۔ (۵۳۶۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہ قَالَ:ٔ جَائَ تِ امْرَأَۃٌ إِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ أُخْتِی نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِیَۃً، قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ لَا یَصْنَعُ بِشَقَائِ أُخْتِکِ شَیْئًا لِتَخْرُجْ رَاکِبَۃً وَلْتُکَفِّرْ عَنْ یَمِینِہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۸۲۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تیری بہن کی بدحالی کے ساتھ کوئی معاملہ سر انجام نہیں دینا، اس کو چاہیے کہ وہ سوار ہو کر جائے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔
Takhreej
(۵۳۶۹) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابوداود: ۳۲۹۵ (انظر: ۲۸۲۸)
Explanation
فوائد:… نذر کو قسم کہنے کی وجہ یہ ہے کہ نذر ماننے والا اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے اوپر ایک چیز کو لازم کر لیتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھانے والا کسی چیز کواپنے لیے لازم کر لیتا ہے۔
5369
Sahih