TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ذکر کے حلقوں کی اور مساجد میں لگائی گئی اس کی مجلسوں کی فضیلت کا بیان - ذکر کے حلقوں کی اور مساجد میں لگائی گئی اس کی مجلسوں کی فضیلت کا بیان - اذکار اور دعاؤں کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of اذکار اور دعاؤں کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 3 · 3 Hadith
۔ (۵۴۱۵)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِیَاضِ الْجَنَّۃِ فَارْتَعُوا۔)) قَالُوْا: وَمَا رِیَاضُ الْجَنَّۃِ؟ قَالَ: ((حِلَقُ الذِّکْرِ)) (مسند أحمد: ۱۲۵۵۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم لوگ جنت کے باغیچوں کے پاس سے گزرو تو استفادہ کر لیا کرو۔ لوگوں نے پوچھا: جنت کے باغیچوں سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجالسِ ذکر۔
Takhreej
(۵۴۱۵) تخریج: حسن، قالہ الالبانی، أخرجہ الترمذی: ۳۵۱۰(انظر: ۱۲۵۲۳)
Explanation
فوائد:… جہاں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جا رہا ہو، وہاں بیٹھنا روح کے لیے مفید ہے۔ وعظ و نصیحت کی مجلسیں بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر کی ایک صورت ہیں، اس لیے سنجیدگی کے ساتھ ان میں بیٹھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
5415
Sahih
۔ (۵۴۱۶)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِیَۃُ عَلٰی حَلْقَۃٍ فِی الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَا أَجْلَسَکُمْ؟ قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْکُرُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: آللّٰہِ مَا أَجْلَسَکُمْ إِلَّا ذَاکَ؟ قَالُوْا: آللَّہِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاکَ، قَالَ: أَمَا إِنِّی لَمْ أَسْتَحْلِفْکُمْ تُہْمَۃً لَکُمْ، وَمَا کَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِی مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقَلَّ عَنْہُ حَدِیثًا مِنِّی، وَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ عَلٰی حَلْقَۃٍ مِنْ أَصْحَابِہِ، فَقَالَ: ((مَا أَجْلَسَکُمْ؟)) قَالُوْا: جَلَسْنَا نَذْکُرُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَنَحْمَدُہُ عَلَی مَا ہَدَانَا لِلْإِسْلَامِ، وَمَنَّ عَلَیْنَا بِکَ، قَالَ: ((آللّٰہِ مَا أَجْلَسَکُمْ إِلَّا ذٰلِکَ؟)) قَالُوْا: آللَّہِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذٰلِکَ، قَالَ: ((أَمَا إِنِّی لَمْ أَسْتَحْلِفْکُمْ تُہْمَۃً لَکُمْ وَإِنَّہُ أَتَانِی جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَأَخْبَرَنِی أَنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یُبَاہِی بِکُمُ الْمَلَائِکَۃَ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۹۶۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسجد میں لگی ہوئی ایک مجلس کے پاس آئے اور کہا: کس چیز نے تم لوگوں کو بٹھایا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: ہم بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہیں، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! کیا واقعی تم کو صرف اس چیز نے بٹھایا ہوا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم صرف اسی مقصد کے لیے بیٹھے ہیں، انھوں نے کہا: میں نے کسی تہمت کی وجہ سے تم سے قسم کا مطالبہ نہیں کیا اور کوئی نہیں ہے جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب بھی ہو اور احادیث بھی کم بیان کرے، ما سوائے میرے، بہرحال ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صحابہ کے ایک حلقے کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کس چیز نے تمہیں بٹھایا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہم بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہیں اور اس وجہ سے اس کی تعریف کر رہے ہیں کہ اس نے ہمیں ہدایت دی ہے اور آپ کے ذریعے ہم پر احسان کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! کیا واقعی تم کو صرف اس چیز نے بٹھایا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: جی اللہ کی قسم! ہم صرف اسی عمل کی وجہ سے بیٹھے ہوئے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! میں نے کسی تہمت اور شک کی وجہ سے تم سے قسم کا مطالبہ نہیں کیا، دراصل بات یہ ہے کہ جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے بتلایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر کر رہا ہے۔
Takhreej
(۵۴۱۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۰۱(انظر: ۱۶۸۳۵)
Explanation
فوائد:… سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے بھائی تھے اور کاتب ِوحی بھی تھے، اس طرح سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں ان کا مقام و مرتبہ تھا۔
5416
Sahih
۔ (۵۴۱۷)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقُولُ الرَّبُّ عَزَّوَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: سَیُعْلَمُ أَہْلُ الْجَمْعِ مِنْ أَہْلِ الْکَرَمِ۔)) فَقِیلَ: وَمَنْ أَہْلُ الْکَرَمِ؟ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((مَجَالِسُ الذِّکْرِ فِی الْمَسَاجِدِ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۶۷۵)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ربّ تعالیٰ روزِ قیامت فرمائیں گے: ساری مخلوقات میں سے اہل کرامت کو پہنچان لیا جائے گا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اہل کرامت سے کون لوگ مراد ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجدوںمیں منعقد ہونے والی مجالسِ ذکر والے لوگ۔
Takhreej
(۵۴۱۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف دراج فی روایتہ عن ابی الھیثم، أخرجہ ابویعلی: ۱۰۴۶، وابن حبان: ۸۱۶ (انظر: ۱۱۶۵۲)
5417
Zaeef