مسنداحمد

Musnad Ahmad

امان، صلح اور عارضی جنگ بندی کے ابواب

مقابلہ بازی اور تیر اندازی کے ابواب مقابلہ بازی، اس کے آداب اور ان مقابلوں کا بیان جن پر انعام دینا درست ہے

۔ (۵۱۵۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا سَبَقَ اِلَّا فِیْ خُفٍّ اَوْ حَافِرٍ۔)) (مسند أحمد: ۷۴۷۶)

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مقابلہ بازی نہیں ہے، مگر اونٹ دوڑ میں یا گھوڑ دوڑ میں۔

۔ (۵۱۵۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَبَّقَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ الْخَیْلِ فَأَرْسَلَ مَا ضُمِّرَ مِنْہَا مِنَ الْحَفْیَاء ِ أَوْ الحَیْفَائِ إِلٰی ثَنِیَّۃِ الْوَدَاعِ وَأَرْسَلَ مَا لَمْ یُضَمَّرْ مِنْہَا مِنْ ثَنِیَّۃِ الْوَدَاعِ إِلٰی مَسْجِدِ بَنِی زُرَیْقٍ۔ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَکُنْتُ فَارِسًا یَوْمَئِذٍ فَسَبَقْتُ النَّاسَ طَفَّفَ بِیَ الْفَرَسُ مَسْجِدَ بَنِیْ زُرَیْقٍ۔ (مسند أحمد: ۴۴۸۷)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھوڑدوڑی میں مقابلہ کرایا، تضمیر شدہ گھوڑوں کا مقابلہ حفیا سے ثَنِیَّۃُ الْوَدَاع تک تھا اور جن گھوڑوں کی تضمیر نہیں کی گئی تھی، ان کا مقابلہ ثَنِیَّۃُ الْوَدَاع سے مسجد بنی زریق تک تھا، سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اس مقابلے میں ایک گھوڑ سوار میں تھا، میں لوگوں سے بازی لے گیا اور میرا گھوڑا مسجد بنی زریق کی دیوار کو بھی پھلانگ گیا۔

۔ (۵۱۶۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: سَبَّقَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ الْخَیْلِ وَاَعْطَی السَّابِقَ۔ (مسند أحمد: ۵۶۵۶)

۔ سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھوڑوں میں مقابلہ کروایا اور آگے نکل جانے والے کو انعام دیا۔

۔ (۵۱۶۱)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبَّقَ بِالْخَیْلِ وَرَاھَنَ۔ (مسند أحمد: ۵۳۴۸)

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھڑدوڑ میں مقابلہ کروایا اور انعام دینے کی شرط لگائی تھی۔

۔ (۵۱۶۲)۔ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبَّقَ بَیْنَ الْخَیْلِ وَفَضَّلَ الْقُرَّحَ فِی الْغَایَۃِ۔ (مسند أحمد: ۶۴۶۶)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھوڑوں میں مقابلہ کروایا اور ان گھوڑوں کو برتری والا قرار دیا، جو اپنی عمر کے پانچویں سال میں داخل ہو چکے تھے۔

۔ (۵۱۶۳)۔ عَنْ اَبِیْ لَبِیْدٍ لِمَازَۃَ بْنِ زَبَّارٍ قَالَ: أُرْسِلَتِ الْخَیْلُ زَمَنَ الْحَجَّاجِ، فَقُلْنَا: لَوْ أَتَیْنَا الرِّہَانَ، قَالَ: فَأَتَیْنَاہُ ثُمَّ قُلْنَا: لَوْ أَتَیْنَا إِلٰی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فَسَأَلْنَاہُ ہَلْ کُنْتُمْ تُرَاہِنُونَ عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: فَأَتَیْنَاہُ فَسَأَلْنَاہُ، فَقَالَ: نَعَمْ، لَقَدْ رَاہَنَ عَلٰی فَرَسٍ لَہُ یُقَالُ لَہُ: سَبْحَۃُ فَسَبَقَ النَّاسَ فَہَشَّ لِذٰلِکَ وَأَعْجَبَہُ۔ (مسند أحمد: ۱۲۶۵۴)

۔ ابو لبید لمازہ بن زبار کہتے ہیں: حجاج کے زمانے میں گھوڑوںمیں مقابلہ کیا گیا، ہم نے کہا: اگر ہم مقابلے والی جگہ پر پہنچ جائیں تو بہتر ہو گا، جب ہم اس مقام پر پہنچے تو ہم نے سوچا کہ اگر سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس چلے جائیں اور یہ سوال کر لیں کہ کیا وہ لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں انعام دینے کی شرط لگاتے تھے، پس ہم ان کے پاس گئے اور ان سے یہ سوال کیا، انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے خود سَبْحَہ نامی گھوڑے پر مقابلہ کیا تھا اور جب میں لوگوں سے سبقت لے گیا تو میں خوش ہوا اور اس چیز نے مجھے تعجب میں ڈالا۔

۔ (۵۱۶۴)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ الْعَضْبَائَ کَانَتْ لَا تُسْبَقُ، فَجَائَ أَعْرَابِیٌّ عَلٰی قَعُودٍ لَہُ فَسَابَقَہَا فَسَبَقَہَا الْأَعْرَابِیُّ، فَکَأَنَّ ذٰلِکَ اشْتَدَّ عَلٰی أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ أَنْ لَا یَرْفَعَ شَیْئًا مِنْ ہٰذِہِ الدُّنْیَا إِلَّا وَضَعَہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۶۹۴)

۔ سیدنا بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کوئی بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عضباء اونٹنی سے آگے نہیں نکل سکتا تھا، لیکن ایک دن ایک بدو اپنے اونٹ پر آیا اور وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی سے آگے گزر گیا، جب یہ چیز صحابۂ کرام پر گراں گزری تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک یہ اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ اس دنیا کی جس چیز کو بلندی عطا کرتا ہے، پھر اس کی حیثیت کو گراتا بھی ہے۔

۔ (۵۱۶۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَیْنَ فَرَسَیْنِ وَہُوَ لَا یَأْمَنُ أَنْ یَسْبِقَ فَلَا بَأْسَ بِہِ، وَمَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَیْنَ فَرَسَیْنِ قَدْ أَمِنَ أَنْ یَسْبِقَ فَہُوَ قِمَارٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۵۶۴)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے مقابلہ کرنے والے دو گھوڑوں کے درمیان گھوڑا داخل کر دیا، جبکہ اس کو بازی لے جانے کا یقین نہ ہو تو ایسے کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن جس نے دو گھوڑوں کے درمیان اپنا گھوڑا ڈال دیا، جبکہ اسے آگے نکل جانے کا یقین ہو تو یہ جوا ہو گا۔

۔ (۵۱۶۶)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، عَنِ النَّبِیِّ قَالَ: ((لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ فِی الْاِسْلَامِ۔)) (مسند أحمد: ۵۶۵۴)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ جلب ہے اور نہ جنب اور اسلام میں شغار نہیں ہے۔

۔ (۵۱۶۷)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۰۹۵)

۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ جلب ہے، نہ جنب ہے اور نہ شغار ہے۔