مسنداحمد

Musnad Ahmad

نذر کے ابواب

مباح یا غیر مشروع یا ایسی نذر ماننے والے کا بیان، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو اور اس کا کفارہ


۔ (۵۳۷۶)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَدْرَکَ رَجُلَیْنِ وَہُمَا مُقْتَرِنَانِ یَمْشِیَانِ إِلَی الْبَیْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا بَالُ الْقِرَانِ؟)) قَالَا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! نَذَرْنَا أَنْ نَمْشِیَ إِلَی الْبَیْتِ مُقْتَرِنَیْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ ہٰذَا نَذْرًا فَقَطَعَ قِرَانَہُمَا۔)) قَالَ سُرَیْجٌ فِی حَدِیثِہِ: ((إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِیَ بِہِ وَجْہُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۶۷۱۴)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسے دو افراد کو پایا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہوئے تھے اور بیت اللہ کی طرف چل رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’اس رسی کی کیا وجہ ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہم نے نذر مانی تھی کہ ایک دوسرے کے ساتھ بندھ کر بیت اللہ کی طرف چل کر جائیں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو کوئی نذر نہیں ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس رسی کو کاٹ دیا، سریج نے اپنی حدیث میں کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نذر تو صرف وہ ہوتی ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضامندی تلاش کی جائے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۵۳۷۶) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابوداود: ۲۱۹۲(انظر: ۶۷۱۴)