TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5521 - نیند کے لیے لیٹنے کی کیفیت اور لیٹنے کا ارادہ رکھنے والے سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان اور جہنمی لوگوں کی طرح لیٹنے اور اس جیسے دوسرے امور کی ممانعت - نیند کے آداب اور اذکار کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 9 in this chapter
نیند کے لیے لیٹنے کی کیفیت اور لیٹنے کا ارادہ رکھنے والے سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان اور جہنمی لوگوں کی طرح لیٹنے اور اس جیسے دوسرے امور کی ممانعت
۔ (۵۵۲۱)۔ عَنْ حَفْصَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرْفُوْعًا مِثْلَہٗ وَفِیْہِ: یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ ثَلَاثًا۔ (مسند أحمد: ۲۶۹۹۴)
۔ زوجۂ رسول سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، پھر انھوں نے بھی اسی قسم کی مرفوع روایت بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا تین بار پڑھتے تھے۔
5521
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۵۵۲۱) تخریج:حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۳۲، ۵۰۴۵(انظر: ۲۶۴۶۲)

Related Chapters

471
1
شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی ممانعت اور اس کی رخصت کا بیان
Musnad Ahmad
2
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Al-Ikhtisar (Holding The Hip) In Salat
باب: نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About: Do Not Precede The Month With Fasting
باب: رمضان کے استقبال کی نیت سے ایک دو روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
نماز میں بلند آواز سے قراء ت کرنے کی ممانعت، جب وہ دوسرے نمازی پر (قراء ت) گڈ مڈ کر رہا ہو
Musnad Ahmad
5
تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت،انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کا اور دوسرے امور کا بیان
Musnad Ahmad
6
نمازی کا امام کی طرف یا دائیں جانب کھنکارنے اور نماز میں کوکھوں پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
7
ان دنوں کا بیان جن میں روزہ رکھنا منع ہے عیدین کے دو دنوں کا روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
8
صرف جمعہ اور ہفتہ کو روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
9
ہمیشہ کے روزے رکھنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
10
قیدیوں کے حق میں احسان کرنے، ان سے فدیہ لینے اور ان سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب ہوازن کے وفود پر ان کے قیدیوں کے معاملے میں احسان کرنے کا باب
Musnad Ahmad
11
ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
Musnad Ahmad
12
بغیر کسی اوٹ کے مرد کا مرد کے ساتھ اور عورت کا عورت کے ساتھ لیٹنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
13
قرآن مجید کی دیکھ بھال کرنے اور اس کو یاد رکھنے کا بیان اور اس سے ممانعت کہ بندہ یہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں
Musnad Ahmad
14
توبہ کی کیفیت اور اس چیز کا بیان کہ توبہ کا ارادہ کرنے والا کیا کرے
Musnad Ahmad
15
جنوں کی تخلیق اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان
Musnad Ahmad
16
انبیاء و رسل کی تعداد اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان (انبیائے کرام کے انساب کا بیان)
Musnad Ahmad
17
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے علاوہ دوسرے صحابہ سے اس موضوع سے متعلقہ مروی احادیث
Musnad Ahmad
18
صحابۂ کرام کے دورکی تحدید اور ان سے اور دوسرے حضرات سے متعلقہ تاریخی امور کا بیان
Musnad Ahmad
19
حوض کی کیفیت اور اس سے متعلقہ دیگر روایات
Musnad Ahmad
20
Chapter: The prohibition of building masajid over graves and placing images therein; and the prohibition of taking graves as masajid
قبروں پر مسجد بنانے، اس میں تصویریں رکھنے اور قبروں کو مساجد بنانے کی ممانعت
Sahih Muslim
21
Chapter: The description of the sitting during the prayer, and how the hands are to be placed on the thighs
نماز میں بیٹھنے کا طریقہ اور دونوں ہاتھ رانوں پررکھنے کی کیفیت
Sahih Muslim
22
Chapter: The prohibition of Al-Wisal
روزوںمیں )وصال (ایک روزے کو افطار کیے بغیر دوسرے سے ملانے)کی ممانعت
Sahih Muslim
23
Chapter: The prohibition of fasting on the two days of 'Id
عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دنوں میں روزہ رکھنے کی ممانعت
Sahih Muslim
24
Chapter: Prohibition of Fasting for a lifetime for the one who will be harmed by that or who will neglect other duties, or does not break his fast on the two 'Ids or during the days of At-Tashriq; It is better to fast alternate days
اس شخص کے لیے سال بھر کے روزے رکھنے کی ممانعت جسے اس سےنقصان پہنچنے یا وہ اس کی وجہ سے کسی حق کو ضائع کرے ‘یا عید ین اور ایام تشریق کاٰ روزہ بھی نہ چھوڑے ‘اور ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کی فضیلت
Sahih Muslim
25
Chapter: The prohibition of seeking or desiring a position of authority
امارت طلب طرنے اور اس کی حرص رکھنے کی ممانعت
Sahih Muslim
26
Chapter: When the first ten days of Dhul-Hijjah begin, it is forbidden for the one who wants to offer a sacrifice to remove anything from his hair, nails or skin
جب ذوالحجہ کا(پہلا) عشرہ شروع ہوجائے تو جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے،اس کے لیے بال اور ناخن کٹوانے کی ممانعت
Sahih Muslim
27
Chapter: It Is Disliked To Take Dogs And Bells On A Journey
سفر میں گھنٹی اور کتا (ساتھ ) رکھنے کی ممانعت
Sahih Muslim
28
Chapter: It Is Disliked To Shave Part Of The Head And Leave Part
سر کے کچھ حصے کے بال مونڈ نے اور کچھ کے باقی رکھنے کی ممانعت
Sahih Muslim
29
Chapter: The Prohibition Of Taking The Kunyah Abul-Qasim, And The Names Which Are Recommended
ابوالقاسم کنیت رکھنے کی ممانعت اور اچھے ناموں کا بیان
Sahih Muslim
30
Chapter: The Prohibition Of Suspicion, Spying, Competition, Artificial Inflation Of Prices, And So On
باب: بدگمانی، تجسس، دنیاوی معاملات میں مقابلہ بازی اور دھوکے سے ایک دوسرے کے لیے قیمتیں بڑھانے وغیرہ کی ممانعت
Sahih Muslim
31
Chapter: The Prohibition Of Reviling
ایک دوسرے کو گالی دینے کی ممانعت
Sahih Muslim
32
CCHAPTER: How The Prophet (saws) Would Fast.
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے کی کیفیت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
33
CHAPTER: Regarding The Prohibition Of The Animals Being Confined (To Be Shot At), And, Being Gentle With Animal To Be Slaughtered.
باب: جانوروں کو بغیر کھانا پانی دئیے باندھ رکھنے کی ممانعت اور قربانی کے جانور کے ساتھ نرمی اور شفقت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
34
رمضان سے ایک روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت اگر کوئی شخص پہلے سے روزہ رکھتا چلا آیا ہو تو جائز ہے
Sunnan Ibn e Maja
35
شرعی ممانعت کا علم رکھنے کے باوجود حالت حیض میں بیوی سے جماع کرنے کے کفارہ کا بیان۔
Sunnan Nisai
36
نماز میں کوکھ (کمر) پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
37
باب: ماہ رمضان سے ایک روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
38
باب: شک والے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
39
باب: صیام الدھر (ہمیشہ روزہ رکھنے) کی ممانعت، اور اس سلسلہ کی حدیث میں مطرف بن عبداللہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
40
باب: عرفہ کے دن (حاجی کے لیے) روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
41
باب: نکاحِ شغار (یعنی بیٹی یا بہن کے مہر کے بدلے دوسرے کی بہن یا بیٹی سے شادی کرنے کی ممانعت) کا بیان۔
Sunnan Nisai
42
6)Chapter: Regarding The Prohibition Of Facing The Qiblah When Defecating And Urinating.
باب: پیشاب یا پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے کی ممانعت​
Jam e Tirmazi
43
7)Chapter: What Has Been Related About The Permission for That
باب: کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی ممانعت​
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About Prohibiting Recitations While Bowing and Prostrating
باب: رکوع اور سجدے میں قرأت کی ممانعت
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About Lying On One's Side After The Two Rak'ah Of Fajr
باب: فجر کی دونوں سنتوں کے بعد لیٹنے کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About The Description Of The Night Prayer Of The Prophet (S)
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی تہجد کی کیفیت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Begging
باب: دوسروں سے مانگنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About How To Perform Tawaf
باب: طواف کی کیفیت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About the Prohibition Against Wishing For Death
باب: موت کی تمنا کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About the Prohibition Of Slapping The Cheeks And Tearing The Clothes During A Calamity
باب: مصیبت کے وقت چہرہ پیٹنے اور گریبان پھاڑنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

320
Musnad Ahmad
11330
۔ (۱۱۳۳۰)۔ عَنْ حَفْصَۃَ ابْنَۃِ عُمَرَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا آوٰی إِلٰی فِرَاشِہِ وَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی تَحْتَ خَدِّہِ، وَقَالَ: ((رَبِّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ)) ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۲۶۹۹۴)
سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بستر پر تشریف لاتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں رخسار کے نیچے رکھ لیتے اور تین بار یہ دعا پڑھتے: رَبِّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ (اے میرے رب! تو جس دن اپنے بندوں کو اٹھائے گا، اس دن مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا۔
Musnad Ahmad
10197
۔ (۱۰۱۹۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ اَحَدٌ مِنْکُمْ یُنْجِیْہِ عَمَلُہُ۔)) قَالُوْا: وَلَا اَنْتَ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((وَ لَا اَنَا، اِلَّا اَنْ یَتَغَمَّدَنِیْ رَبِّیْ مِنْہُ بِمَغْفِرَۃٍ وَرَحْمَۃٍ، وَ لَا اَنَا، اِلَّا اَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ رَبِّیْ مِنْہُ بِمَغْفِرَۃٍ وَرَحْمَۃٍ مَرَّتَیْنِ اَوْ ثَلَاثًا۔)) (مسند احمد: ۷۲۰۲)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے، جس کو اس کا عمل نجات دلا سکے۔ لوگوں نے کہا: اور نہ آپ؟ اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور نہ میں، الّا یہ کہ میرا ربّ مجھے اپنی طرف سے بخشش اور رحمت میں ڈھانپ لے، اور نہ میں، الّا یہ کہ میرا ربّ مجھے اپنی طرف سے بخشش اور رحمت میں ڈھانپ لے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو یا تین بارے ایسے ارشاد فرمایا۔
Musnad Ahmad
12238
۔ (۱۲۲۳۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: کُنْتُ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! لَوْ کَانَ عِنْدَنَا مَنْ یُحَدِّثُنَا۔)) قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَلَا أَبْعَثُ إِلٰی أَبِی بَکْرٍ؟ فَسَکَتَ ثُمَّ قَالَ: ((لَوْ کَانَ عِنْدَنَا مَنْ یُحَدِّثُنَا۔)) فَقُلْتُ: أَلَا أَبْعَثُ إِلٰی عُمَرَ؟ فَسَکَتَ، قَالَتْ: ثُمَّ دَعَا وَصِیفًا بَیْنَیَدَیْہِ فَسَارَّہُ فَذَہَبَ، قَالَتْ: فَإِذَا عُثْمَانُ یَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَہُ، فَدَخَلَ فَنَاجَاہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَوِیلًا، ثُمَّ قَالَ: ((یَا عُثْمَانُ! إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ مُقَمِّصُکَ قَمِیصًا، فَإِنْ أَرَادَکَ الْمُنَافِقُونَ عَلٰی أَنْ تَخْلَعَہُ فَلَا تَخْلَعْہُ لَہُمْ وَلَا کَرَامَۃَ۔)) یَقُولُہَا لَہُ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۲۴۹۷۰)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میںنے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! کاش ہمارے پاس کوئی ایسا آدمی ہوتا جو ہمارے ساتھ باتیں کرتا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پیغام بھیج دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے، کچھ دیر بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: کاش ہمارے پاس کوئی آدمی ہوتا جو ہمارے ساتھ باتیں کرتا۔ میں نے کہا: کیا میں عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پیغام بھیج دوں؟ لیکن آپ اس بار بھی خاموش رہے، کچھ دیر بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خادم کو بلوایا اور راز دارنہ انداز میں اس کے ساتھ کوئی بات کی، وہ چلا گیا،تھوڑا وقت ہی گزرا تھا کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اجازت دی اور وہ اندر تشریف لے آئے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کافی دیر تک ان کے ساتھ سرگوشی کرتے رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عثمان! اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا، اگر منافقین اس قمیص کو اتارنے کا مطالبہ کریں تو ان کے کہنے پر تم اسے نہ اتارنا، کیونکہ اس کے اتارنے میں کوئی عزت نہیں رہے گی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات دو تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔
Musnad Ahmad
12358
۔ (۱۲۳۵۸)۔ عَنْ شَرِیکِ بْنِ شِہَابٍ، قَالَ: کُنْتُ أَتَمَنّٰی أَنْ أَلْقٰی رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یُحَدِّثُنِی عَنِ الْخَوَارِجِ، فَلَقِیتُ أَبَا بَرْزَۃَ فِییَوْمِ عَرَفَۃَ فِی نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِہِ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا بَرْزَۃَ! حَدِّثْنَا بِشَیْئٍ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُہُ فِی الْخَوَارِجِ، فَقَالَ: أُحَدِّثُکَ بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَیَّ وَرَأَتْ عَیْنَایَ، أُتِیَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِدَنَانِیرَ، فَکَانَ یَقْسِمُہَا، وَعِنْدَہُ رَجُلٌ أَسْوَدُ مَطْمُومُ الشَّعْرِ، عَلَیْہِ ثَوْبَانِ أَبْیَضَانِ، بَیْنَ عَیْنَیْہِ أَثَرُ السُّجُودِ، فَتَعَرَّضَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَأَتَاہُ مِنْ قِبَلِ وَجْہِہِ، فَلَمْ یُعْطِہِ شَیْئًا، ثُمَّ أَتَاہُ مِنْ خَلْفِہِ فَلَمْ یُعْطِہِ شَیْئًا، فَقَالَ: وَاللّٰہِ، یَا مُحَمَّدُ! مَا عَدَلْتَ مُنْذُ الْیَوْمِ فِی الْقِسْمَۃِ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَضَبًا شَدِیدًا، ثُمَّ قَالَ: ((وَاللّٰہِ! لَا تَجِدُونَ بَعْدِی أَحَدًا أَعْدَلَ عَلَیْکُمْ مِنِّی۔)) قَالَہَا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: ((یَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ رِجَالٌ، کَاَنَّ ہٰذَا مِنْہُمْ، ہَدْیُہُمْ ہٰکَذَا یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ، لَا یُجَاوِزُ تَرَاقِیَہُمْ،یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ، لَا یَرْجِعُونَ إِلَیْہِ، وَوَضَعَ یَدَہُ عَلٰی صَدْرِہِ، سِیمَاہُمْ التَّحْلِیقُ، لَا یَزَالُونَیَخْرُجُونَ حَتّٰییَخْرُجَ آخِرُہُمْ، فَإِذَا رَأَیْتُمُوہُمْ فَاقْتُلُوہُمْ، قَالَہَا ثَلَاثًا، شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِیقَۃِ، قَالَہَا ثَلَاثًا۔)) وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ: لَا یَرْجِعُونَ فِیہِ۔ (مسند احمد: ۲۰۰۲۱)
شریک بن شہاب کہتے ہیں: میںتمنا کیا کرتا تھاکہ میری کسی ایسے صحابی سے ملاقات ہو جو مجھے خوارج کے متعلق بتلائے، اتفاق سے میری ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے عرفہ کے دن ملاقات ہوگئی، وہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ تھے، میںنے کہا: اے ابو برزہ! آپ مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی ایسی حدیث بیان فرمائیں جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خوراج کے متعلق بیان فرمایا ہو، انہوںنے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں دینار لا ئے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہ تقسیم فرما رہے تھے، ایک سیاہ فام اور گنجاآدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کھڑا تھا،جس نے دو سفید کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھے اور اس کی آنکھوں کے ! آگے حدیث ۱۲۳۶۸ میں آرہاہے کہ لوگوں کے اختلاف و افتراق کے وقت یہ گروہ وجود میں آئے گا۔ (عبداللہ رفیق) درمیان سجدوں کے نشانات تھے، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کی طرف سے آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کوئی چیز نہ دی، پھروہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے کی طرف سے آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر بھی اسے کچھ نہ دیا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے آج کی تقسیم میں انصاف بالکل نہیں کیا، اس کی یہ بات سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شدید غضبناک ہوئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم میرے بعد مجھ سے بڑھ کر کسی کو انصاف کرنے والا نہیں پاؤ گے۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ فرمائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مشرق کی جانب سے کچھ لوگ ظاہر ہوں گے، یہ آدمی گویا انہی لوگوں میں سے ہے وہ ایسے ہوں گے کہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے سینے سے نیچے نہ اترے گا، وہ دین سے یوں نکل جائیں گے جسے شکار میں سے تیر صاف نکل جاتا ہے۔ اس سند کے ایک راوی حما د نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر یوں بیان کیاکہ: وہ لوگ دین کی طرف پلٹ کر نہیں آئیں گے، ان کی علامت یہ ہوگی کہ وہ سرمنڈاتے ہوں گے، وہ دین سے نکلتے جائیں گے، یہاں تک کہ ان کا آخری آدمی (دجال کے ساتھ) نکلے گا، تم انہیں دیکھو تو انہیں قتل کر دینا۔ یہ بھی آپ نے تین مرتبہ فرمایا: وہ سب لوگوں سے بدترین ہوں گے۔ یہ بات بھی آپ نے تین مرتبہ دہرائی۔
Musnad Ahmad
12476
۔ (۱۲۴۷۶)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنَا أَبُو أَیُّوبَ صَاحِبُ الْبَصْرِیِّ سُلَیْمَانُ بْنُ أَیُّوبَ، حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ دِینَارٍ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُقَالُ لَہُ: مَیْمُونُ بْنُ سُنْبَاذَ، یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((قِوَامُ أُمَّتِی بِشِرَارِہَا۔)) قَالَہَا ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۲۲۳۳۴)
سیدنا میمون بن سنباذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نامی ایک صحابی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میر ی امت کا استحکام برے لوگوں سے ہوگا۔ یہ بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار ارشاد فرمائی۔
Musnad Ahmad
522
۔ (۵۲۲)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُکُمْ فَلْیَسْتَجْمِرْ ثَلَاثًا۔)) (مسند أحمد: ۱۵۳۷۰)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی پتھروں سے استنجا کرے تو وہ تین پتھر استعمال کرے۔
Musnad Ahmad
542
۔ (۵۴۲)۔ وعَنْہَا أَیْضًا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَسَلَ مَقْعَدَتَہُ ثَلَاثًا۔ (مسند أحمد: ۲۶۲۸۱)
سیدہ عائشہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی مقعد کو تین دفعہ دھویا۔
Musnad Ahmad
568
۔ (۵۶۸)۔ عَنْ أَبِیْ مَطَرٍ قَالَ: بَیْنَا نَحْنُ جُلُوْسٌ مَعَ أَمِیْرِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلِیٍّ فِی الْمَسْجِدِعَلَی بَابِ الرَّحْبَۃِ جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَرِنِیْ وُضُوْئَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ عِنْدَ الزَّوَالِ، فَدَعَا قَنْبَرًا فَقَالَ: ائْتِنِیْ بِکُوْزٍ مِنْ مَائٍ فَغَسَلَ کَفَّیْہِ وَوَجْہَہُ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا فَأَدْخَلَ بَعْضَ أَصْابِعِہِ فِیْ فِیْہِ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا۔ (اَلْحَدِیْثَ سَیَأْتِیْ بِطُوْلِہِ فِیْ بَابِ صِفَۃِ الْوُضُوْئِ اِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی) (مسند أحمد: ۱۳۵۶)
ابو مطر کہتے ہیں: ہم مسجد میں امیرالمؤمنین سیدنا علیؓ کے پاس رحبہ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو دکھاؤ، یہ زوال کا وقت تھا، پس انھوں نے قنبر غلام کو بلایا اور کہا: پانی کا برتن میرے پاس لاؤ، پس انھوں نے ہتھیلیوں اور چہرے کو تین تین دفعہ دھویا، تین بار کلی کی اور انگلی کو منہ میں داخل کیا اور تین دفعہ ناک میں پانی چڑھایا۔ (پوری حدیث بَابُ صِفَۃِ الْوُضُوْئِ میں آئے گی۔)
Musnad Ahmad
647
۔ (۶۴۷)۔عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیکَرِبَ الْکِنْدِیِّ ؓ قَالَ: أُتِیَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِوَضُوئٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ کَفَّیْہِ ثَـلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَیْہِ ثَلَاثًا ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ وَأُذُنَیْہِ ظَاہِرَہُمَا وَبَاطِنَہُمَا وَغَسَلَ رِجْلَیْہِ ثَلَاثًا۔ (مسند أحمد: ۱۷۳۲۰)
سیدنا مقدام بن معدیکربؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس وضو کا پانی لایا گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس طرح وضو کیا کہ آپ نے تین دفعہ دونوں ہتھیلیاں دھوئیں، تین بار چہرہ دھویا، تین تین مرتبہ بازو دھوئے اور پھر تین تین بار کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور اپنے سر کا اور کانوں کے ظاہری اور باطنی حصوں کا مسح کیا اور پھر تین تین بار دونوں پاؤں دھوئے۔