TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مسلمان زندہ ہو یا مردہ، اس کے طاہر ہونے کا بیان - مسلمان زندہ ہو یا مردہ، اس کے طاہر ہونے کا بیان - پیشاب، مذی اور منی وغیرہ کے حکم کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of پیشاب، مذی اور منی وغیرہ کے حکم کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 6 · 4 Hadith
۔ (۴۷۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: لَقِیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا جُنُبٌ، فَمَشَیْتُ مَعَہُ حَتّٰی قَعَدَ، فَانْسَلَلْتُ فَأَتَیْتُ الرَّحْلَ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ وَھُوَ قَاعِدٌ فَقَالَ: ((أَیْنَ کُنْتَ؟)) فَقُلْتُ: لَقِیْتَنِیْ وَأَنَا جُنُبٌ فَکَرِہْتُ أَنْ أَجْلِسَ اِلَیْکَ وَأَنَا جُنُبٌ فْانْطَلَقْتُ فَاغْتَسَلْتُ، فَقَالَ: ((سُبْحَانَ اللّٰہِ، اِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا یَنْجُسُ۔)) (مسند أحمد: ۸۹۵۶)
ابوہریرہؓ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ملا، جبکہ میں جنابت کی حالت میں تھا، بہرحال میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ چل پڑا یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بیٹھ گئے اور میں وہاں سے کھسک گیا اور گھر پہنچ کر غسل کیا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آگیاجبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ابھی تک بیٹھے ہوئے تھے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پوچھا: تم کہاں تھے؟ میں نے کہا: جی آپ مجھے ملے تھے جبکہ میں جنبی تھا اور میں نے اس جنابت والی حالت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ بیٹھنے کو ناپسند کیا، اس لیے میں نے جاکر غسل کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: سبحان اللہ!بیشک مؤمن ناپاک نہیںہوتا۔
Takhreej
(۴۷۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۸۵، ومسلم: ۳۷۱ (انظر: ۸۹۶۸)
473
Sahih
۔ (۴۷۴)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ قَالَ: لَقِیَنِی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ فِیْ طَرِیْقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِیْنَۃِ فَانْخَنَسْتُ فَذَہَبْتُ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ (فَذَکَرَ مِثْلَہُ فِیْہِ) فَقَالَ: ((اِنَّ الْمُسْلِمَ لَا یَنْجُسُ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۰۸۷)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مجھے ملے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مدینہ کے کسی راستے میں تھے، پس میں کھسک گیا اور جا کر غسل کر کے دوبارہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آگیا۔ پھر اسی طرح کی روایت ذکر کی، البتہ اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک مسلمان ناپاک نہیں ہوتا۔
Takhreej
(۴۷۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
474
Sahih
۔ (۴۷۵)۔ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِِؓأَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَقِیَہُ فِیْ بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِیْنَۃِ فَأَہْوٰی اِلَیْہِ،قَالَ: قُلْتُ: اِنِّیْ جُنُبٌ، قَالَ: (( اِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا یَنْجُسُ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۶۵۳)
سیدنا حذیفہ بن یمان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مدینہ کے کسی راستے میں اس کو ملے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کی طرف جھکے تو اس نے کہا: میں تو جنابت کی حالت میں ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک مؤمن ناپاک نہیں ہوتا۔
Takhreej
(۴۷۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۷۲ (انظر: ۲۳۲۶۴)
475
Sahih
۔ (۴۷۶) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ قَالَ: خَرَجَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَقِیَہُ حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَّانِ فَحَادَ عَنْہُ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ جَائَ، فَقَالَ: ((مَا لَکَ؟)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کُنْتُ جُنُبًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اِنَّ الْمُسْلِمَ لَا یَنْجُسُ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۸۱۰)
۔ (دوسری سند) ابن سیرین کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نکلے اور سیدنا حذیفہ بن یمان ؓآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ملے، لیکن وہ وہاں سے ایک طرف ہو کر چلے اور غسل کر کے دوبارہ آ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے پوچھا: تم کو کیا ہو گیا ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں جنبی تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک مسلمان ناپاک نہیںہوتا۔
Takhreej
(۴۷۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:…یہ احادیث عام ہیں، جو مسلمان کی حیات اور موت دونوں حالتوں کو شامل ہیں، البتہ درج ذیل موقوف روایت میں خصوصیت کے ساتھ موت کی حالت کو بیان کیا گیا ہے: عبد اللہ بن عباس ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ((لَیْسَ عَلَیْکُمْ فِیْ غُسْلِ مَیِّتِکُمْ غُسْلٌ اِذَا غَسَلْتُمُوْہُ، اِنَّ مَیِّتَکُمْ لَمُؤْمِنٌ طَاھِرٌ، وَلَیْسَ بِنَجَسٍ، فَحَسْبُکُمْ اَنْ تَغْسِلُوْا اَیْدِیَکُمْ)) … جب تم میت کو غسل دے لو تو تم پر کوئی غسل نہیں ہے، بیشک تمہاری میت مومن اور طاہر ہے اور نجس نہیں ہے، پس تمہیں ہاتھ دھو لینا ہی کافی ہے۔ (بیہقی: ۱/ ۳۹۸، حاکم: ۱/ ۳۸۶، احکام الجنائز: ص ۵۳، ۵۴) اسی طرح نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا اپنے سر کے بال منڈوا کر صحابہ میں تقسیم کر دینا بھی اس چیز کی دلیل بن سکتی ہے۔ جمہور اہل علم کا یہی مسلک ہے کہ مردہ انسان پاک ہے، البتہ احناف نے میت کو نجس قرار دیا ہے، لیکن یہ رائے مرجوح ہے۔
476
Sahih