مسنداحمد

Musnad Ahmad

جہاد کے مسائل

مثلہ، جلانے، درخت کاٹنے اور عمارتیں گرانے سے ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی ضرورت اور مصلحت ہو

۔ (۵۰۰۱)۔ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ قَتَلَ صَغِیْرًا اَوْ کَبِیْرًا اَوْ اَحْرَقَ نَخْلًا اَوْ قَطَعَ شَجَرَۃً مُثْمِرَۃً اَوْ ذَبَحَ شَاۃً لِاِھَابِھَا لَمْ یَرْجِعْ کَفَافًا)) (مسند أحمد: ۲۲۷۲۶)

۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے چھوٹے بچے، یا بوڑھے آدمی کو قتل کیا، یا کھجوروں کے درخت جلائے، یا پھل دار درخت کاٹے اور چمڑے کی خاطر بکری کو ذبح کر دیا تو وہ اس جہاد سے برابر سرابر بھی نہیں لوٹے گا۔

۔ (۵۰۰۲)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا قَامَ فِیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطِیْبًا اِلَّا اَمَرَنَا بِالصَّدَقَۃِ وَنَھَانَا عَنِ الْمُثْلَۃِ، قَالَ: قَالَ: ((اَلَا وَاِنَّ الْمُثْلَۃَ اَنْ یَنْذُرَ الرَّجُلُ اَنْ یَخْرُمَ اَنْفَہٗ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۱۸۱)

۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بھی ہمیں خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوتے تو ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیتے اور مثلہ سے منع کرتے اور فرماتے: خبرادار! یہ بھی مثلہ ہے کہ آدمی یہ نذر مانے کہ وہ اپنی ناک میں سوراخ کرے گا یا اس کو پھاڑے گا۔

۔ (۵۰۰۳)۔ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْمُثْلَۃِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۳۳۳)

۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مثلہ سے منع فرمایا ہے۔

۔ (۵۰۰۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَطَعَ نَخْلَ بَنِی النَّضِیْرِ وَحَرَّقَ۔ (مسند أحمد: ۵۵۲۰)

۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنی نضیر کے کھجوروں کے درخت کاٹے بھی تھے اور جلائے بھی تھے۔

۔ (۵۰۰۵)۔ عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیِدَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ وَجَّھَہٗ وِجْھَۃً فَقُبِضَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَسَاَلَہٗ اَبُوْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَا الَّذِیْ عَھِدَ اِلَیْکَ؟ قَالَ: عَھِدَ اِلَیَّ اَنْ اُغِیْرَ عَلٰی اَبْنٰی صَبَاحًا ثُمَّ اُحَرّقَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۱۶۷)

۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو ایک طرف بھیجا تھا، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وفات پا گئے تھے، پھر سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے سوال کیا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تمہیں کون سی نصیحت کی تھی؟ انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ نصیحت کی تھی کہ میں اَبْنٰی بستی پر صبح کے وقت حملہ کروں اور پھر جلادوں۔

۔ (۵۰۰۶)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی قَرْیَۃٍ یُقَالُ لَھَا: اَبْنٰی، فَقَالَ: ((ائْتِھَا صَبَاحًا ثُمَّ حَرِّقْ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۱۲۸)

۔ (دوسری سند) سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اَبْنٰی نامی ایک گاؤں کی طرف بھیجا تھا اور فرمایا تھا: تم صبح کے وقت وہاں جانا اور اس کو جلا دینا۔

۔ (۵۰۰۷)۔ عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَلَا تُرِیحُنِی مِنْ ذِی الْخَلَصَۃِ۔)) وَکَانَ بَیْتًا فِی خَثْعَمَ یُسَمّٰی کَعْبَۃَ الْیَمَانِیَّۃَ، فَنَفَرْتُ إِلَیْہِ فِی سَبْعِینَ وَمِائَۃِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ، قَالَ: فَأَتَاہَا فَحَرَّقَہَا بِالنَّارِ، وَبَعَثَ جَرِیرٌ بَشِیرًا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا أَتَیْتُکَ حَتّٰی تَرَکْتُہَا، کَأَنَّہَا جَمَلٌ أَجْرَبُ، فَبَرَّکَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی خَیْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِہَا خَمْسَ مَرَّاتٍ۔ (مسند أحمد: ۱۹۴۰۲)

۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تم مجھے ذو خلصہ سے راحت نہیں پہنچاتے؟ یہ خثعم قبیلے کا ایک گھر تھا، اس کو کعبۂ یمانیہ کہا جاتا تھا، میں احمس قبیلے کے ایک سو ستر گھوڑ سوار لے کر اس کی طرف گیا، وہ وہاں گئے اور آگ لگا کر اس کو جلا دیا، پھر سیدنا جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف ایک خوشخبری دینے والا بھیجا اور اس نے آ کر کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں اس گھر کو خارشی اونٹ کی طرح چھوڑ کر آپ کو خوشخبری دینے کے لیے آیا ہوں، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے احمس قبیلے کے گھوڑ سواروں اور پیادہ لوگوں کے لیے پانچ بار برکت کی دعا کی۔

۔ (۵۰۰۸)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی بَعْثٍ، فَقَالَ: ((إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا وَفُلَانًا لِرَجُلَیْنِ مِنْ قُرَیْشٍ، فَأَحْرِقُوہُمَا بِالنَّارِ)) ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِینَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ: ((إِنِّی کُنْتُ أَمَرْتُکُمْ أَنْ تُحْرِقُوْا فُلَانًا وَفُلَانًا بِالنَّارِ، وَإِنَّ النَّارَ لَا یُعَذِّبُ بِہَا إِلَّا اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنْ وَجَدْتُمُوہُمَا فَاقْتُلُوہُمَا)) (مسند أحمد: ۸۴۴۲)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا اور فرمایا: اگر تم قریش کے فلاں فلاں دو آدمیوں کو پا لو تو ان کو آگ کے ساتھ جلا دینا۔ پھر جب ہم نے نکلنے کا ارادہ کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو فلاں فلاں آدمیوں کو آگ کے ساتھ جلا دینے کا حکم دیا تھا، جبکہ آگ کے ساتھ عذاب دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، اس لیے اگر تم ان کو پا لو تو ان کو قتل کر دینا۔

۔ (۵۰۰۹)۔ عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِیِّ، صَاحِبِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، حَدَّثَہُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَہُ وَرَہْطًا مَعَہُ إِلَی رَجُلٍ مِنْ عُذْرَۃَ، فَقَالَ: ((إِنْ قَدَرْتُمْ عَلَی فُلَانٍ فَأَحْرِقُوہُ بِالنَّارِ۔)) فَانْطَلَقُوْا حَتّٰی إِذَا تَوَارَوْا مِنْہُ، نَادَاہُمْ أَوْ أَرْسَلَ فِی أَثَرِہِمْ فَرَدُّوہُمْ ثُمَّ قَالَ: ((إِنْ أَنْتُمْ قَدَرْتُمْ عَلَیْہِ فَاقْتُلُوہُ، وَلَا تُحْرِقُوہُ بِالنَّارِ، فَإِنَّمَا یُعَذِّبُ بِالنَّارِ رَبُّ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۱۳۱)

۔ صحابی ٔ رسول سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو ایک لشکر سمیت عُذرہ قبیلے کے ایک آدمی کی طرف بھیجا اور فرمایا: اگر تم نے فلاں پر غلبہ پا لیا تو اس کو آگ کے ساتھ جلا دینا۔ پس وہ چل پڑے اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اوجھل ہونے لگے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو بلایا اور کسی آدمی کو بھیج کر ان کو واپس بلا لیا اور پھر فرمایا: اگر تم نے اس آدمی پر غلبہ پا لیا تو اس کو قتل کرنا، آگ کے ساتھ جلانا نہیں ہے، کیونکہ آگ کا ربّ ہی ہے، جو آگ کے ذریعے عذاب دے سکتا ہے۔