مسنداحمد

Musnad Ahmad

نیند کے آداب اور اذکار کے ابواب

نیند کے لیے لیٹنے کی کیفیت اور لیٹنے کا ارادہ رکھنے والے سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان اور جہنمی لوگوں کی طرح لیٹنے اور اس جیسے دوسرے امور کی ممانعت

۔ (۵۵۱۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَنَّہُ کَانَ إِذَا نَامَ وَضَعَ یَمِینَہُ تَحْتَ خَدِّہِ، وَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَکَ۔)) (مسند أحمد: ۳۷۹۶)

۔ سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سونے لگتے تو اپنا دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَکَ (اے اللہ! جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا، اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچالینا)۔

۔ (۵۵۲۰)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ یَمَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ یَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أَوٰی إِلَی فِرَاشِہِ وَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی تَحْتَ خَدِّہِ وَقَالَ: ((رَبِّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ، أَوْ تَجْمَعُ عِبَادَکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۶۳۳)

۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے بستر پر آتے تو دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: رَبِّ قِنِیْ عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ(اے میرے ربّ! جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا، اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچالینا)۔ ایک روایت میں تَبْعَثُ کے بجائے تَجْمَعُ کے الفاظ کا ذکر ہے۔

۔ (۵۵۲۱)۔ عَنْ حَفْصَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرْفُوْعًا مِثْلَہٗ وَفِیْہِ: یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ ثَلَاثًا۔ (مسند أحمد: ۲۶۹۹۴)

۔ زوجۂ رسول سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، پھر انھوں نے بھی اسی قسم کی مرفوع روایت بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا تین بار پڑھتے تھے۔

۔ (۵۵۲۳)۔ عَنْ یَعِیشَ بْنِ طِھْفَۃَ الْغِفَارِیِّ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: ضِفْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیمَنْ تَضَیَّفَہُ مِنَ الْمَسَاکِینِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی اللَّیْلِ یَتَعَاہَدُ ضَیْفَہُ فَرَآنِی مُنْبَطِحًا عَلَی بَطْنِی فَرَکَضَنِی بِرِجْلِہِ، وَقَالَ: ((لَا تَضْطَجِعْ ہٰذِہِ الضِّجْعَۃَ، فَإِنَّہَا ضِجْعَۃٌ یُبْغِضُہَا اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۰۱۴)

۔ سیدنا طہفہ غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جن مساکین کی ضیافت کی تھی، میں بھی ان میں شامل تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مہمانوں کے خیال کے ارادے سے رات کو ہمارے پاس آئے اور مجھے اس حال میں پایا کہ میں پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے پاؤں سے مجھے ٹھوکر لگائی اور فرمایا: اس طرح نہ لیٹا کر، اللہ تعالیٰ لیٹنے کی اس کیفیت کو ناپسند کرتاہے۔

۔ (۵۵۲۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): أَخْبَرَنِی أَبِی أَنَّہُ ضَافَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ نَفَرٍ قَالَ: فَبِتْنَا عِنْدَہُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ اللَّیْلِ یَطَّلِعُ فَرَآہُ مُنْبَطِحًا عَلٰی وَجْہِہِ فَرَکَضَہُ بِرِجْلِہِ فَأَیْقَظَہُ وَقَالَ: ((ہٰذِہِ ضِجْعَۃُ أَہْلِ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۶۳۰)

۔ (دوسری سند) سیدنا طہفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک گروہ کے ساتھ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مہمان بنے، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس رات گزاری، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو ہمارے پاس تشریف لائے اور مجھے پیٹ کے بل لیٹے ہوئے پایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے جگایا اور فرمایا: یہ جہنمی لوگوں کے لیٹنے کی کیفیت ہے۔

۔ (۵۵۲۵)۔ عن إِبْرَاہِیمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ أَنَّہُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الشَّرِیدِ یَقُولُ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ عَلٰی رَجُلٍ وَہُوَ رَاقِدٌ عَلٰی وَجْہِہِ، فَقَالَ: ((ہٰذَا أَبْغَضُ الرُّقَادِ إِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۷۰۲)

۔ سیدنا عمرو بن شرید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ اپنے چہرے کے بل سویا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سونے کی یہ کیفیت اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند ہے۔

۔ (۵۵۲۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَرَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرَجُلٍ مُضْطَجِعٍ عَلٰی بَطْنِہِ، فَقَالَ: ((إِنَّ ہٰذِہِ لَضِجْعَۃٌ مَا یُحِبُّہَا اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۷۸۴۹)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس طرح لیٹنے کو پسند نہیں کرتا۔

۔ (۵۵۲۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّ النّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی عَنِ الْوَحْدَۃِ اَنْ یَبِیْتَ الرَّجُلُ وَحْدَہٗ اَوْ یُسَافِرَ وَحْدَہٗ۔ (مسند أحمد: ۵۶۵۰)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تنہائی سے منع کیا ہے، یعنی آدمی کا اکیلا رات گزارنا اور تنہا سفرکرنا۔