۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سونے لگتے تو اپنا دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَکَ (اے اللہ! جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا، اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچالینا)۔
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بستر پر آتے تو دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: رَبِّ قِنِیْ عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ(اے میرے ربّ! جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا، اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچالینا)۔ ایک روایت میں تَبْعَثُ کے بجائے تَجْمَعُ کے الفاظ کا ذکر ہے۔
۔ زوجۂ رسول سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، پھر انھوں نے بھی اسی قسم کی مرفوع روایت بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا تین بار پڑھتے تھے۔
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ سونے کا ارادہ کرتے تو دایاں ہاتھ سر کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَکَ(اے اللہ! اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچانا، جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا)۔
۔ سیدنا طہفہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن مساکین کی ضیافت کی تھی، میں بھی ان میں شامل تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہمانوں کے خیال کے ارادے سے رات کو ہمارے پاس آئے اور مجھے اس حال میں پایا کہ میں پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاؤں سے مجھے ٹھوکر لگائی اور فرمایا: اس طرح نہ لیٹا کر، اللہ تعالیٰ لیٹنے کی اس کیفیت کو ناپسند کرتاہے۔
۔ (دوسری سند) سیدنا طہفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک گروہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مہمان بنے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس رات گزاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو ہمارے پاس تشریف لائے اور مجھے پیٹ کے بل لیٹے ہوئے پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جگایا اور فرمایا: یہ جہنمی لوگوں کے لیٹنے کی کیفیت ہے۔
۔ سیدنا عمرو بن شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ اپنے چہرے کے بل سویا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونے کی یہ کیفیت اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس طرح لیٹنے کو پسند نہیں کرتا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تنہائی سے منع کیا ہے، یعنی آدمی کا اکیلا رات گزارنا اور تنہا سفرکرنا۔