلمانوں کے شعار کا بیان
10 Hadith
23
جنگ میں فخر کرنے کے مستحب ہونے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی تمنا کرنے اور لشکر کی اکثریت سے دھوکہ کھانے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
24
جس کے ہاں اسلام کی علامت موجود ہو، اس پر شب خون مارنے کے وقت رک جانے کا بیان
2 Hadith
25
اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
8 Hadith
26
کافروں پر اچانک حملہ کرنے کا بیان، اگرچہ اس میں ان کے بچے قتل ہو جائیں
5 Hadith
27
عورتوں، بچوں، پادریوں اور انتہائی بوڑھے لوگوں کو بالارادہ قتل کرنے سے روکنے کا بیان
8 Hadith
28
مثلہ، جلانے، درخت کاٹنے اور عمارتیں گرانے سے ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی ضرورت اور مصلحت ہو
9 Hadith
29
لڑائی کے وقت بھاگ جانے کی حرمت کا بیان، الا یہ کہ آدمی نے اپنی جماعت کو ملنا ہو، اگرچہ وہ جماعت دور ہو
3 Hadith
30
فتح والے مقام میں تین دن ٹھہرنے کے مستحب ہونے کا بیان
2 Hadith
31
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
9 Hadith
32
جس جس عامل نے میدان جنگ میں اپنی طاقت کے بقدر کام کیا،ان میں برابری کے ساتھ مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا بیان
4 Hadith
33
غنیمت کے خُمُس کا اللہ اور اس کے رسول کے لیے فرض ہونے اور اس کی تقسیم کا بیان
9 Hadith
34
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
9 Hadith
35
اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
9 Hadith
36
لشکر کے بعض افراد کو اس بنا پر زائد حصہ دینے کا بیان کہ انھوں نے لڑائی لڑی یا مشکلات کو برداشت کیا
2 Hadith
37
لشکر کے سریہ کو زائد حصہ دینے اور پھر ان دونوں کو غنیمت میں شریک کرنے کا بیان
6 Hadith
38
مالِ فے کے مصرف کا بیان
6 Hadith
39
تالیف ِ قلبی کے لیے دینے کا بیان
2 Hadith
40
امیر اور عامل کے تحائف
2 Hadith
41
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
12 Hadith
42
قیدیوں کے حق میں احسان کرنے، ان سے فدیہ لینے اور ان سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب ہوازن کے وفود پر ان کے قیدیوں کے معاملے میں احسان کرنے کا باب
2 Hadith
43
سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک معجزے کا بیان
2 Hadith
44
اس آدمی کا بیان جس نے اپنے باپ کے فدیے میں چار ہزار درہم دیئے
3 Hadith
45
سیدہ زینب بنت رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے خاوند سیدنا ابو العاص کا فدیہ
1 Hadith
46
ایک مشرک کے فدیے میں دو مسلمان لینے کا بیان ان قیدیوں کا بیان جنھوں نے اپنے فدیے میں انصاریوں کے بچوں کو کتابت کی تعلیم دی
4 Hadith
47
بدر کے قیدیوں کے فدیے اور اس کی وجہ سے نازل ہونے والے قرآن کا بیان
3 Hadith
48
ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
10 Hadith
49
اس قیدی کا بیان جو قید سے پہلے قبولیت ِ اسلام کا دعوی کر دے، نیز اسلام قبول کرنے والے قیدی کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
50
مسلمان ہونے والے قیدی کا مسلمانوں کی ملکیت میں ہی رہنے کا اور عربوں کو غلام بنانے کے جواز کا بیان
3 Hadith
51
اس چیز کا بیان کہ جاسوس کے ساتھ کیا کیا جائے، وہ مسلمان ہو یا حربی یا ذمی
3 Hadith
52
اس چیز کا بیان کہ جب کافر کا غلام مسلمان ہو کر ہمارے پاس آ جائے تو وہ آزاد ہو گا
4 Hadith
53
اس چیز کا بیان کہ اگر حربی قابو میں آنے سے پہلے مسلمان ہو گیا تو اپنے مال کو بچا لے گا، نیز غنیمت والی زمین کا حکم
6 Hadith
No chapter matched that.