۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر شرف والی گفتگو یا کام، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے شروع نہ کیا جائے، وہ ناقص اور ادھورا ہوتا ہے۔
Takhreej
(۵۳۹۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف قرۃ بن عبد الرحمن، وللاضطراب الذی وقع فی اسنادہ وفی متنہ، أخرجہ ابوداود: ۴۸۴۰، وابن ماجہ: ۱۸۹۴(انظر: ۸۷۱۲)
Explanation
فوائد:… کئی احادیث سے مختلف امور سے پہلے بسم اللہ یا بسم اللہ الرحمن الرحیم کا پڑھنا اور لکھنا ثابت ہوتا ہے، اس لیے ہر کام کے شروع میں بسم اللہ کے پڑھنے اور ہر اچھی تحریر سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم کے لکھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندے نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا، جو اس کو اللہ کے عذاب سے سب سے زیادہ نجات دلانے والا ہو، ما سوائے ذکر ِ الٰہی کے۔ مزید سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو ایسے عمل کی خبر دوں، جو سب سے بہتر ہے، تمہارے بادشاہ کے ہاں سب سے زیادہ پاکیز ہ ہے، تمہارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرنے والا ہے، تمہارے لیے سونے اور چاندی کا صدقہ کرنے سے بہتر ہے اور تمہارے لیے اس عمل سے بھی بہتر ہے کہ تمہاری اپنے دشمنوں سے ٹکر ہو اور تم ان کی گردنیں کاٹو اور وہ تمہاری گردنیں کاٹیں؟ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! ضرور بتلائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ عمل اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو وہ عمل بتلا دوں، جو سب سے بہتر ہے…۔ پھر مذکورہ بالا حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔
Takhreej
(۵۳۹۹) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الترمذی:۳۳۷۷، وابن ماجہ: ۳۷۹۰(انظر: ۲۱۷۰۲)
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ کچھ اور فرشتے بھی ہیں جو اہلِ ذکر کی تلاش میں زمیں میں گھومتے رہتے ہیں، جب وہ محوِ ذکر لوگوںکی جماعت کو پاتے ہیں تو ایک دوسرے کو بآواز بلند پکارتے ہیں: اپنے مقصود کی طرف آ جاؤ۔ سو وہ آتے ہیںاور انھیں آسمان دنیا تک گھیر لیتے ہیں۔ (جب یہ فرشتے واپس جاتے ہیں تو)اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں: جب تم نے میرے بندوں کو الوداع کہا تو وہ کیا کر رہے تھے؟ وہ کہتے ہیں: جب ہم نے ان کو چھوڑا تو وہ تیری تعریف کر رہے تھے، تیری بزرگی بیان کر رہے تھے اور تیرا ذکر کر رہے تھے۔ (آسانی کے لیے اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی گفتگو مکالمے کی صورت میں پیش کی جاتی ہے): اللہ تعالی: کیا انھوں نے مجھے دیکھا ہے؟ فرشتے: نہیں۔ اللہ تعالی: اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو (ان کا رویہ کیا ہو گا)؟ فرشتے: اگر وہ تجھے دیکھ لیں تو تیری تعریف کرنے، بزرگی بیان کرنے اورذکر کرنے میں زیادہ سختی اور پابندی کر یں گے۔ اللہ تعالی: کون سی چیز ہے جو وہ طلب کر رہے تھے؟ فرشتے: وہ جنت کا مطالبہ کر رہے تھے۔اللہ تعالی: کیا انھوں نے جنت دیکھی ہے؟ فرشتے: نہیں۔ اللہ تعالی: اگر وہ جنت دیکھ لیں تو؟ فرشتے: اگر وہ جنت دیکھ لیں تو ان کی حرص اور طلب بڑھ جائے گی۔اللہ تعالی: کون سی چیز ہے جس سے وہ پناہ طلب کرتے تھے؟ فرشتے: آگ سے۔اللہ تعالی: کیا انھوں نے آگ دیکھی ہے؟فرشتے: نہیں۔للہ تعالی: اگر وہ آگ کو دیکھ لیں تو؟ فرشتے: اگر وہ دیکھ لیں تو اس سے دور بھاگنے میں زیادہ سخت ہو جائیں گے اور اس سے زیادہ ڈریں گے۔اللہ تعالی: (فرشتو!) میں تمھیں اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کو بخش دیا ہے۔ فرشتے: ان میں فلاں آدمی تو بہت خطاکا ر تھا، وہ کسی ضرورت کے لیے آیا تھا، اس کا مقصود ان کے ساتھ بیٹھنا نہیں تھا (تو اسے کیسے بخش دیا گیا)؟اللہ تعالیـ: وہ ایسی قوم ہیں کہ ان کا ہم نشین بھی نامراد نہیں ہوتا۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے ابن آدم! اگر تو مجھے اپنے نفس میں یاد کرے گا، تو میں بھی تجھے اپنے نفس میں یاد کروں گا، اگر تو مجھے کسی جماعت میںیاد کرے گا تو میں تجھے فرشتوں کی جماعت میں یاد کروں گا، یا ایسی جماعت میں جو تیری جماعت سے بہتر ہو گی، اگر تو ایک بالشت میرے قریب ہو گا تو میں ایک ہاتھ تیرے قریب ہوں گا، اگر تو ایک ہاتھ میرے قریب ہو گا تو میں دو ہاتھوں کے پھیلاؤں کا فاصلہ تیرے قریب ہوں گا اور اگر تم چل کر میرے پاس آئے گا تو میں دوڑ کر تیرے پاس آؤں گا۔ امام قتادہ نے کہا: پس اللہ تعالیٰ بخشنے میں زیادہ جلدی کرنے والا ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جب میرا بندہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، میرا بندہ میرے بارے میں جیسا گمان رکھتا ہے، میں ویسا ہی اس کے ساتھ سلوک کرتا ہوں اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، جب وہ مجھے یاد کرتا ہے ، اگر وہ مجھے اپنے نفس میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو اپنے نفس میں یاد کرتا ہوں۔
فوائد:… اس معیت سے مراد اللہ تعالیٰ کی خاص معیت ہے، جو اس کی رحمت، توفیق، ہدایت اور اعانت کا سبب بنتی ہے، وگرنہ علم اور احاطہ والی عام معیت تو ہر ایک کو حاصل ہے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۵۴۰۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۷۳(انظر: ۲۶۳۷۶)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ سے وہ اوقات مستثنی ہیں،جن میں ذکر نہیں کیا جا سکتا، مثلاً: قضائے حاجت کرنا، حق زوجیت ادا کرنا، نیند کرنا، کھانا پینا، لوگوں اور بالخصوص بیویوں سے گفتگو کرنا، وغیرہ۔
۔ ابو مسلم اغر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہما پر گواہی دیتا ہوںکہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گواہی دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ ذکر کرنے کے لیے بیٹھتے ہیں تو فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں، سکینت ان پر نازل ہوتی ہے، رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا ان ہستیوں کے سامنے ذکر کرتا ہے، جو اس کے پاس ہیں۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو اس کی تعلیم دیتے ہیں تو سکینت ان پر نازل ہوتی ہے، رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے پاس والی مخلوق کے سامنے ان کا ذکر کرتا ہے اور جس شخص کو اس کے عمل نے پیچھے کر دیا، اس کو اس کا نسب آگے نہیں لے جا سکے گا۔
Takhreej
(۵۴۰۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۹۹(انظر: ۷۴۲۷)
Explanation
فوائد:… آخرت کی کامیابی اور ناکامی کا انحصار حسب و نسب، حسن و جمال اور مال و دولت پر نہیں ہے، بلکہ وہاں کا سلسلہ اچھے اور برے اعمال سے متعلقہ ہے، اگر اچھے اعمال نہ ہوئے تو نوح علیہ السلام جیسے عظیم پیغمبر کا بیٹا بھی سعادت مند نہیں بن سکے گا۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے بندے روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ فضیلت والے درجے کے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے ہیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والا کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ کافروں اور مشرکوں پر اپنی تلوار چلائے، یہاں تک کہ وہ ٹوٹ جائے اور خون سے لت پت ہو جائے تو پھر بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے ایک درجہ اس سے زیادہ فضیلت والے ہوں گے۔
Takhreej
(۵۴۰۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ، ولضعف روایۃ دراج عن ابی الھیثم، أخرجہ الترمذی: ۳۳۷۶(انظر: ۱۱۷۲۰)
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان باوضوء ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرکے رات کو سو جاتا ہے، وہ رات کے کسی حصے میں اٹھ کرجب بھی اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی کاسوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دے دیتا ہے۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں، آسمان سے ایک منادی دینے والا ان کو آواز دیتا ہے: چلے جاؤ، تم کو بخش دیا جا چکا ہے اور تمہارے گناہوں کو نیکیوں میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے سات لاکھ گناہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ ایک روایت میں سات سو گنا کے الفاظ ہیں۔
Takhreej
(۵۴۰۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن لھیعۃ ، وان سمع منہ اسحاق بن عیسی قبل احتراق کتبہ، الا ان ھذا الحدیث مما تفرد بہ سھل بن معاذ، وھو ممن لا یحتمل تفردہ، وقد اختلف عنہ فیہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر :۲۰/ ۴۰۴(انظر: ۱۵۶۴۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی قوم ایسی مجلس میں نہیں بیٹھتی جس میں انھوں نے اللہ تعالیٰ کو یاد نہ کیا ہومگر وہ ان پر نقصان کا باعث ہو گا، جو آدمی جو کسی رستے میں چل رہا ہو اور اس میں اللہ کا ذکر نہ کرے تو یہ اس کے لیے باعثِ تکلیف ہو گا اور جو آدمی اپنے بستر پر سونے لگے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کرے تو یہ اس کے لیے گھبراہٹ کا باعث ہو گا۔ ایک راوی نے بستر پر سونے کا ذکر نہیں کیا۔
فوائد:… اللہ تعالیٰ کی تسبیحات، تہلیلات، تکبیرات اور تحمیدات بیان کر کے اس کا ذکر کرنا جہاں باعثِ اجرِ عظیم ہے، وہاں اس سے غفلت برتنا باعث ِ حسرت و ندامت ہے۔ انسان کو چاہئے کہ اپنے جسم کی مختلف حالتوںیعنی چلنے،کھڑا ہونے، بیٹھنے اور لیٹنے کے دوران اللہ تعالیٰ کو کسی نہ کسی انداز میں یاد کرتا رہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو بدّو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور ان میں سے ایک نے کہا: اے محمد! مردوں میں سے بہترین کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی عمر لمبی ہو اور عمل نیک ہو۔ دوسرے بدّو نے کہا: اسلام کے تقاضے تو بہت زیادہ ہیں، اگر کوئی ایک جامع سا عمل ہو جائے اور ہم پابندی سے اس پر عمل کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری زبان ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر رہنی چاہیے۔
فوائد:… اسلام کے تقاضے تو بہت زیادہ ہیں وہ آدمی یہ کہنا چاہتا ہے کہ مسلمان کے اسلام کی صداقت پر دلالت کرنے والے اسلام کے شعبہ جات بہت زیادہ ہے، ہم ان سب پر عمل نہیں کر سکتے اور علم نہ ہونے کی وجہ سے افضل شعبوں کا انتخاب کرنا بھی ہمارے لیے دشوار ہے، اس لیے کسی جامع عمل پر ہماری رہنمائی کر دی جائے۔
۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: کون سا جہاد زیادہ اجر والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ ذکر کرنے والا ہو۔ اس نے کہا: کون سے روزے دار زیادہ اجر والے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا ہو۔ پھر اس نے نماز، زکاۃ، حج اور صدقہ کے بارے میں اسی طرح کے سوالات کیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی جواب دیا کہ جو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا ہو۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو حفص! ذکر کرنے والے تو ہر قسم کی خیر لے گئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں بالکل۔
Takhreej
(۵۴۱۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف زبان بن فائد، وسھل بن معاذ فی روایۃ زبان عنہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۴۰۷(انظر: ۱۵۶۱۴)
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اتنی کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو کہ لوگ تم کو پاگل کہیں۔
فوائد:… عبادت کی کیفیت و کمیّت کا تعین ہو چکا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابۂ کرام کی عبادات کے نمونے اور ان میں ان کا رونا اور گڑگڑانا ہمارے سامنے ہے، ان ہی کی اقتداء کرنی چاہیے، عام دنیا دار لوگوںکو دیکھا گیا ہے کہ وہ عبادت گزار لوگوں کی عبادتوں سے مذاق کرتے رہتے ہیں۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مفردون سبقت لے گئے ہیں۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ رسول! مفردون کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے دلدادہ ہوتے ہیں۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم لوگ جنت کے باغیچوں کے پاس سے گزرو تو استفادہ کر لیا کرو۔ لوگوں نے پوچھا: جنت کے باغیچوں سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجالسِ ذکر۔
فوائد:… جہاں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جا رہا ہو، وہاں بیٹھنا روح کے لیے مفید ہے۔ وعظ و نصیحت کی مجلسیں بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر کی ایک صورت ہیں، اس لیے سنجیدگی کے ساتھ ان میں بیٹھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مسجد میں لگی ہوئی ایک مجلس کے پاس آئے اور کہا: کس چیز نے تم لوگوں کو بٹھایا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: ہم بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہیں، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! کیا واقعی تم کو صرف اس چیز نے بٹھایا ہوا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم صرف اسی مقصد کے لیے بیٹھے ہیں، انھوں نے کہا: میں نے کسی تہمت کی وجہ سے تم سے قسم کا مطالبہ نہیں کیا اور کوئی نہیں ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب بھی ہو اور احادیث بھی کم بیان کرے، ما سوائے میرے، بہرحال ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کے ایک حلقے کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کس چیز نے تمہیں بٹھایا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہم بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہیں اور اس وجہ سے اس کی تعریف کر رہے ہیں کہ اس نے ہمیں ہدایت دی ہے اور آپ کے ذریعے ہم پر احسان کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! کیا واقعی تم کو صرف اس چیز نے بٹھایا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: جی اللہ کی قسم! ہم صرف اسی عمل کی وجہ سے بیٹھے ہوئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! میں نے کسی تہمت اور شک کی وجہ سے تم سے قسم کا مطالبہ نہیں کیا، دراصل بات یہ ہے کہ جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے بتلایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر کر رہا ہے۔
Takhreej
(۵۴۱۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۰۱(انظر: ۱۶۸۳۵)
Explanation
فوائد:… سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ، ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی تھے اور کاتب ِوحی بھی تھے، اس طرح سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں ان کا مقام و مرتبہ تھا۔