مسنداحمد

Musnad Ahmad

امان، صلح اور عارضی جنگ بندی کے ابواب

مقابلہ بازی اور تیر اندازی کے ابواب مقابلہ بازی، اس کے آداب اور ان مقابلوں کا بیان جن پر انعام دینا درست ہے


۔ (۵۱۶۲)۔ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبَّقَ بَیْنَ الْخَیْلِ وَفَضَّلَ الْقُرَّحَ فِی الْغَایَۃِ۔ (مسند أحمد: ۶۴۶۶)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھوڑوں میں مقابلہ کروایا اور ان گھوڑوں کو برتری والا قرار دیا، جو اپنی عمر کے پانچویں سال میں داخل ہو چکے تھے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۵۱۶۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ أبوداود: ۲۵۷۷(انظر: ۶۴۶۶)