۔ سیدنا عمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم چار افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، ہمارے ساتھ ایک گھوڑا بھی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم میں سے ہرآدمی کو ایک حصہ اور گھوڑے کے دو حصے دیئے۔
۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود زبیر کو ایک حصہ، اس کی ماں کو ایک حصہ اور اس کے گھوڑے کے دو حصے دیئے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر والے دن گھوڑے کے لیے دو حصے اور پیادہ کے لیے ایک حصہ رکھا۔ ابو معاویہ راوی کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آدمی اور اس کے گھوڑے کے لیے کل تین حصے رکھے، ایک آدمی کا اور دو اس کے گھوڑے کے۔
۔ سیدنا مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خیبر کو اہل حدیبیہ پر تقسیم کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ کسی اور کو شامل نہیں کیا، بس صرف وہی جو حدیبیہ میں شریک ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے اٹھارہ حصے بنائے، لشکر کی تعداد پندرہ سو(۱۵۰۰) تھی، ان میں تین سو گھوڑ سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑ سوار کو دو حصے دیئے اور پیادہ کو ایک۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مالِ غنیمت میں سے عورت اور غلام کو اتنا حصہ دیتے تھے، جتنا لشکر والے افراد کو ملتا تھا، لیکن ایک روایت میں ہے: لشکر والے افراد سے کم حصہ عورت اور غلام کو دیا جاتاتھا۔
۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، ہم میں غلام بھی تھے، مالِ غنیمت میں سے ان کو کچھ نہیں دیا گیا۔
۔ بنوغفار کی ایک خاتون سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر فتح کیا تو ہمیں بھی مالِ غنیمت میں سے تھوڑی مقدار میں عطیے دیئے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، جبکہ نجدہ حروری نے ان کی طرف خط لکھا اور پانچ امور کے بارے میں پوچھا، ایک سوال یہ تھا: کیا عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتی تھیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جواباً لکھا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عورتیں جہاد میں جاتی تھیں اور مریضوں کا دوا دارو کرتی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے لیے دوسرے مجاہدین کی طرح حصہ مقرر نہیں کرتے تھے، البتہ مالِ غنیمت میں سے تھوڑا بہت بطورِ عطیہ دے دیتے تھے۔
۔ مولائے آبی اللحم سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے آقاؤں کے ساتھ غزوۂ خیبر میں حاضر ہوا، جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میرے بارے میں بات کی توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے بارے میں حکم دے دیا، میں نے اپنے ساتھ اس طرح تلوار لٹکائی کہ وہ گھسٹ رہی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا گیا کہ میں غلام ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ مالِ غنیمت میں سے تھوڑی سی مقدار میں گھریلو ساز و سامان مجھے دے دیا جائے۔